Fatwa #2400
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورۃالتوبہ آیت ۲۵۔۲۶۔۲۷۔لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللہُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَۃٍ وَّیَوْمَ حُنَیْنٍ اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
11,735
سوال (Question):
تفسیر سورۃالتوبہ آیت ۲۵۔۲۶۔۲۷۔لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللہُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَۃٍ وَّیَوْمَ حُنَیْنٍ اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
غزوہ حنین کاذکرخیرقرآن کریم میں
{لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللہُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَۃٍ وَّیَوْمَ حُنَیْنٍ اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْـًا وَّضَاقَتْ عَلَیْکُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَ }(۲۵){ثُمَّ اَنْزَلَ اللہُ سَکِیْنَتَہ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْہَا وَعَذَّبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ ذٰلِکَ جَزَآء ُ الْکٰفِرِیْنَ }(۲۶){ثُمَّ یَتُوْبُ اللہُ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ عَلٰی مَنْ یَّشَآء ُ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ }(۲۷) ترجمہ کنزالایمان: بیشک اللہ نے بہت جگہ تمہاری مدد کی اور حنین کے دن جب تم اپنی کثرت پر اترا گئے تھے تو وہ تمہارے کچھ کام نہ ا ٓ ئی اور زمین اتنی وسیع ہوکر تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ دے کر پھرگئے۔ پھر اللہ نے اپنی تسکین اتا ری اپنے رسول پر اور مسلمانوں پر اور وہ لشکر اتارے جو تم نے نہ دیکھے اور کافروں کو عذاب دیا اور منکروں کی یہی سزا ہے۔پھر اس کے بعد اللہ جسے چاہے گا توبہ دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:بیشک اللہ تعالی نے بہت سی جگہوں میں تمہاری مدد فرمائی اورحنین کے دن کو یاد کروجب تمہاری کثرت نے تمہیں خود پسندی میں مبتلا کردیا تو یہ کثرت تمہارے کسی کام نہ آئی اور تم پر زمین اپنی وسعت کے باوجود تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔پھر اللہ تعالی نے اپناسکینہ اتا را اپنے رسول کریمْﷺ پر اور مسلمانوں پر اور وہ لشکر اتارے جو تم نے نہ دیکھے اور کافروں کو عذاب دیا اور منکروں کی یہی سزا ہے۔پھر اس کے بعد اللہ تعالی جسے چاہے گا توبہ کی توفیق دے گا اور اللہ تعالی بخشنے والا مہربان ہے۔حضورتاجدارختم نبوتﷺکی ایک مٹھی مٹی سے کفارذلیل ورسواہوگئے
حَدَّثَنِی إِیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ، حَدَّثَنِی أَبِی، قَالَ:غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حُنَیْنًا، فَلَمَّا وَاجَہْنَا الْعَدُوَّ تَقَدَّمْتُ فَأَعْلُو ثَنِیَّۃً، فَاسْتَقْبَلَنِی رَجُلٌ مِنَ الْعَدُوِّ، فَأَرْمِیہِ بِسَہْمٍ فَتَوَارَی عَنِّی، فَمَا دَرَیْتُ مَا صَنَعَ، وَنَظَرْتُ إِلَی الْقَوْمِ فَإِذَا ہُمْ قَدْ طَلَعُوا مِنْ ثَنِیَّۃٍ أُخْرَی، فَالْتَقَوْا ہُمْ وَصَحَابَۃُ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَوَلَّی صَحَابَۃُ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَرْجِعُ مُنْہَزِمًا، وَعَلَیَّ بُرْدَتَانِ مُتَّزِرًا بِإِحْدَاہُمَا مُرْتَدِیًا بِالْأُخْرَی، فَاسْتَطْلَقَ إِزَارِی فَجَمَعْتُہُمَا جَمِیعًا، وَمَرَرْتُ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُنْہَزِمًا وَہُوَ عَلَی بَغْلَتِہِ الشَّہْبَاء ِ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:لَقَدْ رَأَی ابْنُ الْأَکْوَعِ فَزَعًا، فَلَمَّا غَشُوا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَنِ الْبَغْلَۃِ، ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَۃً مِنْ تُرَابٍ مِنَ الْأَرْضِ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ بِہِ وُجُوہَہُمْ، فَقَالَ: شَاہَتِ الْوُجُوہُ، فَمَا خَلَقَ اللہُ مِنْہُمْ إِنْسَانًا إِلَّا مَلَأَ عَیْنَیْہِ تُرَابًا بِتِلْکَ الْقَبْضَۃِ، فَوَلَّوْا مُدْبِرِینَ، فَہَزَمَہُمُ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَسَمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَہُمْ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا:ہم نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے ہمراہ حنین کی جنگ لڑی، جب ہمارا دشمن سے سامنا ہوا تو میں آگے بڑھا پھر میں ایک گھاٹی پر چڑھ جاتا ہوں، میرے سامنے دشمن کا آدمی آیا تو میں اس پر تیر پھینکتا ہوں، وہ مجھ سے چھپ گیا، اس کے بعد مجھے معلوم نہیں اس نے کیا کیا۔ میں نے (اُن)لوگوں کا جائزہ لیا تو دیکھا وہ ایک دوسری گھاٹی کی طرف ظاہر ہوئے، ان کا اور حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے ساتھیوں کا ٹکراؤ ہوا تو حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے ساتھی پیچھے ہٹ گئے اور میں بھی شکست خوردہ لوٹتا ہوں۔ مجھ (میرے جسم)پر دو چادریں تھیں، میں نے ان دونوں کو اکٹھا کیا اور شکست خوردگی کی حالت میںحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے پاس سے گزرا، آپﷺ اپنے سفید خچر پر تھے۔ (مجھے دیکھ کر)حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:اکوع کا بیٹا گھبرا کر لوٹ آیا ہے۔جب وہ ہر طرف سے حضورتاجدارختم نبوت ﷺپر حملہ آور ہوئے تو آپﷺ خچر سے نیچے اترے، زمین سے مٹی کی ایک مٹھی لی، پھر اسے سامنے کی طرف سے ان کے چہروں پر پھینکا اور فرمایا:چہرے بگڑ گئے۔اللہ نے ان میں سے کسی انسان کو پیدا نہیں کیا تھا مگر اس ایک مٹھی سے اس کی آنکھیں بھر دیں، سو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے، اللہ نے اسی (ایک مٹھی خاک)سے انہیں شکست دی اور (بعد ازاں)حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے ان کے اموالِ غنیمت مسلمانوں میں تقسیم کیے۔ (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۳:۱۴۰۲)مددافواج کی کثرت کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ تعالی کے فضل سے ہوتی ہے
فَقَالَ بَعْضُہُمْ:لَنْ نُغْلَبَ الْیَوْمَ عَنْ قِلَّۃٍ فَوُکِلُوا إِلَی ہَذِہِ الْکَلِمَۃِ، فَکَانَ مَا ذَکَرْنَاہُ مِنَ الْہَزِیمَۃِ فِی الِابْتِدَاء ِ إِلَی أَنْ تَرَاجَعُوا، فَکَانَ النَّصْرُ وَالظَّفَرُ لِلْمُسْلِمِینَ بِبَرَکَۃِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِینَ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَبَیَّنَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِی ہَذِہِ الْآیَۃِ أَنَّ الْغَلَبَۃَ إِنَّمَا تَکُونُ بِنَصْرِ اللَّہِ لَا بِالْکَثْرَۃِ ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بعض نے کہاکہ آج کے دن قلت کے سبب ہم ہرگزمغلوب نہیں ہوں گے ، پس انہیں اسی کلمہ کے سپردکردیاگیا، توپھروہ ہواجوہم نے ذکرکردیاہے کہ ابتداء میں ہزیمت کاسامناہوایہاں تک کہ واپس لوٹے ،پس مسلمانوں کی مددونصرت اورکامیابی اورکامرانی حضورتاجدارختم نبوتﷺکی برکت سے ہوئی تواس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے یہ بیان کردیاکہ غلبہ اللہ تعالی کی مددونصرت کے سبب ہوتاہے نہ کہ کثرت کے ساتھ ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۸:۹۸)حضرت سیدناعباس رضی اللہ عنہ کی آواز کاجلال
فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: (أَیُّ عَبَّاسُ نَادِ أَصْحَابَ السَّمُرَۃِ)فَقَالَ عَبَّاسٌ وَکَانَ رَجُلًا صَیِّتًا. وَیُرْوَی مِنْ شِدَّۃِ صَوْتِہِ أَنَّہُ أُغِیرَ یَوْمًا عَلَی مَکَّۃَ فَنَادَی وا صباحاہ!فَأَسْقَطَتْ کُلُّ حَامِلٍ سَمِعَتْ صَوْتَہُ جَنِینَہَا:فَقُلْتُ بِأَعْلَی صَوْتِی:أَیْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَۃِ؟ قَالَ:فَوَاللَّہِ لَکَأَنَّ عَطَفْتَہُمْ حِینَ سَمِعُوا صَوْتِی عَطْفَۃُ الْبَقَرِ عَلَی أَوْلَادِہَافَقَالُوا:یَا لَبَّیْکَ یَا لَبَّیْکَ قَالَ:فَاقْتَتَلُوا وَالْکُفَّارُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعباس رضی اللہ عنہ کو حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایاکہ اے عباس !ببول کے درخت والوں کو بلائو!مراد بیعت رضوان والے اصحاب رضی اللہ عنہم ہیں ۔ توحضرت سیدناعباس رضی اللہ عنہ نے کہا: (آپ رضی اللہ عنہ بہت بلندآواز والے آدمی تھے ، آپ ر ضی اللہ عنہ کی آواز کی شدت کے بارے میں روایت ہے کہ ایک بارمکہ مکرمہ پرحملہ کردیاگیاتوآپ رضی اللہ عنہ نے آواز لگائی ( وا صباحاہ)توجس حاملہ عورت نے آپ رضی اللہ عنہ کی آواز سنی اس کاحمل ضائع ہوگیا۔پس میں نے بلندآواز سے کہاکہ اے بیعت رضوان والوں کہاں ہو؟ توخداتعالی کی قسم !جس وقت انہوںنے میری آواز سنی تووہ اس کی طرف لپک کرآئے جیسے گائے اپنے بچوں پرمہربان ہوتی ہے اورانہوںنے جواب دیایالبیک یالبیک ، ہم حاضرہیں ہم حاضرہیں۔ انہوں نے بیان کیاکہ پھروہ کفارکے ساتھ لڑنے میں مشغول ہوگئے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۸:۹۸)حضورتاجدارختم نبوتﷺکااپنی بہن کے ساتھ حسن سلوک
قَالَ أَبُو عُمَرَ:فِیہِنَّ الشَّیْمَاء ُ أُخْتُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الرَّضَاعَۃِ، وَہِیَ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّی مِنْ بَنِی سَعْدِ بْنِ بَکْرٍ (وَبِنْتُ)حَلِیمَۃَ السَّعْدِیَّۃِ، فَأَکْرَمَہَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَعْطَاہَا وَأَحْسَنَ إِلَیْہَا، وَرَجَعَتْ مسرورۃ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوعمررحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ غزوہ حنین میں قیدہونے والوں میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکی رضاعی بہن حضرت سیدتناشیمارضی اللہ عنہابھی تھیں اوریہ حارث بن عبدالعزی جو کہ بنوسعد بن بکرسے تھے اورحضرت سیدتناحلیمہ رضی اللہ عنہاکی بیٹی تھیں ، پس حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ان کو بہت زیادہ عزت وتکریم دی اوران کو بہت زیادہ نوازااوران کے ساتھ احسان اورحسن سلوک کیااوروہ انتہائی خوشی خوشی واپس لوٹ گئیں ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۸:۹۸) حنین میں کافروں کو شکست کی ذلت نصیب ہوئی ، سترآدمی قتل ہوئے ، ہزاروں کی تعداد میں قید ہوئے جن میں فقط عورتوں کی تعداد چھے ہزارتھی ، مال غنیمت میں اہل اسلام کو چوبیس ہزاراونٹ اورچالیس ہزاربھیڑبکریوں کے علاوہ چارہزاراوقیہ چاندی بھی ہاتھ لگی ۔غرضیکہ چندگھنٹوں میں دشمن کو ہزیمت کامل ہوگئی اوریہ اس سے ظاہرہے کہ مسلمانوں کے کل بارہ آدمی شہیدہوئے اورقیدیوں کی بہت بڑی تعدادہاتھ آئی اوربطورغنیمت ۲۴ہزاراونٹ بھی ہاتھ آئے۔ جوشخص شکست کی نسبت حضورتاجدارختم نبوتﷺکی طرف کرے وہ واجب القتل ہے قال القاضی عبد اللہ بن المرابط من قال ان نبی اللہ علیہ السلام ہزم فی بعض غزاوتہ یستتاب فان تاب فیہا ونعمت وإلا قتل فانہ نسب الیہ ما لا یلیق بمنصبہ وألحق بہ نقصا وذلک لا یجوز علیہ إذ ہو علی بصیرۃ من امرہ، ویقین من عصمتہ وقد أعطاہ اللہ تعالی من الشجاعۃ ورباطۃ الجاش ما لم یعط أحدا من العالمین فکیف یتصور الانہزام فی حقہ۔شاہی وملائکہ سپاہست … خلق تو عظیم وحق کواہست
ترجمہ :حضرت سیدناقاضی عبداللہ بن المرابط رحمہ اللہ تعالی نے فرمایاکہ جوکہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺبعض غزوات کوچھوڑ کرآگئے تھے ایساکہنے والے کو قتل کردیناواجب ہے یعنی جب اسے کہاجائے کہ تونے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخی کی ہے ، اس لئے تم پر توبہ کرنالازم ہے ، اگروہ توبہ سے انکارکرے تواسے قتل کرناواجب ہے ، اس لئے کہ اس بدبخت نے منصب ِ نبوت کے خلاف بات کی ہے اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخی کی ہے اورآپﷺکی ذات اقدس کی طرف عیب منسوب کیاہے ، جبکہ آپ ﷺہرعیب اورنقص سے پاک ہیں اورآپﷺپرایسی تہمت لگائی جوآپ ﷺکی شان کے لائق نہیں تھی ، اس لئے کہ آپ ﷺہرامرمیں بصیرت تامہ رکھتے تھے اوریقین کی ہراونچی منزل پرتھے اورآپﷺہرطرح کی لغزش سے معصوم تھے بالخصوص شجاعت کے معاملے میں اللہ تعالی نے ہرشجاع اوربہادرسے آپﷺکواعلی واکمل بنایااوردشمن کے سامنے جرات مندی آپﷺپرختم تھی ،آپﷺہرہرصفت میں لاثانی اوربے نظیرتھے، پھران سے شکست کاتصورکسی گندے ذہن میں سماسکتاہے ۔ شاہی وملائکہ سپاہست … خلق تو عظیم وحق کواہست (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۴۹۰) حضورتاجدارختم نبوتﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جانثاری کے متعلق احادیث صحیحہحضرت سیدناابوسفیان رضی اللہ عنہ کی جانثاری
عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ، قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَاء ِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا: أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ حُنَیْنٍ؟ قَالَ:لَکِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَفِرَّ إِنَّ ہَوَازِنَ کَانُوا قَوْمًا رُمَاۃً، وَإِنَّا لَمَّا لَقِینَاہُمْ حَمَلْنَا عَلَیْہِمْ، فَانْہَزَمُوا فَأَقْبَلَ المُسْلِمُونَ عَلَی الغَنَائِمِ،وَاسْتَقْبَلُونَا بِالسِّہَامِ، فَأَمَّا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ یَفِرَّ، فَلَقَدْ رَأَیْتُہُ وَإِنَّہُ لَعَلَی بَغْلَتِہِ البَیْضَاء ِ،وَإِنَّ أَبَا سُفْیَانَ آخِذٌ بِلِجَامِہَا، وَالنَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ:أَنَا النَّبِیُّ لاَ کَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ المُطَّلِبْ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا :کیاتم غزوہ حنین میںحضورتاجدارختم نبوتﷺکو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے ؟انھوں نے کہا لیکن حضورتاجدارختم نبوتﷺنے پشت نہیں دکھائی۔ قصہ یوں ہوا کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ بڑے تیراندازتھے۔ پہلے جو ہم نے ان پر حملہ کیا تو وہ بھاگ نکلے، لیکن جب مسلمان مال غنیمت پر ٹوٹ پڑے تو انھوں نے سامنے سے تیر برسانا شروع کر دیے۔ ہم تو بھاگ گئے مگرحضورتاجدارختم نبوتﷺنہیں بھاگے یقیناً میں نے آپﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ اپنے سفید خچر پر تھے اور حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی لگام تھامے اپنے سفید خچر پر تھے اور حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی لگام تھامے ہوئے تھے اورحضورتاجدارختم نبوتﷺفرما رہے تھے۔میں(اللہ کاسچا)نبی ہوں، (اس میں)کوئی جھوٹ نہیں، (اور اس کے ساتھ ساتھ)میں عبد المطلب کا بیٹا (بھی) ہوں۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۴:۳۰)حضرت سیدناعبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی جانثاری
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ رَأَیْتُ بِیَدِ ابْنِ أَبِی أَوْفَی ضَرْبَۃً قَالَ ضُرِبْتُہَا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ حُنَیْنٍ قُلْتُ شَہِدْتَ حُنَیْنًا قَالَ قَبْلَ ذَلِکَ۔ ترجمہ :حضرت سیدنااسماعیل رحمہ اللہ تعالی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت سیدناابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر تلوار کا زخم دیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ غزوہ حنین میں مجھے حضورتاجدارختم نبوتﷺکے ہمراہ یہ زخم آیا تھا۔ میں نے پوچھا: آپ غزوہ حنین میں موجود تھے؟ انہوں نے فرمایا:میں اس سے پہلے غزوات میں بھی حاضر ہوتا رہا ہوں۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۵:۱۵۳)اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی طرف سے لڑنے والے شیرکوانعام
عَنْ عُمَرَ بْنِ کَثِیرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ أَبِی مُحَمَّدٍ مَوْلَی أَبِی قَتَادَۃَ أَنَّ أَبَا قَتَادَۃَ قَالَ لَمَّا کَانَ یَوْمَ حُنَیْنٍ نَظَرْتُ إِلَی رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِینَ یُقَاتِلُ رَجُلًا مِنْ الْمُشْرِکِینَ وَآخَرُ مِنْ الْمُشْرِکِینَ یَخْتِلُہُ مِنْ وَرَائِہِ لِیَقْتُلَہُ فَأَسْرَعْتُ إِلَی الَّذِی یَخْتِلُہُ فَرَفَعَ یَدَہُ لِیَضْرِبَنِی وَأَضْرِبُ یَدَہُ فَقَطَعْتُہَا ثُمَّ أَخَذَنِی فَضَمَّنِی ضَمًّا شَدِیدًا حَتَّی تَخَوَّفْتُ ثُمَّ تَرَکَ فَتَحَلَّلَ وَدَفَعْتُہُ ثُمَّ قَتَلْتُہُ وَانْہَزَمَ الْمُسْلِمُونَ وَانْہَزَمْتُ مَعَہُمْ فَإِذَا بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِی النَّاسِ فَقُلْتُ لَہُ مَا شَأْنُ النَّاسِ قَالَ أَمْرُ اللَّہِ ثُمَّ تَرَاجَعَ النَّاسُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ أَقَامَ بَیِّنَۃً عَلَی قَتِیلٍ قَتَلَہُ فَلَہُ سَلَبُہُ فَقُمْتُ لِأَلْتَمِسَ بَیِّنَۃً عَلَی قَتِیلِی فَلَمْ أَرَ أَحَدًا یَشْہَدُ لِی فَجَلَسْتُ ثُمَّ بَدَا لِی فَذَکَرْتُ أَمْرَہُ لِرَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِہِ سِلَاحُ ہَذَا الْقَتِیلِ الَّذِی یَذْکُرُ عِنْدِی فَأَرْضِہِ مِنْہُ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ کَلَّا لَا یُعْطِہِ أُصَیْبِغَ مِنْ قُرَیْشٍ وَیَدَعَ أَسَدًا مِنْ أُسْدِ اللَّہِ یُقَاتِلُ عَنْ اللَّہِ وَرَسُولِہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَدَّاہُ إِلَیَّ فَاشْتَرَیْتُ مِنْہُ خِرَافًا فَکَانَ أَوَّلَ مَالٍ تَأَثَّلْتُہُ فِی الْإِسْلَامِ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا:جب حنین کی جنگ ہو رہی تھی تو میں نے ایک مسلمان کو دیکھا جو ایک مشرک سے لڑ رہا تھا جبکہ ایک دوسرا مشرک اس کو پیچھے سے دھوکا دے کر قتل کرنا چاہتا تھا۔ میں جلدی سے تاک لگنے والے مشرک کی طرف گیا تو اس نے مجھے مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا۔ میں نے اس کا ہاتھ تلوار سے کاٹ دیا۔ پھر اس نے مجھے اس قدر زور سے دبایا کہ میں نے موت کا خطرہ محسوس کیا۔ آخرکار وہ سست پڑ گیا اور اس نے مجھے چھوڑ دیا۔ پھر میں نے اسے دور ہٹا کر قتل کر دیا۔ اس دوران میں مسلمانوں میں اضطراب پیدا ہوا تو میں بھی اس اضطراب کی زد میں آ گیا۔ میں نے اچانک حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ کو لوگوں میں دیکھا تو ان سے پوچھا کہ لوگوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے فرمایا:اللہ تعالی کا حکم ایسا ہی ہے۔ پھر لوگ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی طرف لوٹے تو آپ ﷺنے اعلان فرمایا:جو کوئی اپنے مقتول پر گواہ پیش کر دے جس کو اس نے قتل کیا ہے تو اس کے لیے اس کا سامان ہے۔میں کھڑا ہوا تاکہ اپنے مقتول پر گواہ تلاش کروں تو میں نے کسی کو نہ دیکھا جو میرے لیے گواہی دے، چنانچہ میں بیٹھ گیا۔ پھر مجھے خیال آیا تو میں نے سارا واقعہ حضورتاجدارختم نبوتﷺسے کہہ دیا۔ آپ ﷺکے پاس بیٹھنے والوں میں سے ایک شخص نے کہا: جس مقتول کا اس نے ذکر کیا ہے اس کا سامان میرے پاس ہے۔ آپﷺ اسے میری طرف سے راضی کر دیں۔ یہ سن کر حضرت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ عرض گزار ہوئے:ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا یارسول اللہ ﷺ!آپ اس کو سامان نہ دیں۔ آپﷺ قریش کے ایک بزدل کو مقتول کا سامان دیں اور اللہ تعالی کے شیروںمیں سے ایک شیر کو نظرانداز کر دیں جو اللہ تعالٰی اور حضورتاجدارختم نبوتﷺکی طرف سے لڑتا ہے۔ پھر حضورتاجدارختم نبوتﷺاٹھے اور وہ سامان مجھے عطا فرمایا۔ میں نے اس سامان کے عوض ایک باغ خرید لیا۔ یہ پہلی جاگیر تھی جو میں نے اسلام لانے کے بعد حاصل کی۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۵:۱۵۳)حنین میں انصارکے گروہ سے دلجوئی کادلنشین انداز
عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ لَمَّا أَفَاء َ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ حُنَیْنٍ قَسَمَ فِی النَّاسِ فِی الْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوبُہُمْ وَلَمْ یُعْطِ الْأَنْصَارَ شَیْئًا فَکَأَنَّہُمْ وَجَدُوا إِذْ لَمْ یُصِبْہُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ فَخَطَبَہُمْ فَقَالَ یَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ أَجِدْکُمْ ضُلَّالًا فَہَدَاکُمْ اللَّہُ بِی وَکُنْتُمْ مُتَفَرِّقِینَ فَأَلَّفَکُمْ اللَّہُ بِی وَعَالَۃً فَأَغْنَاکُمْ اللَّہُ بِی کُلَّمَا قَالَ شَیْئًا قَالُوا اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَمَنُّ قَالَ مَا یَمْنَعُکُمْ أَنْ تُجِیبُوا رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ کُلَّمَا قَالَ شَیْئًا قَالُوا اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَمَنُّ قَالَ لَوْ شِئْتُمْ قُلْتُمْ جِئْتَنَا کَذَا وَکَذَا أَتَرْضَوْنَ أَنْ یَذْہَبَ النَّاسُ بِالشَّاۃِ وَالْبَعِیرِ وَتَذْہَبُونَ بِالنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی رِحَالِکُمْ لَوْلَا الْہِجْرَۃُ لَکُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ وَلَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِیًا وَشِعْبًا لَسَلَکْتُ وَادِیَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَہَا الْأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ إِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِی أُثْرَۃً فَاصْبِرُوا حَتَّی تَلْقَوْنِی عَلَی الْحَوْضِ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب اللہ تعالٰی نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو غزوہ حنین میں غنیمت عطا فرمائی تو آپ ﷺنے ان لوگوں میں مال غنیمت تقسیم کیا جن کے دل اسلام پر جمانے مقصود تھے اور انصار کو کچھ نہ دیا، گویا وہ اس وجہ سے غمناک ہوئے کہ جو مال لوگوں کو ملا انہیں نہ ملا۔ آپ ﷺنے انہیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:اے گروہ انصار!کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا کہ اللہ تعالٰی نے میری وجہ سے تمہیں سیدھی راہ دکھائی؟ تم ایک دوسرے سے جدا جدا تھے، اللہ تعالٰی نے میری وجہ سے تم میں اتحاد و اتفاق پیدا فرمایا۔ تم محتاج تھے، اللہ تعالٰی نے میری وجہ سے تمہیں غنی کر دیا؟آپ ﷺجب بھی کچھ فرماتے تو انصار کہتے کہ اللہ اور اس کے رسول کا بہت احسان ہے۔ آپ نے فرمایا:تمہیں رسول اللہ ﷺکو جواب دینے سے کس چیز نے روک رکھا ہے؟لیکن جب بھی آپﷺ کوئی بات فرماتے تو وہ کہتے:واقعی اللہ اور اس کے رسول کریمﷺ کا سب سے بڑا احسان ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا:اگر تم چاہو تو کہہ سکتے ہو کہ آپ ہمارے پاس ان حالات میں تشریف لائے۔ کیا تم خوش نہیں ہو کہ لوگ بکریاں اور اونٹ لے کر جائیں اور تم اپنے گھروں میںحضورتاجدارختم نبوت ﷺکولے کر جاؤ؟ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا۔ اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی میں چلوں گا۔ انصار تو اندر کا کپڑا، یعنی استر ہیں اور دوسرے لوگ باہر کے کپڑے، یعنی ابرہ کی طرح ہیں۔ میرے بعد تمہیں ترجیحات سے واسطہ پڑے گا۔ صبر کرتے رہو حتی کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کرو۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۵:۱۵۷)لبیک وسعدیک یارسول اللہ
عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ لَمَّا کَانَ یَوْمُ حُنَیْنٍ الْتَقَی ہَوَازِنُ وَمَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَشَرَۃُ آلَافٍ وَالطُّلَقَاء ُ فَأَدْبَرُوا قَالَ یَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالُوا لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ وَسَعْدَیْکَ لَبَّیْکَ نَحْنُ بَیْنَ یَدَیْکَ فَنَزَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنَا عَبْدُ اللَّہِ وَرَسُولُہُ فَانْہَزَمَ الْمُشْرِکُونَ فَأَعْطَی الطُّلَقَاء َ وَالْمُہَاجِرِینَ وَلَمْ یُعْطِ الْأَنْصَارَ شَیْئًا فَقَالُوا فَدَعَاہُمْ فَأَدْخَلَہُمْ فِی قُبَّۃٍ فَقَالَ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ یَذْہَبَ النَّاسُ بِالشَّاۃِ وَالْبَعِیرِ وَتَذْہَبُونَ بِرَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِیًا وَسَلَکَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَاخْتَرْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جس روز غزوہ حنین تھا، ہوازن کے لوگ مسلمانوں کے مقابلے میں آئے جبکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے ہمراہ دس ہزار کی نفری اور طلقاء بھی تھے۔ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تو آپ نے آواز دی:اے انصار کی جماعت!انہوں نے کہا:یارسول اللہ ﷺ!ہم حاضر ہیں اور آپﷺ کی مدد کو آ گئے ہیں۔ پھر حضورتاجدارختم نبوتﷺ(اپنی سواری سے)اترے اور فرمایا:میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔جب مشرکین شکست خوردہ ہو کر بھاگ گئے تو آپ ﷺنے طلقاء اور مہاجرین کو اموال دیے اور انصار کو کچھ نہ دیا۔ انہوں نے جو کچھ کہنا تھا کہا۔ آپ ﷺنے انہیں ایک خیمے میں جمع کر کے فرمایا:تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ بھیڑ بکریاں اور اونٹ وغیرہ لے جائیں اور تم اللہ کے رسول کریم ﷺکولے کر جاؤ؟ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے مزید فرمایا:اگر لوگ کسی وادی میں چلیں اور انصار کوئی پہاڑی راستہ اختیار کریں تو میں انصار کا پہاڑی راستہ اختیار کروں گا۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۵:۱۵۹)حضورتاجدارختم نبوتﷺکی ذات پراعتراض ہونے کی وجہ سے چہرہ مبارک کاسرخ ہونا
عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ لَمَّا کَانَ یَوْمُ حُنَیْنٍ آثَرَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَاسًا فِی الْقِسْمَۃِ فَأَعْطَی الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَۃً مِنْ الْإِبِلِ وَأَعْطَی عُیَیْنَۃَ مِثْلَ ذَلِکَ وَأَعْطَی أُنَاسًا مِنْ أَشْرَافِ الْعَرَبِ وَآثَرَہُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْقِسْمَۃِ فَقَالَ رَجُلٌ وَاللَّہِ إِنَّ ہَذِہِ لَقِسْمَۃٌ مَا عُدِلَ فِیہَا وَمَا أُرِیدَ فِیہَا وَجْہُ اللَّہِ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّہِ لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَیْتُہُ فَأَخْبَرْتُہُ بِمَا قَالَ قَالَ فَتَغَیَّرَ وَجْہُہُ حَتَّی کَانَ کَالصِّرْفِ ثُمَّ قَالَ فَمَنْ یَعْدِلُ إِنْ لَمْ یَعْدِلْ اللَّہُ وَرَسُولُہُ قَالَ ثُمَّ قَالَ یَرْحَمُ اللَّہُ مُوسَی قَدْ أُوذِیَ بِأَکْثَرَ مِنْ ہَذَا فَصَبَرَ قَالَ قُلْتُ لَا جَرَمَ لَا أَرْفَعُ إِلَیْہِ بَعْدَہَا حَدِیثًا۔ ترجمہ :حضرت سیدنا عبداللہ(بن مسعود)رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،کہا:جب حنین کی جنگ ہوئی۔حضورتاجدارختم نبوتﷺنے کچھ لوگوں کو(مال غنیمت کی)تقسیم میں ترجیح دی۔آپﷺ نے اقرع بن حابس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سو اونٹ دیے ،عیینہ کو بھی اتنے ہی(اونٹ)دیے اور عرب کے دوسرے اشراف کو بھی عطا کیا اور اس دن(مال غنیمت کی )تقسیم میں نہ عدل کیا گیا اور نہ اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھاگیا ہے۔کہا:میں نے(دل میں)کہا:اللہ کی قسم!میں (اس بات سے)حضورتاجدارختم نبوتﷺکو ضرور آگاہ کروں گا،میں آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کی اطلاع دی جو اس نے کہی تھی۔(غصے سے)آپﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوا یہاں تک کہ وہ سرخ رنگ کی طرح ہوگیا،پھر آپ ﷺنے فرمایا:اگر اللہ اور اس کا رسولﷺ عدل نہیں کریں گے تو پھر کون عدل کرے گا!پھر آپﷺ نے فرمایا:اللہ تعالی موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے!انھیں اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی تو انھوں نے صبر کیا۔” (ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے)کہا:میں نے دل میں سوچا آئندہ کبھی (اس قسم کی)کوئی بات آپ کے سامنے پیش نہیں کروں گا۔ (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (ا۲:۷۳۹)حضرت سیدتناام سلیم رضی اللہ عنہاکاخنجر
عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَیْمٍ اتَّخَذَتْ یَوْمَ حُنَیْنٍ خِنْجَرًا، فَکَانَ مَعَہَا، فَرَآہَا أَبُو طَلْحَۃَ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللہِ، ہَذِہِ أُمُّ سُلَیْمٍ مَعَہَا خِنْجَرٌ، فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَا ہَذَا الْخِنْجَرُ؟ قَالَتْ: اتَّخَذْتُہُ إِنْ: دَنَا مِنِّی أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ، بَقَرْتُ بِہِ بَطْنَہُ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَضْحَکُ، قَالَتْ: یَا رَسُولَ اللہِ، اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاء ِ انْہَزَمُوا بِکَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَا أُمَّ سُلَیْمٍ، إِنَّ اللہَ قَدْ کَفَی وَأَحْسَنَ۔ ترجمہ:حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حنین کے دن حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک خنجر (اپنے پاس رکھ)لیا، وہ ان کے ساتھ تھا، حضرت سیدناابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ لیا تو انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ!یہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ہیں، ان کے پاس ایک خنجر ہے۔حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ان سے پوچھا: یہ خنجر کیسا ہے؟انہوں نے کہا:میں نے یہ اس لیے لیا ہے کہ اگر مشرکوں میں سے کوئی میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ چاک کر دوں گی (یہ سن کر)۔حضورتاجدارختم نبوتﷺ ہنسنے لگے۔ تو انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ!ہمارے بعد دائرہ اسلام میں شامل ہونے والے، جنہیں (فتح مکہ کے دن)معافی دی گئی تھی (حنین کے دن)آپﷺ کو چھوڑ کر بھاگ گئے، انہیں قتل کروا دیجئے، تو حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:ام سلیم!بلاشبہ اللہ تعالیٰ کافی ہو گیا (ان کا بھاگنا جنگ ہارنے کا باعث نہ بنا)اور اس نے احسان فرمایا (کہ ہمیں فتح عطا کر دی) (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۳:۱۴۴۲)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9