Fatwa #2401
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورۃالتوبہ آیت ۲۸۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلَایَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
11,841
سوال (Question):
تفسیر سورۃالتوبہ آیت ۲۸۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلَایَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
جب مشرک اوربت نجس اورپلید ہیں توپھرپاکستان میں مندروں کی تعمیرکیوں ؟ مشرک اوریہودونصاری کے نجس ہونے کابیان
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلَایَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَۃً فَسَوْفَ یُغْنِیْکُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖٓ اِنْ شَآء َ اِنَّ اللہَ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ}(۲۸) ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والو مشرک نرے ناپاک ہیں تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں اور اگر تمہیں محتاجی کا ڈر ہے تو عنقریب اللہ تمہیں دولت مند کردے گا اپنے فضل سے اگر چاہے بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اے اہل ایمان :مشرک بالکل پلید ہیں تو اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں اور اگرتمہیں محتاجی کا ڈر ہے تو عنقریب اللہ تعالی اپنے فضل سے اگر چاہے گاتوتمہیں دولت مند کردے گا بیشک اللہ تعالی علم والا حکمت والا ہے۔ جوشخص کسی مشرک سے مصافحہ کرے ۔ عَن ابْن عَبَّاس رَضِی اللہ عَنْہُمَا قَالَ:قَالَ رَسُول اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم من صَافح مُشْرکًا فَلیَتَوَضَّأ أَو لیغسل کفیہ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایاکہ جو شخص کسی مشرک سے مصافحہ کرے تواس کے لئے لا زم ہے کہ وہ وضوکرے یاپھراپنے ہاتھوں کو دھوئے۔ (روح المعانی:شہاب الدین محمود بن عبد اللہ الحسینی الألوسی (۵:۲۶۹)مشرک سے مصافحہ کرنے والاوضوکرے
قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِیُّ مَنْ صَافَحَ مُشْرِکًا فَلْیَتَوَضَّأْ. ترجمہ :حضرت سیدناامام حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے کسی مشرک کے ساتھ مصافحہ کیاتواسے چاہئے کہ وہ وضوکرے ۔ (تفسیربن عطیہ :أبو محمد عبد الحق بن غالب بن عبد الرحمن بن تمام بن عطیۃ الأندلسی المحاربی (۳:۳۰)مشرک کوچھونے سے وضوکرناواجب ہے
وَفِی التَّحْرِیرِ وَبَالَغَ الْحَسَنُ حَتَّی قَالَ:إِنَّ الْوُضُوء َ یَجِبُ مِنْ مَسِّ الْمُشْرِکِ۔ ترجمہ :اورالتحریرمیں ہے کہ امام حسن بصری رضی اللہ عنہ یہاں تک فرماتے تھے کہ جس شخص نے کسی مشرک کو ہاتھ لگالیاتواس پروضوکرناواجب ہے ۔ (البحر المحیط فی التفسیر:أبو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان أثیر الدین الأندلسی (۵:۳۹۸)مشرک خنزیرکی طرح پلیدہے
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَالْحَسَنُ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ، وَغَیْرُہُ:الشِّرْکُ ہُوَ الَّذِی نَجَّسَہُمْ، فَأَعْیَانُہُمْ نَجِسَۃٌ کالخمر والکلاب وَالْخَنَازِیرِ. ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، حضرت سیدناامام حسن بصری رضی اللہ عنہ اورحضرت سیدناعمربن عبدالعزیزرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مشرکین کو شرک نے نجس کردیاہے ، پس ان کے اعیان ہی نجس ہیں جیسے شراب ، کتے اورخنزیرناپاک ہیں۔ (البحر المحیط فی التفسیر:أبو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان أثیر الدین الأندلسی (۵:۳۹۸)یہودونصاری کاحکم بھی مشرکین والاہے
عَن الْأَوْزَاعِیّ رَضِی اللہ عَنہُ قَالَ:کتب عمر بن عبد الْعَزِیز رَضِی اللہ عَنہُ أَن یمْنَع أَن یدْخل الْیَہُود وَالنَّصَارَی الْمَسَاجِد وأتبع نَہْیہ (إِنَّمَا الْمُشْرکُونَ نجس) ترجمہ :حضرت سیدناامام اوزاعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوںنے حضرت سیدناعمربن عبدالعزیزرضی اللہ عنہ کو یہ خط لکھاکہ وہ یہودونصاری کو مساجد میں داخل ہونے سے منع کریں اوراس میں آپ رضی اللہ عنہ نے اس نہی کی اتباع کی {ِنَّمَا الْمُشْرکُونَ نجس} (الدر المنثور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (۴:۱۶۵) حضرت مولاعلی رضی اللہ عنہ کایہودی کوہاتھ لگنے پر وضوفرمانا کان علی رضی اللہ عنہ یتوضاء من مس الیہودی ۔ ترجمہ:حضرت مولاعلی رضی اللہ عنہ کا جب بھی کسی یہودی کوہاتھ لگ جاتاتوآپ رضی اللہ تعالی عنہ وضوفرماتے تھے ۔ (کشف الغمہ عن جمیع الامۃ لامام عبدالوہاب الشعرانی ( ۱: ۶۳)مشرکین کی ہڈیاں بھی حرم سے نکال کرباہرپھینکی جائیں گی
وَہُوَ مَذْہَبُ عَطَاء ٍ فَإِذًا یَحْرُمُ تَمْکِینُ الْمُشْرِکِ مِنْ دُخُولِ الْحَرَمِ أَجْمَعَ فَإِذَا جَاء َنَا رَسُولٌ مِنْہُمْ خَرَجَ الْإِمَامُ إِلَی الْحِلِّ لِیَسْمَعَ مَا یَقُولُ وَلَوْ دَخَلَ مُشْرِکٌ الْحَرَمَ مَسْتُورًا وَمَاتَ نُبِشَ قَبْرُہُ وَأُخْرِجَتْ عِظَامُہُ فَلَیْسَ لَہُمُ الِاسْتِیطَانُ وَلَا الِاجْتِیَازُ. ترجمہ :یہی حضرت سیدناعطاء رضی اللہ عنہ کامذہب ہے پورے حرم شریف میں کسی مشرک کوداخل ہونے کی قدرت دیناحرام ہوگا، پس جب کوئی مشرکین کی طرف سے ہمارے پاس قاصدآئے توحاکم حل کی طرف نکلے تاکہ وہ پیغام سن سکے جووہ کہتاہے اوراگرکوئی مشرک چھپ کرحرم شریف میں داخل ہوگیااوروہ وہیں مرگیاتواس کی قبراکھیڑکراس کی ہڈیاں نکال لی جائیں گی ، نتیجۃ ًا س کے لئے اس کے اندرداخل ہوناجائز نہیں اورنہ مشرک کے لئے حرم سے گزرناجائز ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۱۰۳) امام احمدرضاحنفی الماتریدی کفارکے مسجد میں داخلے کے حوالے سے لکھتے ہیں یہ کہنا کہ مسجدُ الحرام شریف سے کفار کا منع ایک خاص وقت کے واسطے تھا ،اگر یہ مراد کہ اب نہ رہا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ پر صَریح اِفتراء ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا {اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلَایَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا} ترجمہ ضیاء الایمان:اے اہل ایمان :مشرک بالکل پلید ہیں تو اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں۔ یونہی یہ کہنا کہ کفار کے وُفود مسجدِ نبویﷺ میں اپنے طریقے سے عبادت کرتے تھے محض جھوٹ ہے۔ حضورِ اقدسﷺکے لئے مسجدِ کریمہ کے سوا کوئی نشست گاہ نہ تھی جو حاضر ہوتا یہیں حاضر ہوتا کسی کافر کی حاضری مَعَاذَاللہ بطورِاِستیلا واِستِعلاء (یعنی غلبے کے طور پر)نہ تھی بلکہ ذلیل وخوار ہوکر یا اسلام لانے کے لئے یا تبلیغِ اسلام سننے کے واسطے تھی ۔ (فتاوی رضویہ لامام احمدرضاحنفی (۱۴:۳۹۰)بت اورصلیب وغیرہ کے نجس ہونے کابیان
{فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ }(سورۃ الحج : ۳۰) ترجمہ ضیاء الایمان:سو تم بتوں کی نجاست سے اجتناب کرو اور جھوٹی بات سے پرہیز کرو سو تم بتوں کی نجاست سے اجتناب کرو اور جھوٹی بات سے پرہیز کرو، رجس ناپاک چیز کو کہتے ہیں اہلِ عرب پتھر کی مورتیوں اور لکڑی، لوہے، سونے اور چاندی کے بنائے ہوئے مجسموں کی پوجا کرتے تھے اور نصاریٰ صلیب کو نصب کر کے اس کی تعظیم اور اس کی عبادت کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ کریم نے اہل ایمان کو بتوں کی نجاست سے اجتناب کرنے کا واضح حکم فرما دیا ہے اس صریح حکم کی خلاف ورزی کرنا اور سرزمین پاکستان میں بت خانہ (مندر)بنانا شرعا ناجائز ہے –صلیب کے نجس ہونے کابیان
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ أَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَفِی عُنُقِی صَلِیبٌ مِنْ ذَہَبٍ فَقَالَ یَا عَدِیُّ اطْرَحْ عَنْکَ ہَذَا الْوَثَنَ وَسَمِعْتُہُ یَقْرَأُ فِی سُورَۃِ بَرَاء َۃٌ اتَّخَذُوا أَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّہِ قَالَ أَمَا إِنَّہُمْ لَمْ یَکُونُوا یَعْبُدُونَہُمْ وَلَکِنَّہُمْ کَانُوا إِذَا أَحَلُّوا لَہُمْ شَیْئًا اسْتَحَلُّوہُ وَإِذَا حَرَّمُوا عَلَیْہِمْ شَیْئًا حَرَّمُوہ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میںحضورتاجدارختم نبوتﷺکی خدمت اقدس میں حاضرہوا، میری گردن میں سونے کی صلیب لٹک رہی تھی، آپ ﷺنے فرمایا:عدی!اس بت کو نکال کر پھینک دو، میں نے آپ ﷺکو سورہ براۃ کی آیت: { اتَّخَذُوا أَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّہِ } پڑھتے ہوئے سنا۔ آپ ﷺنے فرمایا: وہ لوگ ان کی عبادت نہ کرتے تھے، لیکن جب وہ لوگ کسی چیز کو حلال کہہ دیتے تھے تو وہ لوگ اسے حلال جان لیتے تھے، اور جب وہ لوگ ان کے لیے کسی چیز کو حرام ٹھہرا دیتے تو وہ لوگ اسے حرام جان لیتے تھے ۔ (سنن الترمذی:محمد بن عیسی بن سَوْرۃ بن موسی بن الضحاک، الترمذی، أبو عیسی (۵:۱۲۹) حضرت علی رضی اللہ عنہ صلیب اورعیسائی کوہاتھ لگنے سے وضو فرماتے تھے کان علی رضی اللہ عنہ اذامس صلیباعلی نصرانی یذھب یتوضاء یقول انہ رجس ۔ ترجمہ: اگرحضرت مولاعلی رضی اللہ عنہ کاہاتھ اس صلیب کو لگ جاتاجس کو عیسائی پہنے ہوئے ہوتاتوآپ رضی اللہ عنہ وضو کرتے اورفرماتے تھے کہ یہ پلید ہے۔ (کشف الغمہ عن جمیع الامۃ لامام عبدالوہاب الشعرانی ( ۱: ۶۳) بتوں کو نجس اس لیے فرمایا کہ جس طرح نجاست صرف پانی سے زائل ہوتی ہے، اسی طرح بتوں کی پرستش کا کفر اور عذاب صرف توبہ اور ایمان سے زائل ہوتا ہے۔ قرآن کریم اوراحادیث شریفہ میں یہ بات واضح ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے بت پرستی یعنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کو کبیرہ گناہ فرمایا ہے لہذا پاکستان میںپاکستان کے پیسہ سے بت خانہ تعمیر کرنا کسی صورت بھی جائز قرار نہیں دیا جا سکتا- یہ بھی یادرہے کہ مختلف ادوار میں گرجا گھر اور کلیسے ’’اسلامی حکومت‘‘میں موجود رہے ہیں،کبھی بھی انہیں ادنیٰ گزند تک نہیں پہنچائی گئی بلکہ حکومت نے ان کی حفاظت کی ہے اور غیر مسلموں کو ان میں عبادات کی انجام دہی کے لیے سہولیات فراہم کی ہیں،اقلیتیں اپنی قدیم عبادت گاہوں کے اندر رہ کر اپنے تمام مذہبی اُمور بجا لا سکتے ہیں،حکومتِ اسلامیہ اس میں دخل دینے کی مجاز نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اسلامی ملک میں غیر مسلم اپنی نئی عبادت گاہیں تعمیر کر سکتے ہیں؟ فقہائے اسلام اسلامی ملک کے شہروں کو تین اقسام میں تقسیم کرتے ہیں (۱)…وہ شہر جنہیں مسلمانوں نے نئے سرے سے آباد کیا ہو۔ فقہائے اسلام کا اس بات پر اجماع ہے کہ ایسے شہروں میں غیر مسلم ذمی اپنی نئی عبادت گاہیں تعمیر نہیں کرسکتے۔ عَنْ عِکْرِمَۃَ، قَالَ:قِیلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ:أَلِلْعَجَمِ أَنْ یُحْدِثُوا فِی أَمْصَارِ الْمُسْلِمِینَ بِنَاء ً أَوْ بِیعَۃً؟ فَقَالَ:أَیُّمَا مِصْرٍ مَصَّرَتْہُ الْعَرَبُ فَلَیْسَ لِلْعَجَمِ أَنْ یَبْنُوا فِیہِ بِنَاء ً، أَوْ قَالَ:بِیعَۃً، وَلَا تَضْرِبُوا فِیہِ نَاقُوسًا وَلَا تَشْرَبُوا فِیہِ خَمْرًا، وَلَا تَتَّخِذُوا فِیہِ خِنْزِیرًا أَوْ تُدْخِلُوا فِیہِ، أَیُّمَا مِصْرٍ مَصَّرَتْہُ الْعَجَمُ یَفْتَحُہُ اللَّہُ عَلَی الْعَرَبِ وَنَزَلُوا یَعْنِی عَلَی حُکْمِہِمْ فَلِلْعَجَمِ مَا فِی عَہْدِہِمْ، وَلِلْعَجَمِ عَلَی الْعَرَبِ أَنْ یُوَفُّوا بِعَہْدِہِمْ وَلَا یُکَلِّفُوہُمْ فَوْقَ طَاقَتِہِمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے سوال کیاگیاکہ کیاعجمیوں کو(کفارومشرکین ) کو اختیارہے کہ مسلمانوں کے شہروں میں کوئی عمارت یاگرجابنالیں ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ رہے وہ شہرجن شہروں کو مسلمانوں نے آباد کیا ہے ان میں ذمیوں کو یہ حق نہیں ہے کہ نئی’’عبادت گاہیں‘‘(کلیسے گرجے اورمندروغیرہ)تعمیر کریں، یا ناقوس بجائیں، شرابیں پئیں اور سور پالیں۔ملخصاً۔ (مصنف ابن ابی شیبہ:أبو بکر بن أبی شیبۃ، عبد اللہ بن محمد العبسی (۶:۴۶۷) امام حسن بصری رضی اللہ عنہ کانظریہ عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ تُتْرَکَ الْبِیَعُ فِی أَمْصَارِ الْمُسْلِمِینَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام حسن بصری رضی اللہ عنہ اہل اسلام کے شہروں میں گرجوں کے باقی رکھنے کو مکروہ جانتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ:أبو بکر بن أبی شیبۃ، عبد اللہ بن محمد العبسی (۶:۴۶۷) امام ابن سیرین رضی اللہ عنہ کاقول عَنْ حَبِیبِ بْنِ شَہِیدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ، أَنَّہُ کَانَ لَا یَتْرُکُ لِأَہْلِ فَارِسَ صَنَمًا إِلَّا کُسِرَ وَلَا نَارًا إِلَّا أُطْفِئَت۔ ترجمہ :حضرت سیدناحبیب بن شہیدرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ امام محمدبن سیرین رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ اہل فارس کے کسی بھی بت کونہیں چھوڑاجائے گامگر یہ کہ اس کو توڑدیاجائے گااورنہ ہی کسی آگ کو چھوڑاجائے گامگریہ کہ اس کو بجھادیاجائے گا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ:أبو بکر بن أبی شیبۃ، عبد اللہ بن محمد العبسی (۶:۴۶۷)شرک پھیلانے کے لئے آتشکدہ بنانے والے کوقتل کردیاگیا
عَنْ عَوْفٍ، قَالَ: شَہِدْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُبَیْدِ بْنِ مَعْمَرٍ أُتِیَ بِمَجُوسِیٍّ بَنَی بَیْتَ نَارٍ بِالْبَصْرَۃِ فَضَرَبَ عُنُقَہُ۔ ترجمہ :حضر ت سیدناعوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیدناعبداللہ بن عبیدبن معمررضی اللہ عنہ کے پاس مجوسی کولایاجس نے بصرہ میںشرک کرنے کے لئے آتشکدہ بنایاتھا، آپ رضی اللہ عنہ نے اس کی گردن اڑادی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ:أبو بکر بن أبی شیبۃ، عبد اللہ بن محمد العبسی (۶:۴۶۷) (۲)…وہ شہر جنہیں مسلمانوں نے بزور شمشیر فتح کیا ہو ایسے شہروں میں بھی اقلیتیں نئی عبادت گاہیں تعمیر نہیں کرسکتیں،ایسے شہروں میں غیر مسلموں کی پرانی عبادت گاہوں کے متعلق امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ تعالی علیہم فرماتے ہیں،ان کی پہلے سے موجود عبادت گاہوں کو منہدم کردیا جائے گا۔ جبکہ احناف کہتے ہیں کہ منہدم نہ کیا جائے اور نہ ہی اقلیتوں کو ان میں عبادت کی اجازت دی جائے بلکہ مسلمان انہیں اپنے دیگر کاموں میں استعمال کریں۔ (البنایۃ فی شرح الہدایۃ (۶:۶۸۲) (۳)… وہ شہر جنہیں مسلمانوں نے صلح کے معاہدے سے حاصل کیا ہو ایسے شہروں میں ان کی پرانی عبادت گاہیں تو موجود رہیں گیں۔اور اگر وہ پرانی ہوجائیں تو انہیں ان کی ’’تجدید‘‘کی اجازت ہوگی لیکن ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی ،لیکن’’نئی عبادت گاہوں‘‘کی تعمیر کا معاملہ غیر مسلموں سے طے شدہ شرائط پر ہوگا۔اگر اس شرط پر صلح ہوئی کہ غیر مسلم نئی عبادت گاہیں تعمیر کریں گے تو انہیں اس بات کی اجازت ہوگی۔ جیسے قاضی امام ابویوسف علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب الخراج میں ذکر کیا ہے کہ فِی صُلْحِ أَبِی عُبَیْدَۃَ، مَعَ أَہْلِ الشَّامِ أَنَّہُ صَالَحَہُمْ، وَاشْتَرَطَ عَلَیْہِمْ حِینَ دَخَلَہَا عَلَی أَنْ یَتْرُکَ کَنَائِسَہُمْ، وَبِیَعَہُمْ عَلَی أَنْ لَا یُحْدِثُوا بِنَاء َ بِیعَۃٍ، وَلَا کَنِیسَۃٍ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے ملک شام کی فتح کے وقت اہل شام کے ساتھ اس شرط پر صلح کی تھی کہ مسلمان ملک شام میں جب داخل ہونگے تو ان کی عباد ت گاہوں کو چھوڑ دیں گے لیکن غیر مسلم نئی عبادت گاہوں کی تعمیر نہیں کریں گے۔ (رد المحتار علی الدر المختار:ابن عابدین، محمد أمین بن عمر الدمشقی الحنفی (۴:۲۱۲)مسلم ممالک میں مندروگرجاتعمیرکرنے کاحکم
قِیلَ الْأَمْصَارُ ثَلَاثَۃٌ مَا مَصَّرَہُ الْمُسْلِمُونَ، کَالْکُوفَۃِ وَالْبَصْرَۃِ وَبَغْدَادَ وَوَاسِطٍ، وَلَا یَجُوزُ فِیہِ إحْدَاثُ ذَلِکَ إجْمَاعًا وَمَا فَتَحَہُ الْمُسْلِمُونَ عَنْوَۃً فَہُوَ کَذَلِکَ، وَمَا فَتَحُوہُ صُلْحًا فَإِنْ وَقَعَ عَلَی أَنَّ الْأَرْضَ لَہُمْ جَازَ الْإِحْدَاثُ وَإِلَّا فَلَا إلَّا إذَا شَرَطُوا الْإِحْدَاثَ۔فَقَدْ صَرَّحَ فِی شَرْحِ السِّیَرِ بِأَنَّہُ لَوْ ظَہَرَ عَلَی أَرْضِہِمْ وَجَعَلَہُمْ ذِمَّۃً لَا یُمْنَعُونَ مِنْ إحْدَاثِ کَنِیسَۃٍ لِأَنَّ الْمَنْعَ مُخْتَصٌّ بِأَمْصَارِ الْمُسْلِمِینَ الَّتِی تُقَامُ فِیہَا الْجُمَعُ وَالْحُدُودِ، فَلَوْ صَارَتْ مِصْرًا لِلْمُسْلِمِینَ مُنِعُوا مِنْ الْإِحْدَاثِ۔ ترجمہ :امام ابن عابدین، محمد أمین بن عمر بن عبد العزیز عابدین الدمشقی الحنفی المتوفی: ۱۲۵۲ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں مندر و کنیسہ کی تعمیر کے سلسلہ میں فقہاء کی تحریرات کا خلاصہ یہ ہے کہ دار الاسلام میں تین قسم کے علاقے ہوتے ہیں: (۱)…ایک وہ شہر جسے مسلمانوں ہی نے آباد کیا ہو، اس لیے وہاں مسلمان ہی قیام پذیر ہوئے ہیں، وہاں غیرمسلموں کوعبادت گاہیں تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ (۲)…دوسرے جو علاقے مسلمانوں نے بزورِ طاقت فتح کیے ہوں اور وہ مسلمانوں میں تقسیم ہوگئے ہوں، اب وہ مسلمانوں ہی کا شہر بن گیا ہو، وہاں بھی غیر مسلموں کو نئی عبادت گاہیں تعمیر کرنا ممنوع ہوگا، لیکن اگر وہاں غیر مسلموں کی کافی آبادی ہوجائے اور ان کو وہاں کی شہریت (ذمہ)حاصل ہوجائے، تو پھر انہیں نئی عبادت گاہ بنانے سے روکا نہیں جائے گا۔ (۳)…تیسرے وہ علاقے جو صلح کے ذریعے حاصل ہوئے ہوں،اور معاہدے کے تحت و ہاں کی اراضی کو قدیم آبادی کی ملکیت تسلیم کیا گیا ہو۔ وہاں انہیں نئی عبادت گاہیں بنانے کا حق حاصل ہوگا۔نیز جو عبادت گاہیں پہلے سے موجود ہوں وہ نہ صرف باقی رہیں گی، بلکہ اگر وہ گرجائیں یا مرمت طلب ہوجائیں تو ان کے لیے دوبارہ ان کی تعمیر بھی جائز ہوگی۔ رد المحتار علی الدر المختار:ابن عابدین، محمد أمین بن عمر الدمشقی الحنفی (۴:۲۰۳)دار الفکربیروت صاحب عنایہ کہتے ہیں مسلمانوں میں راجح یہی ہے کہ وہ اسی شرط پر صلح کریں کہ نئی عبادت گاہیں تعمیر نہیں ہو نگی جیسے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا تھا۔ (البنایۃ فی شرح الہدایۃ (۶:۶۸۲) اس ساری بحث کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ ’’اسلام آباد‘‘کا معاملہ پہلی صورت میں آتا ہے (۱)…اس شہر کو مسلمانوں نے ہی آباد کیاتوقانون بھی وہی لاگو ہوگا۔ (۲)…دوسرا یہ کہ تیسری قسم کا کوئی شہر ہو جہاں’’شرط‘‘میں عبادت گاہ بنانے کی اجازت ہو۔ تو وہاں بھی حکومت بیت المال سے یا موجودہ نظام میں مسلمانوں کے ٹیکس سے گردوارے یا مندر بنائے اس کی شرعاً اجازت نہیں بلکہ غیر مسلم اپنے ذاتی وسائل سے تعمیر کر سکتے ہیں۔ (۳)…تیسرا یہ کہ جس ملک میں غربت و افلاس آخری حدوں کو چھو رہی ہو۔لوگ افلاس کی وجہ سے خود کشیاں کر رہے ہوں اس ملک میں’’اربوں‘‘روپے مشرکین کی عبادت گاہوں پہ صرف کر دئیے جائیں،عقل و شعور سے ماوراء ہے۔ (۵)…چوتھا یہ کہ یہ اس ملک میں ہو رہا ہے جس ملک میں ناجائز تجاوزات کے نام پہ سینکڑوں مساجد کو مسمار کر دیا گیا اور ان کے لئے متبادل جگہ بھی فراہم نہ کی گئی۔ (۵)…پانچواں یہ کہ ریاستِ مدینہ کے دعویداروں نے اپنے دو سالہ دورِ حکومت میں کوئی’’مسجدشریف‘‘’’مدرسہ‘‘ بھی تعمیر کیا؟ ہم بھی ان سے سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ غیر مسلموں کے حقوق مسلمانوں سے بھی زیادہ ہیں؟کہ مسلمان تو دس دس روپے اکٹھے کر کے مساجد بنائیں مدارس بنائیںاور غیر مسلموں کے لئے ’’اربوں روپے‘‘آنِ واحد میں خرچ کر دئیے جائیں۔یاد رکھیں ایک دن مرنا ہے قبر میں کسی لیڈر کسی قائد نے نہیں آنا وہاں حضور تاجدارِ ختمِ نبوتﷺنے جلوہ فرما ہونا ہے کون سا منہ دکھائیں گے ،کیسے ان کی بارگاہِ اقدس میں پیش ہونگے؟موت کب آجائے ایک لمحے کا بھروسہ نہیںحضور تاجدارِ ختمِ نبوتﷺ کی طرفداری کرکے اپنی آخرت بچا لیجئے۔اہل ایمان کی معیشت یہودونصاری کے رحم وکرم پرکیوں ؟
آج بھی کفارومشرکین کے ساتھ تجارتی تعلقات ہیں ، مسلمانوں کی آمدنی کے ذرائع ان مخالفین کے ہی ہاتھ میں ہیں اورانہیں سے روپیہ وصول ہوتاہے اگرمسلمانوں کو ان دین دشمنوں کے ساتھ جنگ کرنے کی دعوت دی جائے تووہ یہ عذرپیش کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ برسر پیکارہونے سے ہمارے تمام ذرائع آمدنی ختم ہوجائیں گے ، کہیں سے روپیہ وصول نہیں ہوگااورچاروں طرف سے غربت وافلاس ہم پرحملہ آورہوگا، اس لئے مصلحت اس امرکی مقتضی ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ جہاد ہی نہ کیاجائے ورنہ تمام قوم کی قوم بربادہوجائے گی ، اس غلط فہمی کو قرآن کریم یوں دورفرماتاہے کہ {یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلَایَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَۃً فَسَوْفَ یُغْنِیْکُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖٓ اِنْ شَآء َ اِنَّ اللہَ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ } حج کے زمانے میں عام طورپردستورتھاکہ تجارت کی چیزیں وہاں کثرت کے ساتھ آتیں اورخریدوفروخت کاسلسلہ جاری ہوتا، ذوالمجنہ اورعکاز کی منڈیاں خصوصاً اسی بات کے لئے مشہورتھیںوہاں میلے لگتے ، بڑے بڑے تاجراپنی دکانیں کھولتے اورمختلف قبائل اپنے کارنامے بیان کرتے تھے ، جب اس سال مشرکین کاداخلہ بندہوگیاتوقدرتی طورپراس خیال کاآناضروری تھاکہ اب ہماری ضروریات کیسے پوری ہوں گی ؟۔ کیونکہ کفارکے نہ آنے سے آمدنی کے تمام ذرائع مسدودہوگئے اوربعض لوگوں نے تویہاں تک کہہ دیاکہ وَکَانَ الْمُسْلِمُونَ لَمَّا مَنَعُوا الْمُشْرِکِینَ مِنَ الْمَوْسِمِ وَہُمْ کَانُوا یَجْلِبُونَ الْأَطْعِمَۃَ وَالتِّجَارَاتِ، قَذَفَ الشَّیْطَانُ فِی قُلُوبِہِمُ الْخَوْفَ مِنَ الْفَقْرِ وَقَالُوا:مِنْ أَیْنَ نَعِیشُ فَوَعَدَہُمُ اللَّہُ أَنْ یُغْنِیَہُمْ مِنْ فَضْلِہِ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے مشرکین کوحج سے روک دیاحالانکہ وہ اناج اوردیگرسامان تجارت لیکرآتے تھے توشیطان نے ان کے دلوںمیں فقروافلاس کاخوف ڈال دیااورکہنے لگے کہ ہم زندگی کیسے گزاریںگے تواللہ تعالی نے ان سے وعدہ فرمایاکہ وہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۱۰۶)اللہ تعالی نے اہل ایمان کوکیسے غنی فرمایا؟
قَالَ الضَّحَّاکُ:فَفَتَحَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ بَابَ الْجِزْیَۃِ مِنْ أَہْلِ الذِّمَّۃِ بِقَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ:قاتِلُوا الَّذِینَ لَا یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَلا بِالْیَوْمِ الْآخِرِ(التوبۃ:۲۹)الْآیَۃَوَقَالَ عِکْرِمَۃُ:أَغْنَاہُمُ اللَّہُ بِإِدْرَارِ الْمَطَرِ وَالنَّبَاتِ وَخِصْبِ الْأَرْضِ فَأَخْصَبَتْ تَبَالَۃُ وَجُرَشُ وَحَمَلُوا إِلَی مَکَّۃَ الطَّعَامَ وَالْوَدَکَ وَکَثُرَ الْخَیْرُوَأَسْلَمَتِ الْعَرَبُ:أَہْلُ نَجْدٍ وَصَنْعَاء َ وَغَیْرُہُمْ فَتَمَادَی حَجُّہُمْ وَتَجْرُہُمْوَأَغْنَی اللَّہُ مِنْ فَضْلِہِ بِالْجِہَادِ وَالظُّہُورِ عَلَی الْأُمَمِ. ۔ ترجمہ :حضرت سیدناضحاک رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ اللہ تعالی نے اہل اسلام پراہل ذمہ کاجزیہ کا دروازہ کھول دیا، اپنے اس ارشادگرامی کے ساتھ {قاتِلُوا الَّذِینَ لَا یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَلا بِالْیَوْمِ الْآخِرِ}جنگ کروان لوگوں سے جواللہ تعالی اورروز قیامت پرایمان نہیں لاتے ۔ حضرت سیدناعکرمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ اللہ تعالی نے ان کو موسلادھاربارش، نباتات اورزمین کی سرسبزوشادابی کے ساتھ غنی فرمادیا، پس یمن کے شہراورنواحی بستیاں بھی سرسبزوشاداب ہوگئیں اوروہ اناج ، گوشت کی چربی اورتیل اوردیگرکثیرنفع بخش چیزیں مکہ مکرمہ لیکر آئے اورعرب اسلام لے آئے ، مراد نجد، صنعاء اوردوسرے علاقے کے لوگ ہیں ۔ پس ان کاحج اوران کی تجارت انتہاء تک پہنچ گئی اوراللہ تعالی نے اپنے فضل سے جہاد اوردیگرامتوں پرغلبہ کے سبب انہیں غنی کردیا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۱۰۶)حصول رزق کے چھے اسباب
ثُمَّ قِیلَ: الْأَسْبَابُ الَّتِی یُطْلَبُ بِہَا الرِّزْقُ سِتَّۃُ أَنْوَاعٍ:أَعْلَاہَا کَسْبُ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: (جُعِلَ رِزْقِی تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِی وَجُعِلَ الذِّلَّۃُ وَالصَّغَارُ عَلَی مَنْ خَالَفَ أَمْرِی خَرَّجَہُ التِّرْمِذِیُّ وَصَحَّحَہُ فَجَعَلَ اللَّہُ رِزْقَ نَبِیِّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی کَسْبِہِ لِفَضْلِہِ، وَخَصَّہُ بِأَفْضَلِ أَنْوَاعِ الْکَسْبِ، وَہُوَ أَخْذُ الْغَلَبَۃِ وَالْقَہْرِ لِشَرَفِہِ الثَّانِی أَکْلُ الرَّجُلِ مِنْ عَمَلِ یَدِہِ، قَالَ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: (إِنَّ أَطْیَبَ مَا أَکَلَ الرَّجُلَ مِنْ عَمَلِ یَدِہِ وَإِنَّ نَبِیَّ اللَّہِ دَاوُدَ کَانَ یَأْکُلُ مِنْ عَمَلِ یَدِہِ)خَرَّجَہُ الْبُخَارِیُّ وَفِی التَّنْزِیلِ وَعَلَّمْناہُ صَنْعَۃَ لَبُوسٍ لَکُمْ (الأنبیاء :۸۰)،وَرُوِیَ أَنَّ عِیسَی عَلَیْہِ السَّلَامُ کَانَ یَأْکُلُ مِنْ غَزْلِ أُمِّہِ الثَّالِثُ التِّجَارَۃُ، وَہِیَ کَانَتْ عَمَلَ جُلِّ الصَّحَابَۃِ رِضْوَانُ اللَّہِ عَلَیْہِمْ، وَخَاصَّۃً الْمُہَاجِرِینَ، وَقَدْ دَلَّ عَلَیْہَا التَّنْزِیلُ فِی غَیْرِ موضع.الرَّابِعُ الْحَرْثُ وَالْغَرْسُ وَقَدْ بَیَّنَّاہُ فِی سُورَۃِ الْبَقَرَۃِالْخَامِسُ إِقْرَاء ُ الْقُرْآنِ وَتَعْلِیمُہُ وَالرُّقْیَۃُ، وَقَدْ مَضَی فِی الْفَاتِحَۃِ السَّادِسُ :یَأْخُذُ بِنِیَّۃِ الْأَدَاء ِ إِذَا احْتَاجَ، قَالَ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: (مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ یُرِیدُ أَدَاء َہَا أَدَّی اللَّہُ عَنْہُ، وَمَنْ أَخَذَہَا یُرِیدُ إِتْلَافَہَا أَتْلَفَہُ اللَّہُ(خَرَّجَہُ الْبُخَارِی رَوَاہُ أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ. ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ وہ اسبا ب چھے ہیں جن سے رزق حاصل کیاجاتاہے : (۱)…ان میں سب سے اعلی حضورتاجدارختم نبوتﷺکی کمائی ہے ۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایاکہ اللہ تعالی نے میرارزق نیزے کے سائے میں رکھاہے اورذلت وحقارت کواس پرڈال دیاہے جس نے میرے حکم شریف کی خلاف ورزی کی ۔ پس اللہ تعالی نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکارزق اپنے فضل سے ان کی کمائی اورکسب میں رکھاہے اوراسے کسب کی افضل ترین نوع کے ساتھ خاص کردیاہے اوروہ آپ ﷺکااپنے شرف وعظمت کے سبب دشمن پرغلبہ اورفتح حاصل کرناہے ۔ (۲)…آدمی کااپنے ہاتھ کی کمائی سے کھانا: حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: بے شک آدمی جوکچھ کھاتاہے طیب وپاکیزہ وہ ہے جواس کے ہاتھ کی کمائی سے ہواوربے شک اللہ تعالی کے نبی حضر ت سیدنادائودعلیہ السلام اپنے ہاتھ مبارک کی کمائی سے کھاتے تھے ۔ اورقرآن کریم میں اللہ تعالی نے فرمایا{ وَعَلَّمْناہُ صَنْعَۃَ لَبُوسٍ لَکُمْ}اورہم نے سکھادیاانہیں زرہ بنانے کاہنرتمھارے فائدے کے لئے ۔ اورروایت ہے کہ حضرت سیدناعیسی علیہ السلام اپنی ماں کے سوت کاتنے کی کمائی کھایاکرتے تھے۔ (۳)…تیسری قسم تجارت ہے : اوریہ بزرگ اوراجلہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاعمل شریف تھا،بالخصوص مہاجرین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کااورقرآن کریم میں کئی مقامات پراس کی رہنمائی کی ہے ۔ (۴)…کاشتکاری کرنااورباغات اوردرخت لگانا (۵)…قرآن کریم پڑھنااوراس کی تعلیم دینااوردم کرناوغیرہ ۔ (۶)…کسی سے اس ارادہ اورنیت کے ساتھ لیناکہ پھراسے اداکردے گابشرطیکہ وہ محتاج اورضرورتمندہو۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: جس نے لوگوں کے اموال اس ارادہ پرلئے کہ وہ ان کو اداکردے گاتواللہ تعالی اس کی طرف سے ادافرمادے گا۔اورجس نے اس کو ضائع کرنے کے ارادہ سے لیاتواللہ تعالی اسے ضائع کردے گا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۱۰۶)معارف ومسائل
(۱)مشرکین کے ساتھ جہاد کرنے میں اگربعض دنیاوی ضروریات کے میسرنہ آنے کاخطرہ لاحق ہویہ عذربھی مانع جہاد نہیں ہوسکتا، اگروہ ضرورت واقع ہے تواللہ تعالی کسی دوسری جگہ سے پوری کردے گا، حاصل یہ ہے کہ اقتصادی خطرات بھی مانع جہاد نہیں ہوسکتے ۔ (۲) مکہ کے نئے مسلمان ہونے والے لوگوں کی نظربس سامنے موجود روزی پرتھی ، اوریہ روزی مشرکین کی طرف سے گزرکرآرہی تھی ، آیت کریمہ نے سمجھایاکہ اپنی ظاہری نظروں پر نہ جائوبلکہ اللہ تعالی جوعلیم وحکیم ہے اس کی بات مانو، اوریادرکھوکہ تمھاری روزی اللہ تعالی کے چاہنے میںہے ، وہ چاہے گاتوروزی کے انبارلگادے گا، یہ آیت کریمہ سننے والوںنے اللہ تعالی کے وعدہ صادقہ پریقین کیااورمعیشت تباہ ہونے کے ڈرسے جہاد نہیں چھوڑاتواللہ تعالی نے ان کی معیشت اورروزی کامسئلہ ختم فرمادیا۔ وہ اتنے مال دارہوگئے کہ مال کی کوئی حیثیت ہی نہ رہی ، ہرطرف فتوحات تھیں اورغنیمتیں ، زکوۃ دینے والوں کو یہ مشکل پڑتی تھی کہ کس کو دیں کیونکہ کوئی لینے والاہی نہیں ملتاتھا، اب آج کے زمانے کودیکھیں توکفارومشرکین نے معیشت کے تمام ظاہری دروازوں پرقبضہ کرکے اہل اسلام کوتیسری دنیاقراردے دیاہے اورہرطرح سے کوشش کرکے معیشت کو سب سے بڑابت بنادیاہے ، جس کی نعوذ باللہ من ذلک پوجاکرتے ہیں اورمسلمان حکمرانوں اوراکثرعوام کے دلوںمیں یہ بٹھادیاہے کہ معیشت میں ترقی ہی اصل کامیابی ہے اورجہاد مسلمانوں کو غریب کرتاہے اوران کی معیشت کو بربادکرتاہے ۔ قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ اس بت کو پاش پاش کرتی ہے اوراہل اسلام کو سمجھاتی ہے کہ رز ق توپاک ہوناچاہیئے یہ کیاکہ تم نے اپنی روزی نجس اورناپاک مشرکوں اورکافروں سے وابستہ کرلی ہے ، روزی اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے ، اس پرتوکل کرکے جہاد کرو،توپھروہ تمھیں اپنے چھپے ہوئے خزانے عطافرمائے گا۔اورتم کو ان کافروں کامحتاج نہیں رہنے دے گا۔ اللہ تعالی کے علم پراعتمادکرواپنی معلومات پرنہیں اوراللہ تعالی کی حکمت کو مانواوراپنی ظاہری عقل کو نہیں ۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9