صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2413 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورۃالتوبہ آیت ۴۶۔ وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَہ عُدَّۃً وَّلٰکِنْ کَرِہَ اللہُ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,219

سوال (Question):

تفسیر سورۃالتوبہ آیت ۴۶۔ وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَہ عُدَّۃً وَّلٰکِنْ کَرِہَ اللہُ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

منافقین نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گستاخی کی تواللہ تعالی نے ان کو حضورتاجدارختم نبوتﷺکی معیت میں جہاد سے محروم کردیا

{وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَہ عُدَّۃً وَّلٰکِنْ کَرِہَ اللہُ انْبِعَاثَہُمْ فَثَبَّطَہُمْ وَقِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ }(۴۶) ترجمہ کنزالایمان:انہیں نکلنا منظور ہوتا تو اس کا سامان کرتے مگر خدا ہی کو ان کا اٹھنا ناپسند ہوا تو ان میں کاہلی بھردی اور فرمایا گیا کہ بیٹھ رہو بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ ۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور اگر ان کا جہاد کے لئے نکلنے کا ارادہ ہوتا تو اس کے لئے کچھ تو سامان تیار کرتے لیکن اللہ تعالی کو ان کا اٹھنا ہی ناپسندہے تو اس نے ان میں سستی پیدا کردی اور کہہ دیا گیا:تم بیٹھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔ بہت سی چیزوں کا اعتبار قَرائن سے بھی ہوتا ہے قَوْلُہُ تَعَالَی:(وَلَوْ أَرادُوا الْخُرُوجَ لَأَعَدُّوا لَہُ عُدَّۃً)أَیْ لَوْ أَرَادُوا الْجِہَادَ لَتَأَہَّبُوا أُہْبَۃَ السَّفَرِفَتَرْکُہُمُ الِاسْتِعْدَادَ دَلِیلٌ عَلَی إِرَادَتِہِمُ التَّخَلُّف۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ {وَلَوْ أَرادُوا الْخُرُوجَ لَأَعَدُّوا لَہُ عُدَّۃ}یعنی اگرمنافقین نے جہاد کاارادہ کیاہوتاتووہ جہاد کے لئے سامان ضرورتیارکرتے ، پس ان کاتیاری کوترک کرناہی جہا دکے ترک کرنے پر دلیل ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۱۵۶)

منافقین نے صحابہ کرام کی گستاخی کی تو اللہ تعالی نے انہیں حضورتاجدارختم نبوتﷺکی صحبت سے محروم کردیا

(وَلکِنْ کَرِہَ اللَّہُ انْبِعاثَہُمْ)أَیْ خُرُوجَہُمْ مَعَکَ(فَثَبَّطَہُمْ)أَیْ حَبَسَہُمْ عَنْکَ وَخَذَلَہُمْ، لِأَنَّہُمْ قَالُوا:إِنْ لَمْ یُؤْذَنْ لَنَا فِی الْجُلُوسِ أَفْسَدْنَا وَحَرَّضْنَا عَلَی الْمُؤْمِنِینَ وَیَدُلُّ عَلَی ہَذَا أَنَّ بَعْدَہُ لَوْ خَرَجُوا فِیکُمْ مَا زادُوکُمْ إِلَّا خَبالًا(وَقِیلَ اقْعُدُوا مَعَ الْقاعِدِینَ)قِیلَ: ہُوَ مِنْ قَوْلِ بَعْضِہِمْ لِبَعْضٍ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ{وَلکِنْ کَرِہَ اللَّہُ انْبِعاثَہُمْ}لیکن ان کے آپ ﷺکے ساتھ جہاد پرنکلنے کو اللہ تعالی نے ناپسندکیا۔ {فَثَبَّطَہُمْ}اس لئے اللہ تعالی نے ان منافقین کوحضورتاجدارختم نبوتﷺکی معیت میں جہا دکرنے سے روک دیا۔ اوران کو ذلیل ورسواکردیا۔ کیونکہ انہوںنے یہ کہاتھاکہ اگرآپ ﷺنے ہمیں بیٹھے رہنے کی اجازت نہ دی توہم فساد برپاکردیں گے اورہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف لوگوں کو اکسائیں گے ،برانگیختہ کریں گے اوریہ اس پر دلیل ہے کہ اگروہ تمھارے ساتھ نکلتے توبجزفساد کے تم میں کچھ بھی اضافہ نہ کرتے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۱۵۶)

منافقین نے اسلحہ تک تیارنہیں کیاتھا

وَحَکَی الطَّبَرِیُّ:کُلُّ مَا یُعَدُّ لِلْقِتَالِ مِنَ الزَّادِ وَالسِّلَاحِ. ترجمہ :امام أبو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان أثیر الدین الأندلسی المتوفی : ۷۴۵ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ امام الطبری رحمہ اللہ تعالی نے بیان کیاکہ سامان جہا دسے مراد ہر وہ چیزہے جو جنگ میں کام آنے والی ہوتی ہے یعنی توشہ اوراسلحہ وغیرہ ۔ (البحر المحیط فی التفسیر:أبو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان أثیر الدین الأندلسی(۵:۴۲۸)

معارف ومسائل

(۱) جہادپراعتراض کرنے والے آجکل کے لبرل وسیکولراورنام نہاددانشوروں کی حالت بھی یہی ہے وہ کبھی بھی جہاد میں نہیں جاناچاہتے ، انہوںنے خود کو دنیامیں بری طرح سے پھنسالیاہے مگریہ لوگ اپنی بزدلی چھپانے کے لئے جہاد پراعتراضات کرتے ہیں کہ فلاں جگہ کاجہاد غیرشرعی ہے کیونکہ جہاد کرناتوحکومت کاکام ہے اورحکومت اس جہاد میں ساتھ نہیں ہے ، اورفلاں جگہ کاجہاد غیرشرعی ہے کیونکہ وہ سرکاری جہاد ہے اورحکومت کی ایجنسیاں تعاون کررہی ہیں ، ایسے لوگوں سے صرف یہی سوال کیاجائے کہ اگرکہیں آپ کی رائے کے موافق شرعی جہادشروع ہوجائے تواس کے لئے آپ نے کیاتیاری کی ہوئی ہے ؟ اورکیاآپ کے دل میں جہا دکرنے کی کوئی نیت ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ جہاد کو سراسراپنی زندگیوں سے نکال چکے ہیں۔ اللہ تعالی تمام اہل اسلام پررحم فرمائے ۔ (۲) اس آیت کریمہ سے معلوم ہواکہ جب منافقین نے یہ بکواس کی کہ ہم کو اگرجہاد پرجانے سے چھٹی نہ ملی توہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بدنام کریں گے اوران کے خلاف لوگوں کو اکسائیں گے تواللہ تعالی نے ان کو حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی صحبت سے محروم کردیااوران کو جہاد کی برکت سے بھی دورکردیا۔ (۳) اس آیت کریمہ میں بہت بڑادرس ہے ہمارے لئے کہ جب غزوہ تبوک کے لئے روانہ ہونے لگے توحضورتاجدارختم نبوتﷺمرکزاسلام مدینہ منورہ کو چھوڑکرجارہے تھے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مسجد نبوی شریف اوراپنی صفہ کی درسگاہ کو چھوڑ کرجارہے تھے ،اورکھجوریں پکی ہوئی تھیں ان کو ویسے ہی چھوڑ کرجارہے تھے ۔ان میں تاجربھی تھے وہ اپنی تجارت چھوڑ کرجارہے تھے اور تعلیم وتربیت اوراصلاح سمیت دین کاہرہرکام مدینہ منورہ میں یہ حضرات کرتے تھے مگراب یہ سارے حضرات جہاد کے لئے جارہے تھے ، یہ حضرات کس جہاد میں جارہے تھے ؟ آیت کریمہ میں واضح طورپرغزوہ تبوک کابیان ہے جوایک جنگی سفرتھا، ان حالات میں جولوگ مدینہ منورہ میں رک رہے ہیں ان کی برائی بیان ہورہی ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالی کے ناپسندیدہ لوگ ہیں، آجکل جن چھوٹی چھوٹی چیزوں کی وجہ سے مسلمانوں نے جہاد کو اپنی زندگیوں سے نکالاہواہے کیاان کے لئے ایساکرناجائزہے ۔ ہرشخص اس مسئلہ پرخودغور کرے۔ (فتح الجواد) (۴) اسی طرح آجکل پاکستان میں آئے دن گستاخوں کی حمایت کاسلسلہ جاری ہے اورکبھی قرآن کریم کے خلاف بل پاس ہوتے ہیں توکبھی گستاخوں کو رہاکرکے امریکہ کے حوالے کیاجاتاہے توکبھی عشاقان رسول کوپھانسی دے دی جاتی ہے توایسے حالات میں ہمارے بہت سے علماء ومشائخ صرف آنکھیں بندکرکے ہرآئے دن عمرہ کرنے کے لئے جارہے ہوتے ہیں ، انہیں بھی خیال کرناچاہئے کہ کونسی ایسی خدمت انجام دی ہے جو تم حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ میں جارہے ہو؟ کعبہ کس منہ سے جائوگے غالبؔ شرم تم کو مگر نہیں آتی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh