صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2387 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورۃالتوبہ آیت ۵۔۶ ۔فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْہُمْ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,251

سوال (Question):

تفسیر سورۃالتوبہ آیت ۵۔۶ ۔فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْہُمْ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

تلواروالی آیت کریمہ

{فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْہُمْ وَ خُذُوْہُمْ وَ احْصُرُوْہُمْ وَاقْعُدُوْا لَہُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَہُمْ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ}(۵){وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَاَجِرْہُ حَتّٰی یَسْمَعَ کَلٰمَ اللہِ ثُمَّ اَبْلِغْہُ مَاْمَنَہ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ}(۶) ترجمہ کنزالایمان:پھر جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو مشرکوں کو مارو جہاں پا ؤ اور انہیں پکڑو اور قید کرو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو پھر اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں تو ان کی راہ چھوڑ دو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔اور اے محبوب اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دو کہ وہ اللہ کا کلام سنے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دو یہ اس لیے کہ وہ نادان لوگ ہیں۔ ترجمہ ضیاء الایمان:پھر جب حرمت والے مہینے گزرجائیں تو مشرکوں کو مارو جہاںکہیں تم انہیں پا ؤاور انہیں پکڑو اور قید کرلو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھوپھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کاراستہ چھوڑ دو،بیشک اللہ تعالی بخشنے والا مہربان ہے۔اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دو حتّٰی کہ وہ اللہ تعالی کا کلام سنے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دو یہ اس لیے کہ وہ نادان لوگ ہیں۔

حضورتاجدارختم نبوت ﷺکوچارتلواریں دی گئیں

قال سفیان بن عیینۃ:قَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ:بَعَثَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِأَرْبَعَۃِ أَسْیَافٍ سَیْفٍ فی المشرکین من العرب، قال اللہ تعالی:فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِینَ حَیْثُ وَجَدْتُمُوہُمْ ہَکَذَا رَوَاہُ مُخْتَصَرًا، وَأَظُنُّ أَنَّ السَّیْفَ الثَّانِیَ ہو قتال أہل الکتاب لقولہ تَعَالَی:قاتِلُوا الَّذِینَ لَا یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَلا بِالْیَوْمِ الْآخِرِ وَلا یُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ وَلا یَدِینُونَ دِینَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتابَ حَتَّی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَدٍ وَہُمْ صاغِرُونَ (التَّوْبَۃِ: ۲۹)وَالسَّیْفُ الثَّالِثُ قِتَالُ الْمُنَافِقِینَ فِی قَوْلِہِ یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ جاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنافِقِینَ (التوبۃ:۷۳ والتحریم:۹)الآیۃ، وَالرَّابِعُ قِتَالُ الْبَاغِینَ فِی قَوْلِہِ وَإِنْ طائِفَتانِ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَیْنَہُما فَإِنْ بَغَتْ إِحْداہُما عَلَی الْأُخْری فَقاتِلُوا الَّتِی تَبْغِی حَتَّی تَفِیء َ إِلی أَمْرِ اللَّہِ (الْحُجُرَاتِ: ۹)۔ ترجمہ :حضرت سیدناسفیان بن عیینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکوچارتلواروں کے ساتھ بھیجا: (۱)…حضورتاجدارختم نبوتﷺنے مشرکین عرب کے ساتھ جہادفرمایاجیساکہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میںفرمایا{فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِینَ حَیْثُ وَجَدْتُمُوہُم}مشرکین جہاں بھی تم کو ملیں ان کو قتل کردو!یہ روایت اسی طرح مختصراًہے اورمیراخیال ہے کہ دوسری تلوارہے (۲)…دوسری تلوارکے ساتھ یہودونصاری کے ساتھ جہاد کیاگیاجیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا{قاتِلُوا الَّذِینَ لَا یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَلا بِالْیَوْمِ الْآخِرِ وَلا یُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ وَلا یَدِینُونَ دِینَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتابَ حَتَّی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَدٍ وَہُمْ صاغِرُونَ } ترجمہ کنزالایمان :لڑو ان سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور قیامت پراور حرام نہیں مانتے اس چیز کو جس کو حرام کیا اللہ اور اس کے رسول ﷺنے اور سچے دین کے تابع نہیں ہوتے یعنی وہ جو کتاب دئیے گئے جب تک اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں ذلیل ہوکر۔ (۳)… تیسری تلوارکے ساتھ منافقین کے ساتھ جہادکیاگیاجیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا{ یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ جاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنافِقِینَ}اے حبیب کریم ﷺ!کافروں اورمنافقوں کے ساتھ جہادکرو۔ (۴)…چوتھی تلوارکے ساتھ باغیوں سے جہا دکیاگیاجیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا{وَإِنْ طائِفَتانِ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَیْنَہُما فَإِنْ بَغَتْ إِحْداہُما عَلَی الْأُخْری فَقاتِلُوا الَّتِی تَبْغِی حَتَّی تَفِیء َ إِلی أَمْرِ اللَّہِ }(سورۃ الحجرات :۹) ترجمہ کنزالایمان:اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کراؤ پھر اگر ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے پھر اگر پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں اصلاح کردو اور عدل کرو بیشک عدل والے اللہ کو پیارے ہیں ۔ (تفسیر القرآن العظیم:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۴:۱۱۲)

آیت سیف نے سب عہدچاک کردیئے

وَہَذِہِ الْآیَۃُ الْکَرِیمَۃُ ہِیَ آیَۃُ السَّیْفِ الَّتِی قَالَ فِیہَا الضَّحَّاکُ بْنُ مُزَاحِمٍ:إِنَّہَا نَسَخَتْ کُلَّ عَہْدٍ بَیْنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَبَیْنَ أحد من المشرکین وکل عقد وَکُلَّ مُدَّۃٍ۔ ترجمہ:حضرت سیدناضحاک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ جو کہ آیت السیف کے نام سے معروف ہے اس نے ان تمام عہدوپیمان کو چاک کردیاجومشرکین کے ساتھ تھے ۔ (تفسیر القرآن العظیم:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۴:۱۱۲)

گستاخوں کی معافی کاحکم منسوخ ہوگیا

فَقَالَ الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَضْلِ:نَسَخَتْ ہَذِہِ کُلَّ آیَۃٍ فِی الْقُرْآنِ فِیہَا ذِکْرُ الْإِعْرَاضِ وَالصَّبْرِ عَلَی أَذَی الْأَعْدَاء ِ۔ ترجمہ:حضرت سیدناحسین بن الفضل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ نے قرآن کریم کی ہر اس آیت کریمہ کو منسوخ کردیاجس میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکے گستاخوں اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دشمنوں کی گستاخیوں اوران کی اذیتوں پر صبرکرنے کاحکم تھا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۸:۷۳)

دشمن کی گھات لگاکربیٹھو

(وَاقْعُدُوا لَہُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ)الْمَرْصَدُ:الْمَوْضِعُ الَّذِی یُرْقَبُ فِیہِ الْعَدُوُّ، یُقَالُ:رَصَدْتُ فُلَانًا أَرْصُدُہُ، أَیْ رَقَبْتُہُ. أَیِ اقْعُدُوا لَہُمْ فِی مَوَاضِعِ الْغِرَّۃِ حَیْثُ یُرْصَدُونَ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی اس آیت کریمہ { وَاقْعُدُوْا لَہُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ }کے تحت فرماتے ہیں کہ ’’المرصد‘‘ اس جگہ کوکہتے ہیں جس میں دشمن کی تاک میں گھات لگاکربیٹھاجاتاہے ، کہاجاتاہے کہ یعنی میں فلاں کی تاک میں بیٹھا، یعنی تم ان کے لئے ایسی مخفی اورپوشیدہ جگہوں میں بیٹھوجہاں سے ان کوتاکاجاسکتاہو۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۸:۷۳)

جونماز کو حلال جانتے ہوئے ترک کرے وہ بھی کافرہے

وَقَالَ ابْنُ الْعَرَبِیِّ:فَانْتَظَمَ الْقُرْآنُ وَالسُّنَّۃُ وَاطَّرَدَاوَلَا خِلَافَ بَیْنِ الْمُسْلِمِینَ أَنَّ مَنْ تَرَکَ الصَّلَاۃَ وَسَائِرَ الْفَرَائِضِ مُسْتَحِلًّا کَفَرَ، وَمَنْ تَرَکَ السُّنَنَ مُتَہَاوِنًا فَسَقَ، وَمَنْ تَرَکَ النَّوَافِلَ لَمْ یَحْرَجْ، إِلَّا أَنْ یَجْحَدَ فَضْلَہَا فَیَکْفُرُ، لِأَنَّہُ یَصِیرُ رَادًّا عَلَی الرَّسُولِ عَلَیْہِ السَّلَامُ مَا جَاء َ بِہِ وَأَخْبَرَ عَنْہُ وَاخْتَلَفُوا فِیمَنْ تَرَکَ الصَّلَاۃَ مِنْ غَیْرِ جَحْدٍ لَہَا وَلَا اسْتِحْلَالٍ، فَرَوَی یونس ابن عبد الا علی قَالَ:سَمِعْتُ ابْنَ وَہْبٍ یَقُولُ قَالَ مَالِکٌ: مَنْ آمَنَ بِاللَّہِ وَصَدَّقَ الْمُرْسَلِینَ وَأَبَی أَنْ یُصَلِّیَ قُتِلَ، وَبِہِ قَالَ أَبُو ثَوْرٍ وَجَمِیعُ أَصْحَابِ الشَّافِعِیِّ. وَہُوَ قَوْلُ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ وَمَکْحُولٍ وَوَکِیعٍ. وَقَالَ أَبُو حَنِیفَۃَ: یُسْجَنُ وَیُضْرَبُ وَلَا یُقْتَل۔ ترجمہ :امام ابن العربی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ پس قرآن کریم اورسنت شریفہ دونوں منظم ہیں اوردونوں پر عمل جاری وساری ہے ، اہل اسلام کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جس نے نماز اورتمام فرائض کو حلال سمجھ کرترک کئے وہ کافرہے اورجس نے غفلت اورسستی کرتے ہوئے سنن کوترک کردیاوہ فاسق ہوگیااورجس نے نوافل کوچھوڑدیاتواس کے لئے کوئی حرج نہیں ہے،مگریہ کہ اگروہ ان کی فضیلت کاانکارکرے گاتووہ کافرہوجائے گاکیونکہ اس طرح جو حضورتاجدارختم نبوتﷺلیکر آئے اورجس کے بارے میں آپﷺنے خبردی ، وہ اس کو رد کرنے والاہوجاتاہے اوراس کے بارے میں اختلاف ہے جس نے نماز کو ترک کردیالیکن نہ اس کاانکارکیااورنہ ہی اس کو حلال جانا۔ امام یونس ابن عبدالاعلی رحمہ اللہ تعالی نے روایت کیااورفرمایاکہ میں نے حضرت سیدناابن وہب رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ امام مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا:جوشخص اللہ تعالی پرایمان لایااوراس نے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی تصدیق کی اورنماز پڑھنے سے انکارکردیاتواس کو قتل کردیاجائے گا۔ حضرت سیدناامام شافعی رضی اللہ عنہ نے بھی یہی فرمایااوریہی امام حمادبن زید رضی اللہ عنہ وغیرہ کاقول ہے ۔ حضرت سیدناامام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بے نما زی کو قید کردیاجائے گااوراس کو خوب ماراجائے گالیکن اس کو قتل نہ کیاجائے گا۔ یہی قول ابن شہاب کاہے اوریہی قول دائودبن علی کاہے ۔ (التفسیر المنیر :د وہبۃ بن مصطفی الزحیلی(۱۰:۱۰۹)

حربی کفارکودینی تعلیم دینالازم ہے

قَوْلہ تَعَالَی وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ اسْتَجَارَکَ فأجرہ حتی یسمع کلام اللہ قَدْ اقْتَضَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ جَوَازَ أَمَانِ الْحَرْبِیِّ إذَا طَلَبَ ذَلِکَ مِنَّا لِیَسْمَعَ دَلَالَۃَ صِحَّۃِ الإسلام لأن قولہ تعالی استجارک معناہ استأمنک وقولہ تعالی فأجرہ مَعْنَاہُ فَأَمِّنْہُ حَتَّی یَسْمَعَ کَلَامَ اللَّہ الَّذِی فِیہِ الدَّلَالَۃُ عَلَی صِحَّۃِ التَّوْحِیدِ وَعَلَی صِحَّۃِ نبوۃ النبی صلّی اللَّہ علیہ وآلہ وَسَلَّمَ وَہَذَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّ الْکَافِرَ إذَا طَلَبَ مِنَّا إقَامَۃَ الْحُجَّۃِ عَلَیْہِ وَبَیَانَ دَلَائِلِ التَّوْحِیدِ وَالرِّسَالَۃِ حَتَّی یَعْتَقِدَہُمَا لِحُجَّۃٍ وَدَلَالَۃٍ کَانَ عَلَیْنَا إقَامَۃُ الْحُجَّۃِ وَبَیَانُ تَوْحِیدِ اللَّہ وَصِحَّۃِ نبوۃ النبی صلّی اللَّہ علیہ وآلہ وَسَلَّمَ وَأَنَّہُ غَیْرُ جَائِزٍ لَنَا قَتْلُہُ إذَا طَلَبَ ذَلِکَ مِنَّا إلَّا بَعْدَ بَیَانِ الدَّلَالَۃِ وَإِقَامَۃِ الْحُجَّۃِ لِأَنَّ اللَّہ قَدْ أَمَرَنَا بِإِعْطَائِہِ الْأَمَانِ حَتَّی یَسْمَعَ کَلَامَ اللَّہ وَفِیہِ الدَّلَالَۃُ أَیْضًا عَلَی أَنَّ عَلَیْنَا تَعْلِیمَ کُلِّ مَنْ الْتَمَسَ مِنَّا تَعْرِیفَہُ شَیْئَا مِنْ أُمُورِ الدِّینِ لِأَنَّ الْکَافِرَ الَّذِی اسْتَجَارَنَا لِیَسْمَعَ کَلَامَ اللَّہ إنَّمَا قَصَدَ الْتِمَاسَ مَعْرِفَۃِ صِحَّۃِ الدِّینِ ۔ ترجمہ :امام أحمد بن علی أبو بکر الرازی الجصاص الحنفی المتوفی : ۳۷۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ سے معلوم ہواکہ جب کوئی حربی کافرامان طلب کرے تواس کوامان دیناجائز ہے ، وہ امان کے ساتھ اہل اسلام کے پاس آئے ، اللہ تعالی کاکلام سنے ، توحیدباری کو سمجھے ، اسلام کی حقانیت معلوم کرے ، حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی نبوت شریفہ کے انواروبرکات معلوم کرے ۔ پھرفرماتے ہیں کہ ہمارے لئے اس کو قتل کرناجائز نہیں ہے ۔ مسلمانوں کاخاص کرعلماء امت کافرض ہے کہ غیرمسلموں کو حقانیت اسلام سے آگاہ کریں ، تبلیغ کریں ، لوگوںکے اسلام کے بارے میں جوجوشبہات ہیں ان کاازالہ کریں ۔ ملخصاً۔ (أحکام القرآن:أحمد بن علی أبو بکر الرازی الجصاص الحنفی (۴:۲۷۰) اس عبارت سے معلوم ہواکہ آج بہت زیادہ ضرورت ہے اس امرکی کہ لبرل وسیکولرطبقہ کے اوہام باطلہ کارد کیاجائے اورہرہربددین اوردشمن کاڈٹ کرمقابلہ کیاجائے ۔یہاں ہم امام احمدرضاحنفی الماتریدی رحمہ اللہ تعالی کے زمانہ مبارکہ کے علماء کرام کی تساہل پسندی ذکرکرتے ہیں تاکہ ہمیں معلوم ہوکہ ہم نے دین دشمنوں کی قوتوں کے خلاف کام کرنے میں کتنی سستی روا رکھی ہے ، اوروہ توآج سے سوسال پہلے کی بات ہے مگرہم اپنے آپ کو دیکھیں توانتہائی حیرانگی ہوتی ہے کیونکہ آج توپھرفتنہ کادورہے اورعلماء بھی خود فتنوں کی رومیں بہناشروع ہوگئے ہیں ۔ امام احمدرضاحنفی الماتریدی رحمہ اللہ تعالی کادردملاحظہ فرمائیں:علماء کی یہ حالت ہے کہ رئیسوں سے بڑھ کر آرام طلب ہیں، حمایتِ مذہب سے گھبراتے ہیں، جو بندہ خدا اپنی جان اس پر وقف کرے اسے احمق بلکہ مفسد سمجھتے ہیں، مداہنت ان کے دلوں میں بھری ہوئی ہے، ایّام ندوہ میں ہندوستان بھر کا تجربہ ہوا، عبارت ندوہ سن کر ضلالت ضلالت کی رٹ لگا دیں اور جب کہئے، حضرت لکھ دیجئے، بھائی لکھواؤ نہیں، ہمارے فلاں دوست برا مانیں گے، ہمارے فلاں استاد کو برا لگے گا، بہت کو یہ خیال کہ مفت میں اوکھلی میں سر دے کر موسل کون کھائے، بد مذہب دشمن ہو جائیں گے، دانتوں پر رکھ لیں گے، گالیاں، پھبتیاں، اخباروں اشتہاروں میں چھاپیں گے، طرح طرح کے بہتان، افتراء اچھالیں گے، اچھی بچھی جان کو کون جنجال میں ڈالے، بعض کو یہ کد کہ حمایتِ مذہب کی تو صلح کلی نہ رہے گی، ہر دل عزیزی جا کر پلاؤ، قورمے، نذرانہ میں فرق آئے گا یا کم از کم آؤ بھگت تو عام نہ رہے گی۔ (فتاوی رضویہ لامام احمدرضاحنفی الماتریدی ( ۱۲: ۱۳۲)

نام نہادعلماء ہی اقامت دین میں رکاوٹ

عَمَّ الفَسَادُ، وَظَہَرَتِ البِدَعُ، وَخَفِیَتِ السُّنَنُ، وَقَلَّ القَوَّالُ بِالْحَقِّ، بَلْ لَوْ نَطَقَ العَالِمُ بَصِدْقٍ وَإِخْلاصٍ لَعَارَضَہُ عِدَّۃٌ مِنْ عُلَمَاء ِ الوَقْتِ، وَلَمَقَتُوہُ وَجَہَلُوْہُ فَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلَّا بِاللہِ. ترجمہ :امام حافظ ذھبی رحمہ اللہ (۷۴۸ھ)فرماتے ہیں اللہ کی قسم!فساد عام ہو گیا بدعات ظاہر ہو گئیں اور سنتیں چھپ گئیں حق بات کہنے والے بہت کم رہ گئے بلکہ اگر کوئی عالم صدق و اخلاص سے کوئی بات کرے تو کئی علمائے وقت ہی اس کی مخالفت کریں گے، اس سے بغض رکھیں گے اور اسے جاہل قرار دیں گے۔ (سیر أعلام النبلاء :شمس الدین أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن عثمان بن قَایْماز الذہبی (ا۱:۱۰۲) اللہ اکبر کبیرا ً!حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے یہ بات آج سے قریباً ۷ صدیوں سے بھی قبل کہی تھی اگر وہ آج ہماری حالت دیکھ لیتے تو کیا ہوتا ؟کس طرح فساد پھیل چکا ہے امت انتشار و دین دوری کا شکار ہو چکی ہے ہر شخص اپنی من مانی میں لگا ہے کس طرح نئی نئی بدعات متعارف ہو چکی ہیں لوگ سنتوں کو بھولتے جا رہے ہیں۔

معارف ومسائل

چونکہ عرب کا نظم و نسق بالکلیہ اہل ایمان کے ہاتھ میں آگیا تھا اور تمام مزاحم طاقتیں بے بس ہوچکی تھیں، اس لیے وہ پالیسی واضح طور پر سامنے آجانی چاہیے تھی جو عرب کو مکمل دارالاسلام بنانے کے لیے اختیار کرنی ضروری تھی، چناچہ وہ حسب ذیل صورت میں پیش کی گئی سورۃ توبہ کی ابتدائی پانچ آیتوں میں اس کا ذکر تھا کہ فتح مکہ کے بعد مکہ اور اس کے اطراف کے تمام مشرکین و کفار کو جان و مال کا عام امان دے دیا گیا مگر ان کی سابقہ غداری اور عہد شکنی کے تجربہ کی بنا پر آئندہ کے لئے ان سے کوئی معاہدہ نہ کیا جانا طے ہوگیا۔ اس قرارداد کے باوجود جن لوگوں سے کوئی معاہدہ اس سے پہلے ہوچکا تھا اور انہوں نے عہد شکنی نہیں کی تو ان کا معاہدہ ختم میعاد تک پورا کرنے کے احکام ان آیات میں نازل ہوئے۔ اور جن سے کوئی معاہدہ نہیں تھا یا کسی معین میعاد کا معاہدہ نہیں تھا ان کے ساتھ بھی یہ رعایت کی گئی کہ ان کو فوری طور پر مکہ چھوڑ دینے کے حکم کے بجائے چار مہینہ کی وسیع مہلت دے دی گئی کہ اس عرصہ میں وہ مکہ چھوڑ کر جہاں مناسب سمجھیں سہولت و اطمینان کے ساتھ چلے جائیں۔ یا اگر اسلام کی حقانیت ان پر روشن ہوچکی ہے تو مسلمان ہوجائیں۔ ان احکام کا نتیجہ یہ تھا کہ سال آئندہ تک مکہ مکرمہ سہولت کے ساتھ ان سب غدار مشرکین سے خالی ہوجائے اور چونکہ یہ خالی کرنا بھی کسی انتقامی جذبہ سے نہیں بلکہ مسلسل تجربوں کے بعد اپنی حفاظت کے پیش نظر عمل میں لایا گیا تھا اس لئے ان کی اصلاح و خیر خواہی کا دروازہ اب بھی کھلا رکھا گیا۔ جس کا ذکر چھٹی آیت میں ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر مشرکین میں سے کوئی شخص آپ سے پناہ مانگے تو آپ کو پناہ دینی چاہئے تاکہ وہ آپ کے قریب آکر اللہ کا کلام سن سکے اور اسلام کی حقانیت کو سمجھ سکے اور صرف یہی نہیں کہ وقتی طور پر اس کو پناہ دے دی جائے بلکہ جب وہ اپنے اس کام سے فارغ ہوجائے تو اپنی حفاظت اور نگرانی میں اس کو اس مقام تک پہنچانا بھی مسلمانوں کے ذمہ ہے جہاں یہ اپنے آپ کو محفوظ و مطمئن سمجھتا ہے۔ آخری آیت میں فرمایا کہ یہ حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ یہ لوگ پوری خبر نہیں رکھتے قریب آکر باخبر ہو سکتے ہیں۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh