Fatwa #2427
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورۃالتوبہ آیت ۶۵۔۶۶۔ وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَاکُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ قُلْ اَبِاللہِ وَاٰیٰتِہٖ ورَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَہْزِء ُوْنَ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
4,703
سوال (Question):
تفسیر سورۃالتوبہ آیت ۶۵۔۶۶۔ وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَاکُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ قُلْ اَبِاللہِ وَاٰیٰتِہٖ ورَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَہْزِء ُوْنَ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
منافق اورلبرل وسیکولرحضورتاجدارختم نبوتﷺکے اوردین کے گستاخ ہوتے ہیں
{وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَاکُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ قُلْ اَبِاللہِ وَاٰیٰتِہٖ ورَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَہْزِء ُوْنَ}(۶۵){لَاتَعْتَذِرُوْا قَدْکَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمٰنِکُمْ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَۃٍ مِّنْکُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَۃً بِاَنَّہُمْ کَانُوْا مُجْرِمِیْنَ }(۶۶) ترجمہ کنزالایمان:اور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے تم فرماؤ کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو۔بہانے نہ بنا ؤ تم کافر ہوچکے مسلمان ہوکر اگر ہم تم میں سے کسی کو معاف کریں تو اوروں کو عذاب دیں گے اس لیے کہ وہ مجرم تھے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور اے حبیب کریمﷺ!اگرآپﷺ ان منافقین سے پوچھیں تو کہیں گے کہ ہم تو صرف ہنسی کھیل کررہے تھے ۔اے حبیب کریمﷺ!آپ فرمادیں کہ کیا تم اللہ تعالی اور اس کی آیات کریمہ اور اس کے رسول کریم ﷺسے ہنسی مذاق کرتے ہو۔اب تم بہانے نہ بنا ؤ تم ایمان ظاہر کرنے کے بعد کافر ہوچکے ۔ اگر ہم تم میں سے کسی کو معاف کر دیں تو دوسروں کو عذاب دیں گے کیونکہ وہ مجرم(گستاخ) ہیں۔ شان نزول کے متعلق پہلاقول رَوَی ابْنُ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُنَافِقِینَ قَالَ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ مَا رَأَیْتُ مِثْلَ ہَؤُلَاء ِ الْقَوْمِ أَرْعَبَ قُلُوبًا وَلَا أَکْذَبَ أَلْسُنًا وَلَا أَجْبَنَ عِنْدَ اللِّقَاء ِ یَعْنِی رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالْمُؤْمِنِینَ، فَقَالَ وَاحِدٌ مِنَ الصَّحَابَۃِ: کَذَبْتَ وَلَأَنْتَ مُنَافِقٌ، ثُمَّ ذَہَبَ لِیُخْبِرَ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوَجِدَ الْقُرْآنَ قَدْ سَبَقَہُ. فَجَاء َ ذَلِکَ الرَّجُلُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ وَکَانَ قَدْ رَکِبَ نَاقَتَہُ، فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّمَا کُنَّا نَلْعَبُ وَنَتَحَدَّثُ بِحَدِیثِ الرَّکْبِ نَقْطَعُ بِہِ الطَّرِیقَ، وَکَانَ یقول إنما کان نَخُوضُ وَنَلْعَبُ. وَرَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وسلّم یقول: أبا للہ وآیاتہ ورسولہ کنتم تستہزء ون وَلَا یَلْتَفِتُ إِلَیْہِ وَمَا یَزِیدُہُ عَلَیْہِ. ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ ایک منافق نے غزوہ تبوک میں کہاکہ میںنے اس قوم ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ) کی طرح کسی کو دلوں میں رعب والازیادہ جھوٹ بولنے والااورجنگ کے وقت کسی کو بزدل نہیں پایا، اس سے مراد اس منافق نے حضورتاجدارختم نبوتﷺاوراہل ایمان یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مرادلئے ۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ توجھوٹ بک رہاہے اورتومنافق ہے ، پھروہ صحابی رضی اللہ عنہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی خدمت میں یہ خبردینے کے لئے گئے توان سے پہلے قرآن کریم کی آیت کریمہ نازل ہوچکی تھی ، تووہ منافق حضورتاجدارختم نبوتﷺکی خدمت میں آیا، آپ ﷺاس وقت اونٹنی پرسوارتھے، وہ کہنے لگاکہ یارسول اللہ ﷺ!ہم سفرکی حالت میں بطورمذاق یہ گفتگو( گستاخیاں) کررہے تھے تاکہ سفرآسان ہوجائے ، وہ باربار یہی کہتارہاکہ ہم تویونہی ہنسی کھیل میں لگے ہوئے تھے ، ہماراکوئی ارادہ گستاخی کرنے کانہ تھا۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺ نے فرمایا: کیااللہ تعالی اوراس کی آیات کریمہ اوراس کے رسول کریم ﷺسے ہنستے ہو؟ آپ ﷺنے اس کی طرف نہ کوئی توجہ کی اورنہ ہی اس کلام پرکوئی اضافہ کیا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۶:۹۴) شان نزول کے متعلق دوسراقول قَالَ الْحَسَنُ وَقَتَادَۃُ: لَمَّا سَارَ الرَّسُولُ إِلَی تَبُوکَ قَالَ الْمُنَافِقُونَ بَیْنَہُمْ أَتُرَاہُ یَظْہَرُ عَلَی الشأن وَیَأْخُذُ حُصُونَہَا وَقُصُورَہَا ہَیْہَاتَ، ہَیْہَاتَ، فَعِنْدَ رُجُوعِہِ دَعَاہُمْ وَقَالَ: أَنْتُمُ الْقَائِلُونَ بِکَذَا وَکَذَا فَقَالُوا: مَا کَانَ ذَلِکَ بِالْجِدِّ فِی قُلُوبِنَا وَإِنَّمَا کُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ. ترجمہ :امام حسن بصری رضی اللہ عنہ اورحضرت سیدناقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب حضورتاجدارختم نبوتﷺتبوک کی طرف روانہ ہوئے تومنافقین نے آپس میں کہاکہ کیاتم اسے دیکھتے ہوکہ وہ ان قلعوں اورمحلات پرقبضہ کرلے گا؟ لیکن یہ دورکی بات ہے ، آپ ﷺنے فرمایا:تم نے یہ باتیں کیں توکہنے لگے کہ ہم نے باتیں دانستہ نہیں کیں ، بلکہ ہم توہنسی کھیل میں لگے ہوئے تھے۔ (مراح لبید لکشف معنی القرآن المجید:محمد بن عمر نووی الجاوی البنتنی إقلیما، التناری بلدا (۱:۴۵۵) شان نزول کے متعلق تیسراقول عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ الْقُرَظِیِّ وَغَیْرِہِ قَالُوا: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنَافِقِینَ:مَا أَرَی قُرَّاء َنَا ہَؤُلَاء ِ إِلَّا أَرْغَبَنَا بُطُونًا وَأَکْذَبَنَا أَلْسِنَۃً، وَأَجْبَنَنَا عِنْدَ اللِّقَاء ِفَرُفِعَ ذَلِکَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَاء َ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وسلم وَقَدِ ارْتَحَلَ وَرَکِبَ نَاقَتَہُ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّمَا کُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ. فَقَالَ: أَبِاللَّہِ وَآیاتِہِ وَرَسُولِہِ کُنْتُمْ تَسْتَہْزِؤُنَ إلی قولہ کانُوا مُجْرِمِینَ وإن رجلیہ لتسفعان الْحِجَارَۃَ وَمَا یَلْتَفِتُ إِلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ مُتَعَلِّقٌ بِنِسْعَۃِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ ترجمہ:حضرت سیدناامام محمدبن کعب القرظی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ غزوہ تبوک کی طرف جاتے ہوئے ایک منافق کہہ رہاتھاکہ ہمارے یہ قرآن پڑھنے والے بڑے شکم دار، شیخی باز ، اوربڑے فضول اوربزدل لوگ ہیں ۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے پاس جب اس کاذکرہواتویہ عذرپیش کرتاہواآیاکہ یارسول اللہ ﷺ!ہم تویونہی وقت گزاری کے لئے ایساکررہے تھے اورمذا ق اڑارہے تھے ، آپ ﷺنے فرمایا: ہاں تمھارے مذاق کے لئے اللہ تعالی اوراس کاکلام اوراللہ تعالی کاحبیب کریم ﷺہی رہے گئے ہیں؟ یادرکھو!اگرکسی کو معاف کردیں گے توکسی کوسخت سزابھی دیں گے ، اس وقت حضورتاجدارختم نبوتﷺاپنی اونٹنی پرسوارجارہے تھے ، یہ منافق آپ ﷺکی تلوارپرہاتھ رکھے پتھروں سے ٹھوکریں کھاتاہواجارہاتھااورساتھ ساتھ معذرت کرتاجاتاتھااورآپﷺاس کی طرف دیکھتے بھی نہ تھے ۔ (تفسیر ابن کثیر:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۴:۱۵۰)اللہ تعالی کے ساتھ استہزاء محال توپھرآیت میں ذکرسے مرادکیاہے ؟
أَنَّہُ تَعَالَی حَکَی عَنْہُمْ أَنَّہُمْ یَسْتَہْزِئُونَ بِاللَّہِ وَآیَاتِہِ وَرَسُولِہِ، وَمَعْلُومٌ أَنَّ الِاسْتِہْزَاء َ بِاللَّہِ مُحَالٌفَلَا بُدَّ لَہُ مِنْ تَأْوِیلٍ وَفِیہِ وُجُوہٌ: الْأَوَّلُ: الْمُرَادُ بِالِاسْتِہْزَاء ِ بِاللَّہِ ہُوَ الِاسْتِہْزَاء ُ بِتَکَالِیفِ اللَّہِ تَعَالَی. الثَّانِی: یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ الْمُرَادُ الِاسْتِہْزَاء َ بِذِکْرِ اللَّہِ، فَإِنَّ أَسْمَاء َ اللَّہِ قَدْ یَسْتَہْزِئُ الْکَافِرُ بِہَا کَمَا أَنَّ الْمُؤْمِنَ یُعَظِّمُہَا وَیُمَجِّدُہَا. قَالَ تَعَالَی:سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَی (الْأَعْلَی:۱) فَأَمَرَ الْمُؤْمِنَ بِتَعْظِیمِ اسْمِ اللَّہِ وَقَالَ: وَلِلَّہِ الْأَسْماء ُ الْحُسْنی فَادْعُوہُ بِہا وَذَرُوا الَّذِینَ یُلْحِدُونَ فِی أَسْمائِہِ (الْأَعْرَافِ: ۱۸۰) فَلَا یَمْتَنِعُ أَنْ یُقَالَ:أَبِاللَّہِ وَیُرَادُ: أَبِذِکْرِ اللَّہِ الثَّالِثُ:لَعَلَّ الْمُنَافِقِینَ لَمَّا قَالُوا: کَیْفَ یَقْدِرُ مُحَمَّدٌ عَلَی أَخْذِ حُصُونِ الشَّأْمِ وَقُصُورِہَاقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِینَ:اللَّہُ یُعِینُہُ عَلَی ذَلِکَ وَیَنْصُرُہُ عَلَیْہِمْ، ثُمَّ إِنَّ بَعْضَ الْجُہَّالِ مِنَ الْمُنَافِقِینَ ذَکَرَ کَلَامًا مُشْعِرًا بِالْقَدْحِ فِی قُدْرَۃِ اللَّہِ کَمَا ہُوَ عَادَاتُ الْجُہَّالِ وَالْمُلْحِدَۃِ، فَکَانَ الْمُرَادُ ذَلِکَ.وَأَمَّا قَوْلُہُ:وَآیاتِہِ فَالْمُرَادُ بِہَا الْقُرْآنُ، وَسَائِرُ مَا یَدُلُّ عَلَی الدِّینِ وَقَوْلُہُ: وَرَسُولِہِ مَعْلُومٌ، وَذَلِکَ یَدُلُّ عَلَی أَنَّ الْقَوْمَ إِنَّمَا ذَکَرُوا مَا ذَکَرُوہُ عَلَی سَبِیلِ الِاسْتِہْزَاء ِ. ترجمہ :اللہ تعالی نے منافقین سے یہ بیان کیاکہ وہ اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکامذاق اڑاتے ہیں اوریہ ہرایک کومعلوم ہے کہ اللہ تعالی سے استہزامحال ہے۔لھذااس کی تاویل کی ضرورت ہے اوراس میں کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ : اللہ تعالی سے استہزاء سے مراد اللہ تعالی کے احکامات کے ساتھ استہزاء ہے ۔ دوسری وجہ : ممکن ہے کہ اللہ تعالی کے ذکرسے استہزاء مراد ہوکیونکہ کافراللہ تعالی کے ناموں سے استہزاء کرتے ہیں جیسے اہل ایمان اللہ تعالی کی عظمت وبزرگی بیان کرتے ہیں۔ تیسری وجہ : شاید منافقین نے جب کہاکہ محمد(ﷺ) شام کے قلعوں پرکیسے قدرت پاسکتے ہیں ، تومسلمانوں نے کہاکہ اللہ تعالی آپﷺکی مددفرمانے والاہے اورمددگارہے ، کچھ منافقین جاہلوں نے ایسی گفتگوکی جو اللہ تعالی کی قدرت کاملہ پرطعن تھی جیسے جاہل اورملحدین لبرل وسیکولرلوگوں کی عادت ہے تواس سے مرادیہی ہوگا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۶:۹۴)کفرکفرہی ہوتاہے چاہے مذاق میں ہویاسنجیدگی میں
قَالَ الْقَاضِی أَبُو بَکْرِ بْنُ الْعَرَبِیِّ: لَا یَخْلُو أَنْ یَکُونَ مَا قَالُوہُ مِنْ ذَلِکَ جِدًّا أَوْ ہَزْلًا، وَہُوَ کَیْفَمَا کَانَ کُفْرٌ، فَإِنَّ الْہَزْلَ بِالْکُفْرِ کُفْرٌ لَا خِلَافَ فِیہِ بَیْنَ الْأُمَّۃِ. ترجمہ:حضرت سیدناامام قاضی ابوبکربن العربی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ اس سے خالی نہیں جو انہوں نے کہاہے وہ سنجیدہ ہویاتمسخراورمذاق ہو، وہ جس حالت میں بھی ہووہ کفرہے کیونکہ کفرکے ساتھ تمسخربھی کفرہے اوراس بارے میں ساری امت میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۱۹۷)گستاخی سن کرہنسنے والابھی کافرہوگیا
قِیلَ: کَانُوا ثَلَاثَۃَ نَفَرٍ، ہَزِئَ اثْنَانِ وَضَحِکَ وَاحِدٌ، فَالْمَعْفُوُّ عَنْہُ ہُوَ الَّذِی ضَحِکَ وَلَمْ یَتَکَلَّمْ.فَقِیلَ: مَخْشِیُّ بْنُ حُمَیِّرٍ، قَالَہُ ابْنُ إِسْحَاقَ وَقَالَ ابْنُ ہِشَامٍ: وَیُقَالُ فِیہِ ابْنُ مَخْشِیٍّ وَقَالَ خَلِیفَۃُ بْنُ خَیَّاطٍ فِی تَارِیخِہِ: اسْمُہُ مُخَاشِنُ بْنُ حُمَیِّرٍوَذَکَرَ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ مُخَاشِنُ الْحِمْیَرِیُّ (وَذَکَرَ السُّہَیْلِیُّ مُخَشِّنُ بْنُ خُمَیِّرٍ )وَذَکَرَ جَمِیعُہُمْ أَنَّہُ اسْتُشْہِدَ بِالْیَمَامَۃِ، وَکَانَ تَابَ وَسُمِّیَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَدَعَا اللَّہَ أَنْ یُقْتَلَ شَہِیدًا وَلَا یُعْلَمَ بِقَبْرِہِ.وَاخْتُلِفَ ہَلْ کَانَ مُنَافِقًا أَوْ مُسْلِمًافَقِیلَ:کَانَ مُنَافِقًا ثُمَّ تَابَ تَوْبَۃً نَصُوحًاوَقِیلَ:کَانَ مُسْلِمًا، إِلَّا أَنَّہُ سَمِعَ الْمُنَافِقِینَ فَضَحِکَ لَہُمْ وَلَمْ یُنْکِرْ عَلَیْہِمْ. ترجمہ:امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ بیان کیاگیاہے کہ وہ تین لوگ تھے ، ان میں سے دونے گستاخی کی تھی اورتیسراہنساتھااوراس نے کوئی بھی کلام نہیں کیاتھا۔پس ان میں سے جس کو معاف کیاگیایہ وہی ہے جوہنسنے والاتھا۔ امام محمدبن اسحاق اورابن ہشام رحمہمااللہ تعالی نے فرمایاکہ اس کانام مخاشن بن حمیرتھا، اورابن عبدالبرنے کہاکہ مخاشن حمیری تھا، اورامام سہیلی نے کہاکہ اس کانام مخشن بن حمیرتھا، اورتمام نے یہ بات ذکرکی ہے کہ اسے جنگ یمامہ میں شہیدکیاگیا، اس نے توبہ کرلی تھی اوراس کانام عبدالرحمن رضی اللہ عنہ رکھاگیاتھا، اس نے اللہ تعالی سے یہ دعامانگی تھی کہ مجھے شہادت کی موت عطافرما۔ اوراس میں اختلاف ہے کہ کیاوہ منافق تھایامسلمان ؟بعض نے کہاہے کہ وہ منافق تھاپھراس نے خالص توبہ کی اوراللہ تعالی نے اس کی توبہ قبول کرلی ۔ اوربعض نے یہ کہاہے کہ وہ مسلمان تھامگراس نے منافقین سے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخی سنی اوران کو ڈانٹانہیں ( اوران کومنع نہیں کیاتواللہ تعالی نے اس کاایمان سلب فرمالیا، پھراس نے توبہ کی تواللہ تعالی نے اس کی توبہ قبول فرمائی ) (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۱۹۷)گستاخوں کی ہرہر گستاخی کاردکرنافرض ہے
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: الَّذِی عَفَا عَنْہُ رَجُلٌ وَاحِدٌ، ہُوَ مَخْشِیُّ بْنُ حُمَیِّرٍ الْأَشْجَعِیِّ، یُقَالُ ہُوَ الَّذِی کَانَ یَضْحَکُ وَلَا یَخُوضُ، وَکَانَ یَمْشِی مُجَانِبًا لَہُمْ وَیُنْکِرُ بَعْضَ مَا یَسْمَعُ، فَلَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ تَابَ مِنْ نِفَاقِہِ، وَقَالَ: اللَّہُمَّ إِنِّی لَا أَزَالُ أَسَمَعُ آیَۃً تُقْرَأُ أُعْنَی بِہَا تَقْشَعِرُّ الْجُلُودُ مِنْہَا، وَتَجِبُ مِنْہَا الْقُلُوبُ، اللَّہُمَّ اجْعَلْ وَفَاتِی قَتْلًا فِی سَبِیلِکَ لَا یَقُولُ أَحَدٌ أَنَّا غُسِّلْتُ أَنَا کُفِّنْتُ أَنَا دُفِنْتُ، فَأُصِیبَ یَوْمَ الْیَمَامَۃِ، فَمَا أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ إِلَّا عُرِفَ مَصْرَعُہُ غَیْرَہُ۔ ترجمہ :امام محمدبن اسحاق رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جس کو اللہ تعالی نے معاف فرمادیاوہ محشی بن حمیرالاشجعی تھے ، بیان کیاجاتاہے کہ اس نے گستاخی نہ کی تھی بلکہ ان کی گستاخیاں سن کرہنساتھااوران کے ایک طرف ہوکرچل رہاتھااوران کی بعض گستاخیوں کارد بھی کیامگربعض پرخاموش بھی رہا، جیسے ہی یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تواس نے اپنے نفاق سے توبہ کرلی اورکہاکہ اے اللہ !میں ہمیشہ ایک آیت کریمہ سنتاجومجھ پر پڑھی جاتی ہے تومیرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے اوردل کمزورہوجاتا ، اے اللہ !تومیری وفات اپنے راستے میں لکھ دے کوئی نہ کہے کہ میں نے اسے غسل دیا،میں نے اسے کفن دیا، میں نے اسے دفن کیاتواللہ تعالی نے جنگ یمامہ میں اسے شہادت کی موت عطافرمائی اوروہاں سب کے اجسام ملے مگران کے جسم کاکہیں نام ونشان ہی نہ ملا۔ (تفسیر البغوی:محیی السنۃ، أبو محمد الحسین بن مسعود البغوی (۴:۶۹) آیت مذکورہ پرامام احمدرضاحنفی الماتریدی رحمہ اللہ تعالی کاکلام اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس شخص نے حضورِ اقدس ﷺکی شان میں اِکراہ ِشرعی کے بغیر ایسے کلمات کہے جو عرف میں توہین اور گستاخی کے لئے متعین ہوں تو وہ نیت اور عدمِ نیت کے فرق کے بغیر قضاء ً اور دیانۃً دونوں طرح کافر ہے ۔ امام احمدرضاحنفی الماتریدی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں اس (مذکورہ بالا)آیت کے تین فائدے حاصل ہوئے: اول:یہ کہ جو رسول کی شان میں گستاخی کرے وہ کافر ہوجاتاہے اگر چہ کیسا ہی کلمہ پڑھتا اور ایمان کا دعویٰ رکھتا ہو، کلمہ گوئی اسے ہرگز کفرسے نہ بچائے گی۔ دوم:یہ جو بعض جاہل کہنے لگتے ہیں کہ کفر کا تودل سے تعلق ہے نہ کہ زبان سے، جب وہ کلمہ پڑھتا ہے اور اس کے دل میں کفر ہونا معلوم نہیں توہم کسی بات کے سبب اسے کیونکر کافر کہیں ، محض خبط اور نری جھوٹی بات ہے، جس طرح کفر دل سے متعلق ہے یونہی ایمان (کا) بھی (دل سے تعلق ہے تو) زبان سے کلمہ پڑھنے پر (اسے)مسلمان کیسے کہا؟ (تو جس طرح زبان سے کلمہ پڑھنے پر اسے مسلمان کہا) یونہی زبان سے گستاخی کرنے پر کافر کہا جائے گا، اور جب (اس کا گستاخی کرنا) بغیر اکراہِ شرعی کے ہے تو اللہ کے نزدیک بھی کافر ہوجائے گا اگر چہ دل میں اس گستاخی کا معتقد نہ ہو کہ بے اعتقاد (گستاخانہ کلمہ)کہنا ہزل وسُخْرِیَہْ ہے، اور اسی پر ربُّ العزت فرما چکا کہ تم کافر ہوگئے اپنے ایمان کے بعد۔ سوم :کھلے ہوئے لفظوں میں عذر تاویل مسموع نہیں ، آیت فرما چکی کہ حیلہ نہ گھڑو تم کافر ہوگئے۔ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں جو بلا اکراہ کلمہ کفر بکے بلا فرقِ نیت مطلقاً قطعا ًیقینا اجماعاً کافر ہے ۔پھر اس پر فقہائے کرام کے جزئیات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :فتاویٰ امام قاضی خاں وفتاویٰ عالمگیری میں ہے ’’رجل کفر بلسانہ طائعا وقلبہ مطمئن بالایمان یکون کافرا و لایکون عند اﷲتعالٰی مومنا‘‘ ایک شخص نے زبان سے حالت ِخوشی میں کفر کا اظہار کیا حالانکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن تھا تو وہ کافر ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مومن نہیں ہے۔ (ـــــــــــ فتاوی رضویہ لامام احمدرضاحنفی الماتریدی ( ۱۵:۱۷۲)معارف ومسائل
(۱)اللہ تعالی کے وعدے سچے ہیں ، ان میں خلاف کااحتمال بھی نہیں ہے ، دیکھو رب تعالی نے فرمایاکہ منافقین کے چھپے راز رب تعالی ظاہرفرمائے گا، ایساہی ہواآج تک وہ لوگ بدنام ہیں ۔ کفرکی باتیں خوشی سے سننااوران پر ہنسنااوران سے راضی ہونابھی کفرہے ’’رضابالکفرکفرہے‘‘ عقائدکامشہورمسئلہ ہے ۔ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی گستاخی کفرہے اگرچہ گستاخی کی نیت نہ ہو، دیکھوان منافقین نے کہاتھاکہ ہم توان باتوں کے ذریعے دل بہلارہے تھے ، راستہ طے کررہے تھے ، گستاخی کی نیت نہیں تھی ، مگراللہ تعالی نے تم کوکافر کر دیاکیونکہ یہ بارگاہ نبوی بہت نازک ہے ۔ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے گستاخوں کو اکثرتوبہ کی توفیق نہیں ملتی ۔ اللہ تعالی ستارالعیوب ہے ، پردہ پوشی فرماتاہے ، مگرجو بدبخت حضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخی کرے اورآپ ﷺکی عزت وعظمت پر ہاتھ ڈالے اس کی پردہ دری فرمادیتاہے ( یعنی اس کو ذلیل ورسواکردیتاہے ) پھردریائے غضب جوش میں آجاتاہے ۔ دیکھوولیدبن مغیرہ نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکوبہت دکھ دیئے تورب تعالی نے اس کے دس عیوب قرآن کریم میں بیان فرمادیئے حتی کہ آخرمیں فرمایا: وہ حرام کابچہ ہے ۔ آج تک اس کے یہ عیوب مخلوق کی زبان پرہیں اس کے برعکس وہ رب کریم اپنے حبیب کریم ﷺکے ثناخوانوں کی پردہ پوشی فرماتاہے اورفرماتارہے گا۔ (تفسیرنعیمی ( ۱۰: ۳۹۲) (۲)کفر کی باتیں سن کر رضا کے طور پر خاموش رہنا یا ہنسنا بھی کفر ہے۔ کیونکہ رضابِالْکُفر کفر ہے۔حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کی تَوہین اللہ تعالیٰ کی توہین ہے کیونکہ ان منافقوں نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی توہین کی تھی مگر فرمایا :{ اَبِاللہِ وَاٰیٰتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ} یعنی حضورتاجدارختم نبوت ﷺکا مذاق اڑانا اللہ تعالیٰ اور اس کی تمام آیتوں کا مذاق اڑانا ہے۔ لہٰذا حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کی تعظیم اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہے۔ اس آیت سے معلوم ہو اکہ ایمان ایسی چیز نہیں کہ جو دنیا میں کبھی کسی سے ختم ہی نہیں ہو سکتی کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے پہلے ان کے ایمان کا ذکر فرمایا پھر ان کا ایمان ختم ہو جانے کا ذکر فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں مسلمان ہونے کے بعد کوئی کافر ہو سکتاہے ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ کسی کو کافر قرار دینے کا اختیار اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے لہٰذا کوئی دوسرا کسی کو کافر نہیں کہہ سکتا ، یہ اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ شرعی اصولوں کے مطابق جس کا کفر ثابت ہو جائے اسے کافر قرار دینے کاحکم خود شریعت کا حکم ہے اور حقیقی علماء اسی حکمِ شریعت پر عمل کرتے ہوئے ہی کسی کو کافر کہتے ہیں۔ اگر یہ پابندی عائد کر دی جائے کہ کوئی اللہ تعالیٰ کے بارے میں ، اس کے حبیب رسول کریم ﷺکے بارے میں ، اس کی مقدس کتاب قرآنِ مجید کے بارے میں ، اس کے پسندیدہ دین اسلام کے بارے کیسے ہی توہین آمیز کلمات کہے یا کتنے ہی برے افعال کے ذریعے ان کی توہین کرے یا دیگر ضروریاتِ دین کا انکار کرے تو اسے کافر نہ کہا جائے کیونکہ اسے کافر قرار دینے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے تو پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نبی کریمﷺکے فیصلے سے راضی نہ ہونے والے جس منافق کاسر اڑا دیا تھا اور ا س کے بعد حضورِ اقدس ﷺنے فرما دیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کسی مومن کو قتل نہیں کرسکتے اور ان کی تائید میں اللہ تعالیٰ نے بھی قرآنِ کریم میں آیت نازل فرما دی تو کیا یہاں اللہ تعالیٰ کا حق چھیننا پایا جا رہا ہے؟ اسی طرح صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے زمانے میں زکوٰۃ کا انکار کرنے والوں کو مرتد قرار دے کر ان کے خلاف جو جہاد ہوا اور مسلمان ہونے کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کے خلاف صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے جو جہاد کیا وہ کیا تھا؟ کیا صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو معلوم نہیں تھا کہ انہیں کافر قرار دینے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور وہ انہیں کافر قرار دے کر ان کے خلاف جہاد نہیں کر سکتے۔ افسوس! فی زمانہ مسلمان ہونے کادعویٰ کرنے کے باوجود دین سے بیزار طبقے کی ایسی مت ماری جا چکی ہے کہ وہ ایسا نظریہ پیش کر رہے ہیں جسے اگر درست مان لیاجائے تو پھر قرآنِ مجید اوراحادیثِ مبارکہ میں مرتد ہونے والوں کے بارے جو احکام بیان کئے گئے اور ان کی جوتفصیلات فقہائِ کرام زمانے سے اپنی کتابوں میں لکھتے چلے آ رہے ہیں یہ سب کالْعدم ہو کر رہ جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں عقلِ سلیم عطا فرمائے ۔ ہاں یہاں اس بات کا خیال رکھنا بہت ہی ضروری ہے کہ کسی فردِ معین کو کافر قرار دینا بہت ہی سنگین معاملہ ہے ، جب تک کسی شخص سے صادر ہونے والے قول و فعل کی بنا پر اسے کافر قرار دینے کے تمام تر تقاضے پورے نہ ہوجائیں تب تک کافر قرار دینے کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں یہاں تک کہ علماء نے فرمایا ہے کہ کسی شخص کے کلام میں ایک سو پہلو ہوں اور ان میں سے ننانوے پہلو کفر کے ہوں اور صرف ایک پہلو اسلام کا ہو تب بھی اس ایک پہلو کی رعایت کرتے ہوئے اس شخص کو کافر قرار نہیں دیا جائے گا جب تک وہ اپنی مراد خود متعین نہ کردے۔(تفسیرصراط الجنان( ۴: ۱۶۵) (۳) اس سے معلوم ہواکہ علماء وحفاظ قرآن کریم کو یہ کہناکہ یہ لوگ بہت زیادہ کھاتے ہیں یہ منافقوں کاطریقہ ہے ، اس لئے آج بھی لبرل وسیکولرطبقہ علماء حق کے متعلق یہ بکتاہوادکھائی دیتاہے کہ علماء بہت کھاتے ہیں ۔ (۴) اوراس سے یہ بھی معلوم ہواکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کامذاق اڑاناکافروں کاطریقہ ہے ۔ (۵) اوراس سے یہ بھی معلوم ہواکہ آج جتنالبرل وسیکولر طبقہ ڈرامے بناتے ہوئے یافلمیں بناتے ہوئے شعائراسلام کا، اوراللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکامذا ق اڑاتے ہیں وہ بھی کافرہیں کیونکہ اللہ تعالی نے واضح فرمایاکہ جو بھی میرے دین کامذاق اڑائے چاہے وہ مذاق کی صورت ہویاسنجیدگی کی بہرصورت انسان کافرہوجاتاہے۔ (۶) اوراس سے یہ بھی معلوم ہواکہ گستاخ جب گستاخی کرے تو اس کوجواب دینافرض ہے کیونکہ جواب نہ دینے کی صورت میں ایمان سلب ہوجائے گاجیساکہ اس شان نزول سے معلوم ہواکہ گستاخی کرنے والے دوتھے تیسرے نے ان کی کچھ گستاخیوں کاجواب بھی دیامگرکچھ گستاخیاں سن کرخاموش بھی رہاتواللہ تعالی نے اس سے بھی ایمان سلب فرمالیا۔ (۷)اوراس سے یہ بھی معلوم ہواکہ اہل ایمان میں بزدلی پھیلانااورکافروں کی طاقت کاذکرکرکے اہل ایمان کے دل میں خوف پیداکرنامنافقین کاکام ہے جیساکہ آجکل ہمارے ملک کے لبرل وسیکولرلوگ کرتے ہیں اورٹی وی پربیٹھے ہوئے بے دین اینکرکرتے ہیں، یہ بھی ہمہ وقت یہی کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ ہم امریکہ کے ساتھ جنگ نہیں کرسکتے کیونکہ ان کے پاس اسلحہ ہے اورہمارے پاس کچھ نہیں ہے ، اللہ تعالی نے ذلیلوں کو اتنااندھاکردیاہے کہ ان کاذہن اس بات کی طرف نہیں جاتاکہ ہمارے پاس اللہ تعالی کی مددہے ۔ (۸)ان آیات کریمہ میں جن منافقین کاذکرہے انہوںنے جہاد کااورجہاد کو بنیادبناکردین کامذاق اڑایاتھا، آجکل خود کو روشن خیال اورسیکولرکہلانے والے افراد جہاد کااورجہاد کو بنیادبناکراہل اسلام کااوردین کامذاق اڑاتے ہیں ، ان آیات کریمہ کے شان نزول سے یہ بھی معلوم ہواکہ جہاد کامذاق اڑانادین کامذاق اڑاناہے اوردین کامذاق اڑاناکفرہے ۔ کیونکہ منافق اسلام کی حقانیت کونہیں مانتااورجہاد میں اللہ تعالی کی نصرت اورمددکے نازل ہونے کوبھی نہیں مانتا، اس لئے ہرزمانے میں وہ جہاد کو ناممکن جانتاہے کیونکہ منافق اورلبرل وسیکولرکوکافروں کی طاقت ہمیشہ بہت بڑی اورناقابل شکست نظرآتی ہے ، اس زمانے کامنافق روم وفارس کی طاقت کو اسی نظرسے دیکھتاتھاجس نظرسے پاکستانی لبرل وسیکولرامریکہ ، یورپ اورہندوستان کودیکھتے ہیں ۔ منافق اورلبرل وسیکولر کے نزیک جہاد کل بھی ناممکن تھااورآج بھی ناممکن ہے ۔اللہ تعالی نفاق اوراہل نفاق سے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی امت کی حفاظت فرمائے ۔ بتصرف یسیر(فتح الجواد ( ۳: ۱۷)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9