صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2548 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورۃ الانبیاء آیت ۱ تا ۵۔ اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,412

سوال (Question):

تفسیر سورۃ الانبیاء آیت ۱ تا ۵۔ اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ(1)

ترجمہ: کنزالعرفان لوگوں کا حساب قریب آگیا اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{ اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ:لوگوں  کا حساب قریب آگیا۔} اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں ایک قول یہ ہے یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کو نہیں مانتے تھے۔دوسرا قول یہ ہے کہ اِس آیت میں اگرچہ اُس وقت کفارِ قریش کی طرف اشارہ کیا گیاہے لیکن لفظ’’اَلنَّاسِ‘‘ میں عموم ہے(اور اس سے تمام لوگ مراد ہیں ۔)نیزیہاں قیامت کے دن کو گزرے ہوئے زمانہ کے اعتبار سے قریب فرمایا گیاکیونکہ جتنے دن گزرتے جاتے ہیں آنے والا دن قریب ہوتا جاتا ہے ۔ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں نے دنیا میں جو بھی عمل کئے ہیں اور ان کے بدنوں ، ان کے جسموں ، ان کے کھانے پینے کی چیزوں اور ان کے ملبوسات میں اور ان کی دیگر ضروریات پوری کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں جو بھی نعمتیں عطا کی ہیں، ان کے حساب کا وقت(روزِقیامت)قریب آ گیا ہے اوراس وقت ان سے پوچھا جائے گا کہ ان نعمتوں کے بدلے میں انہوں نے کیا عمل کئے،آیا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور ا س کے دئیے ہوئے حکم پر عمل کیا اور جس چیز سے اس نے منع کیا اس سے رک گئے یا انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کی ،اس سنگین صورتِ حال کے باوجود لوگوں کی غفلت کا حال یہ ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کئے جانے سے اور قیامت کے دن پیش آنے والی عظیم مصیبتوں اور شدید ہولناکیوں سے بے فکر ہیں اور اس کے لئے تیاری کرنے سے منہ پھیرے ہوئے ہیں اورانہیں اپنے انجام کی کوئی پرواہ نہیں۔(خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱، ۳ / ۲۷۰-۲۷۱، مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱، ص۷۰۹، تفسیر طبری، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱، ۹ / ۳، ملتقطاً)

اُخروی حساب سے غفلت کے معاملے میں کفار کی روش اور مسلمانوں کا حال :

یہاں اگرچہ کفار کی روش کو بیان کیا گیا ہے لیکن افسوس !فی زمانہ مسلمانوں میں بھی قیامت کے دن اپنے اعمال کے حساب سے غفلت بہت عام ہو چکی ہے اور آج انہیں بھی جب نصیحت کی جاتی ہے اورموت کی تکلیف، قبر کی تنگی، قیامت کی ہولناکی، حساب کی سختی اور جہنم کے دردناک عذاب سے ڈرایا جاتا ہے تو یہ عبرت و نصیحت حاصل کرنے کی بجائے منہ پھیر کر گزر جاتے ہیں، حالانکہ مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ ایسا طرزِ عمل اختیار کرے جو کافروں اور مشرکوں کا شیوہ ہو۔ امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں’’اے انسان! تجھے اپنے کریم رب عَزَّوَجَلَّ کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال رکھاہے کہ تو دروازے بند کرکے، پردے ٹکا کر اور لوگوں سے چھپ کر فسق وفجور اور گناہوں میں مبتلا ہو گیا! (تو لوگوں کے خبردار ہونے سے ڈرتا ہے حالانکہ تجھے پیدا کرنے والے سے تیرا کوئی حال چھپا ہوا نہیں ) جب تیرے اَعضا تیرے خلاف گواہی دیں گے(اور جو کچھ تو لوگوں سے چھپ کر کرتا رہا وہ سب ظاہر کر دیں گے) تو اس وقت تو کیا کرے گا۔ اے غافلوں کی جماعت! تمہارے لئے مکمل خرابی ہے، اللہ تعالیٰ تمہارے پاس سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بھیجے اور آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر روشن کتاب نازل فرمائے(جس میں ہر چیز کی تفصیل موجود ہے)اور تمہیں قیامت کے اوصاف کی خبر دے، پھر تمہاری غفلت سے بھی تمہیں آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمائے کہ : ’’اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ(۱) مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ(۲) لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ‘‘(انبیاء:۱-۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: لوگوں کا حساب قریب آگیااور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔ جب ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے کھیلتے ہوئے ہی سنتے ہیں ۔ ان کے دل کھیل میں پڑے ہوئے ہیں ۔ پھر  وہ ہمیں قیامت قریب ہونے کے بارے میں بتاتے ہوئے ارشادفرمائے کہ ’’اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ‘‘(قمر:۱) ترجمۂ کنزُالعِرفان: قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔ اور ارشادفرمائے کہ ’’ اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ(۶) وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًا‘‘(معارج۶،۷) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ اسے دور سمجھ رہے ہیں ۔اور ہماسے قریب دیکھ رہے ہیں ۔ اور ارشاد فرمائے کہ: ’’ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا‘‘(احزاب:۶۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو۔ اس کے بعد تمہاری سب سے اچھی حالت تو یہ ہونی چاہئے کہ تم اس قرآنِ عظیم کے دئیے درس پر عمل کرو، لیکن اس کے برعکس تمہارا حا ل یہ ہے کہ تم اس قرآن کے معانی میں غوروفکر نہیں کرتے اور روزِ قیامت کے بے شمار اَوصاف اور ناموں کو(عبرت کی نگاہ سے) نہیں دیکھتے اور اس دن کی مصیبتوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے کوشش نہیں کرتے۔ ہم اس غفلت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں (اور دعا کرتے ہیں کہ) اللہ تعالیٰ اپنی وسیع رحمت سے اس غفلت کو دور فرمائے۔(احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الشطر الثانی من کتاب ذکر الموت فی احوال المیت۔۔۔ الخ، صفۃ یوم القیامۃ ودواہیہ واسامیہ، ۵ / ۲۷۶)اور ہر مسلمان کو اس فانی دنیا سے بے رغبت ہو کر نیک اعمال کی کثرت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ترغیب کے لئے یہاں دو حکایات ملاحظہ ہوں :

مجھے تمہاری جائیداد کی کوئی ضرورت نہیں :

حضرت عامر بن ربیعہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک عربی ان کے پاس آیا، آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے   اس کانہایت اِکرام کیا اوراس کے متعلق حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کلام کیا۔ وہ شخص جب دوبارہ حضرت عامر بن ربیعہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کے پاس آیا تواس نے کہا کہ میں نے رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ایک وادی طلب کی ہے جس سے بہتر عرب میں  کوئی وادی نہیں ہے۔  میں چاہتا ہوں کہ تمہارے لیے اس میں سے کچھ حصہ علیحدہ کردوں جوتمہارے اورتمہاری اولا دکے کام آئے۔ حضرت عامربن ربیعہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے اس سے کہا کہ’’ ہمیں تیری جائیداد کی کوئی ضرورت نہیں،کیونکہ آج ایک سورت نازل ہوئی ہے اس نے ہمیں دنیا کی لذتیں بھلا دی ہیں (اوراس میں یہ آیت ہے)’’ اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ‘‘لوگوں کا حساب قریب آگیا اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔(ابن عساکر، حرف العین، ذکر من اسمہ عامر، عامر بن ربیعۃ بن کعب بن مالک۔۔۔ الخ، ۲۵ / ۳۲۷)

جب حساب کا وقت قریب ہے تو یہ دیوار نہیں بنے گی:

ایک روایت میں ہے کہ رسول کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ میں سے ایک صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ دیوار بنا رہے تھے، جس دن یہ سورت نازل ہوئی ا س دن ان کے پاس سے ایک شخص گزرا تو انہوں نے  اس سے پوچھا ’’ آج قرآن پاک میں کیا نازل ہوا ہے ؟اس نے بتایا کہ یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی ہے ’’اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ‘‘ لوگوں کا حساب قریب آگیااور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔ ‘‘ان صحابی  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے جب یہ سناتواسی وقت دیوار بنانے سے ہاتھ جھاڑ لیے اور کہا: اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی قسم !جب حساب کاوقت قریب آگیا ہے تو پھر یہ دیوار نہیں بنے گی۔(قرطبی، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱، ۶ / ۱۴۵، الجزء الحادی عشر)

مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَ(2)

ترجمہ: کنزالعرفان
جب ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے کھیلتے ہوئے ہی سنتے ہیں ۔
 

تفسیر: ‎صراط الجنان

{مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ:جب ان کے پاس کوئی نصیحت آتی ہے۔} یعنی جب  اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید میں  نصیحت آمیز کوئی ایسی آیت نازل ہوتی ہے جو انہیں  اعلیٰ طریقے سے اخروی حساب کی یاد دلائے اوراس سے غفلت کا شکار ہونے پر کامل طریقے سے تنبیہ کرے تو یہ اس میں  غورو فکر کر کے عبرت ونصیحت حاصل کرنے اور اپنی غفلت دور کرنے کی بجائے اسے کھیلتے اور مذاق مَسخری کرتے ہوئے ہی سنتے ہیں  اور آنے والے وقت کے لئے کچھ تیاری نہیں  کرتے۔( روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۲، ۵ / ۴۵۲، خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۲، ۳ / ۲۷۱، ملتقطاً)

لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْؕ-وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى ﳓ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ﳓ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْۚ-اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ(3)

ترجمہ: کنزالعرفان
ان کے دل کھیل میں پڑے ہوئے ہیں اور ظالموں نے آپس میں خفیہ مشورہ کیا کہ یہ (نبی) تمہارے جیسے ایک آدمی ہی تو ہیں تو کیا تم خود دیکھنے کے باوجود جادو کے پاس جاتے ہو؟

تفسیر: ‎صراط الجنان

{لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ:ان کے دل کھیل میں  پڑے ہوئے ہیں  ۔} دل کھیل میں  پڑے ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ  اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل ہیں  اور بعض مفسرین فرماتے ہیں  کہ جو دل دنیا کے احوال میں  مشغول اور آخرت کے احوال سے غافل ہو وہ کھیل میں  پڑ اہوا ہے۔( خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ۳، ۳ / ۲۷۱، روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ۳، ۵ / ۴۵۲، ملتقطاً)

{ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى ﳓ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا:اور ظالموں  نے آپس میں  خفیہ مشورہ کیا ۔} ارشاد فرمایا کہ کافروں  نے آپس میں  خفیہ مشورہ کیا اور اسے چھپانے میں  بہت مبالغہ کیا مگر  اللہ تعالیٰ نے ان کا راز فاش کر دیا اور بیان فرما دیا کہ وہ رسولِ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں  یوں  کہتے ہیں  کہ یہ تمہارے جیسے ایک آدمی ہی تو ہیں ۔( خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ۳، ۳ / ۲۷۱) یہ کفر کا ایک اصول تھا کہ جب یہ بات لوگوں  کے ذہن نشین کر دی جائے گی کہ وہ تم جیسے بشر ہیں  تو پھر کوئی ان پر ایمان نہ لائے گا۔ کفار یہ بات کہتے وقت جانتے تھے کہ ان کی بات کسی کے دل میں  جمے گی نہیں  کیونکہ لوگ رات دن معجزات دیکھتے ہیں ، وہ کس طرح باور کر سکیں  گے کہ حضورپُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہماری طرح بشر ہیں  اس لئے انہوں  نے معجزات کو جادو بتا دیا اور کہا کہ کیا تم خود دیکھنے اور جاننے کے باوجود جادو کے پاس جاتے ہو؟

قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ٘-وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(4)

ترجمہ: کنزالعرفان
نبی نے فرمایا: میرا رب آسمان اور زمین میں ہر بات کوجانتا ہے اور وہی سننے والا جاننے والا ہے۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{قٰلَ:نبی نے فرمایا۔} جب حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف کفار کے اقوال اور احوال کی وحی کی گئی تو اس کے بعد آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’کفار کی خفیہ باتوں  کو جاننا تو کچھ بھی نہیں  ، میرے رب عَزَّوَجَلَّ کی شان تو یہ ہے کہ وہ آسمانوں  اور زمین میں  ہونے والی ہر بات کوجانتا ہے خواہ وہ پوشیدہ طور پر کہی گئی ہو یا اعلانیہ کہی گئی ہو اوراس سے کوئی چیز چھپ نہیں  سکتی خواہ وہ کتنے ہی پردے اور راز میں  رکھی گئی ہو اور وہی سننے والا جاننے والا ہے، تو وہی کفار کے اَقوال اور اَفعال کی انہیں  سزا دے گا۔( روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۴، ۵ / ۴۵۳)

بَلْ قَالُـوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ ۚۖ-فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ(5)

ترجمہ: کنزالعرفان بلکہ(کافروں نے) کہا: جھوٹے خواب ہیں بلکہ خود اس (نبی) نے اپنی طرف سے بنالیا ہے بلکہ یہ شاعر ہیں (اگر نبی ہیں ) تو ہمارے پاس کوئی نشانی لائیں جیسے پہلے رسولوں کو بھیجا گیا تھا۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{بَلْ قَالُـوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ:بلکہ کہا:جھوٹے خواب ہیں ۔} جب کافروں  کا راز ظاہر فرما دیا گیا تواس کے بعد انہیں  قرآنِ کریم سے سخت پریشانی اور حیرانی لاحق ہوگئی کہ اس کا کس طرح انکار کریں  کیونکہ یہ ایک ایسا روشن اور واضح معجزہ ہے جس نے تمام ملک کے مایہ ناز ماہروں  کو عاجزوحیرت زدہ کردیا ہے اور وہ اس کی دو چار آیتوں  کی مثل کلام بنا کر نہیں  لاسکے، اس پریشانی میں  اُنہوں  نے قرآنِ کریم کے بارے میں  مختلف قسم کی باتیں  کہیں  اور کہنے لگے : بلکہ نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جو قرآن لائے ہیں  یہ جھوٹے خواب ہیں  اور ان کو نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ تعالیٰ کی وحی سمجھ گئے ہیں  ۔ کفار نے یہ کہہ کر سوچا کہ یہ بات چسپاں  نہیں  ہو سکے گی تو اب اس کو چھوڑ کر کہنے لگے: بلکہ خود اس نبی نے اپنی طرف سے بنالیا ہے۔ یہ کہہ کر انہیں  خیال ہوا کہ لوگ کہیں  گے : اگر یہ کلام حضرت محمد مصطفٰی صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا بنایا ہوا ہے اور تم انہیں  اپنے جیسا بشر بھی کہتے ہو تو تم ایسا کلام کیوں  نہیں  بنا سکتے؟ یہ خیال کر کے اس بات کو بھی چھوڑا اور کہنے لگے : بلکہ یہ شاعر ہیں  اور یہ کلام شعر ہے۔ الغرض کفار اسی طرح کی باتیں  بناتے رہے اور کسی ایک بات پر قائم نہ رہ سکے ۔ اب کفارنے سمجھا کہ ان باتوں  میں  سے کوئی بات بھی چلنے والی نہیں  ہے، تو کہنے لگے : اگر یہ نبی ہیں  تو ہمارے پاس کوئی نشانی لائیں  جیسے پہلے رسولوں  کو نشانیوں  کے ساتھ بھیجا گیا تھا۔( البحر المحیط، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۵، ۶ / ۲۷۶، قرطبی، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۵، ۶ / ۱۴۸، الجزء الحادی عشر، ملتقطاً) اہلِ باطل اور جھوٹے کسی ایک بات پر قائم نہیں  رہتے: اہلِ باطل اور جھوٹوں  کا یہی حال ہوتا ہے کہ وہ کسی ایک بات پر قائم نہیں  رہتے بلکہ ایک کے بعد دوسری اور دو سری کے بعد تیسری بات کی طرف منتقل ہوتے رہتے ہیں  اور اس کی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ بات کرنے کے بعد خود حیران ہوتے ہیں  کہ ہم نے کہہ کیا دیا ہے۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh