صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2335 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورۃ الانعام آیت ۹۱۔ وَمَا قَدَرُوا اللہَ حَقَّ قَدْرِہٖٓ اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللہُ عَلٰی بَشَرٍ مِّنْ شَیْء ٍ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,527

سوال (Question):

تفسیر سورۃ الانعام آیت ۹۱۔ وَمَا قَدَرُوا اللہَ حَقَّ قَدْرِہٖٓ اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللہُ عَلٰی بَشَرٍ مِّنْ شَیْء ٍ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

احکامات شرع کو تسلیم کرنے یانہ کرنے میں یہود اورلبرل کی فکرمیں مماثلت

وَمَا قَدَرُوا اللہَ حَقَّ قَدْرِہٖٓ اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللہُ عَلٰی بَشَرٍ مِّنْ شَیْء ٍ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ الَّذِیْ جَآء َ بِہٖ مُوْسٰی نُوْرًا وَّ ہُدًی لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَہ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَہَا وَ تُخْفُوْنَ کَثِیْرًا وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنْتُمْ وَلَآ اٰبَآؤُکُمْ قُلِ اللہُ ثُمَّ ذَرْہُمْ فِیْ خَوْضِہِمْ یَلْعَبُوْنَ(۹۱) ترجمہ کنزالایمان:اور یہود نے اللہ کی قدر نہ جانی جیسی چاہیے تھی جب بولے اللہ نے کسی آدمی پر کچھ نہیں اتارا تم فرماؤ کس نے اُتاری وہ کتاب جو موسیٰ لائے تھے روشنی اور لوگوں کے لیے ہدایت جس کے تم نے الگ الگ کاغذ بنالیے ظاہر کرتے ہو اور بہت سا چھپالیتے ہو اور تمہیں وہ سکھایا جاتا ہے جو نہ تم کو معلوم تھا نہ تمہارے باپ دادا کو، اللہ کہو، پھر انہیں چھوڑ دو ان کی بیہودگی میں کھیلتا۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور یہود نے اللہ تعالی کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کرنی چاہئے تھی جب انہوں نے کہا :اللہ تعالی نے کسی انسان پر کوئی چیز نہیں نازل کی۔ اے حبیب کریم ﷺ!آپ فرمادیں:وہ کتاب کس نے اتاری تھی جسے موسیٰ (علیہ السلام)لے کر آئے تھے؟ نور اور لوگوں کے لیے ہدایت تھی، جس کے تم نے الگ الگ کاغذ بنالیے تھے، کچھ ظاہر کرتے ہواور بہت ساچھپالیتے ہواور تمہیں وہ سکھایا جاتا ہے جو نہ تم کو معلوم تھا اورنہ تمہارے باپ دادا کو۔ تم کہو:اللہ تعالی۔اے حبیب کریم ْﷺ! پھر انہیں ان کی بیہودگی میں کھیلتے ہوئے چھوڑ دو۔ شان نزول عَنْ سَعِیدِ ابن جُبَیْرٍ قَالَ: جَاء َ رَجُلٌ مِنَ الْیَہُودِ یُقَالُ لَہُ مَالِکُ بْنُ الصَّیْفِ فَخَاصَمَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَنْشُدُکَ بِالَّذِی أَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلَی مُوسَی، ہَلْ تَجِدُ فِی التَّوْرَاۃِ أَنَّ اللَّہَ یُبْغِضُ الْحَبْرَ السَّمِینَ؟ قَالَ:وَکَانَ حَبْرًا سَمِینًا فَغَضِبَ وَقَالَ: مَا أَنْزَلَ اللَّہُ عَلَی بَشَرٍ مِنْ شَیْء ٍ. فَقَالَ لَہُ أَصْحَابُہُ الَّذِینَ مَعَہُ:وَیْحَکَ! وَلا عَلَی مُوسَی؟ قَالَ:مَا أَنْزَلَ اللَّہُ عَلَی بَشَرٍ مِنْ شَیْء ٍ. فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَا قَدَرُوا اللَّہَ حَقَّ قَدْرِہِ إِذْ قَالُوا مَا أَنْزَلَ اللَّہُ عَلَی بَشَرٍ مِنْ شَیْء ٍ، قُلْ مَنْ أَنْزَلَ الْکِتَابَ الَّذِی جَاء َ بِہِ مُوسَی نُورًا وَہُدًی لِلنَّاسِ؟. ترجمہ :حضرت سیدناسعیدبن جبیررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوںنے کہ ایک شخص جس کانام مالک صیف تھاجوکہ یہودی مذہب کے ساتھ تعلق رکھتاتھا، یہ آیااورحضورتاجدارختم نبوتﷺکے ساتھ جھگڑنے لگاتوحضورتاجدارختم نبوتﷺ نے اسے فرمایا: میں تجھے قسم دیتاہوں اس خداتعالی کی جس نے حضرت سیدناموسی علیہ السلام پرتوراۃ نازل فرمائی ۔ کیاتونے توراۃ میں نہیں پڑھاکہ اللہ تعالی انتہائی موٹے اوربھاری بھرکم عالم کو مبغوض رکھتاہے ۔ کیونکہ وہ خود بہت موٹاتھااوریہودیوں کاعالم بھی تھا، حضورتاجدارختم نبوتﷺکی زبان مبارک سے یہ سنتے ہی وہ بہت غصے سے بپھرگیااورکہنے لگاکہ اللہ تعالی کی قسم !اللہ تعالی نے کسی آدمی پر کوئی چیز نازل نہیں فرمائی تواس کے ساتھ موجود ساتھیوں نے اسے کہاکہ تیری ہلاکت اوربربادی ہو!کیاحضرت سیدناموسی علیہ السلام پربھی کچھ نازل نہیں ہوا۔؟ تواس نے پھرکہاکہ اللہ تعالی کی قسم !اللہ تعالی نے حضرت سیدناموسی علیہ السلام پر بھی کچھ نازل نہیں فرمایا، تب اللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم:أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدریس بن المنذر التمیمی، الحنظلی(۴:۱۳۴۲) رشوت خور موٹے تازے ، پوپ پادری اللہ تعالی کی بارگاہ میں مردودہیں ، زیادہ عیش وعشرت اورعیش پسندی بری چیز ہے اوراس کو اللہ تعالی ناپسندفرماتاہے ۔

یہودیوں نے مالک بن صیف کو معزول کردیا

وَقَالَ السُّدِّیُّ:نزلت فی فنخاص بْنِ عَازُورَاء َ، وَہُوَ قَائِلٌ ہَذِہِ الْمَقَالَۃِ وَفِی الْقِصَّۃِ: أَنَّ مَالِکَ بْنَ الصَّیْفِ لَمَّا سَمِعَتِ الْیَہُودُ مِنْہُ تِلْکَ الْمَقَالَۃَ عَتَبُوا عَلَیْہِ، وَقَالُوا:أَلَیْسَ أَنَّ اللَّہَ أَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلَی مُوسَی؟ فَلِمَ قَلَتْ مَا أَنْزَلَ اللَّہُ عَلَی بَشَرٍ مِنْ شَیْء ٍ؟ فَقَالَ مَالِکُ بْنُ الصَّیْفِ أَغْضَبَنِی مُحَمَّدٌ فَقُلْتُ ذَلِکَ، فَقَالُوا لَہُ: وَأَنْتَ إِذَا غَضِبَتْ تَقُولُ (عَلَی اللَّہِ)غَیْرَ الْحَقِّ فَنَزَعُوہُ مِنَ الْحَبْرِیَّۃِ، وَجَعَلُوا مَکَانَہُ کَعْبَ بْنَ الْأَشْرَفِ. ترجمہ :امام السدی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ عازوراء کے بیٹے فنحاص کے بارے میں نازل ہوئی کہ اس نے یہ بات کہی تھی ، جب مالک بن صیف کی بات یہودیوں نے سنی تواسکو ڈانٹاکہ کیااللہ تعالی نے حضرت سیدناموسی علیہ السلام پرتوراۃ نازل نہیں فرمائی ؟ توتونے یہ بات کیوں کی ؟ تومالک بن صیف کہنے لگاکہ محمدﷺنے مجھے غصہ دلایاتھااس لئے میں نے کہہ دیاتویہودنے کہاکہ جب بھی تجھے غصہ آئے توتواللہ تعالی کے متعلق ناحق باتیں کرناشروع کردے گا؟ اس وجہ سے انہوں نے اس کوعالم ہونے سے معزول کردیااوراس کے بعد کعب بن شریف یہودی کو اپناحبراورپیشوامقررکیا۔ (تفسیر البغوی:محیی السنۃ، أبو محمد الحسین بن مسعود البغوی (۲:۱۶۶) اس سے معلوم ہواکہ وہ یہودی جو اپنے ہی دین کامذاق اڑانے میں مشہورتھے مگرباوجود اس کے انہوںنے اپنے عالم مالک بن صیف کامحاسبہ کیااوراس کو منصب سے فارغ کردیاصرف اس بنیادپرکہ اس نے حضرت سیدناموسی علیہ السلام سے بھی آسمانی وحی کی نفی تھی حالانکہ وہ جانتاتھاکہ اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کے انبیاء کرام علیہم السلام پر کتابیں اورصحائف نازل فرمائے ہیں ۔ مگروہ یہودی ہوکربھی غیرت کھاگئے اورانہوںنے اپنے عالم کو معزول کردیامگرہماے ہاں جولبرل و سیکولرطبقہ ہے انہوں نے دین کو مذاق بنایاہواہے ، بڑے بڑے وزیرمشیراحکامات شرع کی روزانہ توہین کرتے رہتے ہیں مجال ہے کہ کسی کو یہ معزول کریں۔

یہودی فکرکیاتھی؟

وَقَالَ الْحَسَنُ:مَا عَظَّمُوہُ حَقَّ عَظَمَتِہِ وَہَذَا یَکُونُ مِنْ قَوْلِہِمْ:لِفُلَانٍ قَدْرٌوَشَرْحُ ہَذَا أَنَّہُمْ لَمَّا قَالُوا:مَا أَنْزَلَ اللَّہُ عَلی بَشَرٍ مِنْ شَیْء ٍنَسَبُوا اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَی أَنَّہُ لَا یُقِیمُ الْحُجَّۃَ عَلَی عِبَادِہِ، وَلَا یَأْمُرُہُمْ بِمَا لَہُمْ فِیہِ الصَّلَاحُ، فَلَمْ یُعَظِّمُوہُ حَقَّ عَظَمَتِہِ وَلَا عَرَفُوہُ حَقَّ مَعْرِفَتِہِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہودیوں نے اللہ تعالی کی تعظیم اس طرح نہیں کی جس طرح اس کی عظمت کاحق تھا، اوریہ ان کے اس قول (لِفُلَانٍ قَدْر)( فلاں کی قدروعظمت ہے ) اوراس کی وضاحت یہ ہے کہ جب انہوںنے کہا{مَا أَنْزَلَ اللَّہُ عَلی بَشَرٍ مِنْ شَیْء}توانہوںنے اللہ تعالی کی نسبت اس طرف کردی کہ وہ اپنے بندوں پرکوئی حجت قائم نہیں کرتااورنہ وہ انہیں ایسے امورکاحکم دیتاہے جن میں ان کی اصلاح ہواوران کاکوئی فائدہ مضمرہو، تواس طرح انہوںنے اللہ تعالی کی اس طرح تعظیم نہیں کی جس طرح اس کی تعظیم کاحق تھااورنہ ہی انہوںنے اس طرح اللہ تعالی کوپہچاناجس طرح اسے پہچاننے کاحق تھا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۷:۳۶)

لبرل وسیکولرطبقہ کی فکر

لبرل وسیکولرطبقہ بھی قرآن کریم کے احکامات اوراحادیث شریفہ میں موجود احکامات الہیہ سے بغاوت کرتاہے ، وہ اس طرح کہ یہ بھی ہرحرام کام میں ملوث ہے مگرجب اس کو کہاجائے کہ یہ کام توشرعاًمنع ہے توآگے جواب یہ دیتاہے کہ شریعت میں کوئی سختی نہیں ہے ۔ فقیرکے ایک عزیزکو یونیورسٹی کے ایک لڑکے نے ایک لڑکی کی تصویربھیجی جب انہوںنے اسے کہاکہ یہ توحرام کام ہے توکہنے لگاکہ شریعت میں کوئی سختی نہیں ہے ۔ اسی طرح جتنے بھی حرام کام ہیں وہ دن رات کرتے ہیں اورمنطق یہ جھاڑتے ہیں کہ دین میں سختی نہیں ہے ۔درحقیقت ان کابات بات پر یہ کہناکہ دین میں سختی نہیں ہے کامطلب یہ ہے کہ ان کے نزدیک اللہ تعالی کے احکامات کی کوئی وقعت نہیں اورقدرنہیں ہے ، اوراللہ تعالی نے اپنے اوامرونواہی پرکسی طرح کی پکڑنہیں رکھی اوراللہ تعالی نے اپنی منہیات اوراپنی عزت اورانبیاء کرام علیہم السلام کی عزت وناموس لوگوں کے لئے حلال کردی ہے جس کاجی چاہے جوکچھ ان کی عظمت وشان میں بولے ، بس اللہ تعالی کے دین میں کوئی سختی نہیں ہے ۔ان کے نزدیک اللہ تعالی کے دیئے ہوئے احکامات ایسے ہی ہیں کہ اگران پر کوئی عمل کرلے توفبہانہ کرے توکوئی مسئلہ نہیں ہے۔ حقیقت میں ان میں یہ سوچ اورفکربھی یہودیوں سے ورثہ میں ملی ہے ۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh