Fatwa #2403
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورۃ التوبہ آیت ۳۲۔۳۳۔ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِـُوْا نُوْرَ اللہِ بِاَفْوٰہِہِمْ وَیَاْبَی اللہُ اِلَّآ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
12,053
سوال (Question):
تفسیر سورۃ التوبہ آیت ۳۲۔۳۳۔ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِـُوْا نُوْرَ اللہِ بِاَفْوٰہِہِمْ وَیَاْبَی اللہُ اِلَّآ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
غلبہ اسلام کے لئے اہل اسلام پرجدوجہد لازم ہے
{یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِـُوْا نُوْرَ اللہِ بِاَفْوٰہِہِمْ وَیَاْبَی اللہُ اِلَّآ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ }(۳۲){ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہ بِالْہُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ }(۳۳) ترجمہ کنزالایمان:چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنے منہ سے بجھا دیں اور اللہ نہ مانے گا مگر اپنے نور کا پورا کرنا پڑے برا مانیں کافر۔ وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے پڑے برا مانیں مشرک ۔ ترجمہ ضیاء الایمان:مشرکین اوریہودونصاری یہ چاہتے ہیں کہ اپنے منہ سے اللہ تعالی کا نوربجھا دیں حالانکہ اللہ تعالی اپنے نور کو مکمل کئے بغیر نہ مانے گا اگرچہ کافر ناپسند کریں۔ وہی ہے جس نے اپنے حبیب کریمﷺ کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دیں اگرچہ مشرک ناپسند کریں۔اللہ تعالی نے اعلائے دین کاوعدہ فرمایا
یُرِیدُونَ أَنْ یُطْفِؤُا نُورَ اللَّہِ بِأَفْواہِہِمْ ثُمَّ إِنَّہُ تَعَالَی وَعَدَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَزِیدَ النُّصْرَۃِ وَالْقُوَّۃِ وَإِعْلَاء َ الدَّرَجَۃِ وَکَمَالَ الرُّتْبَۃِ فَقَالَ: وَیَأْبَی اللَّہُ إِلَّا أَنْ یُتِمَّ نُورَہُ وَلَوْ کَرِہَ الْکافِرُونَ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی اس آیت کریمہ کے تحت {یُرِیدُونَ أَنْ یُطْفِؤُا نُورَ اللَّہِ بِأَفْواہِہِم} فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے حضورتاجدارختم نبوتﷺسے وعدہ فرمایاکہ آپﷺ کی خوب مددفرمائے گااوردین اسلام کو قوت ، بلنددرجہ اورکمال مرتبہ عطافرمائے گا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۶:۳۲)یہودونصاری اورمشرکوں کی خواہش پراللہ تعالی کاجواب
عَنِ الضَّحَّاکِ فِی قَوْلِہِ:یُرِیدُونَ أن یطفؤا نُورَ اللَّہِ بِأَفْوَاہِہِمْ یَقُولُ:یُرِیدُونَ أَنْ یَہْلِکَ مُحَمَّدٌ وَأَصْحَابُہُ، أَنْ لَا یَعْبُدُوا اللَّہَ بِالإِسْلامِ فِی الأَرْضِ. ترجمہ :حضرت سیدناضحا ک رضی اللہ عنہ اس آیت کریمہ {یُرِیدُونَ أن یطفؤا نُورَ اللَّہِ بِأَفْوَاہِہِمْ}کے تحت فرماتے ہیں کہ وہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺاورآپ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہلاک ہوجائیں تاکہ وہ زمین میں اسلام کے سبب اللہ تعالی کی عبادت نہ کریں۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم:أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدریس الرازی ابن أبی حاتم (۶:۱۳۸۵)دین کب غالب ہوگا؟
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا یَذْہَبُ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ حَتَّی تُعْبَدَ اللَّاتُ وَالْعُزَّی فَقَالَتْ عَائِشَۃُ:فَقُلْتُ:یَا رَسُولَ اللَّہِ، إِنِّی کُنْتُ أَظُنُّ حِینَ أَنْزَلَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی:(ہُوَ الَّذِی أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِینِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ)(التوبۃ:۳۳) َٔنَّ ذَلِکَ یَکُونُ تَامًّا، فَقَالَ: إِنَّہُ سَیَکُونُ مِنْ ذَلِکَ مَا شَاء َ اللَّہُ، ثُمَّ یَبْعَثُ اللَّہُ رِیحًا طَیِّبًا، فَیُتَوَفَّی مَنْ کَانَ فِی قَلْبِہِ مِثْقَالُ حَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ خَیْرٍ، فَیَبْقَی مَنْ لَا خَیْرَ فِیہِ فَیَرْجِعُونَ إِلَی دَیْنِ آبَائِہِمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدتناعائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: لیل ونہارگزریں گے یہاں تک کہ لات وعزی کی پوجاکی جائے گی توحضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ!میراگمان تویہ تھاکہ جب اللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ {ہُوَ الَّذِی أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِینِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ}نازل فرمادی تویہ امرعنقریب مکمل ہوجائے گاتوآپ ﷺنے فرمایا: جب اللہ تعالی نے چاہا،ایسے ہوتارہے گا،پھراللہ تعالی ایک پاکیزہ ہوابھیجے گا، پس جس آدمی کے دل میں رائی کے برابرخیراورنیکی ہوگی وہ مرجائے گااورجن میں کوئی خیرنہیں ہوگی وہ باقی رہیں گے اوراپنے آبائی دین کی طرف لوٹ جائیں گے۔ (المستدرک علی الصحیحین:أبو عبد اللہ الحاکم محمد بن عبد اللہ بن محمد بن حمدویہ بن نُعیم بن الحکم (۴:۴۹۴)حضر ت سیدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کاقول
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ، فِی قَوْلِہِ:(لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ)(التوبۃ:۳۳)قَالَ:خُرُوجُ عِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ عَلَیْہِمَا السَّلَامُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناجابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت کریمہ {لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہ}کے تحت فرماتے ہیں کہ یہ غلبہ اسلام تب ہوگاجب حضرت سیدناعیسی علیہ السلام نزول فرمائیں گے ۔ (السنن الکبری:أحمد بن الحسین بن علی بن موسی الخُسْرَوْجِردی الخراسانی، أبو بکر البیہقی (۹:۳۰۳)حضرت سیدنامجاہدرضی اللہ عنہ کاقول
عَنْ مُجَاہِدٍ، فِی قَوْلِہِ: (لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ)(التوبۃ: ۳۳)قَالَ:إِذَا نَزَلَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ لَمْ یَکُنْ فِی الْأَرْضِ إِلَّا الْإِسْلَامُ، لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ۔ ترجمہ :حضرت سیدنامجاہد رضی اللہ عنہ {لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہ}کے تحت فرماتے ہیں کہ یہ غلبہ اسلام تب ہوگاجب حضرت سیدناعیسی علیہ السلام نزول فرمائیں گے ۔ اس وقت دنیامیں کوئی دین نہیں ہوگاسوائے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے دین مبین کے اوراس وقت یہی دین سب پرغالب ہوگا۔ (السنن الکبری:أحمد بن الحسین بن علی بن موسی الخُسْرَوْجِردی الخراسانی، أبو بکر البیہقی (۹:۳۰۳)حضرت سیدناابوہریرہ ر ضی اللہ عنہ کافرمان شریف
عَن أبی ہُرَیْرَۃ رَضِی اللہ عَنہُ فِی قَوْلہ (لِیظْہرہُ علی الدّین کُلہ)قَالَ:خُرُوج عِیسَی بن مَرْیَم عَلَیْہِ الصَّلَاۃ وَالسَّلَام ترجمہ :حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس آیت کریمہ {لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہ}کے تحت فرماتے ہیں کہ یہ غلبہ اسلام تب ہوگاجب حضرت سیدناعیسی علیہ السلام نزول فرمائیں گے ۔ اس وقت دنیامیں کوئی دین نہیں ہوگاسوائے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے دین مبین کے اوراس وقت یہی دین سب پرغالب ہوگا۔ (الدر المنثور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (۴:۱۷۶) دین غالب آکرہی رہے گاچاہے مشرکین ویہودی اسے ناپسندکریں عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہِ تَعَالَی(لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ)(التوبۃ:۳۳)قَالَ:یُظْہِرُ اللہُ نَبِیَّہُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی أَمْرِ الدِّینِ کُلِّہِ فَیُعْطِیہِ إِیَّاہُ وَلَا یُخْفِی عَلَیْہِ شَیْئًا مِنْہُ وَکَانَ الْمُشْرِکُونَ یَکْرَہُونَ ذَلِک۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما {لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہ}کے تحت فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی حضورتاجدارختم نبوتﷺکے دین کو تمام امورپرغالب فرمادے گااوروہ تمام کے تمام آپ ﷺکو عطافرمادے گااوران میں سے کوئی بھی شئی آپﷺپرمخفی نہیں رہے گی،حالانکہ مشرکین اوریہودی اس کو ناپسندکرتے تھے ۔ (السنن الکبری:أحمد بن الحسین بن علی بن موسی الخُسْرَوْجِردی الخراسانی، أبو بکر البیہقی (۹:۳۰۳)معارف ومسائل
(۱)حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے دشمن ہمیشہ سے آپﷺکی عظمت وشان کوگھٹانے اوردبانے کی سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں اورکرتے رہیں گے ،مگران میں سے کوئی اپنے اس ناپاک ارادے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ حضورتاجدارختم نبوت ﷺ وہ چمکتے سورج ہیں جوسارے کفارکے پھونکوں سے بھی نہیں بجھ سکتے ۔ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی شان وعظمت گھٹانے کی کوشش کرنے والے ان کے ذکرسے چڑنے والے ، ان کی عظمت سے جلنے والے ،بحکم قرآن کریم کافرہیں، اللہ تعالی نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے جلنے والوںکو کافرفرمایاہے ، توپھرجو شخص حضورتاجدارختم نبوتﷺسے جلے ، یاآپ ﷺکے دین متین سے جلے ، یاکسی حکم شرعی کو سن کرجل بھن جائے وہ کیسے مسلمان ہوسکتاہے ؟۔ (۲) اسلام ہی دین حق ہے یعنی ناقابل نسخ دین ، باقی تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے دین قابل نسخ تھے ،اسی لئے منسوخ ہوگئے ۔اگرچہ دین کسی جگہ کافروں سے دب جائے مگردینی غلبہ ہمیشہ اسلام کو ہی حاصل رہے گا، دیکھ لوآج بھی قرآن کریم تمام ادیان کی کتابوں ، توریت انجیل ، زبور، وید، شاستروں پرغالب ہے ۔ اسی طرح قرآن کریم کے حافظ ہیں ، اسی طرح قران کریم کی تفسیریں ایک لاکھ سے زائدلکھی جاچکی ہیں ۔ یہی قرآن کریم سب سے زیادہ چھپتاہے ، یہی قرآن کریم سب سے زیادہ پڑھاجاتاہے ، یہ قرآن کریم بناسمجھے بھی مزادیتاہے ، سننے والوں کوتڑپا کررکھ دیتاہے ، اسلام کی مساجدتمام دینوں کے عبادت خانوں پرغالب ہیں، اسلام کامکہ مکرمہ ومدینہ منورہ سارے دینوں کے مقدس مقامات پرغالب ہے کہ اس کاحج وزیارت ہرسال ہوتاہے ، جس کی مثال ساری دنیامیں نہیں ہے ۔اسلام کارمضان المبارک ، ربیع الاول تمام دینوں کی مقدس تاریخوں پر غالب ہے ۔ (۳) حضورتاجدارختم نبوت ﷺ تمام دینوں کے پیشوائوں پر غالب ہیں ، دیکھ لو آج بھی جتناچرچا، جتنی نعتیںحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی ہیں اتنی کسی کی بھی نہیں ہیں ۔ایک لاکھ سے زیادہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی سوانح عمری ، تاریخ ، سیرت لکھی گئی ۔حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے غلاموں میں اولیاء اللہ ہیں ، اورکسی بھی دین میں ایسانہیں ہے۔ جتنے قصیدے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے شہرمبارک مدینہ منورہ کے لکھے گئے اتنے کسی کے بھی نہیں لکھے گئے حتی کہ مدینہ منورہ کی گلی کوچوں کی وہاں کی ہرچیز کی تاریخ لکھی گئی ۔( تفسیرنعیمی ( ۱۰: ۲۶۰) (۴)غلبہ اسلام کی تین صورتیں یادرہے کہ غلبہ اسلام کی تین صورتیں ہیں : (۱)…اخلاقی غلبہ (۲)…سیاسی غلبہ (۳)…دینی غلبہ (۱)…اخلاقی غلبہ اخلاقی غلبہ یہ ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو اللہ تعالی نے قرآن کریم دے کربھیجا، جس نے روشن دلائل کے ساتھ اسلام کی صداقت سب ادیان پرظاہروباہرکردی ،اوربلاشبہ توحیدورسالت اورروز جزاجیسے اسلامی عقائد کے سامنے پتھروں ، جانوروں اورانسانوں کے پجاریوں کی زبانیں گنگ ہیں ۔ یہ اخلاقی غلبہ ہے ، اسی قرآن کریم کاچیلنج ہے کہ اس کی کسی آیت کریمہ کی مثل کلام لایاجائے مگراس چیلنج کے سامنے سب بے بس ہیں۔ (۲)…سیاسی غلبہ سیاسی غلبہ یہ ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے طاغوتی قوتوں کے خلاف جہاد کاسلسلہ شروع فرمایااوراپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اللہ تعالی کی محبت اوراطاعت رسول کریم ﷺاوراعلائے کلمۃ اللہ کے لئے جانبازی کاوہ جذبہ بھردیاکہ آپﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے صرف تیس سالوں میں قیصروکسری کے تخت الٹ کررکھ دیئے اوردین اسلام دنیاکی سب سے بڑی سیاسی قوت بن گیااوراس کے اثرات بارہ صدیوں تک قائم رہے ۔ پھرتیرہویں صدی ہجری میں اہل اسلام کی اپنی کوتاہیوں کے سبب ان کاسیاسی انحطاط شروع ہوااوراگرآج بھی امت مسلمہ باہم متحد ہوجائے اوراللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی اطاعت اپنالے توپھریہی دنیاکی غالب ترطاقت ہونگے ، اوران پرزوال پھرکمال میں بدل سکتاہے اوربدل رہاہے ۔ اگرآج تمام عرب ممالک امریکہ کاتیل بندکردیں تواس کاسانس بندہوجائے گااورایساہوکررہے گا، اگرآج تمام اسلامی ممالک اپنی متحدہ فوج ، متحدہ نوٹ (کرنسی) اورمتحدہ قیادت منتخب کرلیں تویہی دنیاکی بڑی سیاسی قوت ہیں ۔ اللہ تعالی کے ہاں دیرہے اندھیرنہیں ہے ۔ (۳)غلبہ دینی دینی غلبہ یہ ہے کہ دنیاکے اکثریاتمام انسان دین اسلام کوقبول کرلیںاوریہ قرب قیامت میں حضر ت سیدناعیسی علیہ السلام کے نزول پرہوگا، حضرت سیدناابوھریرہ رضی اللہ عنہ ، حضر ت سیدناامام ضحاک رضی اللہ عنہ ، حضرت سیدنامجاہدرضی اللہ عنہ ، حضرت سیدناقتادہ رضی اللہ عنہم کے اقوال شریفہ ہم نقل کرآئے ہیں ۔ (۵)اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی رسالت اوربعثت کاذکرفرمایا، رسالت دلائل ومعجزات سے ثابت ہوتی ہے اورآپﷺکے دلائل ومعجزات سب انبیاء کرام علیہم السلام سے زیادہ تھے ۔ اس سے معلوم ہواکہ آپﷺسب سے عظیم اورکامل رسو ل ہیں، نیزفرمایا: آپ ﷺکودین حق کے ساتھ بھیجا، یعنی آپﷺکادین اورآپﷺکی شریعت متوازن اورمعتدل ہے ، فطرت سلیمہ کے مطابق ہے ، آپ ﷺکاکوئی حکم خلاف عقل نہیں ہے ، اورآپﷺکی تعلیم میں دین ودنیاکی بے شمارحکمتیں ہیں، واضح ہواکہ آپﷺکی شریعت ہی کامل ہے ، پھرفرمایا: تاکہ آپﷺکادین ہردین پرغالب ہوجائے اورغلبہ سے مراد دلائل وحجت کے اعتبارسے غلبہ ہے توتمام ادیان کے مقابلے میں اسلام کے دلائل غالب ہیں اوراسلام کے آنے سے ہردین پرعمل منسوخ ہوگیا، اوراگراس سے مراد مادی غلبہ ہے تویہ پیشگوئی اس وقت پوری ہوگی جب حضرت سیدناعیسی علیہ السلام کانزول اورحضرت سیدناامام مہدی رضی اللہ عنہ کاظہورہوگا۔ (۶)تاریخ تو یہ کہتی ہے کہ ٹیکنالوجی جہاں بھی گئی وہاں سے مذہب، روایت، اخلاقیات اور باہمی ایثار و قربانی کے جذبات کا جنازہ اٹھ گیا۔اِدھر ہمارے دیسی افلاطون یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ہم سائنس و ٹیکنالوجی کی پوجا محض اس لئے کر رہے ہیں تاکہ اسلام کو غالب کیا جا سکے!یاد رکھئے جدید سرمایہ دارانہ ٹیکنالوجی اور مذہب بالعکس متناسب ہیں، ان دونوں کا باہمی تعلق تعاون کا نہیں بلکہ بیخ کنی کا ہے۔ یہ بات بدیہی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور مذہب ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ ان دونوں کی فطرت یکسر مختلف ہے۔ مذہب تسخیر ذات کا داعی ہے جبکہ جدید سرمایہ دارانہ ٹیکنالوجی تسخیر ذات کے تصور کو جڑ سے اکھاڑ کر تسخیر کائنات کا ٹُول ہے! یہ بھی ذہن نشین فرما لیجئیے کہ مغرب سے جنگ کا اصل میدان ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایپسٹیمولوجی ہے! ہم مسلمانوں کو اپنی علمیت یعنی دین اور نظرئیے کے ساتھ مخلص ہونا ہو گا تبھی ہم مغرب پر غلبہ پا سکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی میں ترقی سے مغرب کو کبھی بھی ہرایا نہیں جا سکتا۔کیونکہ ہماری تو ساری کی ساری ٹیکنالوجی مغرب ہی کی جُوٹھی ہے!مجھے آپ بتائیے قرون اولیٰ کے مسلمانوں کے پاس کون سی افرادی قوت تھی!کون سی ٹیکنالوجی تھی جو وہ مشرکین اور قیصر و کسریٰ سے ٹکرا گئے؟ تاتاریوں کے پاس کون سی ٹیکنالوجی تھی کہ وہ آدھی دنیا کے مسلمان حاکم کو روندتے چلے گئے؟ زیادہ دور مت جائیے، افغانستان کے پاس کون سی ٹیکنالوجی ہے جو اس نے روس و امریکہ کو کتے کی موت مارا ہے؟ تو حق یہی ہے کہ ہمیں اگر واقعی غلبہ اسلام مطلوب ہے تو بجاے ٹیکنالوجی کے ہمیں اپنے تصور خیر(دین) سے مخلص ہونا ہو گا۔کوئی قوم بھی غالب صرف اسی صورت میں آتی ہے جب اس کی علمیت غالب آئے، تلواروں توپوں سے کچھ نہیں ہوتا!تاریخ میں جس بھی قوم نے عروج حاصل کیا اس کے پیچھے اس کا اپنے نظرئیے سے خلوص شامل تھا ناکہ ٹیکنالوجی! اقبال نے اسی مضمون کو کیا خوب باندھا کہ فضاے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی (۷)غزوہ بدر قیامت تک کے لیے غلبہ اسلام کی اذان ہے اسلام دین امن ہے اور جہاد قیام امن کا ذریعہ ہے میدان بدر میںحضورتاجدارختم نبوتﷺکی قیادت میں صحابہ کرام نے وفاشعاری اور جان نثاری کی جو تاریخ رقم کی اس کی مثال نہیں ملتی غزوہ بدر کا یہ پیغام ہے کہ جو قوم اپنے نظریے پر جان نچھاور کرنے کے لیے تیار ہو جائے ان کے نظریے کو دبایا نہیں جا سکتا صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کی اپنے حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی خاطر قربانیوں کو آج بھی میدان بدر کا ذرہ ذرہ سلام کر رہا ہے باطل کے چہرے پر آج بھی غزوہ بدر کی ضرب کے نشان نظر آتے ہیں جہاد اسلام کا طرہ امتیاز اور نظام عدل و انصاف کی دلیل ہے منظم جہاد سے منہ موڑنے کی وجہ سے آج امت مسلمہ کو پریشانیوں کا سامنا ہے جہاد کو دہشت گردی سے جوڑنا اسلام کے خلاف ایک گہری سازش ہے اسلام غلبہ پانے کے لئے آیاہے مغلوب ہونے کے لئے نہیںاورآخرکارفتح اسلام ہی کی ہوگی دین متین غالب ہوکرہی رہے گا حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ زُرْعَۃَ،قَالَ:سَمِعْتُ أَبَا عِنَبَۃَ الْخَوْلَانِیَّ، وَکَانَ قَدْ صَلَّی الْقِبْلَتَیْنِ، مَعَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: لَا یَزَالُ اللَّہُ یَغْرِسُ فِی ہَذَا الدِّینِ غَرْسًا یَسْتَعْمِلُہُمْ فِی طَاعَتِہِ۔ ترجمہ :حضرت سیدنابکربن زرعہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ میںنے حضرت سیدناابوعنبہ الخولانی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا( یہ وہ شخص ہیں جنہوںنے حضورتاجدارختم نبوتﷺکے ساتھ دونوں قبلوں کی سمت منہ کرکے نماز پڑھی ۔ یہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺ نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ قیامت تک دین اسلام میں ایسے لوگ پیدا کرتا رہے گا جو اس کی اطاعت کرتے رہیں گے۔ (سنن ابن ماجہ:ابن ماجۃ أبو عبد اللہ محمد بن یزید القزوینی، وماجۃ اسم أبیہ یزید (ا:۵) احادیث نبویہ میں بہت سی خوش خبریاں دی گئی ہیں جن سے یقین اور خوش امیدی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی میں سے اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ امت مسلمہ کی حکومت مشرق و مغرب تک پھیل جائے گی۔ دنیا میں ایسے بہت سے علاقے ہیں جو ابھی تک مسلمانوں کے ہاتھوں پر فتح نہیں ہوئے اور ایک دن ایسا آنے والا ہے جب یہ علاقے بھی فتح ہو کر ملک اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔حضورتاجدارختم نبوتﷺنے غلبہ اسلام کے مقامات خود ملاحظہ فرمائے
عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِنَّ اللہَ زَوَی لِی الْأَرْضَ، فَرَأَیْتُ مَشَارِقَہَا وَمَغَارِبَہَا، وَإِنَّ أُمَّتِی سَیَبْلُغُ مُلْکُہَا مَا زُوِیَ لِی مِنْہَا۔ ترجمہ :حضرت سیدناثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:اللہ تعالی نے (ساری)زمین اکٹھی کر کے مجھے دکھائی، میں نے تمام مشرقی اور مغربی علاقے دیکھ لئے۔ بے شک میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچ جائے گی جو مجھے دکھایا گیا ہے۔ (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۴:۲۲۱۵)اسلام توآیاہی غالب ہونے کے لئے ہے
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ لْإِسْلَامُ یَعْلُو وَلَا یُعْلَی عَلَیْہ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ اسلام غالب ہو گا اور مغلوب نہیں ہو گا۔ (شرح معانی الآثار:أبو جعفر أحمد بن محمد بن سلامۃ المعروف بالطحاوی (۳:۳۵۷) جب ہمیں معلوم ہو گیا کہ اسلام نے دنیا میں غالب ہو کر رہنا ہے تو ہم کسی خاص دور میںمسلمانوں کی کمزوری پر کیوں نا امید ہوں ؟
اللہ تعالی کی قسم یہ دین غالب ہوکررہے گا عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:وَلَا یَزَالُ اللہُ یَزِیدُ أَوْ قَالَ :یُعِزُّ الْإِسْلَامَ وَأَہْلَہُ وَیُنْقِصُ الشِّرْکَ وَأَہْلَہُ حَتَّی یَسِیرَ الرَّاکِبُ بَیْنَ کَذَا یَعْنِی الْبَحْرَیْنِ لَا یَخْشَی إِلَّا جَوْرًا، وَلَیَبْلُغَنَّ ہَذَا الْأَمْرَ مَبْلَغَ اللَّیْلِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:اللہ تعالیٰ اسلام کو زیادہ ہی کرتا رہے گااور مشرکین اور ان کے شرک میں کمی آتی رہے گی حتیٰ کہ سوار سفر کرے گا تو اسے ظلم کے سوا کچھ ڈر نہیں ہو گا۔ اللہ کی قسم !جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ایک دن ایسا آئے گا جب یہ دین وہاں تک پہنچ جائے گا جہاں یہ ستارہ نظر آتا ہے۔ (حلیۃ الأولیاء أبو نعیم أحمد بن عبد اللہ بن أحمد بن إسحاق بن موسی بن مہران الأصبہانی (۶:۱۰۷)اس امت کو غلبہ اسلام کی خوشخبری سنادو!
عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:بَشِّرْ ہَذِہِ الْأُمَّۃَ بِالسَّنَاء ِ وَالرِّفْعَۃِ، وَالدِّینِ، وَالنَّصْرِ، وَالتَّمْکِینِ فِی الْأَرْضِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:اس امت کو سربلندی، فتح اور (زمین پر)قبضے کی خوش خبری دے دو۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۳۵:۱۴۴) معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی حکومت پھیلتی رہے گی۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ایسی خوش خبریاں دی ہیں جن سے ہر نا امیدی ختم ہو جاتی ہے اور مصیبتوں میں پھنسا ہوا ہر مسلمان ثابت قدم ہو جاتا ہے۔ خوشی اور راحت سے دل مطمئن ہو جاتے ہیں۔ جہاد قیامت تک جاری رہے گا عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ:لَنْ یَبْرَحَ ہَذَا الدِّینُ قَائِمًا، یُقَاتِلُ عَلَیْہِ عِصَابَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ، حَتَّی تَقُومَ السَّاعَۃُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناجابربن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا۔ مسلمانوں کی ایک جماعت قیامت تک دین اسلام کے دفاع کے لئے لڑتی رہے گی۔ (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۴:۲۲۱۵) اس سے معلوم ہواکہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا اور ایک گروہ قیامت تک ہمیشہ حق پر غالب رہے گا۔ اسے مجموعی حیثیت سے نقصان پہنچانے والے ناکام رہیں گے۔مسلمانوں کی مددضرورہوگی
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ:رُبَّ أَشْعَثَ، مَدْفُوعٍ بِالْأَبْوَابِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللہِ لَأَبَرَّہُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: بعض اوقات وہ آدمی جس کے بال پراگندہ اور لباس میلا ہے، دروازوں سے دھکے دے کر دور ہٹایا جاتا ہے اگر یہ شخص اللہ کی قسم کھا لے تو اللہ اسے پورا فرماتا ہے۔ (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۴:۲۰۲۴) مسلمانوں کو ہتھکڑیاں پہنا کر گھسیٹا جا رہا ہے، وہ زرد وغیرہ رنگوں کے قیدی لباس میں ملبوس ہے، دنیا کے کونے کونے میں پیچھا کر کے اسے پکڑا جا رہا ہے، اس کے پاس (جدید)اسلحہ نہیں، وہ فقیر و بے بس ہے۔ اس کی دعا، نماز اور اخلاص کے ذریعے اللہ تعالی اس امت کی مدد فرمائے گا چاہے مسلمان جتنے بھی کمزور ہوں ۔کیاکافریونہی اہل اسلام پرظلم کرتے رہیں گے؟
حَدَّثَنِی النَّوَّاسُ بْنُ سَمْعَانَ الْکِلَابِیُّ، قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ:وَالْمِیزَانُ بِیَدِ الرَّحْمَنِ، یَرْفَعُ أقْوَامًا وَیَخْفِضُ آخَرِینَ، إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناالنواس بن سمعان الکلابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورتاجدارختم نبوتﷺ کو فرماتے ہوئے سناکہ میزان رحمن کے ہاتھ میں ہے، وہ قیامت تک بعض قوموں کو اٹھاتا ہے اور دوسروں کو گرا دیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابن ماجۃ أبو عبد اللہ محمد بن یزید القزوینی، وماجۃ اسم أبیہ یزید (ا:۷۲) آج ہم دیکھتے ہیں کہ طاقت اور غلبہ مسلمانوں کے دشمنوں کے پاس ہے لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اللہ ہی متصرف اور مختار کل ہے، وہ اپنے مومن بندوں سے غافل نہیں ہے۔ وہ یہ کبھی نہیں چاہے گا کہ مسلمان ہمیشہ مجبور و مقہور اور ذلیل رہیں۔ اللہ تعالی ہرصدی کی ابتداء پرتجدیددین کے لئے ایک عالم کومامورفرماتارہے گا عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، فِیمَا أَعْلَمُ، عَنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:إِنَّ اللَّہَ یَبْعَثُ لِہَذِہِ الْأُمَّۃِ عَلَی رَأْسِ کُلِّ مِائَۃِ سَنَۃٍ مَنْ یُجَدِّدُ لَہَا دِینَہَا۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:بے شک اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر اس امت کے لئے ایسا انسان پیدا کرے گا جو (قرآن و حدیث کے مطابق)اس امت کی تجدید (و اصلاح)کرے گا۔ (سنن أبی داود:أبو داود سلیمان بن الأشعث بن إسحاق السَِّجِسْتانی (۴:۱۰۹) اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان کے گر جانے کے بعد ضرور اٹھائے گا بشرطیکہ مسلمان اسے راضی کرنے کے لئے سچے دل سے کوشش کریں۔ ہر صدی میں اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا کر کے مسلمانوں کے دلوں میں ایمان قائم کر دیتا ہے جو خیر میں مسابقت کرتے ہیں اور مصیبتوں کی پروا نہیں کرتے۔ لوگ ان کی اقتدا کر کے اللہ تعالی کے دربار میں جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالی ایسے لوگ پیدا کرے گا جو غلطیوں کی اصلاح کر کے لوگوں کو سیدھے راستے پر چلا دیں گے۔ یہ لوگ ہدایت کی طرف رہنمائی کریں گے اور کتاب و سنت کی دعوت پھیلا کر دین کی تجدید کریں گے۔اللہ تعالی اہل اسلام کے دشمنوں کو ضرورذلیل فرمائے گا
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِنَّ اللَّہَ قَالَ:مَنْ عَادَی لِی وَلِیًّا فَقَدْ آذَنْتُہُ بِالحَرْبِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:اللہ تعالی فرماتاہے کہ جو شخص میرے کسی ولی سے دشمنی رکھتا ہے، میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۸:۱۰۵) تکلیف، ذلت اور مغلوبیت ایک دن ضرور دور ہو گی ان شاء اللہ، چاہے خیر میں مسابقت کرنے والوں کے ہاتھوں ہو یا مجددین کے ذریعے لیکن یہ بات یقینی ہے کہ یہ مصیبتیں ہمیشہ نہیں رہیں گی۔ اسلام کے سارے دشمنوں سے اللہ کا اعلان جنگ ہے اور جس سے اللہ کا اعلان جنگ ہو تو اس سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ دنیا میں ان دشمنان اسلام کی حکومت ایک دن ختم ہو جائے گی۔غلبہ اسلام کے لئے جدوجہدجاری رکھو!
عَنْ خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ، قَالَ: شَکَوْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَۃً لَہُ فِی ظِلِّ الکَعْبَۃِ فَقُلْنَا: أَلاَ تَسْتَنْصِرُ لَنَا أَلاَ تَدْعُو لَنَا؟ فَقَالَ: قَدْ کَانَ مَنْ قَبْلَکُمْ، یُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَیُحْفَرُ لَہُ فِی الأَرْضِ، فَیُجْعَلُ فِیہَا، فَیُجَاء ُ بِالْمِنْشَارِ فَیُوضَعُ عَلَی رَأْسِہِ فَیُجْعَلُ نِصْفَیْنِ، وَیُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الحَدِیدِ، مَا دُونَ لَحْمِہِ وَعَظْمِہِ، فَمَا یَصُدُّہُ ذَلِکَ عَنْ دِینِہِ، وَاللَّہِ لَیَتِمَّنَّ ہَذَا الأَمْرُ، حَتَّی یَسِیرَ الرَّاکِبُ مِنْ صَنْعَاء َ إِلَی حَضْرَمَوْتَ، لاَ یَخَافُ إِلَّا اللَّہَ، وَالذِّئْبَ عَلَی غَنَمِہِ، وَلَکِنَّکُمْ تَسْتَعْجِلُونَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناخباب ابن الارت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ اقدس میں عرض کی ، اس حال میں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺاپنی چادرمبارک کاتکیہ بنائے ہوئے کعبہ مشرفہ کے سائے میں تشریف فرماتھے ۔یارسول اللہ ﷺ!کیاآپ ﷺہمارے لئے رب تعالی سے مددنہیں مانگیں گے ؟یاآپﷺہمارے لئے رب تعالی سے دعانہیں کریں گے ؟ توآپﷺنے فرمایا:تم سے پہلے اہل اسلام کوپکڑاجاتاپھران کے لئے گڑھاکھوداجاتا، اس کے بعد اسے اس گڑھے میں ڈال کراس کے سرپرآرارکھ کرچلادیاجاتااوراس کے جسم کے دوحصے کردیئے جاتے اور لوہے کی کنگھی لیکر اس کے جسم پرپھیری جاتی اوراس کے گوشت اورہڈیوں کو علیحدہ علیحدہ کردیاجاتاپھران کو ان کے دین سے کوئی نہیں ہٹاسکتاتھااوراللہ تعالی کی قسم !یہ کام (غلبہ دین)پورا ہو کر رہے گا،یہاں تک کہ ایک سوارصنعاء سے حضرموت تک جائے گااوراسے سوائے اللہ تعالی کے کسی کاکوئی خوف نہیں ہوگا۔ مگر تم لوگ جلدی کرتے ہو۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۹:۲۰) جو لوگ طویل انتظار کی وجہ سے نحوستوں اور نا امیدی کا شکار ہیں، ان کی خدمت میں عرض ہے کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضورتاجدارختم نبوتﷺسے مصیبتوں اور سختیوں کی شکایت کی تو آپ ﷺنے فرمایا : {واللہ لیتمن ہٰذا الأمر۔۔۔ ولکنکم تستعجلون} اللہ کی قسم !اللہ تعالی کی قسم !یہ کام (غلبہ دین)پورا ہو کر رہے گا۔ آئیے ہم ایک دوسرے کو مصیبتوں پر صبر کی تلقین کریں اور تقدیر کے فیصلے پر رضامندی سے ثابت قدم رہیں۔ ہمیں نا امیدی پھیلانے کی بجائے فتح اور غلبہ اسلام کی خوش خبریاں پھیلانی چاہیئںاوراس کے لئے ہمہ وقت کوشش کرتے رہناچاہئیے ۔بندہ مومن پرعروج وزوال آتارہتاہے
عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کَعْبٍ، عَنْ أَبِیہِ:عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (قَالَ:مَثَلُ المُؤْمِنِ کَالخَامَۃِ مِنَ الزَّرْعِ، تُفَیِّئُہَا الرِّیحُ مَرَّۃً، وَتَعْدِلُہَا مَرَّۃً، وَمَثَلُ المُنَافِقِ کَالأَرْزَۃِ، لاَ تَزَالُ حَتَّی یَکُونَ انْجِعَافُہَا مَرَّۃً وَاحِدَۃً۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ اپنے والدماجد حضرت سیدناکعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: مومن کی مثال کھیتی کے پودے کی تازہ نکلی ہوئی ہری شاخ کی طرح ہے جسے ہوا کبھی جھکا دیتی ہے اور کبھی سیدھا کر دیتی ہے۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۷:۱۱۴) اس سے معلوم ہواکہ اگرچہ امت مسلمہ کمزوری کے دور سے گزر رہی ہے لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ یہ اللہ تعالی کی تقدیر سے ہے۔ اللہ تعالی اس پر قادر ہے کہ گم شدہ عزت اور کھوئی ہوئی سرداری دوبارہ لے آئے۔ انسانوں کی یہی شان ہے کہ کبھی بلندی اور کبھی پستی آتی رہتی ہے ۔اسلام غالب ہوکرہی رہے گا
حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:عُرِضَتْ عَلَیَّ الْأُمَمُ، فَرَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَعَہُ الرُّہَیْطُ، وَالنَّبِیَّ وَمَعَہُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ، وَالنَّبِیَّ لَیْسَ مَعَہُ أَحَدٌ۔ ترجمہ:حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:مجھے امتیں دکھائی گئیں۔ میں نے دیکھا کہ ایک نبی کے ساتھ کچھ لوگ ہیں۔ ایک نبی ہے اور اس کے ساتھ ایک دو آدمی ہیں اور ایک نبی ہے جس کے ساتھ کوئی (امتی)بھی نہیں۔ (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (ا:۱۹۹) اہم ترین بات یہ ہے کہ ایک دن مومن ضرور کھڑا (اور غالب)ہو گا اور یہی اللہ کی سنت کونیہ (اور فیصلہ)ہے۔ جب اسباب تقدیر پورے ہو جائیں گے تو ایک دن ایسا ضرور ہو گا۔ ان شاء اللہ۔امم سابقہ کے بارے میں اللہ تعالی کا یہی طریقہ اور قانون جاری رہا ہے۔ اس کے باوجود دعوت جاری رہی اور ہر زمانے میں جاری رہے گی چاہے جتنی بھی کمزوری ہو جائے۔ کسی نبی پر یہ اعتراض قطعا نہیں ہو سکتا کہ ان کے ذریعے کوئی ہدایت یافتہ کیوں نہیں ہوا ؟ حالانکہ انہوں نے دعوت میں اپنی پوری کوشش کی تھی۔ ہدایت دینا تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اسی طرح کسی مجاہد پر یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ اسے فتح کیوں حاصل نہیں ہو رہی ؟ حالانکہ وہ اپنی استطاعت اور پوری کوشش سے جہاد میں مصروف رہا ہے۔ اعتراض صرف یہ ہے کہ ہم نے اسباب کے استعمال میں کمی کی اور کوشش میں کچھ نہ کچھ بخل اور کوتاہی سے کام لیا۔ باقیاللہ کی مرضی ہے وہ جب چاہے جو چاہے کرتا ہے۔
جس دین کے غلبہ کے لئے اہل جنت بھی فکرمندہوں ۔۔۔۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَمَّا أُصِیبَ إِخْوَانُکُمْ بِأُحُدٍ جَعَلَ اللَّہُ أَرْوَاحَہُمْ فِی جَوْفِ طَیْرٍ خُضْرٍ، تَرِدُ أَنْہَارَ الْجَنَّۃِ، تَأْکُلُ مِنْ ثِمَارِہَا،وَتَأْوِی إِلَی قَنَادِیلَ مِنْ ذَہَبٍ مُعَلَّقَۃٍ فِی ظِلِّ الْعَرْشِ، فَلَمَّا وَجَدُوا طِیبَ مَأْکَلِہِمْ، وَمَشْرَبِہِمْ، وَمَقِیلِہِمْ، قَالُوا:مَنْ یُبَلِّغُ إِخْوَانَنَا عَنَّا، أَنَّا أَحْیَاء ٌ فِی الْجَنَّۃِ نُرْزَقُ لِئَلَّا یَزْہَدُوا فِی الْجِہَادِ،وَلَا یَنْکُلُوا عِنْدَ الْحَرْبِ، فَقَالَ اللَّہُ سُبْحَانَہُ:أَنَا أُبَلِّغُہُمْ عَنْکُمْ قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّہُ: (وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ)(آل عمران: ۱۶۹)إِلَی آخِرِ الْآیَۃِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:اے صحابہ !جب تمھارے بھائی احد میں شہیدہوئے تواللہ تعالی نے ان کی ارواح کو سبزرنگ کے جنتی پرندوں میں رکھ دیااوروہ جنت کی نہروں پرآتے ہیں اوراس کے پھل کھاتے ہیں اورعرش کے نیچے قنادیل جوسونے کی ہیں ان میں رہتے ہیں ۔پھرحضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: جب شہیدوں کو یہ خوف ہوا کہ زندہ رہ جانے والے لوگ کمزوری کی وجہ سے کہیں جہاد سے پیچھے نہ رہ جائیں تو انہوں نے اپنے رب سے سوال کیا : ہمارے پیچھے رہ جانے والے بھائیوں کو یہ کون بتائے گا کہ ہم جنت میں زندہ ہیں اور ہمیں رزق دیا جاتا ہے ؟ تاکہ لوگ جہاد سے پیچھے نہ رہیں اور میدان جنگ سے نہ بھاگیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں انہیں تمھاری یہ بات پہنچاؤں گا۔ (سنن أبی داود:أبو داود سلیمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشیر السَِّجِسْتانی (۳:۱۵) رات نے آخر ختم ہو جانا ہے اور دن کی روشنی چاروں طرف پھیل جائے گی۔ خس و خاشاک بہ جائے گا اور زمین میں وہ چیزیں رہ جائیں گی جو لوگوں کے لئے نفع بخش ہیں۔ اللہ تعالی کی تقدیر کا یہ فیصلہ ایک دن برحق ثابت ہو گا کہ آخری فتح اہل ایمان ہی کی ہے۔غلبہ اسلام صرف اورصرف جہاد سے ہی ممکن ہے
اگر اسلام کے غلبے کا کوئی اور راستہ اور طریقہ بھی ہوتا تو اللہ تعالیٰ کبھی حضورتاجدارختم نبوتﷺکو دشوار ترین عمل یعنی جہاد کا حکم نہ دیتا آج نجانے کیوں ہم اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ امت اپنے اعمال درست کر لے تو سب مصائب خود ختم ہو جائیں گے،ہاں ضرور ختم ہو جائیں گے لیکن ان اعمال میں جہاد کو بھی شامل کرنا ہو گا صرف نماز ، روزے، ذکر و وظائف ، تعلیم و تعلم اور دعوت و تبلیغ سے اسلام کا کلمہ بلند نہیں ہو گااور نہ کفر کا غلبہ ختم ہو گا۔کیونکہ اسلام کو چودہ سو سال پہلے جو غلبہ حاصل ہوا تھا وہ جہاد ہی کی بدولت ہوا تھا اور جہاد ہی کی بدولت لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوتے تھے۔اگرحضورتاجدارختم نبوتﷺکی مکی و مدنی زندگی کا موازنہ کیا جائے تو آپ ﷺ مکہ مکرمہ میں تیرہ سال لوگوں کو اسلام کی طرف بلاتے رہے۔ اور اس پر کفار کی طرف سے آنے والی سختیاں بھی برداشت کرتے رہے اور اپنا سارا وقت دعوت و تبلیغ کی سرگرمیوں میں ہی صرف کرتے رہے اور دوسری طرف مدنی زندگی کے دس سال ہیں جن میں آپ ﷺنے دعوت و تبلیغ کے ساتھ ساتھ جہادی اسفار بھی کئے اور اسلامی ریاست مدینہ منورہ کے انتظام کو بھی وقت دیا تو ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مکی دور میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد مدنی دور کی بنسبت زیادہ ہوتی کیونکہ ایک تومکی دور تھا بھی طویل ،دوسرا مکی دور میں دعوت کے سلسلے میں محنت بھی زیادہ ہوئی اور سختیاں بھی زیادہ برداشت کی گئیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ مدنی دور میں زیادہ لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے اور مکی دور میں کم ، تو اسکی وجہ یہی ہے کہ مکی دور میں دعوت کو جہاد کی پشت پناہی حاصل نہیں تھی اور مدنی دور میں دعوت کے پیچھے جہاد کی طاقت تھی اسی لئے سورہ نصر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :یاد کرو اس وقت کو جب اللہ تعالی کی مدد آگئی اور مکہ فتح ہو گیا ، اور آپ ﷺنے دیکھ لیا کہ لوگ جوق درجوق اسلام میں داخل ہو رہے ہیں اور آپ ﷺنے بھی فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ اللہ کی وحدانیت اور میری رسالت کی گواہی نہ دے دیں۔ یہ بھی یادرہے کہ اگر چہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ پچھلی امتوں پر بھی عائد تھا جس کی تفصیل احادیثِ صحیحہ میں مذکور ہے مگر اول تو پچھلی امتوں میں جہاد کا حکم عمومی نہیں تھا اسلئے انکا امر بالمعروف صرف دل اور زبان سے ہو سکتا تھا امتِ محمدیہ میں اسکا تیسرا درجہ ہاتھ کی قوت سے امر بالمعروف کا بھی ہے جس میں جہاد کی تمام اقسام بھی داخل ہیں اور بزورِ حکومت اسلامی قوانین کی تنفیذ بھی اسکا جزء ہے اسی طرح اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہی سبق ملتا ہے کہ اسلام کا غلبہ صرف جہاد ہی سے ممکن ہے اور جب بھی مسلمان جہاد سے غافل ہوئے تو کفار کے مظالم کا نشانہ بنے لیکن پھر جب سنبھلے اور راہِ جہاد اختیار کی تو پھر بلندیوں کی راہ پر گامزن ہوئے لیکن آج جبکہ امت اجتماعی طور پر جہاد کو ترک کئے ہوئے کئی صدیاں بیت گئیں اور ہمارا حال یہ ہو چکا ہے تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر کئی صدیاں کفار کی ذہنی و جسمانی غلامی میں گزارنے کی وجہ سے ہمارے ضمیر اور ہمارے اندر کا بندہ آزاد اس حد تک مردہ ہو چکے ہیں کہ اب جہاں کہیں سے امت کے باضمیر اور آزاد بندے علمِ جہاد بلند کرتے ہیں تو ہم اسے خلافِ مصلحت اور خلافِ حکمت قرار دے کر راہِ فرار اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ ہماری حکمت و دانش کی بنیاد دنیاوی مفادات ہی ہیں اور جس عمل سے ہماری دنیا پرستی پر آنچ آئے ہم اسے حکمت و بصیرت سے عاری اور جذباتی نوجوانوں کی بے وقوفی قرار دے کر شتر مرغ کی طرح سر مٹی میں دبا لیتے ہیں کیونکہ ہماری زندگیوں کے مقاصد میں غلبہ اسلام داخل ہی نہیں بلکہ ہم نے اپنی زندگیوں کا مقصد دنیاوی عیش و عشرت،اموال و اولاد کی کثرت اور اسی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا اور دنیاوی مال و متاع پر باہمی تفاخر کرنا ہی بنا لیا ہے اور جو خدمتِ دین کا جذبہ رکھتے بھی ہیں تو وہ بھی اس حد تک کہ دنیاوی مفادات پر آنچ نہ آئے اور جو نوجوان قربانی کی راہ اختیار کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے دستور کے مطابق انہیں شہادتوں سے نواز رہا ہے، اور ہم منافقین کوان مؤمنین سے جدا کر رہے ہیں تو ہم اس جانچ پڑتال کے دوران منافقین کی صف میں کھڑے ہو کراپنا آج اسلام کے کل پر قربان کرنے والوں پر ہنس رہے ہیں اور زبانِ حال سے بلکہ کچھ تو زبانِ قال سے بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ کیسے بے وقوف لوگ ہیں کہ انہیں مار پڑرہی ہے اور یہ پھر بھی نہیں سمجھتے اور اپنی ہٹ دھرمی پہ ڈٹے ہوئے ہیں اور طاغوت کے آگے سجدہ ریز نہیں ہوتے انہیں چاہیے کہ جہاد چھوڑ دیں اور دشمنوں کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں بلکہ کفار کے زیرِسایہ رہتے ہوئے ہی اپنی عبادات میں لگے رہیں اگر کچھ زیادہ ہی غیرت و حمیت اور دین کا غم ہے تو حملہ آوروں کو اسلام کی دعوت دیتے رہیں تو ایک وقت آئے گا کہ وہ خود مسلمان ہو جائیں گے گویا کہ نعوذباللہ ہماری دعوت آپ ﷺکی دعوت سے زیادہ مقبول ہو گئی کہ آپ ﷺکو تو جہاد کرنا پڑا اور ہم بغیر جہاد کے ہی کفار کے فتنوں پر قابو پالیں گے ۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9