Fatwa #2558
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورۃ الحج آیت ۱۵۔ مَنْ کَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَہُ اللہُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَی السَّمَآء ِ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
4,631
سوال (Question):
تفسیر سورۃ الحج آیت ۱۵۔ مَنْ کَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَہُ اللہُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَی السَّمَآء ِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
جسے ناموس رسالت ﷺکے دفاع کامسئلہ سمجھ نہیں آتاوہ سولی چڑھ جائے
{مَنْ کَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَہُ اللہُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَی السَّمَآء ِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ ہَلْ یُذْہِبَنَّ کَیْدُہ مَا یَغِیْظُ }(۱۵) ترجمہ کنزالایمان:جو یہ خیال کرتا ہو کہ اللہ اپنے نبی کی مدد نہ فرمائے گا دنیا اور آخرت میں تو اسے چاہیے کہ اوپر کو ایک رسّی تانے پھر اپنے آپ کو پھانسی دے لے پھر دیکھے کہ اس کا یہ دانؤں کچھ لے گیا اس بات کو جس کی اسے جلن ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان: جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالی دنیا اور آخرت میں اپنے حبیب کریمﷺ کی مدد نہیں فرمائے گا تو اسے چاہیے کہ اوپر کی طرف ایک رسی لمبی کرلے پھر اپنے آپ کو پھانسی دیدے پھر دیکھے کہ کیا اس کے داؤ نے وہ چیز مٹاد ی ہے جس کی اسے جلن ہے۔ شان نزول وَرُوِیَ أَنَّ ہَذِہِ الْآیَۃَ نَزَلَتْ فِی قَوْمٍ مِنْ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ، دَعَاہُمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی الْإِسْلَامِ وَکَانَ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ الْیَہُودِ حِلْفٌ،وَقَالُوا:لَا یُمْکِنُنَا أَنْ نُسْلِمَ لِأَنَّا نَخَافُ أَنْ لَا یُنْصَرَ مُحَمَّدٌ وَلَا یَظْہَرَ أَمْرُہُ فَیَنْقَطِعُ الْحِلْفُ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْیَہُودِ، فَلَا یمیروننا ولا یئوننا فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ ۔ ترجمہ :امام محیی السنۃ، أبو محمد الحسین بن مسعود البغوی المتوفی : ۵۱۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کاشان نزول یہ ہے کہ بنی اسداوربنی غطفان کایہودیوں سے معاہدہ تھا، حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ان کو اسلام کی دعوت دی تو انہوںنے کہاکہ ہمارے لئے مسلمان ہوناممکن نہیں ہے کیونکہ ہم کو خطرہ ہے کہ اللہ تعالی محمد(ﷺ) کی مددنہیں فرمائے گااورمسلمان ہونے کے بعد ہمارایہودیوں سے معاہدہ ٹوٹ جائے گا، وہ ہم کوغلہ نہیں دیں گے اورٹھہرنے کوجگہ نہیں دیں گے تواللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ (تفسیر البغوی:محیی السنۃ، أبو محمد الحسین بن مسعود البغوی (۵:۲۷۰) اس سے معلوم ہواکہ اس طرح کے نظریات یہودیوں اورمشرکین کے ساتھ تعلق جوڑنے سے بنتے ہیں کہ اگرہم نے اسلام قبول کرلیاتوپھرہم بھوکے مرجائیں گے اورہمیں کوئی ٹھہرنے کے لئے جگہ نہیں دے گا۔ بالکل یہی فکراورسوچ ہمارے ہاں لبرل وسیکولرلوگوں کی ہے کہ اگرہم نے یہودونصاری کے خلاف جہاد کااعلان کردیاتو ہم بھوکے مرجائیں گے اورہماراملک تباہ ہوجائے گا۔ یادرہے کہ اس طرح کی باتیں وہی لوگ کرتے ہیں جن کواللہ تعالی کی ذات پربھروسہ نہیں ہوتاہے۔حضورتاجدارختم نبوتﷺکے دشمن خودکشی کرکے مرجائیں
کانَ یَظُنُّ یتوہم أَنْ لَنْ یَنْصُرَہُ اللَّہُ ای محمدا صلی اللہ علیہ وسلم فِی الدُّنْیا بإعلاء دینہ وقہر أعدائہ وَالْآخِرَۃِ بإعلاء درجتہ والانتقام من مکذبیہ یعنی انہ تعالی ناصر رسولہ فی الدنیا والآخرۃ فمن کان یظن من أعادیہ وحسادہ خلاف ذلک ویتوقعہ من غیظہ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ إِلَی السَّماء ِ السبب الذی تصعد بہ النخل ای لیربط بحبل الی سقف بیتہ لان کل ما علاک فہو سماء ثُمَّ لْیَقْطَعْ قال فی القاموس قطع فلان الحبل اختنق ومنہ قولہ تعالی (ثُمَّ لْیَقْطَعْ)ای لیختنق انتہی وسمی الاختناق قطعا لان المختنق یقطع نفسہ بحبس مجاریہ وقال الکاشفی (پس ببرد آن رسن را تا بزمین افتد وبمیرد) ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ وہ شخص جو یہ بدگمانی کرتاہے کہ اللہ تعالی حضورتاجدارختم نبوتﷺکی ہرگزمددنہیں فرمائے گا{ فِی الدُّنْیا}دنیامیں ، یوں کہ آپ ﷺکادین متین بلندہوااورآپ ﷺکے دشمن ذلیل وخوارہوئے ۔ اور{وَالْآخِرَۃِ}اورآخرت میں یوں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے درجات بلندہوں گے اورآپ ﷺکے گستاخوں سے بدلہ لیاجائے گا، خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی حضورتاجدارختم نبوتﷺکی دنیاوآخرت میں مددفرماتاہے ، دنیامیں یوں کہ آپ ﷺکے دشمن اورحاسدین اورگستاخ اگراس کے خلاف توقع رکھتے ہیں تووہ اپنے غیظ وغضب میں جل مریں اورآخرت میں اس کاکوئی حساب نہیں ہے { فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ إِلَی السَّماء }یہاں سبب سے مراد وہ رسہ ہے جس کے ذریعے چھلانگ لگاکرکجھورپرچڑھتے ہیں اورسماء سے مراد دشمن کے اپنے گھرکااوپروالاحصہ ہے کیونکہ اہل عرب کاقاعدہ ہے کہ ہروہ چیز جو سرکے اوپرہواسے سماء ٌ کہتے ہیں {ثُمَّ لْیَقْطَعْ}قاموس میں ہے کہ{ قطع فلان الحبل} بمعنی اختنق اسی سے {ثُمَّ لْیَقْطَعْ}بمعنی لیختنق ہے اوراختناق کوقطع سے اسی لئے تعبیرکیاگیاہے کہ اختناق والااپنے آپ کوحبس نفس سے کاٹ ڈالتاہے ۔ ملاکاشفی رحمہ اللہ تعالی نے اس کامعنی یہ لکھاہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے دشمن کو چاہئے وہ کہ وہ اپنی رسی کاٹ کرزمین پرگرکرمرجائے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۶:۱۳)حضورتاجدارختم نبوتﷺکے دشمن پھانسی چڑھ جائیں
وَکَذَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ الْکِنَایَۃَ فِی’’یَنْصُرَہُ اللَّہُ‘‘تَرْجِعُ إِلَی مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَہُوَ وَإِنْ لَمْ یَجْرِ ذِکْرُہُ فَجَمِیعُ الْکَلَامِ دَالٌّ عَلَیْہِ، لِأَنَّ الْإِیمَانَ ہُوَ الْإِیمَانُ بِاللَّہِ وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَالِانْقِلَابَ عَنِ الدِّینِ انْقِلَابٌ عَنِ الدِّینِ الَّذِی أَتَی بِہِ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَیْ مَنْ کَانَ یَظُنُّ مِمَّنْ یُعَادِی مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَنْ یَعْبُدُ اللَّہَ عَلَی حَرْفٍ أَنَّا لَا نَنْصُرُ مُحَمَّدًا فَلْیَفْعَلْ کَذَا وَکَذَا۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ {یَنْصُرَہُ اللَّہ}میں ضمیرکامرجع حضورتاجدارختم نبوتﷺہیں ، اگرچہ پہلے آپ ﷺکاذکرنہیں ہوالیکن پوراکلام اس پردلالت کررہاہے کیونکہ ایمان اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکومانناہے اوردین سے پھرنااس دین سے پھرناہے جو حضورتاجدارختم نبوتﷺلے کرآئے ہیں یعنی جوحضورتاجدارختم نبوتﷺکے ساتھ دشمنی کرنے والوں اورکنارے پرکھڑے ہوکرعبادت کرنے والوں میں سے کوئی یہ سمجھتاہے کہ اللہ تعالی حضورتاجدارختم نبوتﷺکی مددنہیں فرمائے گاوہ پھانسی لگ کرمرجائے ( یعنی اللہ تعالی توضروربالضروراپنے حبیب کریمﷺکی مددفرمائے گااوراپنے حبیب کریم ﷺکے گستاخوں کو ضرورذلیل فرمائے گاچاہے وہ پھانسی چڑھ جائیں جوحضورتاجدارختم نبوتﷺکے گستاخ اوردشمن ہیں ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۲:۲۱)معارف ومسائل
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ عاجزہر گز نہیں بلکہ وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور اپنے محبوب بندوں کی مدد فرماتا ہے ۔یاد رہے کہ کفار دین ِاسلام کو صفحہ ِ ہستی سے مٹانے اور اس کے نور کو بجھانے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کریم ﷺ اور ان کے سچے غلاموں کی مدد فرمائی،کفار کو نیست و نابود کیا اور ان کے لشکروں کو شکست و ہزیمت سے دوچار کر دیا،اسی طرح آج بھی کفار دین ِاسلام کو ختم کرنے کے ناپاک عَزائم اور ارادے رکھتے ہیں اور ا س کے لئے ہر طرح کے ذرائع بھی استعمال کر رہے ہیں لیکن ان کی یہ تمام تر کوششیں اسلام کو مٹا نہیں سکتیں کیونکہ اللہ تعالیٰ دین ِاسلام اور اپنے حبیب کریم ﷺکے غلاموں کا مددگار ہے البتہ مسلمانوں کو چاہئے کہ جب وہ کفار کی طرف سے کسی مشکل میں گرفتار ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے فوری طور پر انہیں مدد نہ پہنچے تو وہ اللہ تعالیٰ کی رضاپر راضی رہیں اور دشمنوں کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتوں پر صبر کریں کیونکہ حق غالب رہے گا کبھی مغلوب نہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ نے چاہا تو عنقریب مسلمانوں سے یہ مشکلات دور ہو جائیں گی اور کفار و مشرکین کی راحتیں ختم ہو کر رہ جائیں گی۔( تفسیرصراط الجنان ( ۶: ۴۱۴)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9