صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2596 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورۃ الفرقان آیت ۱ ۔ تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَا

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,878

سوال (Question):

تفسیر سورۃ الفرقان آیت ۱ ۔ تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

فدایان ِ ختم نبوت کی قربانیوں کامختصرتذکرہ

{تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَا}(۱) ترجمہ کنزالایمان:بڑی برکت والا ہے وہ کہ جس نے اُتارا قرآن اپنے بندہ پر جو سارے جہان کو ڈر سُنانے والا ہو۔ ترجمہ ضیاء الایمان :اللہ تعالی بڑی برکت والا ہے جس نے اپنے بندے پرقرآن کریم نازل فرمایا تا کہ وہ تمام جہان والوں کو ڈر سُنانے والا ہو۔

حضورتاجدارختم نبوتﷺکی ختم نبوت کابیان

المرارُوَالْمُرَادُ بِ’’الْعَالَمِینَ‘‘ ہُنَا الْإِنْسُ وَالْجِنُّ، لِأَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ کَانَ رَسُولًا إِلَیْہِمَا، وَنَذِیرًا لَہُمَا، وَأَنَّہُ خَاتَمُ الْأَنْبِیَاء۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ العالمین سے مراد یہاں انسان اورجن ہیں اس لئے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺتمام کی طرف رسول بناکربھیجے گئے ہیں ۔اورآپ ﷺسب کو ڈرسنانے والے ہیں اورآپ ﷺخاتم الانبیاء ہیں۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۳:۴)

معارف ومسائل

(۱)آج جب میں کسی مسلمان کو قادیانی سے ہاتھ ملاتے دیکھتا ہوں۔ تو مجھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کٹے ہوئے ہاتھ یاد آجاتے ہیں۔ جب میں کسی مسلمان کو قادیانی سے بغلگیر ہوتے اور قادیانی کے گلے میں بازو حمائل کیے دیکھتا ہوں تو مجھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کٹے ہوئے بازو تڑپانے لگتے ہیں۔ جب میں کسی مسلمان کو پائوں گھسیٹتے ہوئے کسی قادیانی کے گھر میں داخل ہوتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کٹے ہوئے پائوں رلانے لگتے ہیں۔ جب میں کسی مسلمان کو قادیانی سے ٹھنڈی میٹھی باتیں کرتا سنتا ہوں تو میرے کانوں میں میدان یمامہ میں مرتدین کے خلاف لڑتے ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زبان سے تکبیر کی ولولہ انگیز صداگونجنے لگتی ہیں۔ جب میں کسی مسلمان کو قادیانیوں کی شادیوں میں ہنس ہنس کر شامل ہوتے دیکھتا ہوں تو مجھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے یتیم بچے یاد آجاتے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی کلمہ طیبہ پڑھتے تھے۔ یہ مسلمان بھی کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی حضورتاجدارختم نبوتﷺکے امتی تھے۔ یہ مسلمان بھی حضورتاجدارختم نبوتﷺ کے امتی ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی عقیدہ ختم نبوت پر پکا یقین رکھتے تھے۔ یہ مسلمان بھی عقیدہ ختم نبوت پر ایمان رکھنے کے پرزور دعوے دار ہیں۔ لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم کی ختم نبوت کے ڈاکوئوں سے جنگ۔ مگر اس مسلمان کی ختم نبوت کے ڈاکوئوں سے دوستی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عقیدہ ختم نبوت پر سب کچھ قربان۔ مگر اس مسلمان کا ختم نبوت کے باغیوں سے کاروبار۔ انہوںنے حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی عزت وناموس پر اپنا لہو قربان کردیا۔ اور یہ قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ کرنے کو بھی تیار نہیں۔ یہ تفاوت کیوں؟قول وفعل میں اتنا خوفناک تضاد کیوں؟ ٭…کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نے کلمہ طیبہ صرف حلق سے اوپر اوپر پڑھا ہے؟ ٭…کیا حضورتاجدارختم نبوتﷺکے امتی ہونے کا اعلان صرف نوک زبان تک ہے؟ ٭…کیا عقیدہ ختم نبوت پر ایمان ہونے کااعلان صرف فضا میں الفاظ بازی تو نہیں؟ ٭…حضورتاجدارختم نبوتﷺکے عشق کا دعویٰ محض سخن طرازی تو نہیں؟کیونکہ اس مسلمان کا کردار ان کے دعویٰ کی نفی کررہا ہے۔ ٭…مسلمانو!جس جسم کے رگ و ریشہ میںحضورتاجدارختم نبوتﷺکی محبت ہوتی ہے۔ ٭…وہ جسم قادیانیوں سے ہاتھ نہیں ملایا کرتے۔ ٭…وہ جسم قادیانیوں سے بغل گیریاں نہیں کرتا۔ ٭…وہ جسم قادیانی کی تقریب میں شامل نہیں ہوسکتا۔ آئیے!اپنے اپنے جسم میں محبت حضورتاجدارختم نبوتﷺ کو دیکھتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالی سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ اور موت کا فرشتہ بیٹھا اللہ تعالی کے حکم کا انتظار کررہا ہے۔ (۲)دین اسلام میں عقیدہ توحیدکے بعد دوسرا اہم اور بنیادی عقیدہ ختم نبوت کاہے، پہلی امتوں کے لیے اس بات پر ایمان لانا لازم تھا کہ ان کے انبیاء ورسل علیہم الصلوٰۃ والسلام کے بعد اور نبی ورسول آئیں گے اور اس امت کے لیے اس بات پر ایمان لانا ضروری ہے کہ آپﷺ کے بعد قیامت تک کوئی اور نبی یا رسول نہیں آئے گا، حضورتاجدارختم نبوتﷺ کے بعد جو بھی پیدا ہوگا وہ امتی کہلائے گا لیکن نبی نہیں بن سکتا، حضرت سیدنا عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام ضرور قرب قیامت میں تشریف لائیں گے لیکن ان کی آمد کامقصد بھی حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی نبوت کا پرچار ہوگا اور وہ آپ ﷺسے پہلے بھی تشریف لاچکے ہیں اور اپنے دور نبوت میں وہ بنی اسرائیل کو آپ ﷺ کی آمد کی خوشخبری بھی سنا چکے ہیں جوکہ سورۃ الصف میں موجود ہے کہ میرے بعد ایک رسول کریم ﷺتشریف لائیں گے جن کا نام نامی اسم گرامی احمدﷺ ہوگا۔ خود آپﷺنے بھی اپنے متعلق ارشاد فرمایا جو کتب احادیث میں موجود ہے کہ میں حضر ت سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعائوں کا ثمر اور حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بشارت بن کر آیا ہوں۔ ہمارا ایمان ہے کہ یہ دین اللہ تعالیٰ کا آخری دین ہے اور اس کا اعلان پروردگار کریم نے حجۃ الوداع کے موقع پر خود زبان نبوت سے کروادیا ہے کہ آج میں نے تمہارے لیے دین کو کامل کردیا ہے اور تم پر اپنا احسان پورا کردیا ہے اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کیا ہے (سورۃ المائدہ)اور ساتھ یہ بھی ایمان ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور اس کا ذکر بھی قرآن مجید میں سورۃ احزاب میں واضح طورپر موجود ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺتمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیںہیں البتہ اللہ تعالیٰ کے رسول کریمﷺاور آخری نبی ہیں۔ در حقیقت حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی ختم نبوت اس امت پر پروردگار کریم کا احسان عظیم ہے کہ اس عقیدے نے اس امت کو وحدت کی لڑی میں پرو دیا ہے، پوری دنیا میں آج مسلمان عقائد وعبادات، احکامات اور ارکان دین کے لحاظ سے جو متفق ہیں وہ صرف اسی عقیدہ کی برکت ہے،مثلاً حضورتاجدارختم نبوتﷺکے زمانے میں جس طرح پانچ نمازیں فرض تھیں آج بھی وہی ہیں، رمضان المبارک کے روزے، نصاب زکوٰۃ، حج وعمرہ کے ارکان، صدقہ فطر وعشر کانصاب، قربانی کا طریقہ، ایام عیدین سب اسی طرح ہے جس طرح حضرت محمد ﷺکے دور میں تھا، یہ سب عقیدہ ختم نبوت کی وجہ سے ہے ورنہ اسلامی عقائد وارکان سلامت نہ رہتے، اسلامی عقائد وارکان کی سلامتی کا سب سے بڑا سبب عقیدہ ختم نبوت ہے چونکہ یہ عقیدہ اسلام کی عالمگیریت اور حفاظت کا ذریعہ ہے اس لیے دنیا ئے کفر شروع سے ہی اس عقیدہ میں دراڑیں ڈالنے میں مصروف ہے تاکہ دین اسلام کی عالمگیریت اور مقبولیت میں رکاوٹ کھڑی کی جاسکے اور کسی طرح اس کے ماننے والوں کے ایمان کو متزلزل کیا جاسکے، ان سازشوں کا سلسلہ دور نبوت میں مسلیمہ کذاب سے شروع ہوا اور فتنہ قادیانیت تک آن پہنچا لیکن ہر دور میں قدرت نے ان سازشوں کو ناکام کیا ہے اور ان شاء اللہ العزیز قیامت تک یہ سازشیں ناکام ہوتی رہیں گی اور دین اسلام اور ختم نبوت کا پرچم سدا بلند رہے گا۔

ختم نبوت کے مجاہد اول حضرت سیدناابوبکررضی اللہ عنہ

اللہ تعالی نے اشرف الخلائق حضرت انسان کی ہدایت کے لیے کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، سنۃ اللہ کے مطابق اس سلسلۃ الذہب کو حضورتاجدارختم نبوتﷺپر ختم کیاکیوںکہ دنیا میں اللہ تعالی کا دستور ابتدائے آفرینش سے چلا آیا ہے کہ ہر چیز کا مبدا بھی لازم ہے اور منتہاء بھی ، چاہے وہ مادی ہو یا روحانی لہٰذا نبوت کے اس وہبی دستور کے مطابق حضرت سیدناآدم علیہ الصلاۃ والسلام سے سلسلہ نبوت کا آغاز ہوا، اور حضورتاجدارختم نبوتﷺپر یہ سلسلہ نبوت ختم ہواگویا یہ ایک قدرتی قانون کے تحت ہوا۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بعثت ایک انقلاب آفریں بعثت ہے، آپﷺکی بعثت سے دنیا میں تمام ظلمتیں چھٹ گئیں، دنیا جو ظلمت کدہ بنی ہوئی تھی پُرنور اور روشن ہوگئی،جس کی برکتوں کے اثرات آج چودہ صدیوں کے بعد بھی محسوس کیے جارہے ہیں اور قبیل قیامت تک محسوس کیے جاتے رہیں گے اور پھر حشر ونشر میں بھی اور میزان وحساب میں بھی آپ کی برکتیں جلوہ گر ہوںگی۔ انشاء اللہ! آپﷺ کے وصال شریف کے بعدعظیم فتنوں نے سراٹھایا، مگر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی غیرت ایمانی، حمیت اسلامی، بلند حوصلگی اور حکمت عملی نے تمام فتنوں کو ایک سال سے بھی کم عرصے میں کافور کرکے رکھ دیا۔ اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ کو پوری امت کی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ یہ بات تعجب خیز ہے کہ یہود ونصاریٰ نے سب سے پہلے اسلام کے خلاف جو سازش رچائی وہ تھی عقیدہ ختم نبوتﷺپر کاری ضرب تھی اسی لیے کہ آپﷺکے وصال شریف کے بعد جو پانچ افراد نے دعوی نبوت کیا۔ الاستاذ جمیل عبداللہ محمدالمصری کی تحقیق کے مطابق ان سب کے اہل کتاب یہود ونصاریٰ کے ساتھ گہرے مراسم تھے۔ تاریخ کے مستند حوالوں سے اپنی تحقیقی کتاب ’’اثر اھل الکتاب فی الحروب والفتن الداخلیۃ فی القرن الاول‘‘میں ثابت کیا ہے۔ دوسری جانب حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اس کو گویا بھانپ لیا، خاص طور پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اور آپ نے {ا ینقص الدین وانا حی }کا تاریخی جملہ کہہ کر صحابہ کرام کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ عقیدہ ختم نبوتﷺکی اہمیت خوب اچھی طرح سمجھیں اور تاریخ کے رُخ پھیردینے والے اس فتنے کی سرکوبی کے لیے کمربستہ ہوجائیں۔ الحمدللہ!حضرت سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ کی کوششوں اور اللہ تعالی کے فضل سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس بات پر اجماع کرلیا کہ عقیدئہ ختم نبوت کو تحفظ فراہم کیا جائے، نبوت کے دعویداروں کو کافر قرار دیا جائے اور ان کے خلاف جہاد فرض گردانا جائے، اس طرح یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا سب سے پہلا اجماع منعقد ہوگیا کہ ختم نبوت کا تحفظ ایک اہم ترین فریضہ ہے اور دعویِ نبوت کرنے والا کافر ہے، اس سے جہاد فرض ہے۔ بس پھر کیا تھا، اس عقیدے کے تحفظ کی خاطر مدینہ منورہ سے گیارہ لشکر ان مدعیان نبوت کی سرکوبی کے لیے حضرت سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حکم پر میدان کارزار میں کودپڑتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک سال سے بھی کم عرصہ میں یا تو مدعیان نبوت اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں، یا توبہ وانابت کرکے دوبارہ اسلام میں داخل ہوجاتے ہیں۔ ان لشکروں کے قائدین کے اسماء گرامی (۱)…حضرت سیدناخالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کومشاف بلاد شام کی طرف روانہ کیاگیا۔ (۲)…حضرت سیدناعمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو دومۃ الجندل کی جانب روانہ کیاگیا۔ (۳)…حضرت سیدناخالد بن ولید رضی اللہ عنہ کوبُزاخہ، البطاح، یمامہ کی جانب روانہ کیاگیا۔ (۴)…حضرت سیدناعکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ کویمامہ، عمان ومہرہ، حضرت موت، یمن کی جانب روانہ کیاگیا۔ (۵)…حضرت سیدناشرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کویمامہ، حضرت موت کی طرف روانہ کیاگیا۔ (۶)…حضرت سیدناعلاء ابن الحضرمی رضی اللہ عنہ کو بحرین، دارین کی طرف روانہ کیاگیا۔ (۷) حضرت سیدناحذیفہ بن محض الغلفانی رضی اللہ عنہ کو عمان کی جانب روانہ کیاگیا۔ (۸)…حضرت سیدناعرفجہ ابن ہرثمہ البارقی رضی اللہ عنہ عمان، مہرہ، حضرت موت، یمن کی طرف روانہ کیاگیا۔ (۹)…حضرت سیدناطریفہ بن حاجزرضی اللہ عنہ کو شرق حجاز، بنو سلیم کی طرف روانہ کیاگیا۔ (۱۰)…حضرت سیدنامہاجر بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ کویمن، کندہ، حضرت موت کی طرف روانہ کیاگیا۔ (۱۱)… حضرت سیدناسویدا بن مقرن الذنی رضی اللہ عنہ کو تہامۃ الیمن کی طرف روانہ کیاگیا۔ اگرحضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ نہ بنتے تو۔۔۔ عن أبی ہریرۃ قال: واللہِ الذی لاَ الٰہَ الّا ھو لَولاَ انَّ ابا بکرٍ استَخْلَفَ مَا عُبِدَ اللہ۔ ترجمہ حضرت سیدناابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اگرحضرت سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے بعد خلیفہ نہ بنائے جاتے تو اللہ تعالی کی عبادت نہ کی جاتی۔ (کنز العمال:علاء الدین علی بن حسام الدین ابن قاضی خان القادری(۵:۶۰۳)

اگراللہ تعالی حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کے ذریعے ہم پراحسان نہ فرماتاتو!

قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ:لَقَدْ قُمْنَا بَعْدَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَقَامًا کِدْنَا نَہْلِکُ فِیہِ، لَوْلَا أَنَّ اللَّہَ مَنَّ عَلَیْنَا بِأَبِی بَکْرٍ، أَجْمَعْنَا عَلَی أَنْ لَا نُقَاتِلَ عَلَی ابْنَۃِ مَخَاضٍ وَابْنَۃِ لَبُونٍ، وَأَنْ نَأْکُلَ قُرًی عَرَبِیَّۃً، وَنَعْبُدَ اللَّہَ حَتَّی یَأْتِیَنَا الْیَقِینُ، فَعَزَمَ اللَّہُ لِأَبِی بَکْرٍ عَلَی قِتَالِہِمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:حضورتاجدارختم نبوتﷺکے وصال شریف کے بعد ہم ہلاکت خیز حالات سے دوچار ہوگئے تھے مگر اللہ تعالی نے حضرت سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ (جیسی بصیرت افروز)شخصیت کے ذریعہ ہم پر احسان عظیم کیا، ہم لوگ (یعنی جماعت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم)یہ طے کرچکے تھے کہ مانعین زکوٰۃ کے ساتھ قتال نہیں کریں گے اور جو کچھ تھوڑا بہت رزق میسر آئے گا اس پر اکتفا کریں گے اور اس طرح موت تک اللہ تعالی کی عبادت کرتے رہیں گے مگر اللہ رب العزت نے حضرت سیدناابوبکررضی اللہ عنہ کو مانعین کے ساتھ قتال کا پختہ حوصلہ دیا۔ (الکامل فی التاریخ:أبو الحسن علی بن أبی الکرم محمد الجزری، عز الدین ابن الأثیر (۲:۲۰۱) آج پھربیسویں صدی میں مسلمانوں کی گمراہیوں اورلبر ل وسیکولر کی فکری یلغار کو دیکھ کر دل برداشتہ ہوتاہے اور{رِدَّۃٌ ولا ابا بکرٍ لھا }کہ ارتداد نے ایک بار پھر زوردار سراٹھایا ہے مگر افسوس اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسا حوصلہ نہیں، ان جیسی حمیت وغیرت نہیں، واقعتا بات بالکل درست ہے جیسی فکری یلغار حضرت سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں تھی آج بھی ویسی ہی کیفیت ہے، تب حضرت سیدناابوبکررضی اللہ عنہ تھے مگر آج کوئی ابوبکر تو کیا ان کا عشر عشیر بھی نہیں، اللہ تعالی ہی مدد اور حفاظت فرمائے، آمین۔

مجاہدختم نبوت حضرت سیدناابومسلم الخولانی رضی اللہ عنہ

عَنْ شُرَحْبِیلَ الْخَوْلَانِیِّ، قَالَ:بَیْنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَیْسِ بْنِ ذِی الْحِمَارِالْعَنْسِیُّ بِالْیَمَنِ فَأَرْسَلَ إِلَی أَبِی مُسْلِمٍ فَقَالَ لَہُ: أَتَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَسُولُ اللہِ؟ قَالَ:نَعَمْ قَالَ: فَتَشْہَدُ أَنِّی رَسُولُ اللہِ؟ قَالَ: مَا أَسْمَعُ قَالَ: فَأَمَرَ بِنَارٍ عَظِیمَۃٍ فَأُجِّجَتْ وَطُرِحَ فِیہَا أَبُو مُسْلِمٍ فَلَمْ تَضُرَّہُ فَقَالَ لَہُ أَہْلُ مَمْلَکَتِہِ:إِنْ تَرَکْتَ ہَذَا فِی بَلَدِکَ أَفْسَدَہَا عَلَیْکَ فَأَمَرَہُ بِالرَّحِیلِ فَقَدِمَ الْمَدِینَۃَ وَقَدْ قُبِضَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَکْرٍ فَعَقَلَ رَاحِلَتَہُ عَلَی بَابِ الْمَسْجِدِ وَقَامَ إِلَی سَارِیَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ یُصَلِّی إِلَیْہَا فَبَصُرَ بِہِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ تَعَالَی عَنْہُ فَأَتَاہُ فَقَالَ:مِنْ أَیْنَ الرَّجُلُ؟ قَالَ:مِنَ الْیَمَنِ قَالَ:فَمَا فَعَلَ عَدُوُّ اللہِ بِصَاحِبِنَا الَّذِی حَرَّقَہُ بِالنَّارِ فَلَمْ تَضُرَّہُ؟ قَالَ:ذَاکَ عَبْدُ اللہِ بْنُ ثَوْبٍ قَالَ:نَشَدْتُکَ بِاللہِ أَنْتَ ہُوَ؟ قَالَ:اللہُمَّ نَعَمْ قَالَ:فَقَبَّلَ مَا بَیْنَ عَیْنَیْہِ ثُمَّ جَاء َ بِہِ حَتَّی أَجْلَسَہُ بَیْنَہُ وَبَیْنَ أَبِی بَکْرٍ وَقَالَ:الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی لَمْ یُمِتْنِی مِنَ الدُّنْیَا حَتَّی أَرَانِی فِی أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ فُعِلَ بِہِ کَمَا فُعِلَ بِإِبْرَاہِیمَ خَلِیلِ الرَّحْمَنِ عَلَیْہِ السَّلَامُ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناشرحبیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مسیلمہ نے اپنی قوم کو اپنے جھنڈے تلے جمع کرنے کیلئے اور اپنی نبوت کا گرویدہ بنانے کیلئے انہیں کئی پابندیوں سے آزاد کردیا تاکہ وہ اسلام کو چھوڑ کر اس کے حامی بن جائیں۔ اس سے نماز کی فرضیت ساقط کردی۔ شراب اور زنا کو حلال کردیا۔ اسود عنسی نے اپنی نبوت کا دعویٰ یمن کے شہر صنعاء سے کیا۔ اس نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو ابو مسلم خولانی ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس طلب کیا۔ ان سے کہا کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ انہوں نے ٹالتے ہوئے کہا کہ میں سنتا نہیں ہوں۔ دوسرا سوال اس نے ابو مسلم خولانی رضی اللہ عنہ سے یہ کیا۔ کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمدﷺ خدا کے رسول ہیں۔ انہوں نے فوراً کہا ہاں میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد مصطفیﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اس نے یکے بعد دیگرے تین بار یہ دونوں سوال دہرائے۔ آپ نے ہر بار اس کو وہی پہلا جواب دیا۔ اس نے اپنے عقیدت مندوں کو ایندھن جمع کرکے آگ بھڑکانے کا حکم دیا۔ جب آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے تو اس نے حکم دیا کہ حضرت سیدنا ابو مسلم خولانی رضی اللہ عنہ کو رسی میں باندھ کر اس بھڑکتی ہوئی آگ میں پھینک دیا جائے۔ اس کے حکم کی تعمیل کی گئی۔ لیکن لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان لپکتے ہوئے شعلوں نے ان کا بال بھی بیگا نہ کیا۔ جو لباس انہوں نے پہنا ہوا تھا، وہ بھی صحیح سلامت تھا۔ اس کا رنگ بھی تبدیل نہ ہوا۔ اسود عنسی کے مشیروں نے اسے حضرت سیدناابو مسلم خولانی رضی اللہ عنہ کو فوراً نکال دینے کا مشورہ دیا۔ چنانچہ ان کو وہاں سے نکال دیا گیا۔ جب یہ واقعہ رونما ہوا حضورتاجدارختم نبوتﷺ کا وصال شریف ہو چکا تھا اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بن چکے تھے۔ حضرت سیدناابو مسلم خولانی رضی اللہ عنہ مدینہ تشریف لائے۔ مسجد نبویﷺ کے دروازے پر اپنے اونٹ کو بٹھایا اور اندر جاکر نماز کی نیت باندھ لی۔ حضرت سیدناعمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا۔ جب حضرت سیدناابو مسلم رضی اللہ عنہ نماز ادا کر چکے تو حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے پوچھا آپ کون ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں اہل یمن سے ہوں۔حضرت سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا۔ ہمارے اس بھائی کا کیا حال ہے جس کو اس جھوٹے نبی نے آگ کے الائو میں پھینکا تھا۔ انہوں نے جواب دیا:میں وہی ہوں۔ حضرت سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے دریافت کیا ،کیا واقعی تم وہی شخص ہو۔ انہوں نے جواب دیا بخدا میں وہی ہوں حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے انہیں سینے سے لگا لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ انہیں اپنے ہمراہ لے کر حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بٹھا دیا، پھر کہا خدا تعالی کا شکر ہے، جس نے مجھے مرنے سے پہلے اس شخص کی زیارت کا شرف بخشا ہے، جس کو حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام کی طرح آگ میں ڈالا گیا، لیکن آگ نے اس کا بال بھی بیکا نہ کیا۔ (حلیۃ الأولیاء وطبقات الأصفیاء :أبو نعیم أحمد بن عبد اللہ بن أحمد بن إسحاق بن موسی بن مہران الأصبہانی (۲:۱۲۹)

مختصرتذکرہ جنگ یمامہ

مسیلمہ کذاب کاحقیقی نام مسیلمہ بن حبیب تھا، عرب میںحضورتاجدارختم نبوتﷺکی ظاہری زندگی میں ہی نبوت کے مدعی کے طور پر سامنے آیا۔آپﷺ کی زندگی میں یہ معاملہ جیسے تیسے چلتا رہا، مسیلمہ نے آپﷺ کو مکتوب بھی لکھا اور اپنی نبوت میں شریک کرنے کو کہا جسے آپ ﷺنے یکسر مسترد کیا اور اس کا علمی رد کر کے اسے کذاب ثابت کیا۔ آپ ﷺکے وصال شریف کے بعد خلیفہ اول حضرت سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں جب مسلمان دیگر مرتدین کے خاتمے میں مصروف تھے اس دوران مسیلمہ اپنا دعویٰ نبوت عام کرنے میں مصروف رہا اور اس نے اتنی طاقت حاصل کر لی کہ اس کا چالیس ہزار کا لشکر یمامہ کی وادیوں میں پھیل گیا۔ اس نے باقاعدہ خلافت کی عملداری کو چیلنج کیا اور بغاوت پر اتر آیا اور اپنی نبوت نہ ماننے والوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ چنانچہ اس کی سرکوبی ناگزیر ہو گئی تھی۔ حضرت سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مسیلمہ کے مقابلے کے لیے حضرت سیدناعکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ کو یمامہ کی طرف روانہ کیا اور حضرت سیدناعکرمہ رضی اللہ عنہ کی مدد کے لیے حضرت سیدنا شرحبیل رضی اللہ عنہ کو بھی روانہ کیا۔ حضرت سیدناشرحبیل رضی اللہ عنہ کے پہنچنے سے قبل ہی حضرت سیدناعکرمہ رضی اللہ عنہ نے لڑائی کا آغاز کر دیا لیکن انہیں شکست ہوئی۔ اس عرصے میں حضرت سیدناشرحبیل رضی اللہ عنہ بھی مدد کو آ پہنچے لیکن دشمن کی قوت بہت بڑھ چکی تھی۔ مسیلمہ کی نبوت کی تائید بنی حنیفہ نے بھی کی اس وقت ان کا بہت زور تھا۔ حضرت سیدناشرحبیل رضی اللہ عنہ نے بھی پہنچتے ہی دشمن سے مقابلہ شروع کر دیا لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ اس عرصے میں حضرت سیدناخالد بن ولیدرضی اللہ عنہ دیگر مرتدین سے نمٹ چکے تھے۔ حضرت سیدناابو بکررضی اللہ عنہ نے انہیں حضرت سیدناعکرمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدناشرحبیل رضی اللہ عنہ کی مدد کے لیے یمامہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا۔حضرت سیدناخالد بن ولیدرضی اللہ عنہ اپنا لشکر لے کر یمامہ کی طرف روانہ ہوئے۔ مسیلمہ بھی حضرت سیدناخالدرضی اللہ عنہ کی روانگی کی اطلاع سن کر مقابلے کی تیاریوں میں مصروف ہوا اور یمامہ سے باہر صف آرائی کی۔ مسلمانوں کے لشکر کی تعداد تیرہ ہزار تھی۔ فریقین میں نہایت سخت مقابلہ ہوا۔ پہلا مقابلہ بنو حنیفہ سے ہوا۔ اسلامی لشکر نے اس دلیری سے مقابلہ کیا کہ بنو حنیفہ بد حواس ہو کر بھاگ نکلے اور مسیلمہ کے باقی آدمی ایک ایک کر کے حضرت سیدناخالد رضی اللہ عنہ کی فوجوں کا نشانہ بنتے رہے۔ جب مسیلمہ نے لڑائی کی یہ صورت حال دیکھی تو وہ اپنے فوجیوں کے ساتھ جان بچا کر بھاگ نکلا اور میدان جنگ سے کچھ دور ایک باغ میں پناہ لی لیکن مسلمانوں کو تو اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑنا تھا اس لیے حضرت سیدناخالد بن ولیدرضی اللہ عنہ نے باغ کا محاصرہ کر لیا۔ باغ کی دیوار اتنی اونچی تھی کہ اس کو کوئی بھی پار نہیں کر سکتا تھا۔ اس وقت ایک صحابی حضرت سیدنا زید بن قیس رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ کو فرمایا میں یہ دیوار پار کر کے تمہارے لیے دروازے کو کھول دوں گاا گر تم میرے لیے ایک اونچی سیڑھی بنا دو حضرت سیدناخالد بن ولید رضی اللہ عنہ راضی ہو گئے۔ اگلے دن حضرت سیدنازید بن قیس رضی اللہ عنہ سیڑھی کے ساتھ باغ میں اتر گئے۔ تب مسیلمہ کذاب نے اپنے فوجیوں کو حکم دیا کہ اس کو قتل کر دو۔ تب اس کے فوجیوں نے حضرت سیدنازید بن قیس رضی اللہ عنہ کے ساتھ لڑائی شروع کردی۔ لڑائی میں حضرت سیدنا زید بن قیس رضی اللہ عنہ کا کندھا کٹ گیا۔ پھر بھی انہوں نے دروازے کو کھول دیا۔ ادھر مسلمان صف بندی کرچکے تھے۔ مسلمان یا محمدﷺکا نعرہ لگاتے ہوئے اندر داخل ہونا شروع ہو گئے اور ایک دفعہ پھر گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی۔ اچانک حضرت سیدنا خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ نیزہ لے کر مسیلمہ کو پکارنے لگے،یا عدو اللہ!اور مسیلمہ پر پھینک دیا، مگر اس کے محافظوں نے ڈھال بن کر اس کو بچالیا۔ اس وقت اس کے محافظ غیر حتمی طور پر اسے چھوڑ کے چلے گئے۔ پھر اسے حضرت سیدناحمزہ رضی اللہ عنہ کوشہیدکرنے والے حضرت سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ(جو مسلمان ہوچکے تھے)نے ایسا نیزہ مارا کہ مسیلمہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ اس طرح انہوںنے حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا کفارہ ادا کیا۔اس کے لشکر کے نصف آدمی مارے گئے۔ تقریباً یمامہ کے ہر گھر میں صف ماتم بچھ گئی۔ جنگ کے خاتمے کے بعدحضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اہل یمامہ سے صلح کرلی۔ یہ جنگ جنگ یمامہ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ مسیلمہ کذاب اور دیگر جھوٹے مدعیان نبوت کے خاتمے سے اسلامی سلطنت کے لیے ایک بہت بڑے خطرے کا خاتمہ ہو گیا جس میں اہم کردار حضرت سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ کی دینی و سیاسی بصیرت کا تھا۔ اسلام کو انتشار سے بچانے کے لیے یہ آپ کا نہایت اہم کارنامہ ہے۔ یہ حضرت سیدناصدیق اکبررضی اللہ عنہ کا عہد خلافت ہے۔ یمامہ کے میدان میں بارہ سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی لاشیں بکھری پڑی ہیں۔ کسی کا سرتن سے جدا ہے۔ کسی کا سینہ چرا ہوا ہے۔ کسی کا پیٹ چاک ہے۔ کسی کی آنکھیں نکلی ہوئی ہیں۔ کسی کی ٹانگ نہیں ہے۔ کسی کا ہاتھ نہیں ہے۔ کسی کا بازو کندھوں سے جدا ہے۔ کسی کی ٹانگ جسم سے الگ پڑی ہے اور کسی کا جسد ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا ہے۔ یہ بارہ سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے خون میں نہا کر یمامہ کے میدان میں اس شان سے چمک رہے ہیںکہ چرخ نیلوفری پہ چمکنے والے ستارے انہیں دیکھ کر رشک کررہے ہیں۔ یوں محسوس ہورہا ہے کہ آسمانی ہدایت سے ایک کہکشاں زمین پر اتر آئی ہے۔یہ کون لوگ ہیں؟ اہل دنیا!یہ وہ لوگ ہیں ۔ جنہیں حضورتاجدارختم نبوتﷺنے اپنی آغوش نبوت میںلے کر پروان چڑھایا۔ جو مکتب نبوت محمدیہﷺ کے فارغ التحصیل تھے۔ جن کے سینوں میں ایمان اور قرآن خودحضورتاجدارختم نبوتﷺنے اتارا تھا۔ جنہیں اس دنیامیں ہی رب العزت نے جنت کی سند جاری کردی تھی۔ جو اس مرتبے کے مالک ہیں کہ آج کی پوری امت مل کر بھی ان میں سے کسی ایک کے برابر نہیں ہوسکتی ۔ یہ شہداء جو شہادت کی سرخ قبا پہنے استراحت فرما رہے ہیں۔ ان میں سے سات سو حفاظ قرآن ہیں۔ ستر بدری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں جو کفرواسلام کے پہلے معرکہ غزوئہ بدر میں اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لے کر حضورتاجدارختم نبوتﷺکے پرچم تلے میدان بدر میں اترے تھے۔ اہل دنیا!یہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے دامن کے پھول تھے جو یمامہ کے میدان میں شہید ہوگئے یہ حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی جھولی کے موتی تھے جو یمامہ کے میدان میں شہیدہوگئے۔ یہ حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی پچھلی راتوں کے آنسو تھے جو خاک یمامہ میں جذب ہوگئے۔ اے افراد ملت اسلامیہ!ان عظیم ہستیوںنے کس مسئلہ کے لیے پردیس میں جا کر اپنی جانیں نچھاور کیں؟ کس مسئلہ کے لئے انہوں نے اپنی شمشیروں کو بے نیام کیا اور گھوڑوں پر بیٹھ کر بجلی کی سرعت سے یمامہ کی طرف لپک گئے؟ ہائے افسوس! صد افسوس۔ وہ مسئلہ جسے آج ہم نے منبر و محراب سے نکال دیا ہے۔ جو ہمارے دینی مدارس کے نصاب میں شامل نہیں ہے۔ جو ہمارے اداروں اورنجی محافل میں بیان نہیں کیاجاتایعنی مسئلہ ختم نبوت۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے اعلان ِنبوت سے لے کرحضورتاجدارختم نبوتﷺکے وصال شریف تک تیس سال کے لگ بھگ جو عرصہ بنتا ہے، اس میں جتنے غزوات ہوئے۔ جتنی جنگیں ہوئیں۔ جتنے تبلیغی وفود دھوکہ سے شہید کیے گئے۔ اور کفار کے مظالم سے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہوتے رہے ان کی کل تعداد۲۵۹ہے یعنی حضورتاجدارختم نبوتﷺکے مبارک زمانے میں اسلام کے لیے جو کل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہوئے ان کی تعداد۲۵۹اور صرف مسئلہ ختم نبوت کے لیے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہوئے ان کی تعداد بارہ سو ہے۔ جن میں سے سات سو حفاظ قرآن ہیں۔ جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے پاس چالیس ہزار جنگجوئوں کا لشکر تھا۔ مال و دولت کے بھی ڈھیر تھے۔ ادھر مسلمان حضورتاجدارختم نبوتﷺکے وصال شریف کے سبب غم سے نڈھال تھے۔ طرح طرح کے فتنے کھڑے ہوگئے تھے۔ حالات انتہائی نامساعد تھے۔ مدینہ منورہ کی نوزائیدہ ریاست کو ہر طرف سے خطرہ تھا۔ لیکن سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی ختم نبوت پر ڈاکہ زنی کو برداشت نہ کیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حضرت سیدناصدیق اکبررضی اللہ عنہ تو زندہ ہو ںاور ان کے حبیب کریمﷺ کی مسند نبوت پر کوئی بدطینت بیٹھنے کی ناپاک جسارت کرے۔

مجاہدختم نبوت حضرت سیدنافیروز الدیلمی رضی اللہ عنہ مجاہدختم نبوت کاذکربارگاہ ختم نبوت میں

عن ابن عمر:أتی الخبر إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ السَّمَاء ِ اللَّیْلَۃَ الَّتِی قُتِلَ فِیہَا الْعَنْسِیُّ لِیُبَشِّرَنَا، فَقَالَ:قُتِلَ الْعَنْسِیُّ الْبَارِحَۃَ قَتَلَہُ رَجُلٌ مُبَارَکٌ مِنْ أَہْلِ بَیْتٍ مُبَارَکِینَ، قِیلَ: وَمَنْ؟ قَالَ: فَیْرُوزُ فَیْرُوزُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ جس رات اسودعنسی قتل ہوااسی رات کو ہمیں خوشخبری دینے کے لئے آسمان سے حضورتاجدارختم نبوتﷺکوخبرملی توآپﷺنے فرمایاکہ گزشتہ شب عنسی کذاب قتل ہوگیاہے اوراسے بابرکت آدمی نے قتل کیاہے جوبابرکت اہل بیت سے ہے ، عرض کی گئی یارسول اللہ ﷺ!وہ کون شخص ہے ؟ آپ ﷺنے فرمایا: فیروزرضی اللہ عنہ ۔ (تاریخ الخمیس فی أحوال أنفس النفیس:حسن بن محمد بن الحسن الدِّیار بَکْری (۲:۱۵۶)

اذان ختم نبوت

فَاتَّفَقُوا عَلَی أَنَّہُ إِذَا کَانَ الصَّبَاحُ یُنَادُونَ بِشِعَارِہِمُ الَّذِی بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ الْمُسْلِمِینَ، فَلَمَّا کَانَ الصَّبَاحُ قَامَ أَحَدُہُمْ، وَہُوَ قَیْسٌ عَلَی سُورِ الْحِصْنِ فَنَادَی بِشِعَارِہِمْ، فَاجْتَمَعَ الْمُسْلِمُونَ وَالْکَافِرُونَ حَوْلَ الْحِصْنِ، فَنَادَی قَیْسٌ وَیُقَالُ:وَبَرُ بْنُ یحنش، الأذان:أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولَ اللَّہِ، وَأَنَّ عَبْہَلَۃَ کَذَّابٌ، وَأَلْقَی إِلَیْہِمْ رَأْسَہُ فَانْہَزَمَ أَصْحَابُہُ وَتَبِعَہُمُ النَّاسُ یَأْخُذُونَہُمْ وَیَرْصُدُونَہُمْ فِی کُلِّ طَرِیقٍ یَأْسِرُونَہُمْ، وَظَہَرَ الْإِسْلَامُ وَأَہْلُہُ۔ ترجمہ :حافظ ابن کثیرالمتوفی : ۷۷۴ھ)رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اسود عنسی کوقتل کرنے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس بات پراتفاق کیاکہ جب صبح ہوگی تواس نشان امتیاز کے ساتھ آواز دیں گے جوان کے اورمسلمانوں کے درمیان مقررہے اورجب صبح ہوئی توحضرت سیدناقیس رضی اللہ عنہ نے اسودعنسی کے قلعے کی دیوارپرکھڑے ہوکرآواز دی تواہل اسلام اورمنکرین ختم نبوت سب کے سب جمع ہوگئے اورحضرت سیدناقیس رضی اللہ عنہ نے یاحضرت سیدناوبررضی اللہ عنہ نے اذان دی جب {أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولَ اللَّہ}پڑھایعنی میں گواہی دیتاہوں کہ محمدﷺاللہ تعالی کے سچے رسول ہیں توساتھ ہی یہ پڑھا{وَأَنَّ عَبْہَلَۃَ کَذَّاب}اوریہ بھی گواہی دیتاہوں کہ اسود عنسی کذاب، جھوٹاہے، ملعون ہے ۔یہ کہہ کراس کذاب کاسراس کے ماننے والوں کے اوپرپھینک دیاتواس کے اصحاب کوشکست ہوئی اوراہل اسلام نے ان کوپکڑنے کے لئے ان کاتعاقب کیااورہرراستے میں ان کی گھات لگائی اورانہیں قیدی بنالیااوراسلام اوراہل اسلام غالب آگئے ۔ (البدایۃ والنہایۃ:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۶:۳۱۱)

ختم نبوت کے دفاع کے لئے حضورتاجدارختم نبوتﷺکاخطوط لکھنا

وَجَاء َ إِلَیْہِمْ وَإِلَی مَنْ بِالْیَمَنِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ کُتُبُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَأْمُرُہُمْ بِقِتَالِ الْأَسْوَدِ، فَقَامَ مُعَاذٌ فِی ذَلِکَ، وَقَوِیَتْ نُفُوسُ الْمُسْلِمِینَ، وَکَانَ الَّذِی قَدِمَ بِکِتَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَبَرُبْنُ یُحَنَّسَ الْأَزْدِیُّ، قَالَ جِشْنَسُ الدَّیْلَمِیُّ:فَجَاء َتْنَا کُتُبُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَأْمُرُنَا بِقِتَالِہِ، إِمَّا مُصَادَمَۃً أَوْ غِیلَۃً یَعْنِی إِلَیْہِ، وَإِلَی فَیْرُوزَ وَدَاذَوَیْہِ وَأَنْ نُکَاتِبَ مَنْ عِنْدَہُ دِینٌفَعَمِلْنَا فِی ذَلِکَ، فَرَأَیْنَا أَمْرًا کَثِیفًا۔ ترجمہ :امام عز الدین ابن الأثیرالمتوفی : ۶۳۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب اسودعنسی ملعون نے نبوت کادعوی کیاتواسی دوران ہی حضورتاجدارختم نبوتﷺنے حضرت موت اوریمن کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف خط روانہ فرمائے ، جس میں ان کو اسود عنسی کے خلاف جنگ کرنے کاحکم دیاگیاتھا، لہذااس مقصدکوپوراکرنے کے لئے حضرت سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اوراس سے اہل اسلام کے دل مضبوط ہوگئے ، حضورتاجدارختم نبوت ﷺکاخط مبارک حضرت سیدناوبربن یحنس ازدی رضی اللہ عنہ لے کرآئے تھے حضرت سیدنادیلمی رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ ہمارے پاس حضورتاجدارختم نبوتﷺکے کئی خطوط آئے ، جن میں یہ حکم شریف تھاکہ ہم اہل اسلام سے خط وکتابت کریں۔ ہم نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی دی ہوئی ہدایات پرعمل کیا۔ (الکامل فی التاریخ:أبو الحسن علی بن أبی الکرم الجزری، عز الدین ابن الأثیر (۲:۱۹۹)

حضرت سیدنافیروز الدیلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث شریف

حَدَّثَنَا ہَیْثَمُ بْنُ خَارِجَۃَ أَخْبَرَنَا ضَمْرَۃُ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی عَمْرٍو عَنِ ابْنِ فَیْرُوزَ الدَّیْلَمِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیُنْقَضَنَّ الْإِسْلَامُ عُرْوَۃً عُرْوَۃً کَمَا یُنْقَضُ الْحَبْلُ قُوَّۃً قُوَّۃً۔ ترجمہ :حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ارشاد فرمایا: ایک وقت ایسا بھی ضرور آئے گا جب اسلام کی رسی کا ایک ایک دھاگہ نکال نکال کر توڑ دیا جائے گا جیسے عام رسی کو ریزہ ریزہ کردیا جاتا ہے۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۲۹:۵۷۳)

مجاہدختم نبوت حضرت سیدناعبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ

وفی أیام ابن الزبیر کان خروج المختار الکذاب الذی ادعی النبوۃ، فجہز ابن الزبیر لقتالہ، إلی أن ظفر بہ فی سنۃ سبع وستین وقتلہ، لعنہ اللہ. ترجمہ :امام عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی المتوفی : ۹۱۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناعبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ کے ایام میں مختارکذاب نے نبوت کادعوی کردیاتھا، حضرت سیدناعبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ نے اس کے ساتھ قتال کے لئے لشکرتیارکیایہاں تک کہ اس کو ۶۷ھجری میں پکڑلیااوراس کو قتل کردیا، اللہ تعالی کی اس ملعون پرلعنت ہو۔ (تاریخ الخلفاء :عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی:۱۶۲) اللہ تعالی روافض کوذلیل ورسواکرے انہوںنے کوفہ کی جامع مسجد میں اس کامزاربنایاہواہے اوراس پرمنوں کے حساب سے سونالگایاہے ، فقیرجب بغدادشریف حاضرہواتوجامع مسجد کوفہ کی زیارت کے لئے حاضرہواتوبہت سے لوگوں کومنع کیاکہ اس ملعون کی قبرپرنہ جاناوہ مدعی نبوت تھا۔

مامون رشیدکامدعی نبوت کو جیل ڈالنا

یُرْوَی أن رجلاً ادَّعَی النبوۃ فی زمن المأمون، فأمر بہ فَوُضِع فی السجن، وبعد عدۃ أشہر ظہر رجل آخر یدعی النبوۃ، فرأی المأمون أن یواجہ کل منہما الآخر، فأحضر المدعی الأول وقال لہ: إن ہذا الرجل یدَّعی أنہ نبی، فماذا تقول فیہ؟ قال:ہو کذاب؛ لأننی لم أرسل أحداً فارتقی إلی منزلۃ الألوہیۃ، لا مجدر أنہ نبی. ترجمہ :الامام محمد متولی الشعراوی المتوفی : ۱۴۱۸ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ مروی ہے کہ مامون الرشیدکے دورمیں ایک شخص نے نبوت کادعوی کردیا، مامون رشیدنے اس کو قیدکردیا، کئی مہینے گزرنے کے بعد ایک اورشخص نے نبوت کادعوی کردیا، مامون نے دونوں کو بلایااورآمنے سامنے بٹھایااورپہلے شخص کوکہاکہ یہ شخص بھی نبوت کادعوی کررہاہے تم اس کے بارے میں کیاکہتے ہو؟ تو اس نے کہاکہ میں نے تواس کو رسول نہیں بنایا، جھوٹاہے ۔ نعوذباللہ من ذلک ، وہ شخص پہلے مدعی نبوت تھا، جیل جانے کے بعد ترقی کرکے خدابن بیٹھااوروہ اپنے آپ کو اس لائق نہیں جانتاتھاکہ وہ نبی ہے۔ (تفسیر الشعراوی:محمد متولی الشعراوی (۱۹:۱۰۵۸) (۴۹۹ھ )کامجاہدختم نبوت أنہ ظہر فیدخلت سنۃ تسع وتسعین واربعمائۃ المحرم رجل بسواد نہاوند ادعی النبوۃ، وتبعہ خلق من الرستاقیۃ، وباعوا أملاکہم ودفعوا إلیہ أثمانہا، وکان یہب جمیع ما معہ لمن یقصدہ، وسمی أربعۃمن أصحابہ أبا بکر وعمر وعثمان وعلی، وکان یدعی معرفۃ النجوم والسحر،وقتل بنہاوند. ترجمہ :امام جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد الجوزی المتوفی : ۵۹۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ سنہ (۴۹۹ھ) میں ایک شخص نے جونہاوندکے دیہات میں رہنے والاتھانبوت کادعوی کردیا، الرستاقیہ کے لوگوں میں سے بہت سے لوگوں نے اس کی اتباع کرلی اورانہوںنے اپنے گھربیچ کراوراپنے سامان فروخت کرکے سب کچھ اس کو ہبہ کردیااوراس ذلیل نے اپنے چیلوں کے نام ابوبکر، عمرعثمان وعلی رکھے ہوئے تھے اوروہ دعوی کرتاتھاکہ اسے علم النجوم اورجادومیں مہارت ہے اوریہ بھی نہاوندمیں قتل کردیاگیا۔ (منتظم فی تاریخ الأمم والملوک:جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد الجوزی (۱۷:۹۵)

مجاہد ختم نبوت حبیب بن عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ

رَجُلًا اسْمُہُ عَاصِمُ بْنُ جَمِیلٍ، (وَکَانَ قَدِ ادَّعَی النُّبُوَّۃَ وَالْکَہَانَۃَ، فَبَدَّلَ الدِّینَ وَزَادَ فِی الصَّلَاۃِ وَأَسْقَطَ ذِکْرَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَذَانِ، وَدَخَلَ عَاصِمٌ وَمَنْ مَعَہُ الْقَیْرَوَانَ، فَاسْتَحَلَّتْ وَرْفَجُومَۃُ الْمُحَرَّمَاتِ، وَسَبَوُا النِّسَاء َ وَالصِّبْیَانَ، وَرَبَطُوا دَوَابَّہُمْ فِی الْجَامِعِ وَأَفْسَدُوا فِیہِ ثُمَّ سَارَ عَاصِمٌ یَطْلُبُ حَبِیبًا وَہُوَ بِقَابِسَ فَأَدْرَکَہُ وَاقْتَتَلُوا، وَانْہَزَمَ حَبِیبٌ إِلَی جَبَلِ أُورَاسَ فَاحْتَمَی بِہِ، وَقَامَ بِنُصْرَۃِ مَنْ بِہِ، وَلَحِقَ بِہِ عَاصِمٌ فَالْتَقَوْا وَاقْتَتَلُوا، فَانْہَزَمَ عَاصِمٌ وَقُتِلَ ہُوَ وَأَکْثَرُ أَصْحَابِہِ۔ ترجمہ 🙁 ۱۲۶ھ)میں عاصم بن جمیل نامی ملعون نے نبوت کادعوی کیااوراس نے دین متین کوبدل کررکھ دیااوراس نے درود میں اضافہ کردیااوراذان میں سے حضورتاجدارختم نبوتﷺکااسم شریف نکال دیا، عاصم اوراس کے ساتھی قیروان میں داخل ہوئے اوروہاں کے محرمات کوحلال کرلیا، عورتوں ، لڑکوں اورلڑکیوں کو قیدکرلیا، جانوروں کو جامع مسجد میں باندھ دیا، حضرت سیدناحبیب بن عقبہ بن نافع رحمہ اللہ تعالی اس کے خلاف برسرپیکارہوئے اوراس کواوراس کے بہت سے ساتھیوں کوقتل کردیا۔ (الکامل فی التاریخ: أبو الحسن علی بن أبی الکرم محمد الشیبانی الجزری، عز الدین ابن الأثیر(۴:۴۲۶)

مجاہد ختم نبوت المتوکل علی اللہ

وَفِیہَا ظَہَرَ بِسَامَرَّا رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ مَحْمُودُ بْنُ الْفَرَجِ النَّیْسَابُورِیُّ، فَزَعَمَ أَنَّہُ نَبِیٌّ، وَأَنَّہُ ذُو الْقَرْنَیْنِ، وَتَبِعَہُ سَبْعَۃٌ وَعِشْرُونَ رَجُلًا، وَخَرَجَ مِنْ أَصْحَابِہِ بِبَغْدَاذَ رَجُلَانِ بِبَابِ الْعَامَّۃِ، وَآخَرَانِ بِالْجَانِبِ الْغَرْبِیِّ، فَأُتِیَ بِہِ وَبِأَصْحَابِہِ الْمُتَوَکِّلَ، فَأَمَرَ بِہِ فَضُرِبَ (ضَرْبًا شَدِیدًا، وَحُمِلَ إِلَی بَابِ الْعَامَّۃِ، فَکَذَّبَ نَفْسَہُ، وَأَمَرَ أَصْحَابُہُ أَنْ یَضْرِبُوہُ)کُلُّ رَجُلٍ مِنْہُمْ عَشْرَ صَفَعَاتٍ، فَفَعَلُوا، وَأَخَذُوا لَہُ مُصْحَفًا فِیہِ کَلَامٌ قَدْ جَمَعَہُ، وَذَکَرَ أَنَّہُ قُرْآنٌ، وَأَنَّ جِبْرَائِیلَ نَزَلَ بِہِ، ثُمَّ مَاتَ مِنَ الضَّرْبِ فِی ذِی الْحِجَّۃِ، وَحُبِسَ أَصْحَابُہُ، وَکَانَ فِیہِمْ شَیْخٌ یَزْعُمُ أَنَّہُ نَبِیٌّ، وَأَنَّ الْوَحْیَ یَأْتِیہِ۔ ترجمہ 🙁 ۲۳۵ھ) میں سامراشہرمیں ایک شخص ظاہرہواجس کومحمودبن فرج نیشاپوری کہتے تھے ، اس کاگمان تھاکہ میں نبی ہوں اورذوالقرنین ہوں ، ستائیس لوگ اس کے متبعین تھے ، اس کے ساتھیوں میں سے آدمیوںنے بغدادمیں باب عامہ پراوردوسرے دوآدمیوںنے باب مغربی میں خروج کیا۔ محمود اوراس کے ساتھی متوکل کے پاس پکڑکرلائے گئے ، متوکل نے اس کو مارنے کاحکم دیا، محمودکوبہت زیادہ ماراگیااوراس کو باب العامہ پرلایاگیا، اس نے وہاں کھڑے ہوکراپنے آپ کو جھوٹاتسلیم کیااورمتوکل نے اس کے ساتھیوں کوحکم دیاکہ اس کو دس دس تھپڑمارو، چنانچہ ان سب نے اپنے جھوٹے نبی کو دس دس تھپڑمارے ، اس کاایک مصحف ملا، جس میں کچھ باتیں لکھی ہوئی تھیں ، وہ کہتاتھاکہ یہ میراقرآن ہے ، جبریل علیہ السلام اسے میرے پاس لاتے ہیں ، اس کے بعد اس کو بہت زیادہ ماراگیایہاں تک کہ وہ اسی مارکی وجہ سے ذوالحجہ میں مرگیااوراس کے ساتھی قیدکردیئے گئے ، ان میں ایک بوڑھاآدمی تھاجوا س کے نبی ہونے کی گواہی دیتاتھااورکہتاتھاکہ اس پر وحی آتی ہے ۔ (الکامل فی التاریخ: أبو الحسن علی بن أبی الکرم محمد الشیبانی الجزری، عز الدین ابن الأثیر(۶:۱۲۵)

مجاہدختم نبوت حضرت ابوعلی بن محمدرحمہ اللہ تعالی

فِی ہَذِہِ السَّنَۃِ ظَہَرَ بِبَاسِنْدَ مِنْ أَعْمَالِ الصَّغَانِیَانِ رَجُلٌ ادَّعَی النُّبُوَّۃَ، فَقَصَدَہُ فَوْجٌ بَعْدَ فَوْجٍ، وَاتَّبَعَہُ خَلْقٌ کَثِیرٌ، وَحَارَبَ مَنْ خَالَفَہُ، فَقَتَلَ خَلْقًا کَثِیرًا مِمَّنْ کَذَّبَہُ، فَکَثُرَ أَتْبَاعُہُ مِنْ أَہْلِ الشَّاشِ خُصُوصًا.وَکَانَ صَاحِبُ حِیَلٍ وَمَخَارِیقَ، وَکَانَ یُدْخِلُ یَدَہُ فِی حَوْضٍ مَلْآنَ مَاء ً، فَیُخْرِجُہَا مَمْلُوء َۃً دَنَانِیرَ، إِلَی غَیْرِ ذَلِکَ مِنَ الْمَخَارِیقِ، فَکَثُرَ جَمْعُہُ، فَأَنْفَذَ إِلَیْہِ أَبُو عَلِیِّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُظَفَّرِ جَیْشًا، فَحَارَبُوہُ وَضَیَّقُوا عَلَیْہِ، وَہُوَ فَوْقَ جَبَلٍ عَالٍ، حَتَّی قَبَضُوا عَلَیْہِ وَقَتَلُوہُ، وَحَمَلُوا رَأْسَہُ إِلَی أَبِی عَلِیٍّ، وَقَتَلُوا خَلْقًا کَثِیرًا مِمَّنِ اتَّبَعَہُ وَآمَنَ بِہِ، وَکَانَ یَدَّعِی أَنَّہُ مَتَی مَاتَ، عَادَ إِلَی الدُّنْیَا، فَبَقِیَ بِتِلْکَ النَّاحِیَۃِ جَمَاعَۃٌ کَثِیرَۃٌ عَلَی مَا دَعَاہُمْ إِلَیْہِ مُدَّۃً طَوِیلَۃً، ثُمَّ اضْمَحَلُّوا وَفَنَوْا. ترجمہ 🙁 ۲۲۲ھ) میں طغانیان کے علاقہ میں سے مقام باسندمیں ایک شخص نے نبوت کادعوی کردیا، تویکے بعد دیگرے بہت سے لوگ اس کے پاس آنے لگے اوربہت سے لوگوں نے اس کی اتباع کرلی اوراہل اسلام کو اس کے ساتھ جنگ کرنے کی نوبت آئی ، بہت سے اہل اسلام قتل ہوئے ، اورخصوصاًمقام شاش کے لوگوں نے اس کی پیروی کرلی اوروہ بہت حیلے اورخرق عادت کام کیاکرتاتھا، بھرے ہوئے پانی کے حوض میں ہاتھ داخل کرتاتودیناروں سے بھراہواہاتھ باہرنکالتا، اس کی جماعت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا، توحضرت سیدناابوعلی بن محمدبن مظفررحمہ اللہ تعالی نے وہاں اس کے مقابلے کے لئے لشکربھیجا، جنہوںنے اس کے ساتھ جنگ کی اورحالات جنگ پیداکردئیے، وہ ایک بلندپہاڑ پرچڑھاہواتھا، وہاں اسے پکڑکرقتل کیااوراس کاسرحضرت ابوعلی بن محمدرحمہ اللہ تعالی کے پاس لے آئے ، اس کے بہت سے متبعین کو قتل کردیاگیا، اس کے متعلق یہ دعوی کیاجاتاتھاکہ وہ مرنے کے بعد پھردنیامیں واپس آئے گا۔ بہت سے لو گ اس بات پررہے جس کااس نے دعوی کیاتھایعنی اس کی نبوت کے قائل رہے ، ایک عرصہ تک یہ لوگ رہے پھرآہستہ آہستہ سارے کے سارے لوگ مرگئے ۔ (الکامل فی التاریخ:أبو الحسن علی بن أبی الکرم محمد الشیبانی الجزری، عز الدین ابن الأثیر(۷:۲۵)

دباوند کے مجاہدختم نبوت کاایک مدعی نبوت کذاب کو قتل کرنا

وَفِیہَا خَرَجَ بِنَاحِیَۃِ دُنْبَاوَنْدَ رَجُلٌ ادَّعَی النُّبُوَّۃَ، فَقُتِلَ، وَخَرَجَ بِأَذْرَبِیجَانَ رَجُلٌ آخَرُ یَدَّعِی أَنَّہُ یُحَرِّمُ اللُّحُومَ وَمَا یَخْرُجُ مِنَ الْحَیَوَانِ، وَأَنَّہُ یَعْلَمُ الْغَیْبَ، فَأَضَافَہُ رَجُلٌ أَطْعَمَہُ کِشْکِیَّۃً بِشَحْمٍ، فَلَمَّا أَکَلَہَا قَالَ لَہُ: أَلَسْتَ تُحَرِّمُ اللَّحْمَ وَمَا یَخْرُجُ مِنَ الْحَیَوَانِ، وَأَنَّکَ تَعْلَمُ الْغَیْبَ؟ قَالَ:بَلَی قَالَ:فَہَذِہِ الْکِشْکِیَّۃُ بِشَحْمٍ، وَلَوْ عَلِمْتَ الْغَیْبَ لَمَا خَفِیَ عَلَیْکَ ذَلِکَ، فَأَعْرَضَ النَّاسُ عَنْہُ۔ ترجمہ :(۳۴۴ھ) میں دباوندکے شہرمیں ایک شخص نے نبوت کادعوی کردیاتواسے قتل کردیاگیا۔ اوراسی طرح آذربائیجان میں بھی ایک شخص نے نبوت کادعوی کیااوراس نے حیوان سے نکلنے والی تمام اشیاء کوحرام قراردیااورگوشت کو بھی حرام قراردیااوراس کادعوی تھاکہ وہ علم غیب جانتاہے ، ایک شخص نے اس کی دعوت کی تواس کو چربی سے بناحلوہ کھلادیا، پھر اس سے پوچھاکہ تیرادعوی ہے کہ جانورکاگوشت اوراس کے جسم سے نکلنے والی ہرچیز حرام ہے اورتوغیب کاعلم جانتاہے ؟ اس نے کہاکہ ہاں۔ میزبان نے کہاکہ میں نے تجھے چربی سے بناحلوہ کھلایاہے توتجھے پتہ تونہیں چلا؟ اس پرتمام لوگ جواس کے پیروکارہوئے اس سے پھرگئے ۔ (الکامل فی التاریخ:أبو الحسن علی بن أبی الکرم محمد الشیبانی الجزری، عز الدین ا

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh