صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2625 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورۃ الفرقان آیت ۸۔۹۔۱۰۔وَقَالُوْا مَالِ ہٰذَا الرَّسُوْلِ بان تَکُوْنُ لَہ جَنَّۃٌ یَّاْکُلُ مِنْہَا وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,111

سوال (Question):

تفسیر سورۃ الفرقان آیت ۸۔۹۔۱۰۔وَقَالُوْا مَالِ ہٰذَا الرَّسُوْلِ بان تَکُوْنُ لَہ جَنَّۃٌ یَّاْکُلُ مِنْہَا وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

حضورتاجدارختم نبوتﷺکے فقراختیاری کے بیان میں دلائل واضحہ اورکفارکے رد میں واضح براہین

{وَقَالُوْا مَالِ ہٰذَا الرَّسُوْلِ باَں تَکُوْنُ لَہ جَنَّۃٌ یَّاْکُلُ مِنْہَا وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّارَجُلًا مَّسْحُوْرًا}(۸){اُنْظُرْ کَیْفَ ْکُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ لَوْ لَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَلَکٌ فَیَکُوْنَ مَعَہ نَذِیْرًا }(۷){اَوْ یُلْقٰٓی اِلَیْہِ کَنْزٌ اضَرَبُوْا لَکَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا}(۹){تَبٰرَکَ الَّذِیْٓ اِنْ شَآء َ جَعَلَ لَکَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِکَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ وَیَجْعَلْ لَّکَ قُصُوْرًا }(۱۰) ترجمہ کنزالایمان:اور بولے اس رسول کو کیا ہوا کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے کیوں نہ اُتارا گیا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کہ ان کے ساتھ ڈر سُناتا۔یا غیب سے انہیں کوئی خزانہ مل جاتا یا ان کا کوئی باغ ہوتا جس میں سے کھاتے اور ظالم بولے تم تو پیروی نہیں کرتے مگر ایک ایسے مرد کی جس پر جادو ہوا۔اے محبوب دیکھو کیسی کہاوتیں تمہارے لیے بنارہے ہیں تو گمراہ ہوئے کہ اب کوئی راہ نہیں پاتے۔بڑی برکت والا ہے وہ کہ اگر چاہے تو تمہارے لیے بہت بہتر اس سے کردے جنتیں جن کے نیچے نہریں بہیں اور کردے تمہارے لیے اُونچے اُونچے محل۔ ترجمہ ضیاء الایمان :اور کافروں نے اعتراض کیا:اس رسول کو کیا ہوا؟ کہ یہ کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے،اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہ اُتاردیا گیا جو اس کے ساتھ (لوگوں کو)ڈرانے والا ہوتا؟یا اس کی طرف کوئی (غیبی)خزانہ ڈال دیا جاتا یا اس کا کوئی باغ ہوتا جس میں سے یہ کھاتا؟ اور ظالموں نے کہا:تم تو پیروی نہیں کرتے مگر ایک ایسے مرد کی جس پر جادو ہوا۔اے حبیب کریمﷺ !دیکھیں آپ ْﷺ کے لئے کیسی مثالیں بیان کررہے ہیں تو یہ گمراہ ہوگئے ہیں کہ اب انہیں کسی راہ کی طاقت نہیں۔اللہ تعالی بڑی برکت والا ہے جو اگر چاہے تو تمہارے لیے اس سے بہتر بنا دے، وہ باغات جن کے نیچے نہریں جاری ہوںاور تمہارے لئے بلندو بالا محلات بنادے۔ شان نزول أَنَّ سَادَتَہُمْ عُتْبَۃَ بْنَ رَبِیعَۃَ وَغَیْرَہُ اجْتَمَعُوا مَعَہُ فَقَالُوا:یَا مُحَمَّدُ! إِنْ کُنْتَ تُحِبُّ الرِّیَاسَۃَ وَلَّیْنَاکَ عَلَیْنَا، وَإِنْ کُنْتَ تُحِبُّ الْمَالَ جَمَعْنَا لَکَ مِنْ أَمْوَالِنَا، فَلَمَّا أُبَیٌّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ رَجَعُوا فِی بَابِ الِاحْتِجَاجِ مَعَہُ فَقَالُوا:مَا بَالُکَ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّہِ تَأْکُلُ الطَّعَامَ، وَتَقِفُ بِالْأَسْوَاقِ! فَعَیَّرُوہُ بِأَکْلِ الطَّعَامِ، لِأَنَّہُمْ أَرَادُوا أَنْ یَکُونَ الرَّسُولُ مَلَکًا، وَعَیَّرُوہُ بِالْمَشْیِ فِی الْأَسْوَاقِ حِینَ رَأَوُا الْأَکَاسِرَۃَ وَالْقَیَاصِرَۃَ وَالْمُلُوکَ الْجَبَابِرَۃَ یَتَرَفَّعُونَ عَنِ الْأَسْوَاقِ، وَکَانَ عَلَیْہِ السَّلَامُ یُخَالِطُہُمْ فِی أَسْوَاقِہِمْ، وَیَأْمُرُہُمْ وَیَنْہَاہُمْ، فَقَالُوا:ہَذَا یطلب أن یتملک علینا، فمالہ یُخَالِفُ سِیرَۃَ الْمُلُوکِ، فَأَجَابَہُمُ اللَّہُ بِقَوْلِہِ، وَأَنْزَلَ عَلَی نَبِیِّہِ:وَما أَرْسَلْنا قَبْلَکَ مِنَ الْمُرْسَلِینَ إِلَّا إِنَّہُمْ لَیَأْکُلُونَ الطَّعامَ وَیَمْشُونَ فِی الْأَسْواقِ فَلَا تَغْتَمَّ وَلَا تَحْزَنْ، فَإِنَّہَا شَکَاۃٌ ظَاہِرٌ عَنْکَ عَارُہَا۔ ترجمہ :امام أبو محمد عبد الحق بن غالب بن عبد الرحمن بن تمام بن عطیۃ الأندلسی المحاربی:۵۴۲ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ عتبہ بن ربیعہ اوراس کے ساتھی حضورتاجدارختم نبوتﷺکوملے اورعرض کیا: اے محمدﷺ!اگرآپ ﷺسرداری کوپسندکرتے ہیں توہم آپ کوحاکم بنادیتے ہیں ، اگرآپﷺمال کو پسندکرتے ہیں تو توہم اپنے اموال میں سے آپ کے لئے مال جمع کردیتے ہیں ، جب حضورتاجدارختم نبوتﷺنے انکارکیاتووہ حجت بازی کی طرف لوٹ آئے ، انہوںنے کہاکہ کیاوجہ ہے کہ آپ کھاناکھاتے ہیں اوربازاروں میں جاتے ہیں جبکہ آپ اللہ تعال کے رسول ہیں ، انہوںنے حضورتاجدارختم نبوتﷺکوکھانے اورپینے پرعاردلائی کیونکہ انہوںنے یہ اندازہ کیاتھاکہ رسول توفرشتہ ہوتاہے ، بازارمیں چلنے پرعاردلائی جب انہوںنے کسری اورقیصراورجابربادشاہوں کو دیکھاکہ وہ توبازاروں میں گھومتے پھرتے ہیں ۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺبازاروں میں انہیں ملتے جلتے اوران کو توحیدورسالت کی دعوت دیتے اورشرک سے منع کرتے تھے ، انہوںنے کہاکہ یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارے بادشاہ بن جائیں توپھربادشاہوں کے طریقے کی کیوں مخالفت کرتے ہیں، اللہ تعالی نے ان کافروں کو جواب دیااوریہ آیت کریمہ نازل فرمائی{وَما أَرْسَلْنا قَبْلَکَ مِنَ الْمُرْسَلِینَ إِلَّا إِنَّہُمْ لَیَأْکُلُونَ الطَّعامَ وَیَمْشُونَ فِی الْأَسْواقِ}اورفرمایاکہ اے حبیب کریمﷺ!آپ غم نہ کریں اورغمگین نہ ہوں ، یہ ایساعیب ہے جس کی عارآپ ﷺسے دورکردی گئی ہے ۔ (تفسیرابن عطیہ:أبو محمد عبد الحق بن غالب بن عبد الرحمن بن تمام بن عطیۃ الأندلسی المحاربی (۴:۲۰۱)

حضورتاجدارختم نبوتﷺکی ذات اقدس پراعتراض کی وجہ سے ایمان سے محروم ہوگئے

قال بعض الأکابر وقد أبطلوا الاستعداد بالاعتراض والإنکار علی النبوۃ فحرموا من الوصول الی اللہ تعالی ۔ ترجمہ :اکابرین کرام علیہم الرحمہ فرماتے ہیں کہ ان مشرکین نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی ذات اقدس پراعتراض کیاتواس وجہ سے استعداد ازلی کھوبیٹھے اوراسی وجہ سے وہ اللہ تعالی کی بارگاہ تک پہنچنے سے بھی محروم ہوگئے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۶:۱۹۸) آج جولوگ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی احادیث شریفہ اوردین متین کے مسائل پراعتراضات کرتے ہیں ان کے ایمان کاکیابنے گا؟

کافرحضورتاجدارختم نبوتﷺکودیکھنے سے محروم رہے

یشیر الی ان الکفار صم بکم عمی فہم لا یعقلون لانہم نظروا الی الرسول بنظر الحواس الحیوانیۃ وہم بمعزل من الحواس الروحانیۃ والربانیۃ فما رأوا منہ الا ما یری من الحیوان وما رأوہ بنظر یری بہ النبوۃ والرسالۃ لیعرفوہ انہ ما کان محمد أبا أحد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین فلہذا قال تعالی {وَتَراہُمْ یَنْظُرُونَ إِلَیْکَ وَہُمْ لا یُبْصِرُونَ}وذلک لانہ لہم قلوب لا یفقہون بہا النبوۃ والرسالۃ ولہم أعین لا یبصرون بہا الرسول والنبی ولہم آذان لا یسمعون بہا القرآن لیعلموا انہ معجزۃ الرسول فیؤمنوا بہ ۔ ترجمہ:الشیخ العلامۃ محمد الأمین بن عبد اللہ الأرمی العلوی الہرری الشافعی رحمہ اللہ تعالی تاویلات نجمیہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ کافرگونگے ، بہرے ہیں اسی لئے وہ کچھ بھی نہیں سمجھتے ، اس لئے کہ انہوںنے حضورتاجدارختم نبوتﷺکوعام انسانوں کودیکھنے والی نظرسے دیکھا، وہ حواس روحانیہ اورربانیہ سے بہت زیادہ دورتھے ، انہوںنے وہی دیکھاجیسے عام انسان کو دیکھاجاتاہے لیکن ان کے پاس وہ نگاہ نہ تھی جس سے نبوت ورسالت کودیکھاجاتاہے ، اگروہ اسی نگاہ سے دیکھتے تویقیناانہیں حضورتاجدارختم نبوتﷺکی نبوت ورسالت کاعلم ہوجاتا۔ اللہ تعالی نے فرمایاکہ {ما کان محمد أبا أحد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین }( نہیں ہیں محمدﷺتمھارے مردوں میں سے کسی کے بات لیکن وہ اللہ تعالی کے رسول اورخاتم النبیین ہیں ) اسی لئے اللہ تعالی نے ان کے لئے فرمایا: {(وَتَراہُمْ یَنْظُرُونَ إِلَیْکَ وَہُمْ لا یُبْصِرُونَ}(اورآپ ﷺانہیں دیکھ رہے ہیں کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن وہ دیکھ نہیں سکتے ) ان کی حالت بھی ناگفتہ بہ تھی کیونکہ ان کے قلوب توتھے لیکن ان میں نبوت ورسالت کوسمجھنے کے لئے مادہ نہ تھا، اوران کی آنکھیں توتھیں لیکن وہ ان سے حضورتاجدارختم نبوتﷺکونہیں دیکھ سکتے تھے ، ان کے کان توتھے لیکن ان سے قرآن کریم نہیں سن سکتے تھے ، جب علم کے جملہ آلات کی جان ان کے ہاں نہیں تھی توپھرانہیں کیامعلوم کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکون ہیں اوران کے کمالات ومعجزات کیسے ہیں ؟۔ (تفسیر حدائق الروح والریحان :الشیخ العلامۃ محمد الأمین بن عبد اللہ الأرمی العلوی الہرری الشافعی(۱۹:۴۸۳)

گستاخوں کے اعتراض کی وجہ ؟

قال بعضہم مثلوک بالمسحور والفقیر الذی لا یصلح ان یکون رسولا والناقص عن القیام بالأمور إذ طلبوا ان یکون معک مثلک ۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی :۱۱۲۷ھ)رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ کفارنے حضورتاجدارختم نبوتﷺکومسحوراورفقیرکے ساتھ مماثلت دی کہ جیسے مسحورنبوت رسالت کااہل نہیں ہوتا، ایسے ہی آپ ﷺنبوت ورسالت کے اہل نہیں ہیں ( نعوذ باللہ من ذلک)اورجیسے فقیرناقص ہوتاہے کہ وہ اپنے امورمعاش کوسرانجام نہیں دے سکتاایسے ہی آپﷺ(معاذاللہ ) اسی لئے ان کامطالبہ تھاکہ آپ ﷺکے ساتھ کوئی اورمعاون ہوجونبوت ورسالت کے امورسرانجام دے سکے۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۶:۱۹۸)

سارامکہ شہرسونے کابنادیاجائے؟

عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ وَبِہَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ:عَرَضَ عَلَیَّ رَبِّی لِیَجْعَلَ لِی بَطْحَاء َ مَکَّۃَ ذَہَبًا، قُلْتُ:َا یَا رَبِّ وَلَکِنْ أَشْبَعُ یَوْمًا وَأَجُوعُ یَوْمًا أَوْ قَالَ ثَلَاثًا أَوْ نَحْوَ ہَذَا فَإِذَا جُعْتُ تَضَرَّعْتُ إِلَیْکَ وَذَکَرْتُکَ، وَإِذَا شَبِعْتُ شَکَرْتُکَ وَحَمِدْتُکَ ہَذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:میرے رب تعالی نے مجھ پر اس بات کو پیش کیاکہ مکہ کی کنکریلی زمین کو سونا بنادے لیکن میں نے عرض کی:نہیں اے میرے رب!میں توچاہتاہوں کہ ایک دن آسودہ رہوں اور ایک دن بھوکا ، یافرمایا:تین دن، یا اسی کے مانندکچھ اورفرمایا، پس جب میں بھوکا رہوں گا توتیرے لیے عاجزی اور مسکنت ظاہر کروں گا اور تجھے یاد کروں گا، اور جب آسودہ رہوں گا تو تیرا شکر اداکروں گا اور تیری حمد بجالاوں گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:یہ حدیث حسن ہے۔ (سنن الترمذی:محمد بن عیسی بن سَوْرۃ بن موسی بن الضحاک، الترمذی، أبو عیسی (۴:۵۷۴)

زمین کے سارے خزانوں کی چابیاں دی گئیں

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ:أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الکَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، فَبَیْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِیتُ بِمَفَاتِیحِ خَزَائِنِ الأَرْضِ، فَوُضِعَتْ فِی یَدِی قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ:وَقَدْ ذَہَبَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ تَنْتَثِلُونَہَا۔ ترجمہ :حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:مجھے جامع کلمات دے کر بھیجا گیا ہے اور رعب کے ذریعے سے میری مدد کی گئی ہے۔ ایک دفعہ میں سورہا تھا کہ میرے پاس زمین کے خزانوں کی چابیاں لائی گئیں اور میرے ہاتھ میں دے دی گئیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:حضورتاجدارختم نبوتﷺدنیا سے تشریف لے گئے اور اب تم وہ خزانے نکال رہے ہو۔ ( صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (ا:۳۷۱) آنے والے مسافروں، سائلوں، یتیموں اور غریبوں کو اونٹوں کی قطاریں، بکریوں سے بھری ہوئی وادیاں، سونے کے ڈھیر اور مال و دولت کے انبار بخشتے رہتے تھے۔ جود و سخا کا یہ عالم دیکھ کر لوگ منہ میں انگلیاں دبا لیتے اور حیرت زدہ رہ جاتے تھے۔ مگر اس سخا پیشہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے اپنے گھر کی حالت یہ تھی کہ دودو ماہ تک چولہے میں آگ نہیں جلتی تھی۔ ایک دفعہ یہی بات حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھانجے حضرت سیدناعروہ رضی اللہ عنہ کو بتائی تو وہ دنگ رہ گئے اور عرض کی :خالہ جان!پھر آپ گزر اوقات کس طرح کرتے تھے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا :کھجور اور پانی پر گزر بسر ہوتی تھی، ہمارے ہمسائے میں انصار کے بڑے ملنسار گھرانے آباد تھے، وہ عموماً دودھ کا تحفہ بھیجتے رہتے تھے، اس دودھ سے بھی کام چل جاتا تھا۔

حضورتاجدارختم نبوتﷺکے فقرکواختیارفرمانے کی وجوہات

یقول الفقیر عصمہ اللہ القدیر کان علیہ السلام من اہل الإکسیر الأعظم والحجر المکرم فان شأنہ علی من شأن سائر الأنبیاء من کل وجہ وقد أوتوا ذلک العلم والشریف وعمل بہ بعضہم کادریس وموسی ونحوہما علی ما فی کتب الصناعۃ الحجریۃ لکنہ علیہ السلام لم یلتفت الیہ ولم یعمل بہ ولو عمل بہ لجعل مثل الجبال ذہبا ولملک مثل ملک کسری وقیصر لانہ لیس بمناف للحکمۃ بالکلیۃ فان بعض الأنبیاء قد أوتوا فی الدنیا مع النبوۃ ملکا عظیما وانما اختار الفقر لنفسہ لوجوہ أحدہا انہ لو کان غنیا لقصدہ قوم طمعا فی الدنیا فاختار اللہ لہ الفقر حتی ان کل من قصدہ علم الخلائق انہ قصدہ طلبا للعقبی. والثانی ما قیل ان اللہ اختار الفقر لہ نظر القلوب الفقراء حتی یتسلی الفقیر بفقرہ کما یتسلی الغنی بمالہ والثالث ما قیل ان فقرہ دلیل علی ہوان الدنیا علی اللہ تعالی کما قال علیہ السلام (لو کانت الدنیا تزن عند اللہ جناح بعوضۃ ما سقی کافرا منہا شربۃ ماء )فاللہ تعالی قادر علی ان یعطیہ ذلک الذی عیروہ بفقدہ وما ہو خیر من ذلک بکثیر ولکنہ یعطی عبادہ علی حسب المصالح وعلی وفق المشیئۃ ولا اعتراض لاحد علیہ فی شیء من أفعالہ فیفتح علی واحد أبواب المعارف والعلوم ویستدّ علیہ أبواب الدنیا وفی حق الآخر بالعکس من ذلک۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکومحفوظ رکھا، آپ ﷺاکسیراعظم اورقیمتی ہیرے ہیں ، آپ ﷺکی شان دوسرے تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے ہرہرلحاظ سے اعلی ہے اوردوسرے انبیاء کرام علیہم السلام بھی اکسیرکاعلم دیئے گئے ، ان کے بعض نے اس پرعمل کیا، مثلاًحضرت سیدناادیس علیہ السلام اورحضرت سیدناموسی علیہ السلام جوانہوںنے اپنی کتابوں سے اکسیرکاعلم پڑھااوراسے عمل میں لائے لیکن ہمارے حضورتاجدارختم نبوتﷺنے اس کی طرف توجہ ہی نہ فرمائی ، اگرآپ ﷺعمل میں لاتے توبظاہرآپ کے لئے کسری کی طرح سونے کے پہاڑ ہوتے اورآپ ﷺقیصروکسری کی طرح ظاہری بادشاہ ہوتے کیونکہ یہ نبوت کے بالکل منافی بھی نہیں ہے ، اس لئے بعض انبیاء کرام علیہم السلام کونبوت کے ساتھ بہت بڑی بادشاہت عطاہوئی جیسے حضرت سیدناسلیمان علیہ السلام ۔

حضورتاجدارختم نبوتﷺنے اپنے لئے فقرکوپسندفرمایااس کی کئی وجوہات ہیں :

(۱)…اگرحضورتاجدارختم نبوتﷺمالداری کو پسندفرماتے توآپ ﷺکے ہاں لوگ دنیوی طمع کی وجہ سے آتے ، اللہ تعالی نے اپنے حبیب کریم ﷺکوفقرکااختیاردیاتاکہ جو بھی آپ ﷺکے ہاں حاضرہوخالصتاًدین اسلام کے لئے ہی حاضرہو۔ (۲)…اللہ تعالی نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکوفقرکااختیاردیاتاکہ فقراء ومساکین کے قلوب کوتسکین نصیب ہوکہ جب انہیں تنگ دستی اورفقرستائے تووہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے فقرکویادکرکے تسلی پائیں جیسے دولت مندکومال ودولت سے سکون ملتاہے ۔ (۳)…اللہ تعالی نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکوفقرکااختیاردیاتاکہ لوگوں کو تنبیہ ہوکہ دنیاکامال اللہ تعالی کے نزدیک نہایت ہی ذلیل اوربیکارشئی ہے ، ورنہ اگریہ اچھی چیز ہوتی تواللہ تعالی کافرکومکھی کے پرکے برابربھی دنیاکامال نہ دیتااورنہ ہی اسے پانی کاایک گھونٹ ملتاورنہ اللہ تعالی اس بات پرقادرتھاکہ جس وقت کافروں نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکوفقرکاطعنہ دیاتوآپ ﷺکودنیوی مال ودولت سے مالامال کردیتالیکن چونکہ مال ایک گندی چیز تھی ، اس لئے حضورتاجدارختم نبوتﷺکوکافروں کی طرف سے فقرپرطعنہ کی وجہ سے مال دینے کے بجائے خوشخبری سنائی کہ میں نے جو کچھ آپ ﷺکے لئے آخرت کاسرمایہ تیارکیاہے وہ اس سے کروڑ گنا بہتروبرترہے ۔ یہ بھی یادرہے کہ جن حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اوراولیاء کرام علیہم الرحمہ پرمال ودولت کی فراوانی تھی ان پربھی طعن وتشنیع نہ کی جائے ، اس لئے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کواپنے ارادہ ومشیت اوربتقاضائے حکمت ومصلحت مال ودولت عطافرماتاہے ، ورنہ اس قادرمطلق کاقانون ہے کہ جس پرمعارف وعلوم کے درازے کھول دیتاہے اس سے دونیوی مال ودولت کے دروازاے بندفرمادیتاہے ۔ دوسروں کومال دولت عطافرماتاہے توان پرعلوم ومعارف کے دروازے بندفرمادیتاہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۶:۱۹۸)

امام حسن رضی اللہ عنہ کافقراختیاری

ایک دفعہ حضرت سیدنا اِمام حسن رضی اللہ عنہُ کے گھر میں کئی دِن فقر و فاقہ کی کیفیت تھی۔آپ رضی اللہ عنہُ کی خادمہ سے یہ حالت دیکھی نہ گئی۔اس کے پاس سونے کی ایک ڈلی تھی۔وہ لے کر حضرت سیدنااِمام حسن رضی اللہ عنہُ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی کہ اسے قبول فرمائیے اور اس سے اہلِ بیت کرام رضی اللہ عنہم کی خوردونوش کی ضرورت کو پورا کیجیے۔یہ سُن کر حضرت سیدنااِمام حسن رضی اللہ عنہُ نے زور سے پاؤں زمین پر مارا تو گھر میں موجود ہر چیز سونے کی دِکھائی دینے لگی۔آپ رضی اللہ عنہُ نے خادمہ سے کہا کہ اگر تُو سمجھتی ہے کہ ہمارا فقر و فاقہ اِضطراری ہے تو یہ تیری نادانی ہے۔اگر ہم چاہیں تو دُنیا کا مال و متاع ہمارے قدموں میں ڈھیر ہو جائے۔لیکن اے بے خبر!دُنیا کی ہر چیز ہمارے نزدیک پرکاہ کی اہمیت نہیں رکھتی کہ ہمیںناناجان حضورتاجدارختم نبوتﷺکی سنت کریمہ بہرحال عزیزہے ۔(تاریخ مدینہ دمشق لامام ابن عساکر) مردانِ باصفا اور اہل حق کو خالی شکم رہنا بڑا اچھا لگتا ہے۔لیکن یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ ان کا یہ فقر اِضطراری نہیں بلکہ اِختیاری یعنی خود اِختیار کردہ ہوتا ہے۔شانِ فقر یہ ہے کہ دُنیاوی مال و اسباب پر رسائی ہوتے ہوئے اس سے ہاتھ کھینچ لیا جائے۔

فقراختیاری تھا

وَفِیہِ تَنْبِیہٌ عَلَی أَنَّ فَقْرَہُ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ مَرْضِیًّا اخْتِیَارِیًّا لَا مَکْرُوہًا اضْطِرَارِیًّا۔ ترجمہ :امام علی بن محمد، أبو الحسن نور الدین الملا الہروی القاری المتوفی: ۱۰۱۴ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس میں اس بات پرتنبیہ ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکافقراختیاری تھا، اضطراری فقرنہ تھا۔ (مرقاۃ المفاتیح :علی بن محمد، أبو الحسن نور الدین الملا الہروی القاری (۹:۷۳۳۳) اور یہی فقر محمود بھی ہے، اضطراری فقر کوئی شئی محمود نہیں ہے، اگر کسی کے پاس آنکھیں ہوں اور وہ غلط نگاہ سے بچتا ہو تو یقینا یہ محمود ہے لیکن بینائی سے محروم شخص کا بد نظری سے بچنا کون سا محمود عمل ہوگا؟

علماء کرام کافقربھی اختیاری ہوتاہے

فَقْرُ الْعُلَمَاء ِ فَقْرُ اخْتِیَارٍ وَفَقْرُ الْجُہَّالِ فَقْرُ اضْطِرَارٍ۔ ترجمہ :امام علی بن محمد، أبو الحسن نور الدین الملا الہروی القاری المتوفی: ۱۰۱۴ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ علماء کرام کا فقر اختیاری فقر ہوتا ہے جب کہ جہلا کا فقر اضطراری فقر ہوتا ہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح :علی بن محمد، أبو الحسن نور الدین الملا الہروی القاری (۱:۲۲) اس سے معلوم ہواکہ اکابر علماء کرام کا جو فقرہے وہ بھی اختیاری فقرہے کہ ان کی تنخواہوں کا تناسب کیا ہوتاہے؟۔ حضرت شیخ الحدیث مولاناحافظ عبدالستارسعیدی حفظہ اللہ تعالی کو فتاوی رضویہ شریف کی تکمیل پرچاندی میں تولاگیاپھروہی چاندی آپ کوتحفہ دی گئی مگرآپ نے اسی وقت اعلان فرمایاکہ یہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے دین کے دفاع کے لئے میری طرف سے ہدیہ ہے۔ آج بھی بڑے بڑے اجلہ علماء مدارس میں دس دس ہزارپرساراسارادن قرآن وحدیث کی تعلیم دیتے ہیں ، جس طرح ان کو حضورتاجدارختم نبوتﷺکی میراث علم ملاہے ، اسی طرح ان کو حضورتاجدارختم نبوتﷺکی شان عظیمہ میں سے یہ شان بھی ملی ہے کہ ان کو فقراختیاری کی دولت نصیب ہوئی ۔ حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ ہزاروں مربع کلو میٹر کے بے تاج بادشاہ ہیں لیکن فقر اختیار کرتے ہیں، ہندوستان میں حضرت اورنگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ تعالی جنہوں نے اکبر کے بعد سب سے بڑے رقبہ پر حکومت کی فقر کی زندگی گزارتے رہے۔

معارف ومسائل

فقر کا لفظ کانوں میں پڑتے ہی فاقہ مستی، تنگدستی اور غربت کا تصور ذہن میں آجاتا ہے اور ایک ایسا ہیولیٰ آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے جس کے ناتواں جسم پر چیتھڑے لٹک رہے ہوں، بھوک، بیماری اور بے کاری سے ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا ہو اور تن پر کوئی ڈھنگ کی چیز نہ ہو۔ یہ خستہ حال فقیر کا سراپا ہے، ایسے شخص کو لوگ فقیر اور اس کی زبوں حالی کو فقر کہتے ہیں۔ مگر روحانی کائنات میں فقر ایک قابل رشک مرتبے کا نام ہے جس پر ہمت والے خال خال خوش قسمت حضرات ہی فائز ہوتے ہیں۔ اس روحانی دنیا میں، بے نیازی، استغنا اور ہر چیز سے قطع تعلق کا نام فقر ہے، اس ہستی کو فقیرکہتے ہیں جو کائنات کی ہر شے سے بے نیاز ہوجائے اور سب سے قلبی روابط توڑ کر ایک وحدہ لاشریک کے ساتھ ناطہ جوڑ لے اور اسی کی محبت کی مہک اور روشنی سے دل کو آباد اور منور کرلے۔ جب انسان اس مرتبے پر پہنچتا ہے تو ساری کائنات اس کے قدموں میں ڈھیر ہوجاتی ہے۔ سونے کے پہاڑ اسے حسرت بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔ زر و سیم کے ڈھیر اور لعل و جواہر کے انبار اس کی ایک نگاہِ التفات کے متمنی رہتے ہیں۔ مگر وہ ان خزف ریزوں پر ایک نظر ڈالنا بھی اپنی پاکیزہ نظر کی توہین سمجھتا ہے۔ ایسے انسان کی ظاہری سادہ حالت دیکھ کر ظاہر بین لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ محتاج اور غریب ہے، مگر وہ یہ نہیں سمجھتے کہ بے نیازی اور تواضع کی بنا پر اس نے یہ حالت خود بنائی ہوئی ہے اور اس کا یہ فقر اختیاری ہے۔ حضور تاجدارختم نبوتﷺ نے بھی اختیاری فقر اپنایا ہوا تھا۔ خود بتا دیا،{ لوشئت لسارت معی جبال الذہب }یعنی اگر ہم چاہیں تو سونے کے پہاڑ ہمارے ہم رکاب رہیں اور ساتھ ساتھ چلیں۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh