Fatwa #2579
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورۃ المومنون آیت ۱۰۹تا ۱۱۱۔ اِنَّہ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
7,334
سوال (Question):
تفسیر سورۃ المومنون آیت ۱۰۹تا ۱۱۱۔ اِنَّہ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حضورتاجدارختم نبوتﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گستاخی کرناابوجہل اورابولہب کاطریقہ ہے
{اِنَّہ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ}(۱۰۹){ فَاتَّخَذْتُمُوْہُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰٓی اَنْسَوْکُمْ ذِکْرِیْ وَکُنْتُمْ مِّنْہُمْ تَضْحَکُوْنَ }(۱۱۰){اِنِّیْ جَزَیْتُہُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْٓا اَنَّہُمْ ہُمُ الْفَآئِزُوْنَ }(۱۱۱) ترجمہ کنزالایمان:بیشک میرے بندوں کا ایک گروہ کہتا تھا اے ہمارے رب ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔ تو تم نے انہیں ٹھٹھا بنالیا یہاں تک کہ انہیں بنانے کے شغل میں میری یاد بھول گئے اور تم ان سے ہنسا کرتے۔ بیشک آج میں نے ان کے صبر کا انہیں یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہیں۔ ترجمہ ضیاء الایمان : بیشک میرے بندوں کا ایک گروہ کہتا تھا:اے ہمارے رب!ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔ تو تم نے ان کامذاق اڑایا یہاں تک کہ ان لوگوںکا مذاق اڑانے نے تمہیں میری یاد بھلا دی اور تم ان سے ہنسا کرتے تھے۔ بیشک آج میں نے ان کے صبر کا انہیں یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہیں۔ یادرہے کہ ان آیات کریمہ کاتعلق پچھلے مضمون کے ساتھ ہے یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گستاخوں کی سزابھی وہی ہے جو قرآن کریم کامذاق اڑانے والوں کی تھی ۔ شان نزول قَالَ مُجَاہِدٌ:ہُمْ بِلَالٌ وَخَبَّابٌ وَصُہَیْبٌ، وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ مِنْ ضُعَفَاء ِ الْمُسْلِمِینَ، کَانَ أَبُو جَہْلٍ وَأَصْحَابُہُ یَہْزَء ُونَ بِہِمْ. ترجمہ :حضر ت سیدنامجاہد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت سیدنابلال ، حضرت سیدناصہیب اورفلاں فلاں کمزورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں ، ابوجہل اوراس کے ساتھی ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کامذاق اڑایاکرتے تھے ۔ تواللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ ان کے ردمیں اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دفاع میں نازل فرمائی ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۲:۱۵۴) سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل ہیں صحا بہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکے حوالے سے جو بھی روایات بیان کی ہیں ، اہلِ علم نے ان تمام روایات کو کھنگالا اور پرکھا تو ایک بھی صحابی ایسا نہ ملا جس نے حضورتاجدارختم نبوتﷺپر کوئی جھوٹ بولا ہو !حتیٰ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے آخری دَور میں جب قدریہ ، شیعہ ، خوارج جیسے فرقوں کی بدعات کا دَور شروع ہوا تو کوئی ایک صحابی بھی ایسا نہ ملا جو ان اقوام میں شامل ہوا ہو اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ :اللہ تعالیٰ نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی صحبت کے لیے ان کا انتخاب فرمایا اور وہ آپﷺکی رفاقتِ مبارکہ کے لیے اللہ تعالی کی پسند تھے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے قلوب مبارکہ
عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:إِنَّ اللَّہَ نَظَرَ فِی قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَیْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَاصْطَفَاہُ لِنَفْسِہِ،فَابْتَعَثَہُ بِرِسَالَتِہِ، ثُمَّ نَظَرَ فِی قُلُوبِ الْعِبَادِ بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ، فَوَجَدَ قُلُوبَ أَصْحَابِہِ خَیْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَجَعَلَہُمْ وُزَرَاء َ نَبِیِّہِ، یُقَاتِلُونَ عَلَی دِینِہِ، فَمَا رَأَی الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا، فَہُوَ عِنْدَ اللَّہِ حَسَنٌ، وَمَا رَأَوْا سَیِّئًا فَہُوَ عِنْدَ اللَّہِ سَیِّئٌ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں میں دیکھا تو ان میںحضورتاجدارختم نبوتﷺکے دل کو سب سے بہتر پایا ، اس لیے انہیں اپنے لیے چُن لیا اور انہیں منصبِ رسالت عطا کیا ، اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں دیکھا تو صحابہ کرام (رضوان اللہ عنہم اجمعین)کے دلوں کو سب سے بہتر پایا ، اس لیے انہیںاپنے نبی کریمﷺکے وزراء کا منصب عطا کر دیا جو اس کے دین کا دفاع کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۶:۸۴) اس بات کا بھی ذکر بہت ضروری ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت سے ان کا معصوم ہونا ضروری نہیں ہے ۔ اگرچہ اہل سنت و جماعت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت کے قائل ہیں لیکن ہم انہیں معصوم نہیں سمجھتے کیونکہ وہ پھر بھی بشر ہیں۔ اس عالیشان فضیلت اور بلند مرتبت کی وجہ سے اہل سنت ا یک زبان ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تمام کے تمام عادل ہیں ؛ان میں سے کسی ایک پر بھی جرح نہیں کی جاسکتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی قدر کسی بھی جرح و قدح یا عیب اور طعن سے پاک کر دی تھی۔ یہ تمام کے تمام اس امت کے سردار اور قائد ہیں ۔یہ بات اس سے بھی پتا چلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو شرف صحبت کے لیے چن لیا تھا اور پھر ان کے پاکیزہ اور پاکباز ہونے کی خبر بھی تھی۔ یہی لوگ خیر القرون تھے اور وہ بہترین امت تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی بھلائی کے لیے پیدا کیا تھا۔ اس سے بڑی تعدیل کوئی نہیں ہوسکتی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نبیﷺ کے ساتھی بنانے اور آپﷺ کی نصرت کا حق ادا کرنے کے لیے چن لیا تھا۔ اس سے بڑھ کر نہ ہی کسی کا کوئی تزکیہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس سے زیادہ کامل کسی کی کوئی تعدیل ہوسکتی ہے۔تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل ہیں
وإن کان الصحابۃ رضی اللہ عنہم قد کفینا البحث عن أحوالہم لإجماع أہل الحق من المسلمین وہم أہل السنۃ والجماعۃ علی أنہم کلہم عدول۔ ترجمہ :امام أبو عمر یوسف بن عبد اللہ بن محمد بن عبد البر بن عاصم النمری القرطبی المتوفی : ۴۶۳ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے اہل حق گروہ یعنی اہل السنۃ و الجماعۃ نے اس بات پر اجماع کیا ہے کہ صحابہ کرام سب کے سب عادل تھے۔ (الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب:أبو عمر یوسف بن عبد اللہ بن محمد بن عبد البر بن عاصم النمری القرطبی(۱:۱۹)صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان کے لئے اتناہی کافی تھا۔۔
لَوْ لَمْ یَرِدْ مِنَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِہِ فِیہِمْ شَیْء ٌ مِمَّا ذَکَرْنَاہُ لَأَوْجَبَتِ الْحَالُ الَّتِی کَانُوا عَلَیْہَا مِنَ الْہِجْرَۃِ وَالْجِہَادِ وَالنُّصْرَۃِ وَبَذْلِ الْمُہَجِ وَالْأَمْوَالِ وَقَتْلِ الْآبَاء ِ وَالْأَوْلَادِ وَالْمُنَاصَحَۃِ فِی الدِّینِ وَقُوَّۃِ الْإِیمَانِ وَالْیَقِینِ الْقَطْعَ عَلَی عَدَالَتِہِمْ وَالِاعْتِقَادَ لِنَزَاہَتِہِمْ وأَنَّہُمْ أَفْضَلُ مِنْ جَمِیعِ الْمُعَدَّلِینَ وَالْمُزَکَّیْنَ الَّذِینَ یَجِیؤُنَ مِنْ بَعْدِہِمْ أَبَدَ الْآبِدِینَ۔ ترجمہ :امام أبو بکر أحمد بن علی بن ثابت بن أحمد بن مہدی الخطیب البغدادی المتوفی : ۴۶۳ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ اگر اللہ تعالی اور حضورتاجدارختم نبوتﷺسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق کوئی چیز بھی ثابت نہ ہوتی تو بھی ٭ان کی ہجرت و نصرت٭جہاد اور انفاق فی سبیل اللہ٭دینِ حق کی خیر خواہی اور اس کی خاطر اپنی اولاد اور ماں باپ سے لڑائی کرنا٭ان کی ایمانی قوت اور یقینِ قطعی جیسی خوبیاں اس بات کا اعتقاد رکھنے کے لیے کافی ہیں کہ وہ ہستیاں ، صاف ستھری اور عادل ہیں اور وہ ان لوگوں سے کہیں بڑھ کر عادل ہیں جو ابد الاباد تک ان کے بعد آئیں گے۔ (الکفایۃ فی علم الروایۃ:أبو بکر أحمد بن علی بن ثابت بن أحمد بن مہدی الخطیب البغدادی :۴۸)صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق ائمہ اہل سنت وجماعت کے نظریات
اگر منصف انسان انتہائی انصاف پسندی کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اوصاف و خصائل و شمائل پر غور و فکر کرے گا تو پتہ چلے گاکہ حقیقت میں یہ مقدس جماعت علم و فضل،عدل و انصاف، جہاد و قتال اور خیر و بھلائی کے ہر کام میں سبقت لے گئے تھے۔یہ اپنے سے پہلے والوں پر بھی سبقت لے گئے اور بعد میں آنے والوں پر بھی اور دُوردُور تک اور رہتی دنیا تک ان کی فضیلت و برتری کا ڈنکا بجتا رہے گا۔ یہی جماعت تھی جن کی وجہ سے اسلام ہم تک پہنچا۔ہر خیر و بھلائی اورہدایت کی بات کی تعلیم اور سعادت و نجات کے حصول کا سبب یہی جماعت تھی۔ امت قیامت تک ان کے عدل و جہاد اور علم کے آثارپر کاربند رہے گی۔ کوئی بھی انسان کوئی علمی مسئلہ یا خیر و بھلائی کی بات ان کے علاوہ کہیں نہیں پاسکتا۔ یہ چیزیں تو ان کے ذریعہ سے ہی ہم تک پہنچی ہیں ۔زمین کے جس کسی کونے میں امن و امان ہے تو وہ ان کے جہاد اور فتوحات کے سبب سے ہے۔ کوئی بھی حاکم یا امام ان کی راہ چھوڑ کر عدل و انصاف سے فیصلہ نہیں کرسکتا؛ کیونکہ اس خیر و بھلائی کے امور ان تک پہنچنے میں اصل سبب یہی جماعت تھی۔یہی تو وہ لوگ تھے جنہوں نے اگر شہروں کو تلواروں سے فتح کیا تو دلوں کو ایمان سے فتح کیا۔ شہروں اور ملکوں کو عدل و انصاف سے بھر دیا۔ دلوں کو علم و ہدایت سے معمور کردیا۔ پس ان کے بعد آنے والے نیکی وبھلائی کے جتنے بھی کام کریں گے ؛ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کے ساتھ اس نیک عمل میں برابر کے شریک ہیں ۔اور ان کا یہ اجر قیامت تک بڑھتا ہی رہے گا۔ پس تمام تر تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو اپنی رحمت کے ساتھ جنہیں چاہتا ہے خاص کر دیتا ہے ۔ حضرت سیدناامیرمعاویہ رضی اللہ عنہ اورعمربن عبدالعزیزرضی اللہ عنہ میں افضل کون؟ علی ہذا جاء ما نقل عن الإمام الجلیل عبد اللہ بن المبارک ـ علیہ الرحمۃ ـ أنہ سئل فقیل لہ:یا أبا عبد الرحمن أیما أفضل معاویۃ أو عمر بن عبد العزیز؟ فقال:واللہ إن الغبار الذی دخل فی أنف فرس معاویۃ مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أفضل من عمر بألف مرۃ، صلی معاویۃ خلف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال رسول اللہ علیہ الصلاۃ والسلام سمع اللہ لمن حمدہ فقال معاویۃ رضی اللہ عنہ :ربنا ولک الحمدفما بعد ہذاالشرف الأعظم. ترجمہ :امام عبداللہ بن مبار ک رضی اللہ عنہ جن کا شمار کبار محدثین وفقہاء میں ہوتا ہے، سے دریافت کیا گیا کہ حضرت سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیزرضی اللہ عنہ(جوکہ عظیم تابعی ہیں)میں کون افضل ہے؟آپ رضی اللہ عنہ جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:اللہ کی قسم!حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی معیت میں حضرت سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی ناک کی غبارحضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ سے ہزار درجہ افضل ہے، حضرت سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ نے حضورتاجدارختم نبوتﷺ کے پیچھے نمازیں پڑھیں، آپﷺنے سمع اللہ لمن حمدہ فرمایا توحضرت سیدناامیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ربنا لک الحمد کہا ، اس کے بعد اور بڑا فضل وشرف کیا ہوگا؟۔ (الأجوبۃ العراقیۃ علی الأسئلۃ اللاہوریۃ:شہاب الدین محمود بن عبد اللہ الحسینی الألوسی :۶۳) حضرت سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ کے گستاخ پرکوڑوں کی برسات عن محمد بن مسلم عن إبراہیم بن میسرۃ قال ما رأیت عمر بن عبد العزیز ضرب إنسانا قط إلا إنسانا شتم معاویۃ فإنہ ضربہ أسواطا۔ ترجمہ :حضرت سیدناابراہیم بن میسرہ رحمہ اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ حضرت سیدنا عمربن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے کسی شخص کو ماراہو سوائے ایک شخص کے جس نے حضرت سیدناامیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی گستاخی کی تو اسے حضرت سیدناعمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ نے کئی کوڑے لگائے۔ (تاریخ دمشق:أبو القاسم علی بن الحسن بن ہبۃ اللہ المعروف بابن عساکر (۵۹:۲۱۱) امام سفیان الثوری رضی اللہ عنہ کافرمان شریف وَمِنْہُمُ الرَّافِضَۃُ الَّذِیْنَ یَتَبَرَّؤنَ مِنْ جَمِیْعِ الصَّحَابَۃِ وَیُکَفِّرُوْنَ النَّاسَ کُلَّہُمْ إِلَّا اَرْبَعَۃً عَلِیًّا وَ عَمَّارًا وَ الْمِقْدَادَ وَ سَلْمَانَ۔ ترجمہ :امام سفیان ثوری رحمہ اللہ اس گروہ کی اصناف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس گروہ میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تبرّا کرتے ہیں اور چار اصحاب علی، عمار، مقداد اور سلمان رضی اللہ عنہم کے علاوہ باقی تمام کی تکفیر کرتے ہیں ۔ (موسوعۃ مواقف السلف:أبو سہل محمد بن عبد الرحمن المغراوی(۳:۴۲۱) امام علی بن عبداللہ مدینی فرماتے ہیں وَمَنْ تَنَقَّصَ اَحَدًا مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی ا للّٰہ علیہ وسلم اَوْ اَبْغَضَہ لِحَدَثٍ کَانَ مِنْہُ اَوْ ذَکَرَ مَسَاوِئَہ فَہُوَ مُبْتَدِعٌ۔ ترجمہ :جس نے کسی بھی صحابی رسول کی تنقیص کی ، یا کسی پیش آمدہ واقعہ کی وجہ سے بغض رکھا یا ان کی برائی ذکر کی وہ بدعتی ہے۔ (اعتقاد أئمۃ السلف أہل الحدیث:محمد بن عبد الرحمن الخمیس:۶۹) امام احمدبن حنبل رضی اللہ عنہ کافرمان شریف وَمَنْ تَنَقَّصَ اَحَدًا مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی ا للّٰہ علیہ وسلم اَوْ اَبْغَضَہ لِحَدَثٍ کَانَ مِنْہُ اَوْ ذَکَرَ مَسَاوِئَہ کَانَ مُبْتَدِعًا خَارِجًا عَلَی الْجَمَاعَۃِ حَتّٰی یَتَرَحَّمَ عَلَیْہِمْ جَمِیْعًا وَیَکُوْنُ قَلْبُہ لَہُمْ بَاَجْمَعِہِمْ سَلِیْمًا۔ ترجمہ : جس نے بھی حضورتاجدارختم نبوتﷺکے کسی بھی صحابی رضی اللہ عنہ کی تنقیص کی یا ان سے واقع ہونے والے کسی حادثہ کی وجہ سے بغض رکھا یا ان کی برائی بیان کی وہ بدمذہب ہے اور جماعت سے خارج ہے ، یہاں تک کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے رحمت کی دُعا مانگے اور سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جانب سے اس کا دل سلیم ہو۔ (طبقات الحنابلۃ:أبو الحسین ابن أبی یعلی، محمد بن محمد (۱:۳۱۱)صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گستاخ کاذبیحہ کھاناحرام ہے
أَحْمد بن یُونُس وَأَبُو بکر بن ہَانِء وَقَالا لَا تُؤْکَل ذَبَائِحہم لأَنہم مرتدون۔ ترجمہ :حضرت سیدنااحمدبن یونس اورابوبکربن ہانی فرماتے ہیں جوشخص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گستاخی کرے ان کاذبح کیاہواجانورنہیں کھایاجائے گاکیونکہ وہ لوگ مرتدہیں۔ (الصواعق المحرقہ:أحمد بن محمد بن علی بن حجر الہیتمی السعدی شیخ الإسلام، أبو العباس (ا:۱۴۲):گستاخ کاجنازہ پڑھناجائز نہیں ہے
وَقَالَ أَبُو یعلی الْحَنْبَلِیَ وَقد قطع طَائِفَۃ من الْفُقَہَاء من أہل الْکُوفَۃ وَغَیرہم وَسُئِلَ عَمَّن شتم أَبَا بکر قَالَ کَافِر قیل یصلی عَلَیْہِ قَالَ لَا۔ ترجمہ :حضرت سیدناابویعلی الحنبلی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اہل کوفہ کے فقہاء نے قطعیت کے ساتھ فتوی جاری فرمایاہے کہ جو شخص حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی گستاخی کرے وہ کافرہے ، جب ان سے یہ پوچھاگیاکہ اس کاجنازہ پڑھاجائے گا؟ توانہوںنے فرمایاکہ نہیں ایسے شخص کاجنازہ پڑھناجائز نہیں ہے۔ (الصواعق المحرقہ:أحمد بن محمد بن علی بن حجر الہیتمی السعدی شیخ الإسلام، أبو العباس (ا:۱۴۲): امام سفیان بن عیینہ رضی اللہ عنہ کافرمان شریف مَنْ نَطَقَ فِیْ اَصْحَابِ رٍَسُوْلِ اللّٰہِ صلی ا للّٰہ علیہ وسلم بِکَلِمَۃٍ فَھُوَ صَاحِبُ ھَوٰی۔ ترجمہ :امام حسن بن علی البربہاری المتوفی : ۳۲۹ھ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام سفیان بن عیینہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:جس شخص نے حضورتاجدارختم نبوتﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے (برائی میں )ایک کلمہ بھی کہا وہ بدعتی اور خواہش پرست ہے۔ (شرح السنۃ:أبو محمد الحسن بن علی بن خلف البربہاری:۴۳۲) امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ کافرمان شریف أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ التُّسْتَرِیَّ یَقُولُ:سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَۃَ یَقُولُ: إِذَا رَأَیْتَ الرَّجُلَ یَنْتَقِصُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَّ فَاعْلَمْ أَنَّہُ زِنْدِیقٌ وَذَلِکَ أَنَّ الرَّسُولَ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَّ عِنْدَنَا حَقٌّ , وَالْقُرْآنَ حَقٌّ وَإِنَّمَا أَدَّی إِلَیْنَا ہَذَا الْقُرْآنَ وَالسُّنَنَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَّ , وَإِنَّمَا یُرِیدُونَ أَنْ یُجَرِّحُوا شُہُودَنَا لِیُبْطِلُوا الْکِتَابَ وَالسُّنَّۃَ وَالْجَرْحُ بِہِمْ أَوْلَی وَہُمْ زَنَادِقَۃٌ۔ ترجمہ :حضرت سیدنااحمدبن محمدرحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدناامام ابوزرعہ الرازی رحمہ اللہ تعالی کو فرماتے ہوئے سناکہ جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جوحضورتاجدارختم نبوتﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک کی تنقیص کرتا ہے تو جان لو وہ زندیق ہے ، اس لیے کہ ہمارے نزدیک حضورتاجدارختم نبوتﷺ حق ہیں اور قرآن بھی حق ہے اور یہ قرآن اور سنن ہمارے تک حضورتاجدارختم نبوتﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پہنچائی ہیں ، اور وہ چاہتے ہیں کہ ہمارے گواہوں کو مجروح کر دیں تاکہ کتاب و سنت کو باطل کر دیں ، ان لوگوں کا ہی مجروح ہونا زیادہ اولیٰ ہے اور یہی زنادقہ ہیں ۔ (الکفایۃ فی علم الروایۃ:أبو بکر أحمد بن علی بن ثابت بن أحمد بن مہدی الخطیب البغدادی:۴۹) بد نصیب و بدباطن ہیں وہ لوگ جو اب بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں غلط اور گمراہ کن خیالات کے حامل ہیں ۔ اس اُمت کے علماء نے ایسے گمراہ لوگوں کے پھیلائے ہوئے شبہات کا دامن دلائل و براہین کے ساتھ تار تار کر دیا ہے اور ان مہاجرین و انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دفاع کا حق ادا کر دیا۔ اب ضروری ہے کہ بڑے حکیمانہ اور ناصحانہ اسلوب کے ساتھ باطل پرستوں کے شبہات اور شکوک کا ازالہ کیاجائے اور یہ وقت کی آواز ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺ پر جانیں نچھاور کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عزت و ناموس کا دفاع کیا جائے اور اُمت مسلمہ میں تفریق و تشت ، تفسیق و تکفیر اور تبدیع و تجہیل کا باب کھولنے والوں کا سد باب کیا جائے تاکہ اُمت مسلمہ اسی منہاج قویم اور جادہ مستقیم پر گامزن ہو جائے جس پرحضورتاجدارختم نبوتﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔معارف ومسائل
(۱)ہمارا یہ تحریرلکھنے کا مقصد واللہ صرف یہ بتانا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم میں سے کسی کو بھی مطعون کرنا کتنا جرم ہے اور سخت گمراہی ہے ایسے کتنے لوگ ہیں کہ جن کاحضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بغض سے سفر شروع ہوا اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے بغض تک پہنچ گئے نعوذ باللہ من ذالک الف مرات ۔ لہٰذا جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد گمراہ نہ ہو، وہ قرآن و سنت اور دین و شریعت پر عمل پیرا رہے، یا وہ جادہء حق پر قائم اور صراطِ مستقیم پر گامزن رہے تو ان کو چاہئے کہ وہ اپنے اپنے دور کے اکابر علماء ، محققین اور خدا ترس صلحاء سے دلائل و براہین کے ساتھ اختلاف ضرور کریں، کیونکہ یہ ان کا حق ہے، مگر خدارا!ان کی توہین و تنقیص سے پرہیز کریں، کیونکہ اس سے ان کی اولادوں اور نسلوں کے بے دین اور ملحد و سیکولرولبرل ہونے کا شدید اندیشہ ہے، چنانچہ ایسی بیسیوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں کہ جن لوگوں نے اکابر علماء اور صلحا کی گستاخی یا بے ادبی کی، نہ صرف یہ کہ ان کی اولاد بے دین و گمراہ ہوگئی بلکہ ان کا انجام بھی کچھ اچھا نہیں ہوا ۔ (۲)حضورتاجدارختم نبوتﷺکی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ، اہل بیت اطہاررضی اللہ عنہم ، خلفائے راشدین اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بے ادبی و گستاخی کرنے والا کافر اور بے ایمان ہے ، اس کواسلامی عدالت میں تعزیراً سزادی جائے گی جو حد سے بھی سخت ہو سکتی ہے ۔ اسی طرح اولیاء کرام کی بے ادبی و گستاخی کرنے والا گمراہ اور بدعقیدہ ہے اس کو بھی جو مناسب ہو تعزیراً سزا دی جائے گی ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کواور ہماری نسلوں کو گستاخی اور بے ادبی سے بچنے ، اہل اللہ اور مقربین بارگاہِ الٰہی کی قدردانی کی توفیق نصیب فرمائے آمین بجاہ النبی المین الکریم ﷺ (۳)ہر وہ مسلمان جس کا دل اللہ تعالی اور حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی محبت سے لبریز ہو اس پر لازم ہے کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی محبت و الفت رکھے کیونکہ اللہ رب العزت نے اس جماعت مقدسہ پر ایسے انعامات کیے ہیں جسمیں ان کا کوئی شریک نہیں۔ اب کوئی دوسرا انسان ان کے کمال استعداد؛ وسعت علوم اور وراثت نبوی کو حاصل نہیں کر سکتا۔ (۴)ان آیات کریمہ سے معلوم ہواکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گستاخوں کے ساتھ بھی اللہ تعالی کلام نہیں فرمائے گا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گستاخ بھی دوزخ میں کتے کی طرح بھونکیں گے ۔ بحمداللہ تعالی سورۃ المومنون کااختتام ۲۸ ذوالحج ۱۴۴۱ھ/۱۹اگست ۲۰۲۰ء) بروز بدھ شریف وقت ۱ بج کر۲۰ منٹ ۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9