Fatwa #2581
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورۃ النور آیت ۴۷تا۵۲۔وَیَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللہِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِکَ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
7,652
سوال (Question):
تفسیر سورۃ النور آیت ۴۷تا۵۲۔وَیَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللہِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِکَ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حجیت حدیث پردلائل اورمنکرین کے شبہات کاازالہ
{وَیَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللہِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَمَآ اُولٰٓئِکَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ }(۴۷){وَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَی اللہِ وَ رَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ مُّعْرِضُوْنَ }(۴۸){وَ اِنْ یَّکُنْ لَّہُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْٓا اِلَیْہِ مُذْعِنِیْنَ }(۴۹){اَفِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْٓا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللہُ عَلَیْہِمْ وَ رَسُوْلُہ بَلْ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ }(۵۰){اِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَی اللہِ وَ رَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا و اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ }(۵۱){وَمَنْ یُّطِعِ اللہَ وَ رَسُوْلَہ وَ یَخْشَ اللہَ وَ یَتَّقْہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفَآئِزُوْنَ }(۵۲) ترجمہ کنزالایمان:اور کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ اور رسول پر اور حکم مانا پھر کچھ ان میں اس کے بعد پھر جاتے ہیں اور وہ مسلمان نہیں۔اور جب بلائے جائیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف کہ رسول ان میں فیصلہ فرمائے تو جبھی ان کا ایک فریق منہ پھیر جاتا ہے۔اور اگر ان کی ڈگری ہو تو اس کی طرف آئیں مانتے ہوئے۔کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا شک رکھتے ہیں یا یہ ڈرتے ہیں کہ اللہ و رسول ان پر ظلم کریں گے بلکہ وہ خود ہی ظالم ہیں۔مسلمانوں کی بات تو یہی ہے جب اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں کہ رسول ان میں فیصلہ فرمائے تو عرض کریں ہم نے سُنا اور حکم مانا او ریہی لوگ مراد کو پہنچے۔اور جو حکم مانے اللہ اور اس کے رسول کا اور اللہ سے ڈرے اور پرہیزگاری کرے تو یہی لوگ کامیاب ہیں۔ ترجمہ ضیاء الایمان : اور منافقین کہتے ہیں:ہم اللہ تعالی اور رسول کریمﷺ پر ایمان لائے اور ہم نے اطاعت کی پھر ان میں سے ایک گروہ اس کے بعد پھر جاتا ہے اوروہ درحقیقت مسلمان نہیں ہے۔اور جب انہیں (منافقین کو)اللہ تعالی اور حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول کریمﷺان کے درمیان فیصلہ فرما دیں تو اسی وقت ان میں سے ایک فریق کامنہ پھرجاتاہے۔اور اگر فیصلہ ان کے حق میں ہوجائے تو اس کی طرف خوشی خوشی جلدی سے آتے ہیں۔کیا ان کے دلوں میں مرض ہے؟ یا یہ منافقین شک میں مبتلاء ہیں ؟یا کیا وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول کریمﷺ ان پر ظلم کریں گے ؟ بلکہ وہ خود ہی ظالم ہیں۔مسلمانوں کی تو بات ہی یہی ہے کہ جب انہیں اللہ تعالی اور اس کے رسول کریمﷺ کی طرف بلایا جاتا ہے تا کہ رسول کریمﷺ ان کے درمیان فیصلہ فرمادیں تو وہ عرض کریں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی او ریہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔اور جو اللہ تعالی اور اس کے رسول کریمﷺ کی اطاعت کرے اور اللہ تعالی سے ڈرے اوراس کی نافرمانی سے ڈرے تو یہی لوگ کامیاب ہیں۔ شان نزول إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُنَافِقِینَ اسْمُہُ بِشْرٌ کَانَتْ بَیْنَہُ وَبَیْنَ رَجُلٍ مِنَ الْیَہُودِ خُصُومَۃٌ فِی أَرْضٍ، فَدَعَاہُ الْیَہُودِیُّ إِلَی التَّحَاکُمِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَکَانَ الْمُنَافِقُ مُبْطِلًا، فَأَبَی مِنْ ذَلِکَ وَقَالَ: إِنَّ مُحَمَّدًا یَحِیفُ عَلَیْنَا، فَلْنُحَکِّمْ کَعْبَ بْنَ الْأَشْرَفِ، فَنَزَلَتِ الْآیَۃُ فِیہِ۔ ترجمہ :امام محیی السنۃ ، أبو محمد الحسین بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی المتوفی : ۵۱۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی منافق جس کانام بشرتھا، اس کے اوریہودی کے مابین زمین کاجھگڑاتھا، ، یہودی نے اس منافق کو حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ میں فیصلہ کروانے کے لئے بلایا، منافق چونکہ حق پرنہ تھا، اس نے آپ ﷺکی بارگاہ میں آنے سے انکارکردیااوراس نے یہ کہاکہ نعوذباللہ محمد(ﷺ) ہم پرظلم کرتے ہیں ، ہم کعب بن اشرف یہودی کو اپناحاکم مانتے ہیں تواس کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ (تفسیر البغوی :محیی السنۃ ، أبو محمد الحسین بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی (۳:۴۲۳)جورب تعالی کے احکامات کو ترک کرکے کافروں کوحاکم مانیں وہ کافرہیں
(بَلْ أُولئِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ)أَیِ الْمُعَانِدُونَ الْکَافِرُونَ، لِإِعْرَاضِہِمْ عَنْ حُکْمِ اللَّہِ تَعَالَی۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی اللہ تعالی کے اس فرمان شریف {بَلْ أُولئِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ}کے تحت فرماتے ہیں کہ یعنی یہ معاندکافرہوگئے ہیں کیونکہ انہوںنے اللہ تعالی کے حکم شریف سے اعراض کیاہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۲:۲۹۳) فاسق وفاجرجج کی عدالت میں اگرکسی مسلمان کو طلب کیاجائے تو؟ قَالَ ابْنُ خُوَیْزِ مَنْدَادٍ:وَاجِبٌ عَلَی کُلِّ مَنْ دُعِیَ إِلَی مَجْلِسِ الحاکم أن یحیب، مَا لَمْ یُعْلَمْ أَنَّ الْحَاکِمَ فَاسِق۔ ترجمہ :امام ابن خویزمنداد رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب کسی کو قاضی اپنی عدالت میں طلب کرے تواس پرواجب ہے کہ وہ قاضی کے پاس جائے جب کہ اس کو معلوم نہ ہوکہ قاضی (جج)فاسق ہے ، اگراس کو معلوم ہواکہ جج فاسق وفاجرہے تواس پر اس کی طلب پرجاناجائز نہیں ہے ۔ (البحر المحیط فی التفسیر:أبو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان أثیر الدین الأندلسی (۳:۸۲)انصارومہاجرین رضی اللہ عنہم کاجذبہ اطاعت
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:أَخْبَرَ بِطَاعَۃِ الْمُہَاجِرِینَ وَالْأَنْصَارِ، وَإِنْ کَانَ ذَلِکَ فِیمَا یَکْرَہُونَ، أَیْ ہَذَا قَوْلُہُمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمااللہ تعالی کے اس فرمان شریف{اِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَی اللہِ وَ رَسُوْلِہٖ }کے تحت فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اس آیت کریمہ میں مہاجرین وانصارکے جذبہ اطاعت کی خبردی ہے ، وہ ہرحال میں اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکے حکم شریف کی اطاعت کرتے ہیں چاہے فیصلہ ان کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔تووہ یہی کہتے ہیں کہ {سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا}(ہم نے سنااوراطاعت کی ) (التَّفْسِیرُ البَسِیْط:أبو الحسن علی بن أحمد بن محمد بن علی الواحدی الشافعی (۱۶:۳۳۶)سنت میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکی اطاعت کی جائے گی
ذَکَرَ أَسْلَمُ أَنَّ عُمَرَ (رضی اللہ عنہ بَیْنَمَا ہُوَ قَائِمٌ فِی مَسْجِدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَإِذَا رَجُلٌ مِنْ دَہَاقِینِ الرُّومِ قَائِمٌ عَلَی رَأْسِہِ وَہُوَ یَقُولُ:أَنَا أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ. فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: مَا شَأْنُکَ ؟قَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّہِ. قَالَ: ہَلْ لِہَذَا سَبَبٌ! قَالَ:نَعَمْ! إِنِّی قَرَأْتُ التَّوْرَاۃَ وَالزَّبُورَ وَالْإِنْجِیلَ وَکَثِیرًا مِنْ کُتُبِ الْأَنْبِیَاء ِ، فَسَمِعْتُ أَسِیرًا یَقْرَأُ آیَۃً مِنَ الْقُرْآنِ جَمَعَ فِیہَا کُلَّ مَا فِی الْکُتُبِ الْمُتَقَدِّمَۃِ، فَعَلِمْتُ أَنَّہُ مِنْ عِنْدِ اللَّہِ فَأَسْلَمْتُ:قَالَ: مَا ہَذِہِ الْآیَۃُ؟ قَالَ قَوْلُہُ تَعَالَی:وَمَنْ یُطِعِ اللَّہَ فِی الْفَرَائِضِ وَرَسُولَہُ فِی السُّنَنِ وَیَخْشَ اللَّہَ فِیمَا مَضَی مِنْ عُمُرِہِ وَیَتَّقْہِ فِیمَا بَقِیَ مِنْ عُمُرِہِ:فَأُولئِکَ ہُمُ الْفائِزُونَ وَالْفَائِزُ مَنْ نَجَا مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَالَ عُمَرَ:قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:(أُوتِیتُ جوامع الکلم۔ ترجمہ :حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کے غلام حضرت سیدنااسلم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سیدنا عمررضی اللہ عنہ مسجد ِنبوی شریف میں کھڑے تھے، اسی دوران روم کے کسانوں میں سے ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا:میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد ﷺاللہ تعالیٰ کے رسولﷺ ہیں۔حضرت سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا:کیا تمہارے اسلام قبول کرنے کا کوئی خاص سبب ہے؟ اس نے عرض کی :جی ہاں۔ میں نے تورات، انجیل، زبور اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کے صحائف کا مطالعہ کیا ہوا ہے۔میں نے ایک قیدی کو قرآنِ پاک کی ایک آیت پڑھتے ہوئے سنا جو سابقہ تمام کتابوں میں دئیے گئے احکامات کی جامع ہے، اس سے میں نے جان لیا کہ قرآنِ پاک واقعی اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔حضرت سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے ا س سے دریافت فرمایا کہ وہ کون سی آیت ہے؟تو اس نے یہ آیت تلاوت کی {وَمَنْ یُّطِعِ اللہَ وَ رَسُوْلَہ وَ یَخْشَ اللہَ وَ یَتَّقْہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفَآئِزُوْنَ}اس نے کہاکہ جوشخص اس آیت کریمہ پرعمل کرتے ہوئے {وَمَنْ یُطِعِ اللَّہ} اللہ تعالی کی اطاعت اور{وَرَسُولَہُ}میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکی سنتوں کی اطاعت کرتاہے اور{وَیَخْشَ اللَّہَ}اورگزشتہ عمرکی غلطیوں پراللہ تعالی سے ڈرتاہے اور{ وَیَتَّقْہ}اورآنے والی عمرمیں گناہوں سے بچتاہے اور{فَأُولئِکَ ہُمُ الْفائِزُونَ}کامیاب وہ ہے جوآگ سے نجات پاگیااورجنت میں داخل ہوگیا۔ حضرت سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضورتاجدارختم نبوتﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے جَوَامِعُ الْکَلِمْ عطا کئے گئے ہیں۔ (التفسیر المنیر :د وہبۃ بن مصطفی الزحیلی(۱۸:۲۷۹) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جیسے ہرہرحکم شریف پرسرتسلیم خم کیاکرتے تھے اسی طرح وہ کسی بھی مسئلہ پربے جاکھودکریدبھی نہیں کیاکرتے تھے اوراگرکوئی شخص ان سے کوئی لایعنی سوال کرتاتو اس کاسوال بھی نہیں سنتے تھے ۔جیساکہ درج ذیل حدیث شریف سے معلوم ہوجائے گا۔فضول سوالات کاجواب نہ دیناضروری ہے
روی عن انس ابن مالک رضی اللہ عنہ قال اقبل یہودی بعد وفاۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حتی دخل المسجد قال این وصی محمد فاشار القوم الی ابی بکر رضی اللہ عنہ فقال اسألک عن أشیاء لا یعلمہا الا نبی او وصی نبی فقال ابو بکر سل عما بدا لک فقال الیہودی أخبرنی عما لا یعلم اللہ وعما لیس للہ وعما لیس عند اللہ فقال ابو بکر ہذا کلام الزنادقۃ۔ ترجمہ :حضرت سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی مسجد نبوی شریف میں حاضرہوااوراس نے پوچھاکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکاخلیفہ کون ہے ؟ توصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا، اس نے عرض کی کہ میں چندسوالات کرناچاہتاہوں ، جن کو اللہ تعالی کے رسول علیہ السلام جانتے ہیں یاان کاخلیفہ ۔ حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ بتائوکیاسوالات ہیں؟ اس نے کہاکہ وہ کیاچیز ہے جسے اللہ تعالی نہیں جانتا؟ اوروہ کیاچیز ہے جواللہ تعالی کے لئے نہیں ہوسکتی ؟ اوروہ کیاچیز ہے جو اللہ تعالی کے ہاں نہیں ہے ؟ حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ یہ زندیقوں والاکلام ہے ، اس لئے ان کاکوئی جواب نہیں ہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۶:۱۳) مسئلہ حدیث صریح میں مل جانے کے بعد اس پربحث گمراہی ہے البحث والتفتیش عما جاء ت بہ السنۃ بعد ما وضح سندہ یجر الباحث الی التعمق والتوغل فی الدین فانہ مفتاح الضلال لکثیر من الامۃ یعنی الذین لم یرزقوا باذہان وقادۃ وقرائح نقادۃ وما ہلکت الأمم الماضیۃ الا بطول الجدال وکثرۃ القیل والقال فالواجب ان یعض بأضراسہ علی ما ثبت من السنۃ ویعمل بہا ویدعو إلیہا ویحکم بہا ولا یصغی الی کلام اہل البدعۃ ولا یمیل إلیہم ولا الی سماع کلامہم فان کل ذلک منہی شرعا وقد ورد فیہ وعید شدید۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اہل حق علماء کرام فرماتے ہیں کہ ہروہ مسئلہ کہ جس میں حدیث صریح اوراس کی سندمضبوط ہے تواس میں مزیدکلام اورمناظرہ کرناگمراہی ہے ، اس سے دین میں کمی کے سواکچھ حاصل نہیں ہوتا، بلکہ گمراہی کی کنجی کہاجائے توبے جانہ ہوگا، اس لئے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی امت میں اکثرلوگ وہ ہیں جنہیں اذہان روشن اورطبائع صحیحہ نصیب نہیں ہیں ، اسی لئے الٹاگفتگوسے گمراہی پھیلے گی ۔ امم ماضیہ میں جتنے لوگ تباہ وبربادہوئے وہ اسی جدیدتحقیق کی بدولت ہوئے ہیں ۔ اس سے لازم ہواکہ انسان حضورتاجدارختم نبوتﷺکی سنت کریمہ پرعمل پیراہواوراس سے ایک ذرہ برابربھی ہٹنے کانام نہ لے لیکن اگروہ اسلاف کی تحقیق کے مقابلے میں اپنی جدیدتحقیقات لائے گاتوگمراہ ہوجائے گا۔اورلازم ہے کہ عوام کوحضورتاجدارختم نبوتﷺکی سنت شریفہ کی دعوت حق دے اوراسی پرفیصلہ کرے ، نت نئے فتنوں کے مذاہب اہل بدعت کی طرف توجہ نہ کرے اورنہ ہی ان کی صحبت میں بیٹھے اورنہ ہی ان کی باتیں سنے ، اسی وجہ سے ہم اہل سنت بدمذہب کی صحبت سے بچنے اوران کی بری باتیں سننے سے اجتناب کی تلقین کرتے ہیں ۔ یہ تمام باتیں شرعاًممنوع ہیں بلکہ ان کے بارے میں وعیدشدیدواردہے۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۶:۱۰)تین چیزیں لازم وملزوم ہیں
قال (وَإِنْ تُطِیعُوہُ تَہْتَدُوا)یقال ثلاث آیات نزلت مقرونۃ بثلاث لا تقبل واحدۃ منہا بغیر قرینتہا: أولاہا قولہ تعالی (وَأَقِیمُوا الصَّلاۃَ وَآتُوا الزَّکاۃَ)فمن صلی ولم یؤد الزکاۃ لم تقبل منہ الصلاۃ: والثانیۃ قولہ تعالی (أَطِیعُوا اللَّہَ وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ)فمن أطاع اللہ ولم یطع الرسول لم یقبل منہ: والثالثۃ قولہ تعالی (أَنِ اشْکُرْ لِی وَلِوالِدَیْکَ)فمن شکر اللہ فی نعمائہ ولم یشکر الوالدین لا یقبل منہ ذلک۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی: ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ بعض مشائخ کرام نے بیان کیاکہ قرآن کریم میں تین آیات کریمہ ایسی ہیں کہ ان کے دوامرآپس میں ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم ہیں یہاںتک کہ ان میںسے ایک پرعمل نہ ہوتودوسرابھی ناقابل قبول ہے ، وہ تین آیات کریمہ یہ ہیں : (۱)…{وَأَقِیمُوا الصَّلاۃَ وَآتُوا الزَّکاۃ} اس آیت کریمہ میں نماز اورزکوۃ کاحکم ہے ، اگرکوئی شخص نماز تواداکرتاہے لیکن زکوۃ کامنکرہے تواس کی نماز بھی قبول نہیں ہوتی ۔ (۲)…{أَطِیعُوا اللَّہَ وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ} اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی کی اطاعت اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی اطاعت کاحکم ہے ، اگرکوئی شخص اللہ تعالی کی اطاعت توکرتاہے لیکن حضورتاجدارختم نبوتﷺکی اطاعت کامنکرہے تواطاعت الہی اس کے منہ پرماری جائے گی ۔ (۳)…{أَنِ اشْکُرْ لِی وَلِوالِدَیْک} اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی کاشکراوروالدین کاشکراداکرنے کاحکم ہے ، اگرکوئی شخص اللہ تعالی کاشکرتوکرتاہے لیکن والدین کی شکرگزاری سے کتراتاہے تواس کااللہ تعالی کاشکراداکرنابھی قبول نہیں ہوگا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۶:۱۷۱)منکرین حدیث کا وجود حدیث شریف کی حقانیت و حجیت کی دلیل ہے
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی گروہ انکار حدیث کرتا ہے تو بعض لوگ اس انکار کو حدیث کی تنقیص سمجھتے ہیں اور حدیث کے بارے میں متزلزل ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالی گواہ ہے کہ جب کوئی گروہ انکار حدیث کرتا ہے تو ہمارے نزدیک حدیث کی عظمت مزید بڑھ جاتی ہے اور اس بارے میں ایمان پہلے سے زیادہ پختہ ہو جاتا ہے۔کیوں؟اس لیے کہ صدیوں پہلے ا لصادق و المصدوق ہمارے حضورتاجدارختم نبوتﷺنے اس کی پیشین گوئی فرمائی تھی اور ہمارا اس پر ایمان ہے کہ ایسا ہو کر رہنا ہے بلکہ ہو بھی چکا ہے۔حضورتاجدارختم نبوتﷺکافرمان عالی شان
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِی کَرِبَ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:أَلاَ ہَلْ عَسَی رَجُلٌ یَبْلُغُہُ الحَدِیثُ عَنِّی وَہُوَ مُتَّکِئٌ عَلَی أَرِیکَتِہِ، فَیَقُولُ:بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ کِتَابُ اللہِ، فَمَا وَجَدْنَا فِیہِ حَلاَلاً اسْتَحْلَلْنَاہُ وَمَا وَجَدْنَا فِیہِ حَرَامًا حَرَّمْنَاہُ، وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللہِ کَمَا حَرَّمَ اللَّہُ. ترجمہ :حضرت سیدناالمقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: عنقریب (ایسا وقت آنے والا ہے کہ)آدمی اپنے تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہوگا، اسے میری کوئی حدیث سنائی جائے گی تو وہ کہے گا:ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ تعالی کی کتاب ہے۔ ہمیں اس میں جو چیز حلال ملے گی اسے حلال سمجھیں گے اور جو چیز اس میں حرام ملے گی اسے حرام جانیں گے۔ آگاہ رہو!جو کچھ رسول اللہ ﷺنے حرام فرمایا، وہ اسی طرح حرام ہے جس طرح اللہ تعالی کا حرام کردہ ہے۔ (سنن الترمذی:محمد بن عیسی بن سَوْرۃ بن موسی بن الضحاک الترمذی، أبو عیسی (۴:۳۳۵) حضورتاجدارختم نبوتﷺکی یہ غیبی خبر حرف بحرف درست ثابت ہوئی۔ چنانچہ دوسری صدی ہجری اور تیرھویں صدی ہجری میں انکارِ حدیث کے فتنے اُٹھے۔ موخر الذکر فتنے کا مرکز برصغیر پاک و ہند ہے۔ یہاں کے منکرین حدیث میں سے بعض نے اپنے آپ کو علیٰ الاعلان ’’اہل قرآن‘‘بھی کہلوایا، جن میں زیادہ مشہور عبد اللہ چکڑالوی تھا۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تخت پوش پر تکیہ لگا کر حدیث ِنبوی ﷺکا انکار کیا کرتا تھا۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺکافرمان عبد اللہ چکڑالوی پر مکمل طور پر صادق آتاہے۔ اس کی انکارِ حدیث کی کیفیت کو اس حدیث شریف میں مکمل طورپربیان کیاگیا اہل ایمان غورفرمائیںکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکا فرمان کتنا حرف بحرف صحیح نکلا ہے بلکہ معجزہ ثابت ہوا ہے کہ عبد اللہ چکڑالوی نے’’اریکہ‘‘یعنی تخت پر بیٹھ کر (پلنگ پر بیٹھ کر)تکیہ لگائے ہوئے کہا ہے{ لاادری ما وجدنا فی کتاب اللہ اتبعناہ}میں نہیں جانتا حدیث کو، حدیث دین کی چیز نہیں ہے۔ میں تو صرف قرآن پر ہی چلوں گا۔ فتنہ انکار حدیث حضورتاجدارختم نبوتﷺکے فرمان کا مصداق ہونے کے علاوہ حجیت ِحدیث کی دلیل اور اہل ایمان کے لئے حدیث پر مزید یقین کا سبب بھی بنا۔معارف ومسائل
(۱)…قرآن کو ماننا اور احادیث کا انکار کرنا کفر ہے جو شخص حدیث کا منکر ہے وہ قرآن کا بھی منکر ہے۔ قرآن پاک میں صاف طور پر فرمایا گیا ہے{ مَنْ یُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّہَ }یعنی جو شخص اللہ تعالی کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے گا وہی اللہ تعالی کی اطاعت کرے گا۔ معلوم یہ ہوا کہ قرآن کو ماننے کے لیے حدیث کا ماننا ضرور ی ہے۔ دوسری جگہ ارشاد ہے{ أَطِیعُوا اللَّہَ وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ} یعنی اللہ تعالی کی اطاعت کرو اور اللہ تعالی کے رسول کریمﷺ کی اطاعت کرو۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کی اطاعت ضروری ہے۔ صرف قرآن ماننے والا نماز کیسے پڑھے گا۔ قرآن میں صرف {وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃ} کا حکم ہے یعنی نماز قائم کرو، اب نماز کس طرح پڑھی جائے، کیسے قرأت کی جائے اور کیسے رکوع وسجدہ کیا جائے کونسی نماز کی کتنی رکعات پڑھی جائیں، کیسے سلام پھیرا جائے یہ سب چیزیں قرآن میں نہیں ہیں، اسی طرح اگر مسلمان کا انتقال ہوجائے تو اس کو کیسے غسل دیا جائے، کس طرح کفن دیا جائے اور کس طرح نماز جنازہ پڑھی جائے اور کس طرح دفن کیا جائے یہ سب تفصیلات قرآن میں نہیں آئی ہیں اس لیے حدیث کے بغیر قرآن پر عمل کرنا ممکن نہیں۔ (۲)…واضح رہے کہ غلام احمد پرویز اور اس کے پیروکار ضروریاتِ دین، نماز، روزہ، حج، زکوۃ اور اطاعتِ رسولﷺ کے بارے میں اسلامی تعلیمات اور صریح نصوصِ قرآنیہ کے بالکل مخالف و منافی نظریات کے حامل ہیں، اور انہوں نے آیاتِ قرآنیہ کی مضحکہ خیز من چاہی تاویلات کی ہیں، جس سے یہ بات واضح ہے کہ غلام احمد پرویز اور اس کے متبعین کا دینِ محمدی سے کوئی تعلق نہیںبلکہ یہ دائرہ اسلام سے خارج اور کافر فرقہ ہے۔ (۳)…پرویزی فرقہ ، غامدی فرقہ ، لبرل وسیکولرفرقہ سے اس طور پر تعلقات رکھناکہ ایک دوسرے کی خوشی غمی میں شرکت کی جائے، جائز نہیں، اگرچہ عام کفار کے بارے میں شریعت نے اجازت دی ہے کہ پڑوس یا رشتہ داری کی بنا پر ان کی خوشی غمی میں شرکت کی جا سکتی ہے یا ان کو اپنی خوشی غمی میں مدعو کیا جاسکتا ہے، تاہم پرویزی و قادیانی فرقہ اوران کے علاوہ جتنے بھی منکرین حدیث ہیںان کے ساتھ پڑوس یا رشتہ داری ہونے کے باوجود تعلقات روا رکھنے کی اجازت نہیں، کیوں کہ یہ فرقہ دائرہ اسلام سے خارج و کافر ہو نے کے باوجود اپنے آپ کو مسلمان باور کرانے کی سعی میں نہ صرف مصروفِ عمل رہتا ہے، بلکہ اپنے علاوہ دیگر تمام حقیقی مسلمانوں کو گمراہ گردانتا ہے، لہذا نہ ان کو اپنی خوشی غمی میں مدعو کیا جائے اور نہ خود ان کی خوشی غمی میں شریک ہوں، تاکہ ان کو اپنی غلطی کا احساس ہو، اور ہدایت کی راہ کھل سکے۔ہندوستان میں منکر حدیث دجال کی آمدکیسے ہوئی؟
برصغیر کے مسلمانوں پر مغربی اقوام کے سیاسی نظریاتی تسلط کے بعد مسلمانوں کا ایک ایسا طبقہ وجود میں آیا جو مغربی افکار سے بے حد مرعوب تھا، وہ سمجھتا تھا کہ دنیا میں ترقی بغیر تقلید مغرب کے حاصل نہیں ہوسکتی، لیکن اسلام کے بہت سے احکام اس کے راستہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اس لیے اس نے اسلام میں تحریف کا سلسلہ شروع کیا تاکہ اسے مغربی افکار کے مطابق بنایا جاسکے، یہ تحریف حدیث کا انکار کیے بغیر ناممکن تھی چنانچہ قرآن کی جس طرز کی متجددانہ تعبیر کی بنیاد عالم عرب میں مفتی محمد عبدہ نے رکھی تھی ،برصغیر میں سرسید احمد خان نے اس طرز کی متجددانہ تفسیر قرآن لکھی ۔ (۱)…سرسید احمد خان دجال اکبرفی الہند سیداحمدخان کے متعلق عرب عالم لکھتے ہیں السیداحمدخان دجال الہندومدرستہ الشیطانیۃ۔ ترجمہ :الدکتورسیدبن حسین العفانی لکھتے ہیں کہ سیداحمدخان ہندوستان کادجال ہے اوراس کے سکول شیطانی سکول ہیں ۔(جہاں شیطانیت پڑھائی جاتی ہے ) (وا محمداہ لسید بن حسین العفانی ( ۲: ۴۵۹) سرسیداہل مغرب اور مستشرقین سے تاثر کے نقطہ نظر سے عبدہ سے بہت آگے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے قرآنی بیانات کو جدید تصورات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے متفق علیہ تفسیری اصولوں کو بالکل نظرانداز کر دیا۔ ان کی تفسیرالقرآن میں بقول سیدعبداللہ روایات سے بغاوت اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی نظر آتی ہے۔ (سید عبداللہ،سرسید احمد خاں اور ان کے نامور رفقاء کی اردو نثر کا فنی و فکری جائزہ، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان:۳۰،۳۲) ۱۹۹۴ء) مغربی تہذیب و معاشرت سے سر سید کی تاثر پذیری کے حوالے سے ابوالحسن علی ندوی لکھتے ہیں: وہ اس تہذیب و معاشرہ سے اس طرح متاثر ہوئے کہ ان کے دل و دماغ، اعصاب اور ساری فکری صلاحیتیں اس سے وابستہ ہو گئیں۔۱۲ اکتوبر ۱۸۷۰ء میں وہ اس تہذیب کے گرویدہ اور ہندوستان کی مسلم سوسائٹی میں ان اقدارا ور اصولوں کی بنیاد پر اصلاح و تغیّر کے پرجوش داعی اور مبلّغ بن کر اپنے ملک واپس ہوئے اور پورے خلوص اور گرم جوشی کے ساتھ انھوں نے اس تحریک و دعوت کا علم بلند کیا اور اپنی ساری صلاحیتیں اور قوتیں اس کے لیے وقف کردیں۔ ان کا نقطۂ نظر خالص مادی ہو گیا۔ وہ مادی طاقتوں اور کائناتی قوتوںکے سامنے بالکل سر نگوں نظر آنے لگے۔ وہ اپنے عقیدہ اور قرآن مجید کی تفسیر بھی اسی بنیاد پر کرنے لگے۔ انھوں نے اس میں اس قدر غلو سے کام لیا کہ عربی زبان و لغت کے مسلّمہ اصول و قواعد اور اجماع و تواتر کے خلاف کہنے میں بھی ان کو باک نہ رہا۔ چنانچہ ان کی تفسیر نے دینی وعلمی حلقوں میں سخت برہمی پیدا کردی۔ (مسلم ممالک میں اسلامیت و مغربیت کی کش مکش، سید ابوالحسن علی ندوی:۹۹)مجلس تحقیقات و نشریات اسلام، لکھنؤ) سرسید حدیث،اجماع اور قیاس وغیرہ کو اصول دین میں شامل نہیں سمجھتے۔ انہوں نے بقول مولاناحالی اپنے جدید علم کلام کا موضوع اور اسلام کا حقیقی مصداق صرف قرآن مجید کو قرار دیا اور اس کے سوا تمام مجموعہ احادیث کو اس دلیل سے کہ ان میں کوئی حدیث مثل قرآن کے قطعی الثبوت نہیں اور تمام علماء ومفسرین کے اقوال و آراء اور تمام فقہاء و مجتہدین کے قیاسات و اجتہادات کو اس بنا پر کہ ان کے جوابدہ خود علماء و مفسرین اور فقہا و مجتہدین ہیں نہ کہ اسلام اپنی بحث سے خارج کر دیا۔ (حالی، مولاناالطاف حسین، حیات جاوید(۱:۲۳۱) چنانچہ سرسید نے اسلام کے متوارث ذوق اور نہج سے اتر کر خود قرآن پر غور کیا اور اسلام کے نام پر ایک فرنگیانہ اسلام کی عمارت تیار کرنا شروع کی جس میں نہ ملائکہ کے وجود کی گنجائش ہے نہ ہی جنت ودوزخ کا کہیں نشان ہے اور نہ جنات اور ابلیس کے وجود کا اعتراف ہے اور معجزات وکرامات تو ان کے نزدیک مجنونہ باتیں ہیں۔ سرسید کی نیت خواہ کتنی ہی نیک رہی ہو مگر ان کے افکار کسی ٹھوس علمی بنیاد سے محروم تھے۔ انھیں خود پتہ نہ تھا کہ جن تصورات کو وہ اٹل حقائق سمجھ رہے تھے، ان کی حیثیت ان کے زمانے کی مغربی تہذیب کے متروکہ ردی مواد سے زیادہ نہ تھی، اور اسے بھی زمانے کی ہوا نے جلد ہی ہباء منثور کر دیا۔ سرسید نے روایتی علوم کی تعلیم نہیں پائی تھی۔ مابعد الطبیعیاتی شعور کا فقدان ان کے ہاں بالکل واضح ہے لہٰذا دیگر دینی روایتوں اور تہذیبوں میں فطرت کے تصورات کا علم تو ایک طرف رہا، ان کو مسلمانوں کے کونیاتی علوم اور بالخصوص فطرت سے متعلق علوم کا بھی قرار واقعی علم نہ تھا۔ مسلمانوں کے لیے دلِ دردمند کے ہاتھوں مجبور ہو کر اصلاحِ معاشرہ کی دھن میں پیروء مغرب میں ایسے جتے کہ اور بہت سے خیالات کی طرح انھوں نے فطرت کے بارے میں بھی مغرب سے بعض چلتے ہوئے نظریات لیے اور انھیں ادھ کچرا ہی نگل گئے، اور ان کی بنیاد پر تفسیر قرآن سے لے کر سیاست و سماجیات تک اپنے افکار کی عمارت اٹھا دی،ڈاکٹر ظفر حسن کی تحقیق یہ ہے کہ فطرت کے برے بھلے جو بھی رائج الوقت معانی رہے ہوں سرسید اور دوسرے نیچری یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ لفظ نیچر انگریزی میں کتنے معانی رکھتا ہے۔ (دیباچہ سرسید و حالی کا نظریہ فطرت)۔ سرسید کے چند اہم معاصر ہم خیالوں اور متبعین میں مولوی چراغ علی اور سید امیر علی شامل ہیں، پھر ذرا آگے چل کر سر سید کے مکتبہ خیال سے متعلق نمایاں نام محمد علی لاہوری اور غلام احمد پرویز، اسلم جیراج پوری ہیں۔ (۲)…مولوی چراغ علی چراغ علی کے مطابق قرآن کوئی مخصوص ضابطہ حیات یا سماجی وسیاسی قوانین عطا نہیں کرتا۔ اس کا تعلق محض فرد کی زندگی کے اخلاقی پہلو سے ہے۔حضورتاجدارختم نبوتﷺنے کوئی سماجی وقانونی ضابطہ مرتب کیا نہ ایسا کرنے کاحکم دیا۔ اس کے برعکس مسلمانوں کو ایسے نظام قائم کرنے کی اجازت دے دی گئی جو ان کے گردو پیش ہونے والی سیاسی اور معاشرتی تبدیلیوں سے وقت کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگی پیدا کر سکیں۔ کلاسیکی اسلامی قانون بنیادی طور پر شریعت نہیں بلکہ وہ رواجی قانون ہے جس کے اندر ایام جاہلیت کے عربی اداروں کے باقی ماندہ اجزا و عناصر یا وہ احادیث شامل ہیں جو اکثر جعلی ہیں اور غلط طور پر پیغمبر اسلامﷺ کی طرف منسوب کر دی گئی ہیں۔ فقہاء اسلامی قانون کے سلسلہ میں مقصود قرآنی کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے قرآن کی روح کو شرعی عمل سے دبا دیا اور وہ ابتدائی مشرقی روایاتی رسمیں جاری کر دیں جنہیں قرآن در حقیقت مذموم قرار دے چکا تھا۔ (oposed political , legal and social reforms in the Ottoman Empire and other Muhammdan States chirag ali, Bombay, 1883c, PP-10-12., 91: Ibid.pp. 112-113.)) (۳)…سید امیر علی سید امیر علی مولانا حالی کے مطابق مغربی اہل الرائے سے اسلام کی عذر خواہیوں اور توضیحات میں اور اسلامی معاشرتی اور مذہبی خیالات کی از سر نو تعمیر اور جدید خیا لات کی ترویج میں سرسید احمد خاں کے پیرو تھے۔ (حالی،مولانا الطاف حسین، حیات جاوید،حوالہ مذکور: ۱۶۳)انکی مشہور تصنیف The Spirit of Islam نے صرف مغرب ہی میں قبولیت عامہ حاصل نہیں کی بلکہ برصغیر اور مصر کے مغربی تعلیم یافتہ مسلمانوں پر بھی گہرے اثرات ڈالے۔ سید امیر علی نے اپنی اسلامی تعبیرات میں استشراقی اور مغربی تصورات سے ہم آہنگی کی جا بجا کوشش کی ہے۔ فرشتوں اور شیطان کا خارجی وجود اور حشر جسمانی کو تسلیم کرنے سے بچنے کے لیے انہوں نے ان چیزوں سے متعلق قرآنی بیانات کو بلاجھجک شاعرانہ اسلوب بیان اور حضورﷺکے دینی شعور کے درجہ کمال سے پہلے کے اورزرتشتی وتلمودی الاصل تصورات سے تعبیر کیاہے۔ سورہ الانفال کی آیت میں بیان کردہ واقعہ کو اسلوب بیان کی ساحری اور شاعرانہ بلاغت سے تعبیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ فرشتوں کے خدا کی طرف سے جنگ کرنے کے تصور میں جو شاعرانہ عنصر ہے اس کے نقش ونگار کو قرآن میں موئے قلم کی جن سادہ جنبشوں سا ابھارا گیا ہے۔ وہ خوبصورتی اور بلاغت میں زبور کی بلیغ ترین عبارتوں کا مقابلہ کرتی ہے۔ اور دونوں میں ایک ہی طرح کی شعریت ہے۔ ملائکہ ایک داخلی تصور ہے۔ (امیر علی، سید ، روح اسلام:۱۵۲)(مترجم،محمدہادی حسین) جنت وجہنم کے واقعیت نما نقشے، جوزرتشتیوں ، صابیوں اور تلمودی یہودیوں کی پادر ہواقیاس آرائیوں پر مبنی تھے۔ پڑھنے والے کی توجہ ضمنی ھاشیہ آرائیوں کے طور پر اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ لیکن ان کے بعد قرآن کا جوہر خالص آتا ہے یعنی کمال عجزومحبت سے خدا کی عبادت۔ حوریں زرتشتی نژاد ہیں۔ اسی طرح جنت بھی زرتشتی الاصل ہے البتہ جہنم عذاب الیم کے مقام کی حیثیت سے ایک تلمودی تخلیق ہے۔ ان کے واقعیت نمامناظر کی بنا پر یہ سمجھنا کہ حضورﷺاور آپ کے پیروکار ان کو واقعی مبنی برحسیت سمجھتے تھے محض ایک افترا ہے۔(ایضاً:۳۲۶) تعدد ازواج کے حوالے سے سید امیر علی کی رائے ہے کہ یہ مطلق العنان بادشاہوں کے زمانے کی یاد گار ہے جسے ہمارے ترقی یافتہ دور میں بجا طور پر ایک خرابی سمجھا جاتا ہے۔ قرآن نے فی نفسہ اس کی ممانعت کردی ہے۔ ترقی یافتہ مسلم جماعتوںمیں رفتہ رفتہ یہ تصور پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ یہ چیز تعلیمات محمدی کے بھی اس قدر منافی ہے جس قدر جدید تمدن و ترقی کے۔ لہٰذا یورپ کو اس سلسلہ میں قدیم مسلم فقہاء کی من مانیوں اور مصلحت کوشیوں پر نہیں جانا چاہیے بلکہ جدید اسلام کا تحمل وہمدردی سے مشاہدہ کرنا چاہیے جس میں قدماپرستی کے بندھنوں سے چھٹکارا حاصل کیا جارہا ہے۔ (ایضاً:۳۵۸) (۴)…محمد علی لاھوری محمد علی لاہوری نے ابوالحسن علی ندوی کے بقول سرسید کے لٹریچر اور ان کے تفسیر قرآن کے اسلوب کو پورے طور پر جذب کر لیا تھا۔ (ابو الحسن علی ندوی ، مولانا ، قادیانیت: مطالعہ و جائزہ:۱۸۰)وہ اپنی تفسیر میں مختلف مسائل سے متعلق اسی طرح کی تشریحات پیش کرتے ہیں جو جدید نظریات ومعلومات سے متصادم نہ ہوں۔ (۵)…غلام احمد پرویز غلام احمد پرویز مغربی فکر سے تاثر اور سرسید کے زاویہ فکر کو اختیار کر کے مخصوص تناظر میں اسے مزید وسعت دینے میں خاصے نمایاں ہیں۔ پروفیسر عزیز احمد نے انہیں سر سید سے لے کر لمحہ موجود تک کے تمام جدت پسندوں میں مغربی نقطہ نظر کے سب سے زیادہ قریب قرار دیا ہے۔ (عزیز احمد، پروفیسر، برصغیر میں اسلامی جدیدیت(مترجم، ڈاکٹر جمیل جالبی:۳۲۲،۳۲۳) غلام احمدپرویز کے دور میں فتنہ انکارِ حدیث پورے عروج کوپہنچا ہے، آپ کا اندازِ تصنیف کچھ زیادہ سلیقہ دار اور اُلجھا ہوا ہے، جس میں جھانک کراصل فتنے کی نشاندہی کرنا ایک مشکل کام ہے، آپ نے تفسیر مفہوم القرآن کئی جلدوں میں تحریر کی ہے جواردوعبارت اور حسن طباعت میں نفیس کتاب ہے؛ لیکن اس میں کس طرح اسلام کے قطعی نظریات سے کھیلا ہے، وہ مطالعہ سے ہی پتہ چلتا ہے، انہوں نے نہایت وسیع پیمانے پر مغربی نتائج فکر میں تطابق کی کوشش کی اور حدیث کی حجیت و ثقاہت کے حوالے سے استشراقی فکر کو بھرپور انداز میں پیش کیا ۔ پرویز نے اپنے خیالات کی اشاعت میں اپنی سرکاری پوزیشن بھی استعمال کی اور افسران کے ایک حلقے کوجوپہلے سے علماء سے بغض رکھتا تھا متاثر کیا اور جدید تعلیم یافتہ لوگ کسی درجے میں اس کے گرد جمع ہوگئے پرویز نے اپنے اس موقف پرادبی انداز میں خاصا لٹریچر میلا کیا ہے۔ یہ انکارِ حدیث کا نظریہ پرویز صاحب کوکہاں تک اسلام سے دور لے گیا ہے، اس کے لیئے اُن کی یہ تحریرات ملاحظہ ہوں: (۱)…مسلمانوں کو قرآن سے دور رکھنے کے لیے جو سازش کی گئی اس کی پہلی کڑی یہ عقیدہ پیدا کرنا تھا کہ رسول اللہﷺ کو اس وحی کے علاوہ جو قرآن میں محفوظ ہے ایک اور وحی بھی دی گئی تھی جو قرآن کے ساتھ بالکل قرآن کے ہم پلہ ہے ۔ یہ وحی روایات میں ملتی ہے(مقام حدیث(۱:۴۲۱) (۲)…یہ جھوٹ مسلمانوں کا مذہب بن گیا ۔ وحی غیر متلو اس کا نام رکھ کر اسے قرآن کے ساتھ مثل قرآن ٹھہرایا گیا (مقام حدیث (۲:۱۲۲) (۳)…قرآن کریم میں جہاں اللہ ورسول کا ذکر آیا ہے اس سے مراد مرکز نظامِ حکومت ہے۔معارف القرآن(۴:۲۶۳)مرکزِ ملت کو اختیار ہے کہ وہ عبادات نمازروزہ اورمعاملات اخلاق غرض جس چیز میں چاہے رد وبدل کردے۔ (قرآنی فیصلے:۴۲۴) (۵)…رسول کی اطاعت نہیں کیونکہ وہ زندہ نہیں(اسلامی نظام :۱۱۲) (۶)…ملائکہ سے مراد وہ نفسیاتی محرکات ہیں جو انسانی قلوب میں اثرات مرتب کرتے ہیں الخ(لغات القرآن(۱:۲۴۴) (۷)…ہماری صلوٰۃ وہی ہے جو (ہندو)مذہب میں پوجاپاٹ کہلاتی ہے ہمارے روزے وہی ہیں جنہیں مذہب میں برت ہماری زکوٰۃ وہی شئے ہے جیسے خیرات ہمارا حج مذہب کی یاترا ہے ہمارے ہاں یہ سب کچھ اس لئے ہوتا ہے کہ اس سے ثواب ہوتا ہے یہ تمام عبادات اس لئے سر انجام دی جاتی ہیں کہ یہ خدا کا حکم ہے ان امور کو نہ افادیت سے کچھ تعلق ہے نہ عقل وبصیرت سے کچھ واسطہ آج ہم اسی مقام پر ہیں جہاں اسلام سے پہلے دنیا تھی۔ (قرآنی فیصلے :۳۰۱) (۸)…آپ (علمأ)اپنی قوم کا دامن پکڑ کر آج سے تیرہ سو سال پہلے کے دورِ وحشت کی طرف گھسیٹ رہے ہیں(قرآنی فیصلے:۳۰۱) (۹)…بہرحال مرنے کے بعد کی جنت اور جہنم مقامات نہیںانسانی ذات کی کیفیات ہیں۔(لغات القرآن جل(۱:۴۴۹) (۱۰)…قرآن کی رو سے صرف مردار، بہتا خون، خنزیر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام کی طرف منسوب چیزیں حرام ہیں ان کے علاوہ کچھ حرام نہیں۔۔ ہمارے مروجہ اسلام میں حرام و حلال کی جو طولانی فہرستیں ہیں وہ سب انسانوں کی خود ساختہ ہیں(حلال و حرام کی تحقیق ، ماہنامہ طلوع اسلام مئی :۱۹۵۲ء) (۱۱)…رسول اکرم (ﷺ)کو قرآن کے سوا کوئی معجزہ نہیں دیا گیا۔(معارف القرآن(۴:۴۳۱) (۱۲)…قرآن ماضی کی طرف نگاہ رکھنے کے بجائے ہمیشہ مستقبل کو سامنے رکھنے کی تاکید کرتا ہے اسی کا نام ایمان بالآخرت ہے۔(سلیم کے نام اکیسواں خط(۲:۱۲۴) حدیث کو نکالنے کے بعد اسلام کا حلیہ کیا ہو جاتا ہے ان چند اقتباسات سے ظاہر ہے ، پرویز نے سارے اسلام قرآن ، حدیث، تمام عبادات، تمام احکامِ شرعیہ کا مطلب بیک جنبش تبدیل کرکے رکھ دیا ۔ پھر بھی اسکے ماننے والوں کا اصرار ہے انہیں مسلمان اور اہل قرآن کہا جائے ۔ (۶)…عبداللہ چکڑالوی عبداللہ چکڑالوی برصغیر میں وہ پہلا شخص ہے جس نے کھل کر حدیث کا انکار کیا اور فرقہ اہل قرآن کی بنیاد رکھی ہے۔ ا س کے بعد مولوی احمد الدین امرتسری نے انکارِ حدیث کے فتنے کا بیڑا اٹھایا۔ اور حافظ اسلم جیراج پوری نے اس نظریہ کو مزید آگے بڑھایا۔ آخر میں غلام احمد پرویز نے انکارِ حدیث کو ایک منظم نظریہ اور مکتب ِفکر کی صورت میں پیش کیا۔علامہ ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں : ہندوستان میں سب سے پہلے سرسیداحمد خان علی گڑھی نے حدیث کی حجیت سے انکار کی آواز اٹھائی۔ اس کے بعد پنجاب میں مولوی عبداللہ چکڑالوی مقیم لاہور نے اس کا تتبع کیا بلکہ سرسید سے ایک قدم آگے بڑھا۔ کیونکہ سرسید حدیث کو شرعی حجت نہ جانتاتھا لیکن عزت واحترام کرتا تھا۔ واقعاتِ نبویہ ﷺکا صحیح ثبوت کتب ِاحادیث سے دیتاتھا۔ برخلاف اس کے مولوی عبداللہ چکڑالوی حدیث ِنبوی ﷺکو لہو الحدیث سے موسوم کیا کرتا۔ (امرتسری، ثناء اللہ، مولانا، حجیت حدیث اور اتباع رسول ﷺ:۱) عبدالقیوم ندوی لکھتے ہیں حجیت ِحدیث کا کھلا انکار مولوی عبداللہ چکڑالوی نے کیا۔ اس سے پہلے صراحتاً انکار ملحدین اور زنادقہ سے بھی نہ ہوسکا۔ (ندوی، عبدالقیوم، فہم حدیث:۱۳۸)کراچی عبداللہ چکڑالوی نے سب سے پہلے انکارِ حدیث کا فتنہ برپا کرکے مسلمانانِ عالم کے قلوب کو مجروح کیا۔ مگر یہ فتنہ چند روز میں اپنی موت خود مرگیا۔ حافظ اسلم جیراج پوری نے دوبارہ اس دَبے ہوئے فتنہ کو ہوا دی اور بجھی ہوئی آگ کو دوبارہ جلا کر عاشقانِ شمع ِرسالتﷺ کے جروح پر نمک پاشی کی اور اس کے بعد غلام احمدپرویز بٹالوی نگران رسالہ’’طلوعِ اسلام‘‘اس آتش کدہ کی تولیت قبول کرکے رسول دشمنی پر کمربستہ ہوااوراب غامدی فرقہ اس لعنت کو اپنے گلے کاطوق بنانے کے لئے میدان میں ہے۔ (۷)…مرزا غلام احمدقادیانی دجال اعظم فی الہند مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق بھی یہ کہنا بے جا نہیں کہ اس نے سرسید احمد خاں اور اس کے مدرسہ فکر سے شہ حاصل کی۔ شیخ محمد اکرم کے مطابق مولوی چراغ علی سے مرزا کی خط و کتابت تھی اور جہاد سے متعلق وہ مولوی صاحب کے ہم خیال تھا۔ اسی طرح حضرت عیسی (علیہ السلام )کے متعلق اس نے سر سید کے خیا لات کی پیروی کی۔ نئی نبوت کی گنجائش بھی اہل تجدد نے فراہم کردی تھی۔ بنا بریں یہ بات ناقابل فہم نہیں کہ مرزا قادیانی نے اس سلسلہ میں انہی کے خیالات سے استفادہ کیا۔ تاہم قادیانیت کے ظہور میں نو آبادیاتی نظام اور انگریزوں کا کردار غیر معمولی ہے۔ مرزا کا عقیدہ تھا کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک کا تعلق خدا سے ہے اور دوسرے کا امن امان قائم کرنے والی حکومت سے۔ امن امان قائم کرنے والی حکومت چونکہ اس وقت حکومت برطانیہ ہے لہذا اس سے سرکشی اسلام سے سرکشی کے مترادف ہے۔ اس میں انگریز پرستی کا جذبہ اس قدر شدید تھا کہ وہ اس معاملے میں اپنے مخالفین کو احمق و نادان بلکہ حرامی اور بدکار قرار دیتا تھا۔ (قاضی جاوید،سرسید سے اقبال تک:۹۳) (۸)…اسلم جیراج پوری: اسلم جیراج پوری نے چھ سال سرسید کی یونیورسٹی میں عربی اور فارسی کے پروفیسر کی حیثیت سے کام کیا پھر جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اسلامی تاریخ ، حدیث اور قرآن کے پروفیسر مقرر ہوا ۔ یہ انکارِ حدیث کا بڑا ستون ہی نہیں بلکہ بعض وجوہ سے مرکز تھا، پرویز بھی ا سی کے علوم سے پروان چڑھا ۔اس نے ایک مؤرخ کی حیثیت سے زیادہ شہرت پائی، تاریخ الاُمۃ کئی حصوں میں تحریر کی،یہ حدیث کے اُصولاً خلاف تھا؛ مگراسوۂ رسول کواصولاً حجت مانتا تھا، اس نے بھی حدیث کے خلاف بہت کام کیا ہے، اُسوۂ رسول ﷺکے بارے میں ایسی ایسی قیود لگائیں کہ انجام انکارِ حدیث کے ہی قریب رہا۔ اسلم جیراج پوری نے احمد دین امرتسری کی کتاب میراث اسلام کا عربی میں ’’الوراثت فی الاسلام ‘‘کے نام سے ترجمہ شائع کیا اور اسے اپنی تصنیف قرار دیا۔ جب اس پر سرقہ کا الزام عائد کیا گیا تو کہا کہ میں نے احمد دین امرتسری سے استفادہ کیا ہے۔ لیکن اگر سرقے کا یہ معاملہ محض احمد دین امرتسری کی کتاب تک محدود رہتا تو اس الزام کو رد کیا جاسکتا تھا لیکن اسلم جیراج پوری کی مشہور کتاب تاریخ امت جو چار جلدوں میں شائع ہوئی خضری کی کتاب تاریخ امت کا سرقہ ہے۔ (۹)…نیاز فتح پوری: نیاز فتح پوری بھی انکارِ حدیث میں نمایاں شخص تھا ۔ اس نے پہلے مختلف روزناموں میں ادارات کے فرائض انجام دیئے پھر اپنا مشہور رسالہ نگار پہلے بھوپال سے پھر لکھنؤ سے جاری کیا۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آ گیا اور کراچی میں نگار نکالنے لگا۔ وہیں انتقال ہوا۔نیاز فتح پوری بحیثیت مجموعی ایک بڑا رومانی افسانہ نگار تھا ۔ یہ انکارِ حدیث میں یہاں تک آگے نکلا کہ مسلمانوں کی تمام خرابیوں کا ذمہ دار حدیث کو ٹھہرایا، خود لکھتاہے: اگرمولویوں کی جماعت واقعی مسلمان ہے تومیں یقیناً کافر ہوں اوراگرمیں مسلمان ہوں تویہ سب غیرمسلمان ہیںکیونکہ ان کے نزدیک اسلام نام ہے صرف کورانہ تقلید کا اور تقلید بھی رسول واحکامِ رسول کی نہیں بلکہ بخاری ومسلم ومالک وغیرہ کی اور میں سمجھتا ہوں کہ حقیقی کیفیت یقین کی اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتی جب تک کہ ہرشخص اپنی سمجھ سے کسی نتیجہ پرنہ پہنچے، قصہ مختصر یہ کہ اولین بیزاری اسلامی لٹریچر کی طرف سے مجھ میں احادیث نے پیدا کی۔ (من یزدان از نیاز فتح پوری(۱:۵۴۷) حدیث میں شک کے کانٹے نکالنے والا قرآن مجید کے ساتھ کب تک وفادار رہا؟ اسے اس کے الفاظ میں ملاحظہ کیجئے:کلامِ مجید کونہ میں کلامِ خداوندی سمجھتا ہوں اور نہ الہامِ ربانی بلکہ ایک انسان کا کلام جانتا ہوں۔ (من یزداںاز نیاز فتح پوری (۱: ۴۰۵) (۱۰)…ڈاکٹرغلام جیلانی برق: ڈاکٹرصاحب بزعم خویش علومِ عربی پرعمیق نگاہ رکھنے والے اور بڑے محقق بھی ہیں۔ آپ کی کتابوں میں دوقرآن دواسلام جہانِ نو اور حرفِ محرمانہ بسلسلہ انکارِ حدیث مشہور ہوئیں ہیں، ایک جگہ مرزا غلام احمد قادیانی کی تائید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:مرزا صاحب درست فرماتے ہیں کہ تمام حدیثیں تحریفِ معنوی ولفظی سے آلودہ یاسرے سے موضوع ہیں۔ (حرف محرمانہ:۷۵) ڈاکٹرغلام جیلانی برق جوانکارِ حدیث میں اس قدر آگے نکلے ہوا تھا، بعد میں انکارِ حدیث سے یکسرتائب ہوگئے ان کی آخری تصنیف تاریخِ حدیث (برق)ہے، جس میں اُنہوں نے علماء کی سطح پرحدیث کوقبول کرنے کا غیرمشروط اقرار کیا ہے اور بطور کفارہ انہوں نے ایک کتاب تاریخِ حدیث سے متعلق لکھی ، جس میں محدثین کی خدمات کا تعارف کرایا ہے۔ (۱۱)…تمناعمادی پھلواری: منکرینِ حدیث کے حلقے میں یہ نسبتاً صاحب علم سمجھا جاتاہے۔ اس نے کتابت حدیث کے متعلق مستشرقین کے تمام اعتراضات کو بھرپور انداز میں پیش کیا ۔ ایک جگہ لکھتاہے: یہ سب من گھڑت افسانے ہیں، دراصل کسی صحابی(رضی اللہ عنہ) نے حدیثوں کا کوئی مجموعہ مرتب نہیں کیا تھا اگردوچار حدیثیں بھی کوئی صحابی کسی ورق پر لکھ لیتے تووہ ورق تبرک کے طور پر ضرور محفوظ رکھا جاتا۔ (اعجاز القرآن(۱:۷۳):مولانا تمنا عمادی) احادیث کے بعد قرآن کے متعلق لکھا: راویانِ احادیث تفسیر میں جولوگ زیادہ پیش پیش تھے تقریباً سب کے سب ناقابل اعتبار اور اس جماعت میں وضاعین وکذابین کی ایک بہت بڑی اکثریت کارفرمارہی، مفسرین متقدمین نے ہرآیت کے متعلق متضاد ومتخالف روایتیں جھوٹی سچی ہرطرح کی حدیثیں اور ہرطرح کے اقوال جمع کرکے آیاتِ قرآنی کے معانی کومشتبہ کردیا۔ (اعجاز القرآن(۱:۹)مولانا تمنا عمادی) غلام احمد پرویز کے ماہنامہ طلوع اسلام میں اس کے مضامین شائع ہوتے تھے ۔ اسکے ستمبر سنہ۱۹۵۰ء) کی اشاعت میں اُس کا ایک مضمون شائع ہوا اس میں لکھا:اور منافقین عجم نے اپنے مقاصد کے ماتحت جمع احادیث کا کام شروع کرنا چاہا توانہیں منافقین عجم کے آمادہ کرنے سے اس وقت خود ابنِ شہاب کوخیال ہوا کہ ہم حدیثیں جمع کرنا شروع کردیں تویہ مدینہ پہنچے اور کوفہ بھی اور مختلف مقامات سے حدیثیں حاصل کیں اور بیسیوں راویوں کے ساتھ رہے۔ (طلوعِ اسلام: ستمبر سنہ۱۹۵۰ء) (۱۲)…جاویدغامدی یہ بھی پاکستانی دجال ہے جومنکرحدیث ہے اوراس کو بے دین طبقوں میں بہت مقبولیت حاصل ہے ، یہ ملعون بھی تمام احکامات شرعیہ کوکھوکھلا کررہاہے اوراس کی بدمعاشیوں کے سامنے بندباندھنے کے لئے کسی مردقلندرکاانتظارہے، اس کے انکارحدیث پرہم پہلے لکھ آئے ہیں لھذایہاں لکھنے کی حاجت نہیں ہے ۔ خلاصہ انکار حدیث کے علم برداروں نے مغربی اہل الرائے سے اسلام کی عذر خواہیوں اور توضیحات میں اور اسلامی معاشرتی اور مذہبی خیالات کی جدید تصورات سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے از سر نو تعمیر کے لیے اسلام کے ہربنیادی عقیدہ کوبھپنے کی کوشش کی ۔ ان لوگوں نے ہر اس اسلامی عقیدہ وحکم کو تاویل سے بدل ڈالنے کی کوشش کی جو اپنی اصلی شکل میں جدید مغربی یا مغرب متاثر ذہن کے لیے قابل قبول دکھائی نہ دیتا تھاان کی یہ کوشش اپنے زعم میں اسلام سے محبت کا نتیجہ جبکہ حقیقت میں اس سے بیزاری اور پرائے افکار ونظریات سے محبت و مرعوبیت کا ثمر تھی ۔ دیوارِ اسلام کوگرانے میں یہ کسی دوسرے ملحد یا مستشرق سے پیچھے نہیں رہے۔ اوپر کی تفصیل سے یہ واضح ہے کہ کلام و تشریحات محمدیﷺ کے بغیر دین محمدیﷺ اپنی اصل شکل میں نہیں رہ سکتا اسے نکالنے کے بعد ہر قرآنی نظریے کے معانی بھی نئے سرے سے تشکیل دینا پڑتے ہیں ۔ مخالفین حدیث کو انکار حدیث کے بعد اسی مشکل کا سامنا ہوا ۔ وہ حدیث کی مخالفت میں اسلام کے ہر نظریے کا انکار تو کرآئے لیکن انہیں کوئی متبادل راہ نظر نہ آئی ۔اس مقام پر پہنچ کر کچھ تو تھوڑے ہی عرصے میں ملحد ہوگئے جیسے نیاز فتح پوری اور اسکے پیروکار ۔ کچھ ایسے تھے جو اس راہ میں بہت آگے تک گئے اور سینکڑوں لوگوں کو گمراہ کیا لیکن آخر انہیں خود ہی احادیث کی اہمیت و ضرورت کا احساس ہوگیا اور انہوں نے ضد میں الحاد کی طرف جانے کے بجائے واپس اسلام کی راہ لی جیسے ڈاکٹر غلام جیلانی برق اور تمنا عمادی پھلواری ۔ کچھ غلام احمد پرویز جیسے ساری زندگی اپنی عقل سے دین اسلام کی ایک شکل ترتیب دینے کی کوشش کرتے رہے لیکن چند ادبی افسانوں، خوشنما نعروں، ایک خیالی نظام ، تضاد سے بھرپور قرآنی تشریحات سے آگے نہ بڑھ سکے ، انہوں نے ایک معقول تعداد کو روایت سے د
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9