Fatwa #2525
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورۃ مریم آیت ۸۸تا۹۲۔ وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
10,709
سوال (Question):
تفسیر سورۃ مریم آیت ۸۸تا۹۲۔ وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
درختوں اورمچھلیوں پرکانٹے اگنا،زمین کابنجرہونااورجہنم کاجوش مارناگستاخوں کی گستاخیوں کی وجہ سے ہے
{وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا }(۸۸){ لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْـًا اِدًّا }(۸۹){تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ ہَدًّا}(۹۰){اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا }(۹۱){وَ مَا یَنبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا }(۹۲) ترجمہ کنزالایمان:اور کافر بولے رحمن نے اولاد اختیار کی۔بیشک تم حد کی بھاری بات لائے۔قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ گر جائیں ڈھ کر۔ اس پر کہ انہوں نے رحمن کے لیے اولاد بتائی۔ اور رحمن کے لئے لائق نہیں کہ اولاد اختیار کرے۔ ترجمہ ضیاء الایمان : اور کافروں نے کہا:رحمن (عزوجل )نے اولاد اختیار کی ہے۔ بیشک تم نے انتہائی ناپسندیدہ بات کہہ دی ہے ۔قریب ہے کہ اس سے(کافروں کی گستاخی سے ) آسمان پھٹ پڑیں اور زمین بھی پھٹ جائے اور پہاڑ ٹوٹ کر گرپڑیں ۔ کیونکہ انہوں نے رحمن کے لیے اولاد کا دعویٰ کیا۔حالانکہ رحمن عزوجل کی یہ شان ہی نہیں کہ اولاد اختیار کرے۔گستاخوں کی گستاخی کی وجہ سے درختوں پرکانٹے نکلے
عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ: إِنَّ الْجَبَلَ لَیَقُولُ لِلْجَبَلِ یَا فُلَانُ ہَلْ مَرَّ بِکَ الْیَوْمَ ذاکر للہ؟ فإن قال:نعم سربہ ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّہِ’’ وَقالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمنُ وَلَداً‘‘الْآیَۃَ قَالَ:أَفَتَرَاہُنَّ یَسْمَعْنَ الزُّورَ وَلَا یَسْمَعْنَ الْخَیْرَ؟!قَالَ:وَحَدَّثَنِی عَوْفٌعَنْ غَالِبِ بن عجرد قال:حَدَّثَنِی رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ فِی مَسْجِدِ مِنًی قَالَ:إِنَّ اللَّہَ تَعَالَی لَمَّا خَلَقَ الْأَرْضَ وَخَلَقَ مَا فِیہَا مِنَ الشَّجَرِ لَمْ تَکُ فِی الْأَرْضِ شَجَرَۃٌ یَأْتِیہَا بَنُو آدَمَ إِلَّا أَصَابُوا مِنْہَا مَنْفَعَۃً وَکَانَ لَہُمْ مِنْہَا مَنْفَعَۃٌ، فَلَمْ تَزَلِ الْأَرْضُ وَالشَّجَرُ کَذَلِکَ حَتَّی تَکَلَّمَ فَجَرَۃُ بَنِی آدَمَ تِلْکَ الْکَلِمَۃَ الْعَظِیمَۃَ قَوْلُہُمْ’’اتَّخَذَ الرَّحْمنُ وَلَداً‘‘ فَلَمَّا قَالُوہَا اقْشَعَرَّتِ الْأَرْضُ وَشَاکَ الشَّجَرُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعون بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے کہتاہے کہ اے فلاں !کیاآج تیرے پاس سے کوئی اللہ تعالی کاذکرکرنے والاگزراہے ؟ اگروہ ہاں کہتاہے تواس سے اسے خوشی ہوتی ہے ۔ پھرحضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت کریمہ{وَقالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمنُ وَلَداً} تلاوت کی ، فرمایا: کیاتوان پہاڑوں کودیکھتاہے کہ یہ جھوٹ سنتے ہیں اورخیرکونہیں سنتے ؟ فرمایاکہ مجھے عوف رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ انہوںنے غالب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، انہوں نے شام کے رہنے والے ایک شخص سے مسجدمنی میں سناکہ اللہ تعالی نے زمین کوپیداکیااورجوکچھ اس میں درخت ہیں ان کو پیداکیا، زمین میں موجودہرایک درخت سے بنی آدم نفع اٹھاتے تھے ، زمین اوردرخت ایسے تھے حتی کہ بنی آدم میں سے کافروں نے اللہ تعالی کی گستاخی کردی کہ اللہ تعالی نے بیٹابنالیاہے ، جب انہوںنے یہ گستاخی کی توزمین کانپ گئی اوردرختوں کے کانٹے نکل آئے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۱:۱۵۸)گستاخوں کی گستاخی کی وجہ سے دوزخ جوش مارنے لگی
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:اقْشَعَرَّتِ الْجِبَالُ وَمَا فِیہَا مِنَ الْأَشْجَارِ وَالْبِحَارِ وَمَا فِیہَا مِنَ الْحِیتَانِ فَصَارَ مِنْ ذَلِکَ الشَّوْکُ فِی الْحِیتَانِ وَفِی الْأَشْجَارِ الشَّوْکُ وَقَالَ ابْنُ عباس أیضا وکعب:فزعت السموات وَالْأَرْضُ وَالْجِبَالُ وَجَمِیعُ الْمَخْلُوقَاتِ إِلَّا الثَّقَلَیْنِ وَکَادَتْ أَنْ تَزُولَ وَغَضِبَتِ الْمَلَائِکَۃُ فَاسْتَعَرَتْ جَہَنَّمُ وَشَاکَ الشَّجَرُ وَاکْفَہَرَّتِ الْأَرْضُ وَجَدَبَتْ حِینَ قَالُوا: اتَّخَذَ اللَّہُ وَلَدًا۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ جب گستاخوں نے اللہ تعالی کی یہ گستاخی کی تواس وقت پہاڑ اورجوکچھ اس میں تھاسب کے سب کانپ گئے ، درخت کانپ گئے ، اوردریائوں میں رہنے والی مچھلیاںتک کانپ گئیں اورمچھلیوں کے کانٹے اگ آئے اوردرختوں کے کانٹے اگ آئے ۔ اوراسی طرح حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمااورحضرت سیدناکعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ جب گستاخوں نے اللہ تعالی کی گستاخی کی توآسمان ، زمین ، پہاڑ اورتمام مخلوق گھبراگئی مگرجن وانسان نہ ڈرے ، قریب تھاکہ آسمان وزمین گرجاتے ، ملائکہ کرام علیہم السلام غصہ میں آگئے اوردوزخ کی آگ بھڑک اٹھی اوردرختوں کے کانٹے نکل آئے اورزمین خشک اوربنجرہوگئی ، جب گستاخوں نے یہ کہا{اتَّخَذَ اللَّہُ وَلَدًا} (الکشف والبیان عن تفسیر القرآن:أحمد بن محمد بن إبراہیم الثعلبی، أبو إسحاق (۶:۲۳۲)گستاخوں کی گستاخی کی وجہ سے قریب تھاکہ قیامت قائم ہوجاتی
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ کَعْبٍ:لَقَدْ کَادَ أَعْدَاء ُ اللَّہِ أَنْ یُقِیمُوا عَلَیْنَا السَّاعَۃَلِقَوْلِہِ تَعَالَی تَکادُ السَّماواتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبالُ ہَدًّاأَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمنِ وَلَداً ،قَالَ ابْنُ الْعَرَبِیِّ:وَصَدَقَ فَإِنَّہُ قَوْلٌ عَظِیمٌ سَبَقَ بِہِ الْقَضَاء ُ وَالْقَدَرُ وَلَوْلَا أَنَّ الْبَارِیَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لَا یَضَعُہُ کُفْرُ الْکَافِرِ وَلَا یَرْفَعُہُ إِیمَانُ الْمُؤْمِنِ وَلَا یَزِیدُ ہَذَا فِی مُلْکِہِ کَمَا لَا یَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ ملکہ لما جری شی مِنْ ہَذَا عَلَی الْأَلْسِنَۃِ وَلَکِنَّہُ الْقُدُّوسُ الْحَکِیمُ الْحَلِیمُ فَلَمْ یُبَالِ بَعْدَ ذَلِکَ بِمَا یَقُولُ الْمُبْطِلُونَ۔ ترجمہ :حضرت سیدنامحمدبن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ قریب تھاکہ اللہ تعالی کے دشمن اورگستاخ ہم پرقیامت برپاکردیتے کیونکہ اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے کہ { تَکادُ السَّماواتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبالُ ہَدًّاأَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمنِ وَلَداً} حضرت سیدناامام ابن العربی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنامحمدبن کعب رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایاکیونکہ یہ گستاخی ہی بہت بڑی ہے ، اس کے متعلق قضاوقدرہوچکی ہے ، اگریہ نہ ہوتاکہ اللہ تعالی کوکسی کافرکاکفرنقصان نہیں دیتااورکسی مومن کاایمان اسے بلندنہیں کرتاتواس کی ملک میں مومن کاایمان اضافہ نہیں کرتااسی طرح اس کے ملک سے کسی اعتبارسے کمی نہیںکرتاتوزبانوں پرایسے کلمات جاری ہی نہ ہوتے ، لیکن اللہ تعالی حکیم وعلیم اورحلیم ہے ، اس کے بعد کافروں کے کسی قول کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ (الہدایۃ إلی بلوغ النہایۃ:أبو محمد مکی بن أبی طالب حَمّوش بن محمد القرطبی المالکی (۷:۱۴۹۹)اللہ تعالی کے گستاخ کاعبرت ناک انجام
روی ان بعض الجبابرۃ سمی نفسہ بلفظ الجلالۃ فصہر ما فی بطنہ من دبرہ وہلک من ساعتہ۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی نقل فرماتے ہیں کہ ایک ظالم وجابربادشاہ نے اپنانام ’’اللہ ‘‘رکھ لیاتواس کی آنتیاں ، جگراورتلی اسی وقت اس کی دبرکے راستے سے نکلی اوروہ وہیں مرگیا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۵:۳۴۸)معارف ومسائل
آج وہ لبرل وسیکولر جوانگریزوں کے غلام ہیں یہ بات کہتے ہوئے نہیں تھکتے ’’کہ انگریز قرآن کو سمجھ کرترقی کرگیامگرہم وہیں رہ گئے ‘‘یہودونصاری اتنے بڑے گستاخ ہیں اوراللہ تعالی کے لئے بیٹاثابت کرتے ہیں کیونکہ یہودی حضرت سیدناعزیرعلیہ السلام کوخداتعالی کابیٹاکہتے ہیں اورنصرانی حضرت سیدناعیسی علیہ السلام کو اللہ تعالی کابیٹاکہتے ہیں اوریہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ ان کی اسی گستاخی کی وجہ سے ساری دنیامیں بھونچال آگیاتھاکہ درختوں پرکانٹے اگے ، مچھلیوں پرکانٹے انہیں کی گستاخی کی وجہ سے اگے ، دوزخ نے جوش انہیں کی وجہ سے مارا، انہیں کی گستاخی کی وجہ سے ملائکہ کرام علیہم السلام کو جلال آگیا۔ ہماراان لبرل وسیکولر سے سوال ہے کہ جویہودونصاری قرآن کریم سے توحیدکاراز نہیں پاسکے وہ دوسرے مسائل کیسے سمجھ گئے ہیں ؟ بحمداللہ تعالی سورہ مریم کااختتام ۲۰ ذوالحج ۱۴۴۱ھ/۱۱اگست ۲۰۲۰ء) بروز منگل وقت ۹ بج کر۵۵ منٹ )
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9