Fatwa #957
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تقدیر کیا ہے ؟ کیا تقدیر میں جو کچھ لکھا ہے وہی بندے کو کرنا پڑتا ہے ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
4,716
سوال (Question):
تقدیر کیا ہے ؟ کیا تقدیر میں جو کچھ لکھا ہے وہی بندے کو کرنا پڑتا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
تقدیر کیا ہے ؟ کیا تقدیر میں جو کچھ لکھا ہے وہی بندے کو کرنا پڑتا ہے ؟
سوال : (١) تقدیر کیا ہے ۔ (٢) تقدیر کو اللہ تعالی نے جو بری یا بھلی پیدا فرمائی تو اس میں کیا کیا لکھا رہتا ہے ۔ (٣) کیا چوری کرنا، زنا کرنا، قتل کرنا، کسی کا گھر جلانا، کسی سے محبت کرنا یہ سب اللہ تعالی کی طرف سے ہوتا ہے؟ (٤) کیا تقدیر بدل سکتی ہے ؟ یعنی جو چیز قسمت میں نہیں لکھی ہے وہ کوشش کرنے پر مل سکتی ہے؟ (٥)جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اس کے پیدا ہوتے ہی کیوں اللہ اچھی اور بری تقدیر بنا دیتا ہے ۔ جب کہ وہ اچھی اور بری باتیں پہچاننے کی عقل نہیں رکھتا ۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ (١) اللہ تعالی نے اپنے علم ازلی کے موافق ہر بھلائی برائی کو مقدر فرما دیا ہے اسے تقدیر کہتے ہیں ۔ وھو تعالی اعلم ۔ (٢) انسان کو جو کچھ نفع نقصان پہنچنے والا اور وہ جو کچھ اچھائی برائی کرنے والا تھا سب کچھ اللہ تعالی کے حکم سے لوح محفوظ میں لکھ دیا گیا ہے ۔ یہ نہیں کہ جیسا لکھ دیا گیا وہ ہم کو کرنا پڑتا ہے ۔ بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے ویسا لکھا گیا ۔ وھو وتعالی اعلم (٣) چوری، زنا وغیرہ انسان اپنے اختیار سے کرتا ہے اور اس فعل کے کرنے کی قدرت منجانب اللہ ہوتی ہے ۔ اسی لئے اس فعل پر انسان سے مواخذہ ہوگا ۔ خلاصہ یہ کہ انسان نہ تو مجبور محض ہے اور نہ مختار کل ۔ (٤) تقدیر کی تین قسمیں ہیں ۔ مبرم حقیقی، معلق محض اور معلق شبیہ بہ مبرم ۔ ان میں مبرم حقیقی کا بدلنا نا ممکن ہے ۔ اور معلق محض اکثر اولیاء کرام کی دعاؤں سے ٹل جاتی ہے ۔ اور معلق شبیہ بہ مبرم تک رسائی صرف خاص اکابر کی ہوتی ہے ۔ ایک چیز کا کسی انسان کے لیے نہ ملنا اگر مبرم حقیقی میں سے ہے تو کوشش کرنے پر نہیں مل سکتی ہے ۔ اور اگر قضائے مبرم حقیقی نہ تو ذکراذکار یا بزرگوں کی دعاؤں سے مل سکتی ہے اور آنے والی بلا ٹل سکتی ہے ، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے ” ان الدعاء یرد القضاء ” کہ بے شک دعا تقدیر کو ٹال دیتی ہے ۔ واللہ تعالی اعلم (٥) انسان پیدا ہونے کے بعد جو کچھ نیکی، بدی کرتا ہے اللہ تعالی اس کے پیدا ہونے سے بہت پہلے ازل ہی میں اپنے علم سے وہ سب کچھ لکھ چکا ہے ۔ تقدیر کے مسائل عام عقلوں میں نہیں آ سکتے ۔ ان میں زیادہ غور و فکر کرنا سبب ہلاکت ہے ۔ حضرت ابو بکر صدیق و حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہما اس مسئلہ میں بحث کرنے سے منع فرمائے گئے تو اوروں کی کیا حقیقت ہے؟ ۔ تقدیر حق ہے ۔ اس کے انکار کرنے والے کو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت کا مجوس بتایا ہے. واللہ تعالی ورسولہ اعلم ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول، کتاب العقائد صفحہ ٧
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9