صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1204 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تقسیم ترکہ سے متعلق ایک مسئلہ از علامہ کمال احمد علیمی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,873

سوال (Question):

تقسیم ترکہ سے متعلق ایک مسئلہ از علامہ کمال احمد علیمی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

تقسیم ترکہ سے متعلق ایک مسئلہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا انتقال ہو گیا ہے۔ زید کے چار (4) لڑکے اور پانچ(5) لڑکیاں اور زیدی کی بیوہ ہیں۔پانچوں لڑکیاں شادی شدہ ہیں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید کے چھوڑے مکان و زمین میں زید کی بیوہ اور ان کے چار لڑکے اور پانچ لڑکیوں کا کیا حق ہے؟ مفصل بیان فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔ سائل: محمد احمد رضوی سرجو نگر کنڈہ ضلع پرتاپگڈھ (یو پی) الجواب بعون اللہ الوھاب وعليكم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بر تقدیر صحت سوال، وبعد تقدیم مایقدم علی الإرث ، زید کی کل جائداد کا آٹھواں حصہ بیوی کو دیں گے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے : فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ تُوصُونَ بِهَآ أَوْ دَيْنٍۢ(النساء :١٢) باقی بچے ہوئے مال میں بیٹوں اور بیٹیوں کو بطور عصبہ حصہ ملے گا، بیٹے دوگنا اور بیٹیاں ایک گنا پائیں گی، قرآن مجید میں ہے :يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ [النساء:١١] بلا کسر تقسیم ترکہ کے لئے کل جائداد کو ایک سو چار 104 حصوں میں تقسیم کرکے آٹھواں حصہ (13 / حصے) بیوی کو دیں گے، بقیہ حصوں میں سے 14/ 14/ حصے لڑکوں کواور 7/ 7/حصے لڑکیوں کو دیں گے، ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہوگا کما تقدم. واللہ اعلم بالصواب ۔ کتبہ: کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ١٩ جمادی الآخرۃ ١٤٤٣ / ٢٣جنوری ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh