Fatwa #1909
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تناسخ اور آواگون کسے کہتے ہیں اور اسلامی نقطہ نظر سے اسکی کیا حیثیت ہے؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
11,210
سوال (Question):
تناسخ اور آواگون کسے کہتے ہیں اور اسلامی نقطہ نظر سے اسکی کیا حیثیت ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
تناسخ اور آواگون کسے کہتے ہیں اور اسلامی نقطہ نظر سے اسکی کیا حیثیت ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع عظام مسئلہ ذیل میں کہ تناسخ اور آواگون کسے کہتے ہیں اور اسلامی نقطۂ نظر سے اس کی کیا حیثیت ہے؟ المستفتیہ:- ماہین فاطمہ بنت محمد نصیر الدین نقشبندی تھنہ منڈی راجوری جموں وکشمیر الجواب بعون الهادى الى الحق والصواب ہندوؤں کے اعتقاد کے مطابق مرنے کے بعد انسان کی روح کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے خواہ وہ انسان کا بدن ہو یا کسی جانور کا اسی کو تناسخ اور آواگون کہتے ہیں اسلامی نقطہ نظر سے یہ نظریہ باطل محض ہے اور اس کا اعتقاد کفر ہے- النبراس میں ہے “التناسخ هو انتقال الروح من جسم الى جسم أخر وقد اتفق الفلاسفة وأهل السنة على بطلانه،وقال بحقيقته قوم من الضلال،فزعم بعضهم أن كل روح ينتقل في مأة ألف وأربعة وثمانين من الأبدان،وجوز بعضهم تعلقه بأبدان البهائم بل الأشجار والأحجار على حسب جزاء الأعمال السيئة، وقد حكم أهل الحق بكفر القائلين بالتناسخ،والمحققون على أن التكفير بانكارهم البعث”(النبراس، باب البعث حق ص ۲۱۳) بہار شریعت میں ہے” یہ خیال کہ وہ روح کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے خواہ وہ آدمی کا بدن ہو یا کسی اور جانور کا جس کو تناسخ اور آواگون کہتے ہیں-محض باطل اور اس کا ماننا کفر ہے”(ج ۱ ح ۱ ص ۱۰۳/مکتبتہ المدینہ دعوت اسلامی) فتاوی امجدیہ میں اسی طرح کے سوال کے جواب میں ہے”اس قول سے ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص تناسخ یعنی آواگون کا قائل ہے،کیونکہ وہ کہتا ہے کہ اپنے اعمال کے مطابق باردیگر پیدا ہونا ہے جس کا صاف مطلب یہ کہ اگر اس کے اعمال اچھے ہوں تو اس کی روح اچھے جسم میں جنم لیتی ہے،اور برے اعمال ہوں تو جانور وغیرہ کے جسم جنم ہوتا ہے اور تناسخ کا قول باطل محض ہے،مسلمان تو مسلمان کسی اہل کتاب یہود ونصاری کے نزدیک بھی درست نہیں– بالجملہ یہ قول ضلالت وگمراہی ہے، اللہ تعالی مسلمانوں کو گمراہی سے بچائے،ملتقطا”(ج ٤ ص ٤٤٤) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نطامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر-مقیم حال اجمیر معلی زادها اللہ تعالی فضلا وشرفا ١٤/رمضان المبارك ١٤٤٣ھ مطابق ۱۶/اپریل ۲۰۲۲ء الجواب صحيح :محمد نظام الدین قادری خادم افتا ودرس جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9