صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2689 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تکبیر تحریمہ کے بعد سورہ فاتحہ کے جگہ کسی اور سورت کو پڑھنا شروع کردے تو کیا حکم ہوگا ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,160

سوال (Question):

تکبیر تحریمہ کے بعد سورہ فاتحہ کے جگہ کسی اور سورت کو پڑھنا شروع کردے تو کیا حکم ہوگا ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ، خیریت سے ہیں بھائی ؟ ماشاءاللہ بڑی خوشی ہوتی ہے جب آپکے مسائل پڑھتا ہوں اور دل ہی دل سے دعائیں نکلتی رہتی ہے ،کہ کوئی تو میرا ساتھی اس قابل ہے الحمد للہ جو لوگوں کے سلگھتے مسائل کو حل کرتے رہتا ہے اللہ خوب علم دین تمہیں عطا فرمائے ۔۔ ایک مسٔلہ کا حل بیان کردیں یار کہ اگر تکبیر تحریمہ کے بعد سورہ فاتحہ کے بجائے کوئی شخص کسی اور سورہ کو پڑھنا شروع کردے تو کیا حکم ہوگا ؟ کیا آخیر میں سجدہ سہو کرلیا گیا تو نماز ہو جائے گی ۔۔

الجواب۔۔۔ باسمہ تعالی

،وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ! الحمد للہ ، شکریہ جزاک اللہ،آمین
دیکھیں محترم!
کوئی شخص نماز میں سورہ فاتحہ کے بجائے بھول کر دوسری سورۃ پڑھنے لگے اور اسے یاد آجائے تو اس کو چاہئے کہ پہلے سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرے ۔ اس کے بعد کوئی اور سورہ کی تلاوت کرلے ۔ اگر اس نے سورۂ فاتحہ سے پہلے دوسری سورۃکی ایک مکمل آیت تلاوت کرلی تھی تو سجدۂ سہو لازم ہوگا ؛کیونکہ ایک آیت کے بقدر تلاوت کرنا رکن ہے اور ایک رکن ادا کرنے کی مقدار سورۂ فاتحہ کی تلاوت میں تاخیر واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے سجدۂ سہو واجب ہوجاتا ہے ۔ اگر ایک آیت سے کم تلاوت کیا تو اس قدر تاخیر کی وجہ سے سجدہ سہو کرنے کی ضرورت نہیں ۔ جیسا کہ ردالمحتارج ١،کتاب الصلوٰۃ،واجبات الصلوٰۃ میں ہے :لو قرأ حرفا من السورۃ ساہیا ثم تذکر یقرأ الفاتحۃ ثم السورۃ ، ویلزمہ سجود السہو بحر ، وہل المراد بالحرف حقیقتہ أو الکلمۃ ۔ ۔ ۔ وقیدہ فی فتح القدیر بأن یکون مقدار ما یتأدی بہ رکن .ا ہ۔ .أی لأن الظاہر أن العلۃ ہی تأخیر الابتداء بالفاتحۃ والتأخیر الیسیر ، وہو ما دون رکن معفو عنہ تأمل . یعنی اگر کسی نے غلطی سے سورۂ فاتحہ کے بجائے کوئی دوسری سورۃ کی کم از کم ایک آیت تلاوت کرلے پھر اسکویاد آجائے تو وہ سورۂ فاتحہ پڑھے پھر ضم سورہ کرے اور سجدہ سہوکرلے ‘اس لئے کہ سورۂ فاتحہ کی تلاوت میں تاخیر کی وجہہ سے سجدہ سہوواجب ہوا ہے۔ تھوڑی سی تاخیر جو ایک رکن اداکرنے یاایک آیت پڑھنے سے کم ہو وہ معاف ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
از‌۔ فقیر محمد مکی القادری عفی عنہ استاذ و مفتی الحنفیہ الاسلامیہ عربی گلرس اکیڈمی گورکھپور و صدر المدرسین دارالعلوم مرکز السنہ خلیل العلوم لکھنؤ یو پی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh