Fatwa #2774
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تین آیتوں کے بعد ایک آیت چھوڑ کر دوسری آیت تلاوت کردیا تو نماز کا کیا حکم ہے ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
10,602
سوال (Question):
تین آیتوں کے بعد ایک آیت چھوڑ کر دوسری آیت تلاوت کردیا تو نماز کا کیا حکم ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
Teen Aayat Padhne Ke Baad Kuch Chhod Kar Tilawat Karna namaz Men
کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کے با رے میں” امام صاحب فرض نماز کی دوسری رکعت میں سورہ ناس کی تین آیت تلاوت کرنے کے بعد چوتھی آیت چھوڑ کر پانچویں آیت کو شروع کردی جب تک کسی نے لقمہ دیا پھر امام صاحب نے چوتھی آیت پڑھی اسی طرح سورت کو مکمل کیا۔ دریافت طلب امر یہ کہ ایسی صورت میں سجدہ سہو کرنا واجب پے یا نہیں ؟جواب مع دلیل عنایت فرمائیں۔ العارض: محمد شمس الدین رضوی ‘ مسکن: مالدہ بنگال 20/جمادی الاولیٰ 1445ھ منگل باسمہ تعالیٰ جل و علاالجواب اللّٰھم ھدایت الحق و الصواب
مسئولہ صورت میں سجدہ سہو بالکل واجب نہیں،ہاں سجدہ سہو اس وقت واجب ہوتا اگر امام بھول جاتا اور تین بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار خاموش کھڑا رہتا ، پھر چاہے وہ مقتدی کے لقمہ دینے یا خود سے یاد آنے پر آگے بڑھتا۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مقتدی نے لقمہ دیا اور امام نے لقمہ لے لیا تو اب سجدہ سہو واجب ہے، حالانکہ ایسا بالکل نہیں۔ امام نماز کے ادائے رکنِ واجبات میں کمی یا زیادتی، یا قرات وغیرہ میں کہیں بھی غلطی کرے تو اسے لقمہ دے کر بتانا مطلقاً بیشک جائز ہے خواہ وہ قرات بقدرِ واجب تین آیات یا اس سے کم یا زیادہ ہزار آیتیں کیوں نہ پڑھ چکا ہو۔ درمختار مع رد المحتار میں ہے:” فتحہ علی امامہ انہ لایفسد مطلقاً بفاتح و آخذ بکل حال۔۔۔الخ ۔۔۔ای سواء قرا الامام قدر ما یجوز بہ الصلاۃ ام لا، انتقل الی آیت اخری ام لا، تکرر ام لا، ھوالاصح نھر،، (ج2، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ص382) فتاویٰ عالمگیری میں ہے:” و لا یجب السہو الا بترک واجب، او تاخیرہ، او تاخیر رکن، او تقدیمہ، او تکرارہ، او تغییر واجب بان یجھر فیما،، ( ج1، الباب فی سجود السھو، ص126) ہدایہ میں ہے:” و یسجد للسھو فی الزیادة و النقصان سجدتین بعد سلام، قال:یلزمہ السھو اذا زاد فی صلاتہ فعلا من جنسھا لیس منھا وھذا یدل علی ان سجدة السھو واجبة ھو الصحیح لانھا تجب لجبر النقص تمکن فی العبادة فتکون واجبة،،۔ (ج1، باب سجود السھو، ص451) امام اہلسنت حضور سیدی سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:” امام جب نماز یا قرات میں غلطی کرے تو اسے بتانا لقمہ دینا مطلقاً جائز ہے خواہ نماز فرض ہو یا واجب یا تراویح یا نفل،اور اس میں سجدہ سہو کی بھی کچھ حاجت نہیں ، ہاں اگر بھولا اور تین بار سبحان اللہ کہنے کی دیر چپکا کھڑا رہا تو سجدہ سہو آئیگا،،۔ ( فتاویٰ رضویہ شریف،ج7، ص289، رضا فاؤنڈیشن لاہور) امام نماز میں کچھ بھولا اور بقدر ایک رکن یعنی تین بار سبحان اللہ کہنے کے کھڑا سوچتا رہا تو سجدۂ سہو واجب ہے ورنہ نہیں۔ بہارِ شریعت میں ہے:” قرات وغیرہ کسی موقع پر سوچنے لگا کہ بقدر ایک رکن یعنی تین بار سبحان اللہ کہنے کے وقفہ ہوا سجدۂ سہو واجب ہے،،۔ (ح4، ص715، دعوتِ اسلامی) اور اسی میں 607 پر ہے:” اپنے امام کو لقمہ دینا اور امام کا لقمہ لینا مفسد نہیں،،( یعنی جائز ہے)۔ واللہ تعالیٰ و رسولہ الاعلیٰ اعلم و اتم بالصواب کتبہ:عاصی محمد امیر حسن امجدی رضوی’ خادم الافتا و التدریس: الجامعۃ الصابریہ الرضویہ پریم نگر نگرہ جھانسی یوپی ۲۰/جمادی الاولیٰ ۱۴۴۵ھ بروز منگل
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9