صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2769 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تین طلاق دینے کے سات سال کے بعد بغیر حلالہ کے نکاح؟غلط مسئلہ بتانے والے کا حکم۔؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,754

سوال (Question):

تین طلاق دینے کے سات سال کے بعد بغیر حلالہ کے نکاح؟غلط مسئلہ بتانے والے کا حکم۔؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

تین طلاق دینے کے سات سال کے بعد بغیر حلالہ کے نکاح؟غلط مسئلہ بتانے والے کا حکم۔؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید نے اپنی بیوی ہندہ کو تین طلاقیں دیدی ہے اور دوسری شادی نظمہ سے کرلیا شادی کے کچھ دن کے بعد نظمہ کا انتقال ہوگیا ہندہ کے طلاق کو تقریباً سات سال گزر گئے ہیں اب بغیر حلالہ کے زید نے ہندہ سے دوبارہ شادی کرلی ہے کیونکہ زید نے ایک مولانا صاحب سے پوچھا تھا تو مولانا صاحب نے بتایا کی تین طلاقیں دینے کے بعد ایک مدت گزر جائے تو بغیر حلالہ کے نکاح ہو جائے گا تو زید نے مولانا صاحب کے کہنے پر نکاح کرلیا ہے اور بچے بھی پیدا ہوکر بڑے ہوگئے ہیں حضور اس کی وضاحت فرمادیجئے کی طلاق مغلظہ کے بعد بغیر حلالہ کے نکاح ہوگا یا نہیں ہوگا اور اگر نہیں ہوگا تو مولانا صاحب کے اوپر اور زید اور ہندہ کے اوپر حکم شرع کیا ہوگا المستفتی نورمحمد قادری
Teen Talaq Dene Ke 7 Saal Baad Bagair Halala Ke Nikah Ka Hukm
الجواب بعون الملک الوھاب
زید کا ہندہ کو طلاق مغلظہ دینے کے بعداس سے بغیر حلالہ کے نکاح کرنا کسی صورت صحیح نہیں ان دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے جدا ہوں اور سچی توبہ کریں ہاں اگر دونو ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو حلالہ کے بعد نکاح کرسکتے ہیں ، اور مولانا صاحب کا یہ کہنا کہ “تین طلاقیں دینے کے بعد ایک مدت گزر جائے تو بغیر حلالہ کے نکاح ہو جائے گا” نرے جہالت اور شریعت مطہرہ پر افتراء ہے ان پر بھی توبہ کرنا لازم ہے۔ قرآن پاک میں ہے: فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّى تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا إِن ظَنَّا أَن يُقِيمَا حُدُودَ اللّهِ (سورۃ البقرۃ: ٢٣٠) ترجمہ: پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہو گی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ، پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے (کنزالایمان) اعلی حضرت امام احمدرضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحریر فرمایا ہے: “جھوٹا مسئلہ بیان کرنا سخت شدیدہ کبیرہ ہے اگر قصداً ہے تو شریعت پر افتراء ہے اور شریعت پر افتراء اللہ عزوجل پر افتراء ہے اور اللہ عزوجل فرماتا ہے: قُلۡ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ  لَا  یُفۡلِحُوۡنَ (سورہ یونس١٠: ٦٩) (ترجمہ کنزالایمان: تم فرماؤ وہ جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہو گا) اور اگر بے علمی سے ہے تو جاہل پر سخت حرام ہے کہ فتوی دے” اھ (فتا رضویہ جدید ، ج٢٣ ، ص٧١٢ ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ محمد صدام حسین برکاتی فیضی ١٦ ربیع الاول ١٤٤٥ھ مطابق یکم دسمبر ٢٠٢٣ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh