صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1323 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تین مرتبہ کہا تلاکھ دہن پھر کہاں ایک ہجار بار تلاکھ دہن تو کونسی طلاق پڑی؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 8,282

سوال (Question):

تین مرتبہ کہا تلاکھ دہن پھر کہاں ایک ہجار بار تلاکھ دہن تو کونسی طلاق پڑی؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

تین مرتبہ کہا تلاکھ دہن پھر کہاں ایک ہجار بار تلاکھ دہن تو کونسی طلاق پڑی؟

مسئلہ:- از : علاؤ الدین ، جگر ناتھ پور ، بستی کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بیوی کو غصہ سے مارتے ہوئے تین بار کہا کہ جاؤ ہم تمہیں “تلاکھ دہن تلاکھ دہن تلاکھ دہن اس کے بعد یہ بھی کہا کہ جاؤ ہم تمہیں” ایک ہجار بار تلاکھ دہن ایسی صورت میں زید کی بیوی پر کون سی طلاق واقع ہوئی اور اس کے لئے شرع کا کیا حکم ہے ؟ بینوا توجروا ۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــ  صورت مسئولہ میں زید کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں کہ غصہ میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے بلکہ اکثر طلاق غصہ ہی میں دی جاتی ہے۔ اب زید بغیر حلالہ اس بیوی سے نکاح نہیں کر سکتا۔ قال الله تعالى: فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ۔ ماخوز : از فتاوی فقیہ ملت جلد دوم کتاب الطلاق

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh