صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1220 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

جانور کی قربانی کی منت مانی تو اس کا گوشت کون کھا سکتا ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,675

سوال (Question):

جانور کی قربانی کی منت مانی تو اس کا گوشت کون کھا سکتا ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

جانور کی قربانی کی منت مانی تو اس کا گوشت کون کھا سکتا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلۂ درج ذیل میں کہ کسی شخص کی چند بکریاں ہیں اس شخص نے یوں کہا کہ اگر سب بکریاں زندہ رہیں تو ان میں سے ایک کو قربانی کرونگا۔اسکے بعد جب زندہ رہیں تو قربانی تو کریگا لیکن اس کا گوشت کھایا جا سکتا ہے کہ نہیں؟ کیا یہ منت میں شمار ہوگا ؟ سائل جاوید اقبال کشی نگر برائے مہربانی اصح قول کے مطابق مدلل جواب مطلوب ہے۔ الجواب بتوفیق الملک الوہاب  صورت مسئولہ میں حکم یہ ہے کہ”منت صحیح ہے اور یہ ‘ نذر شرعی ہے کہ قربانی قربت مقصودہ ہے جو نذر کے شرائط میں سے ایک شرط ہے ” بدائع الصنائع میں ہے “(ومنھا)ان یکون قربۃ “مقصودۃ فلا یصح النذر بعیادۃ المرضی وتشییع الجنا ئز الوضوء والاغتصال ودخول المسجد ومس المصحف والاذان وبناء الرباطات والمساجد وغیر ذا لک وان کانت قربا لانہا لیست بقرب مقصودۃ ویصح النذر بالصلوۃ والصوم والحج والعمرۃ والاحرام بہما والعتق والبدنۃ والہدی والاعتکاف ونحو ذالک لانہا قرب مقصودۃ)” (بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع ،ج،٥،ص،٨٢) اس کا گوشت فقراء و مساکین کے سوا اغنیاء وناذر کو کھاناجائز نہیں۔ درمختار مع ردالمحتار میں ہے ۔ باب المصرف ای مصرف الزکوۃ والعشر ‘قال ابن عابدین وھو مصرف ایضالصدقۃ الفطر والکفارۃ والنذر وغیر ذالک من الصدقات الواجبۃ ۔ ( در مختار مع رد المحتار،جلد،٣ ص، ٢٨٣) اور تبیین الحقائق میں ہے۔ ” و ان وجبت بالنذر فليس لصاحبها أن يؤكل منها شيئا ولا ان يطعم غيره من الاغنيا سواء كان الناذر غنيااو فقيرا لان سبيلها التصدق وليس للمتصدق ان ياكل من صدقته ولا أن يطعم الاغنياء “ (تبین الحقائق، ج ،٦كتاب الاضحية صفحہ ٨) تنویرالابصار، در مختار مع ردالمحتار میں ہے۔ ( ومن نذرنذرا مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب ووجد الشرط ) المعلق به ( لزم الناذر ) أي لزمه الوفاء به، والمراد انه يلزمه الوفاء بأصل القربة التي التزمها. لحديث ” من نذر وسمي فعليه الوفاء بما سمي” ( تنویر الابصار،درمختار،مع رد المحتار، ملخصا ج ،٥، کتاب الایمان صفحہ٥١٥-٥١٦) واللہ تعالی اعلم بالصواب، کتبـــــــۃ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔٨٤٢٣٥٣٤٩٦٦

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh