صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1656 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

جانور کے کون کون سے اجزاء کھانا حرام اور مکروہ اور ممنوع ہیں ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,661

سوال (Question):

جانور کے کون کون سے اجزاء کھانا حرام اور مکروہ اور ممنوع ہیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

جانور کے کون کون سے اجزاء کھانا حرام اور مکروہ اور ممنوع ہیں ؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : اس بارےمیں رہنمائ عطافرمائیں کہ قربانی کے جانور کے کون کون سے اجزاء کھانا حرام اور مکروہ اور ممنوع ہیں مثلاً جو اعلیٰ حضرت نےلکھےہیں ۔ اور پہلے ہی بارچھری چلانے سے اگر مرغی کی گردن جداہوگئ کیا اس طرح وہ حلال ہے یاحرام ؟ سائل : محمد طارق رضوی انڈیا وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں ، کہ حلال جانور کے سب اجزاء حلال ہیں مگر بعض کہ حرام یا ممنوع یا مکروہ ہیں وہ یہ ہیں👇 (1) رگوں کا خون (2) پتّا (3) پھُکنا (4/5) علاماتِ مادہ ونر (6) بیضے (7) غدود (8) حرام مغز یہ گردن کے اندر سے گزرتا ہوا ریڑھ کی پوری ہڈی میں آخر تک جاتا ہے اسکی رنگت سفید اور ڈورے کے مانند بھیجے سے شروع ہوتاہے (9) گردن کے دو پٹھے کہ شانوں تک کِھنچے ہوتے ہیں (10)جگریعنی کلیجی کا خون (11) تلی کا خون (12) گوشت کا خون کہ بعد ذبح گوشت میں سے نکلتا ہے (13 دل کا خون (14) پِت یعنی وہ زرد پانی کہ پِتے میں ہوتا ہے (15) ناک کی رطوبت کہ بھیڑ میں اکثر ہوتی ہے (16) پاخانہ کا مقام (17) اوجھڑی (18) آنتیں (19) نطفہ (20) وہ نطفہ کہ خون ہوگیا (21) وہ نطفہ کہ گوشت کا لوتھڑا ہوگیا (22) وہ کہ نطفہ پورا جانور بن گیا اور مُردہ نکلا یا بے ذبح مرگیا: (فتاویٰ رضویہ جلد20 صفحہ240-تا241 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) فتاویٰ افریقہ میں ہے کہ اگر بکرا یامرغی وغیرہ بسم اللہ، اللہ اکبرکہتے ہوئے ذبح کیا اور چھری تیز ہو نے کے سبب سر جداہوجائے تو اس کاکھانا درست ہے؟ (جواب کھانادرست ہے،یہ فعل مکروہ ہے اور بلاقصد واقع ہوا توحرج نییں: (فتاویٰ افریقہ صفحہ91مطبوعہ نوریہ رضویہ) (فتاویٰ نظامیہ صفحہ423) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضا محمد عمران عطاری مدنی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh