صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1993 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

جس نے اذان دی ہو اس کے علاوہ دوسرا اقامت کہہ سکتا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,605

سوال (Question):

جس نے اذان دی ہو اس کے علاوہ دوسرا اقامت کہہ سکتا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

جس نے اذان دی ہو اس کے علاوہ دوسرا اقامت کہہ سکتا ہے؟

الجواب اقامت اسی کا حق ہے جس نے اذان پڑھی ہو اذان دینے والے کی اجازت سے دوسرا بھی کہہ سکتا ہے اور اگر بغیر اجازت کہی اور مؤذن کو ناگوار ہو تو مکروہ ہے- ( سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ اگر مؤذن موجود ہے تو اس کی اجازت کے بغیر کوئی دوسرا تکبیر نہ کہے اور امام کے لئے بھی مناسب نہیں، کہ شرعی عذر کے بغیر کسی دوسرے کو تکبیر کے لئے کہے، شرعی عذر مثلًا اس کی اقامت لحن پر مشتمل ہو، اجازت مؤذن کے بغیر اقامت کہنا مناسب نہیں کہ شاید وہ اسے ناپسند کرتا ہو- (فتاویٰ رضوریہ جلد5،صفحہ418) واللہ اعلم عزوجل و ر سولہ اعلم ﷺ

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh