صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1447 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

جس نے حج فرض ادا نہ کیا ہو اس سے حج بدل کرانا کیسا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,539

سوال (Question):

جس نے حج فرض ادا نہ کیا ہو اس سے حج بدل کرانا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

جس نے حج فرض ادا نہ کیا ہو اس سے حج بدل کرانا کیسا ہے؟

سوال:- جس شخص پر حج فرض ہو مگر اس نے ابھی حج نہ کیا اس سے حج بدل کرانا کیا ہے؟ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب جس شخص پر حج فرض ہو اور اس نے ابھی حج ادا نہ کیا ہو تو ایسے شخص سے حج بدل کرانا مکروہ تحریمی ہے ۔ بحر الرائق میں ہے ۔ “أنه يجوز احجاج الصرورة وهو الذى لم يحج أولا عن نفسه لكنه مكروه كما صرحوا به-واختار فى فتح القدير أنها كراهة تحريم للنهى الوارد فى ذالك”(ج ۳ ص ۱۲۲ تا ۱۲۳) اور نھر الفائق میں ہے ۔ “فيكره احجاج المرأة-والصرورة لأنه تارك فرض ،ملتقطا”(ج ۲ ص ۱۶۴) اور فتاوی رضویہ میں ہے “اور اگر خود ان پر حج فرض ہولیا ہو تو یہ دوسرے کی طرف سے حج کرنے سے گنہگار ہوں گے مگر حج جس کی طرف سے کریں گے ادا ہوجائے گا ان پر گناہ رہے گا اور ایسی صورت میں ان سے حج غیر کرانا بھی مکروہ ہے کہ ایک گناہ کا حکم دینا ہے زیادہ حد ادب”(ج ۴ ص ۶۶۳) والله تعالى أعلم بالصواب کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدار العلوم العلیمیہ الجواب صحيح محمد اختر حسین قادری خادم افتا ودرس دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی 

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh