Fatwa #975
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
جس کو امام بنایا اس نے امامت کی نیت نہ کی تو کیا حکم ہے؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
6,942
سوال (Question):
جس کو امام بنایا اس نے امامت کی نیت نہ کی تو کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
جس کو امام بنایا اس نے امامت کی نیت نہ کی تو کیا حکم ہے؟
جس کو امام بنایا اس نے امامت کی نیت نہ کی تو کیا حکم ہے؟اور جیکٹ کی چین بند کیے بغیر نماز کا حکم الســـــلام علیکـم و رحمتہ اللهِ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں۔ علماء دین ومفتیان عظام کہ ایک شخص اکیلا فرض نماز پڑھ رہا تھا دوسرا شخص آکر اسکے ساتھ شامل ہو گیا جبکہ وہ امام ہونے کی نیت نہیـــــں کیا تھا آیا دوسرے والے شخص کی نماز ہوگی یا نہیں؟ اور جیکٹ اوڑھ کر نماز پڑھانے سے نماز ہوگی یا نہیں؟ کیونکہ جیکٹ میـں چین ہوتا ہے ۔ وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ (١) کسی کی اقتدا میں نماز درست ہونے کے لیے کئی شرطیں ہیں، جن میں سے ایک شرط یہ ہے کہ اقتدا کرنے والا اقتدا کی نیت کرے ۔ لیکن اقتدا درست ہونے کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ نماز پڑھنے والا کسی کی امامت یا بلفظ دیگر مقتدی بنانے کی نیت کرے ۔ اسی لیے اگر کوئی تنہا نماز پڑھتا ہو اور اس کی کوئی اقتدا کرلے تو اقتدا درست ہے اگرچہ وہ امامت کی نیت نہ کرے ۔ ولہذا اگر کسی نے قسم کھائی کہ فلاں کی امامت نہ کرے گا اور اس فلاں نے اس کی اقتدا کرلی ۔ اور اس قسم کھانے والے نے اس شخص معین کا امام نہ ہونے کی نیت کی، تب بھی فلاں کی اقتدا درست ہوگی ۔ اور یہ قسم کھانے والا حانث ہوجائے گا ۔ یعنی: اس کی قسم ٹوٹ جائے گی، اور قسم کا کفارہ دینا ہوگا ۔ چناں چہ الاشباہ والنظائر میں ہے: “ولا یصحّ الاقتداء بامام الا بنیة، وتصح الامامة بدون نیتہا خلافا للکرخی وابی حفص الکبیر، الا اذا صلی خلفہ نساء، فان اقتداء ھنّ بلا نیة الامام للامامة غیر صحیح، واستثنی بعضہم الجمعة والعیدین، وھو الصحیح کما فی الخلاصة” (الاشباہ والنظائر مع الحموی ج١ ص ٦٢) اسی میں ہے: “ولو حلف ان لا یوم فلانا، فام الناس ناویا ان لا یومّہ، ویومّ غیرہ، فاقتدی بہ فلان حنث وان لم یعلم بہ” (الاشباہ والنظائر مع الحموی ج١ ص ٦۴) ہاں! ایک صورت میں امام اگر امامت کی نیت نہ کرے تو اقتدا صحیح نہیں ہوتی ہے اور وہ صورت یہ ہے کہ کسی عورت نے کسی شخص کی اقتدا کی نیت کی تو جب تک وہ امام اس عورت کی اقتدا کی نیت نہ کرے عورت کی اقتدا صحیح نہیں ہے۔جیسا کہ اشباہ کی عبارت اوپر گزرچکی ہے ۔ اور مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے: “ونية الرجل الإمامة شرط لصحة اقتداء النساء به” لما يلزم من الفساد بالمحاذاة، ومسألتها مشهورة ولو في الجمعة والعيدين على ما قاله الأكثر” (مراقی الفلاح شرح نور الایضاح) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔جیکٹ کی چین بند کیے بغیر نماز کا حکم
(٢): اگر جیکٹ کی آستین میں ہاتھ ڈال کر اور چین بند کرکے نماز پڑھی تو کسی طرح کوئی کراہت نہیں ہے ۔ کیوں کہ جیکٹ پہننے کا طریقہ اور اس کی وضع یہی ہے ۔ اور اگر آستین میں ہاتھ ڈال کر لیکن چین کھول کر نماز پڑھی تو نماز مکروہِ تنزیہی ہوگی ۔ لیکن اگر جیکٹ کی آستین میں ہاتھ ڈالے بغیر کندھے پر ڈال کر نماز پڑھی تو یہ سدلِ ثوب اور مکروہِ تحریمی ہے، نماز دہرانی واجب ہے ۔ امام اہل سنت مجدد دین وملت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “بلکہ (سدل: جو مکروہ تحریمی ہے وہ)کپڑا اوپر سے اس طرح سے ڈال لینا کہ دونوں جانبین لٹکتی رہیں مثلاً چادر سر یا کندھوں پرڈال لی اور دوبالا نہ مارا، یا انگرکھا کندھے پرڈال لیا اور آستین میں ہاتھ نہ ڈالا۔کما فی الدروغیرہ ۔ “اور اگرآستینوں میں ہاتھ ڈالے اور بند نہ باندھے تو یہ بھی سدل نہ رہا، اگرچہ خلاف معتاد ضرور ہے، ہاں امام ابوجعفر ہندوانی نے اس صورت کو مشابہ سدل ٹھہرا کر فرمایا کہ براکیا ۔ امام ابن امیرالحاج نےحلیہ میں ایک قید اور بڑھائی کہ اگرنیچے کرتا نہ ہو ورنہ حرج نہیں، اور اقرب یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں حرج ہے ۔ قال فی ردالمحتار : قال فی الخزائن بل ذکر ابوجعفر انہ لو ادخل یدیہ فی کمیہ ولم یشد وسطہ اولم یزر ازراہ فھو مسیئ لانہ یشبہ السدل اھ قلت لکن قال فی الحلیہ: فیہ نظر ظاھر بعد ان یکون تحتہ قمیص اونحوہ ممایستر البدن اھ “اقول : وفیہ نظر ظاھر؛ فان انکشاف شیء من صدر الرجل و بطنہ لا اساء ۃ فیہ اذا کان عاتقاہ مستورین ۔ وانما نھی النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم عما اذا صلی فی ثوب واحد ولیس علی عاتقہ منہ شیئ ۔ ولاشک ان ارسال اطراف مثل الشایہ من دون ان یزر ازارھا انما یشبہ السدل بنفس ھیأۃ، ولامدخل فیہ لوجود القمیص تحتہ وعدمہ لما ان السدل سدل وان کان فوق القمیص۔ ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہ اقول : النظر ان کان ففی کراھۃ التحریم۔ اماالتنزیھی فلاشک فی ثبوتہ” “ہاں اگرقصداً ایساکیا یوں کہ نماز کومحل بے پرواہی جانا اور اس کا ادب واجلال ہلکا مانا توکراہت و حرمت درکنار معاذ ﷲ اسلام ہی نہ رہے گا۔ فی الصلٰوۃ حاسر الرأس اذاکان ۔ والعیاذ باللہ”(فتاوی رضویہ ج٣) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ٢٠/جمادی الاولی ١۴۴٣ھ//٢۴/دسمبر ١۴۴٣ء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9