صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1866 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

جس کپڑے پر تصویر بنی ہو اسے پہننا اور اس کی تجارت کرنا کیسا؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,433

سوال (Question):

جس کپڑے پر تصویر بنی ہو اسے پہننا اور اس کی تجارت کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

جس کپڑے پر تصویر بنی ہو اسے پہننا اور اس کی تجارت کرنا کیسا؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل کپڑوں پر انسان یا جانور کی تصاویر بنی ہوتی ہیں۔ یہ ارشاد فرمائیں کہ ایسالباس پہننا یا بچّوں کوپہناناکیسا ہے؟ نیز ایسے کپڑے بیچنے کا کیا حکم ہے؟ المستفتی عبد الرزاق الہ آباد یوپی انڈیا۔ الجواب-بعون الملک الوھاب اگر کپڑوں پر بنی ہوئی جاندار کی تصویر اتنی بڑی ہے کہ زمین پر رکھ کر کھڑے ہو کر دیکھیں تو چہرہ واضح ہو تو ایسا لباس پہننا یا بچوں کو پہنانا ، جائز نہیں ۔ نیز ایسا لباس بیچنا بھی ناجائز ہے۔ ہاں اگر کسی طرح اس کا چہرہ مٹادیا جائے تو پھر اس کا پہننا ، بچوں کو پہنانا اور بیچنا بھی جائز ہوگا۔ اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں : “ کسی جاندار کی تصویر جس میں اس کا چہرہ موجود ہو اور اتنی بڑی ہو کہ زمین پر رکھ کر کھڑے سے دیکھیں تو اعضاء کی تفصیل ظاہر ہو ، اس طرح کی تصویر جس کپڑے پر ہو اس کا پہننا ، پہنانا یا بیچنا ، خیرات کرنا سب ناجائز ہے اور اسے پہن کر نماز مکروہِ تحریمی ہے جس کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ ایسے کپڑے پر سے تصویر مٹادی جائے یا اس کا سر یا چہرہ بالکل محو کردیا جائے ، اس کے بعد اس کا پہننا ، پہنانا ، بیچنا ، خیرات کرنا ، اس سے نماز ، سب جائز ہوجائے گا۔ اگر وہ ایسے پکے رنگ کی ہو کہ مٹ نہ سکے دھل نہ سکے تو ایسے ہی پکے رنگ کی سیاہی اس کے سر یا چہرے پر اس طرح لگادی جائے کہ تصویر کا اتنا عضو محو ہوجائے صرف یہ نہ ہو کہ اتنے عضو کا رنگ سیاہ معلوم ہو کہ یہ محو ومنافی صورت نہ ہوگا۔ “ اھ (فتاویٰ رضویہ جدید ، ج٢٤، ص٥٦٨ ، رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اعلم بالصواب۔ کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh