صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1528 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

جس کی تنخواہ چار ہزار سے زیادہ ہو اس پر زکوۃ ہے یا نہیں؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,450

سوال (Question):

جس کی تنخواہ چار ہزار سے زیادہ ہو اس پر زکوۃ ہے یا نہیں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

جس کی تنخواہ چار ہزار سے زیادہ ہو اس پر زکوۃ ہے یا نہیں؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایک شخص کی تنخواہ چار ہزار سے کچھ زائد ہے سال بھر کے تنخواہ 50000 ہو جاتی ہے کیا اس پر زکوۃ نکالنا فرض ہے؟ بینوا و توجروا الجوابــــــــــــــــــ اگر شخص مذکور اپنی حاجت اصلیہ سے فارغ اتنے روپے کا مالک ہے جو نصاب کی قیمت کو پہنچتے ہوں یا تو بقدرِ نصاب نقدی روپے کا مالک نہ ہو مگر اس کے پاس سونا، چاندی یا اسباب تجارت وغیرہ ہوں جو خود تنہا یاں ایک دوسرے سے مل کر نصاب کی قیمت کو پہنچتے ہوں اور ان پر سال گزر جائے تو زکوۃ فرض ہے ورنہ نہیں. درمختار جلد دوم صفحہ 31 میں ہے ” نصاب الذھب عشرون مثقالا والفضۃ مائتا درھم” اس کے تحت شامی میں ہے ” فما دون ذلک لا زکوۃ فیہ” پھر در مختار جلد دوم صفحہ 33 پر ہے ” اللازم فی ارض تجارۃ قیمتہ نصاب من ذھب او ورق مقوما باحدھما ربع عشر ١ھ. مخلصا. واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی کتبہ : مفتی خورشید احمد مصباحی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh