صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #336 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

جماعت پانے کے لیے تیمم کرنا جائز نہیں | تیمم کے مسائل

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,810

سوال (Question):

جماعت پانے کے لیے تیمم کرنا جائز نہیں | تیمم کے مسائل

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

حصول جماعت کیلئے تیمم کرکے نماز جائز نہیں

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ انور کو فجر میں غسل کی حاجت پیش آئی اور جماعت کے لیے پانچ منٹ ہی باقی ہیں تو کیا انور تییم کرکے نماز ادا کرسکتا ہے بالتفصیل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔

المستفتی: محمد انور عطاری شولاپور مہاراشٹرا

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب :

     انور پانی کے استعمال پر قادر ہوتے ہوے تیمم کرکے نماز ادا نہیں کر سکتا بلکہ غسل کرکے نماز ادا کرنا ضروری ہے اگرچہ جماعت جاتی رہے کما قال اللہ تعالی فی کتابہ الکریم “فلم تجدوا ماء فتیمموا صعیدا طیبا” (سورۃالنساء،آیت ٤٣،پ٥)

اس آیت میں وجود سے مراد قدرت ہے اور مطلب یہ ہے کہ جب تمہیں پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہو تو تیمم کرو ورنہ نہیں جیسا کہ بنایہ میں ہے “واﻋﻠﻢ ﺃﻥ اﻟﻤﺮاﺩ ﻣﻦ اﻟﻮﺟﻮﺩ اﻟﻘﺪﺭﺓ ﻭﻣﻌﻨﻰ اﻵﻳﺔ ﻓﻠﻢ ﺗﻘﺪﺭﻭا ﻋﻠﻰ اﺳﺘﻌﻤﺎﻟﻪ ﻭﻟﻔﻆ اﻟﻮﺟﻮﺩ ﻛﻤﺎ ﻳﺴﺘﻌﻤﻞ ﻟﻠﻈﻔﺮ ﺑﺎﻟﺸﻲء ﻳﺴﺘﻌﻤﻞ ﻟﻠﻘﺪﺭﺓ ﻋﻠﻴﻪ یقاﻝ اﻟﺸﻲء ﻇﻔﺮ ﺑﻪ ﻭﻭﺟﺪﻩ ﺇﺫا ﻗﺪﺭ ﻋﻠﻴﻪ ﻓﺤﻤﻠﻨﺎﻩ ﻋﻠﻰ اﻟﻘﺪﺭﺓ ﻫﺎﻫﻨﺎ ﻻﻋﺘﻤﺎﺩ اﻟﺘﻜﻠﻴﻒ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﺇﻻ ﻋﻠﻰ اﻟﻮﺟﻮﺏ ﻣﻄﻠﻘﺎ(ج١،ص٥١٥)

البتہ کبھی وقت اتنا کم ہو کہ غسل کرنے سے نماز قضا ہوجاے گی تو تیمم کرکے نماز پڑھ لے پھر غسل کرکے اعادہ کرے۔

فتاوی رضویہ میں ہے”ایک شخص کو غسل کی حاجت ہے اگروہ غسل کرتاہے تو فجر| کی نماز قضاہوئی جاتی ہے تو اس وقت اسے کیاکرناچاہئے؟ الجواب۔تیمم کرکے نماز پڑھ لے اور غسل کرکے پھر اعادہ کرے”(ج٧،ص١٩٣)

بہار شریعت میں ہے “وقت اتنا تنگ ہو گیا کہ وُضو یا غُسل کرے گا تو نماز قضا ہو جائے گی تو چاہیے کہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے پھر وُضو یا غُسل کر کے اعادہ کرنا لازم ہے”(ج٢، ص٣٥٥)۔

واللہ تعالی اعلم

شان محمد المصباحی القادری | ٣١ دسمبر٢٠١٩

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh