Fatwa #2802
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
جمعہ کی نماز فرض ہے یا نفل ؟ محمد سلمان رضا واحدی امجدی
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Verified Hanafi Fiqh
تاریخ: September 18, 2025
0
6,382
سوال (Question):
جمعہ کی نماز فرض ہے یا نفل ؟ محمد سلمان رضا واحدی امجدی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
Juma Ki Namaz Farz Hai Ya Nafl
سوال ۔۔جمعہ کی نماز فرض ہے یا نفل ؟اس کی مکمل وضاحت کریں۔الجواب ۔بعونالملک الوھاب
جمعہ فرض عین ہے اور اس کی فر ضیت ظھر سے زیادہ مؤکد ہے اس کا منکر کافر ہے ۔ در مختار میں ھی فرض عین جاحدھا لثبوتھا بالدلیل القطعی کما حققہ الکمال۔ وھی فرض مستقل اسد من الظھر ۔ (درمختار جزء اول ص١٠٩) حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں جمعہ فرض ہونے کے لۓ چھ شرطیں ان میں سے ایک شرط بھی مفقود ہو تو جمعہ ہوگا ہی نہیں ۔ ١ مصر یا فناے مصر کا ہونا ٢ سلطان اسلام یا اس کا نائب ہو جسے جمعہ قائم کرنے کا حکم دیا ہو ۔٣ ظھر کا وقت ہونا ٤ خطبہ کا ہونا خطبہ کے لۓ چند شرطیں ہیں ١ وقت میں ہو ۔اور نماز سے پہلے ہو ۔اور ایسی جماعت کے سامنے ہو جو جمعہ کے لۓ شرط ہے یعنی کم سے کم خطیب کے سوا تین مرد ۔اور اتنی آواز سے ہو کہ پاس والے سن سکیں ۔٥ جماعت کا ہونا یعنی امام کے علاوہ کم سے کم تین مرد ہوں ۔٦ اذن عام ۔یعنی مسجد کا دروازہ کھول دیا جاۓ جس مسلمان کا جی چاہے آۓ کسی کی روک ٹوک نہ ہو اگر جامع مسجد جب لوگ جمع ہو گۓ دروازہ بند کر کے جمعہ پڑھا تو جمعہ نہ ہوا ۔ (بہار شریعت حصہ ٤ ص٧٦٢) کتبہ ۔محمد سلمان رضا واحدی امجدی۔مدسہ غوث العلوم گلشن رضا الہی نگر سندیلہ ہردوئی ۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh