صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #420 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

جمعہ کے دن کی مبارک باد دینا کیسا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,272

سوال (Question):

جمعہ کے دن کی مبارک باد دینا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

جمعہ کے دن کی مبارک باد دینا کیسا ہے؟

الجواب بعون الملک الوہاب:

جمعہ کےدن کی مبارک باد دینا بالکل جائز ہے کیونکہ پہلی بات تو یہ کہ شریعت نے اس سے منع نہیں کیا اور جس کام سے شریعت منع نہ کرے وہ بالکل جائز ہوتا ہے ۔

جیسا کہ حدیثِ مبارکہ ہے:

“اَلْحَلاَلُ مَااَحَلَّ اللّٰہُ فِیْ کِتَابِہٖ وَالْحَرَامُ مَاحَرَّمَ اللّٰہُ فِیْ کِتَابِہٖ وَمَاسَکَتَ عَنْہُ فَھُوَمِمَّاعَفَاعَنْہٗ”

یعنی حلال وہ ہے جسے اللہ عزوجل نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام وہ ہے جسے اللہ عزوجل نے اپنی کتاب میں حرام کیا اور جس سے خاموشی اختیار فرمائی (یعنی منع نہ فرمایا) وہ معاف ہے

(یعنی اس کے کرنے پر کوئی گناہ نہیں)۔

{جامع ترمذی ابواب اللباس باب ماجاءفی لبس الفراء ،سنن ابن ماجہ ،المستدرک للحاکم}

دوسری بات

جمعہ کا دن ہمارے لیے مبارک اور اچھا ہے اور مبارک و اچھی بات کی مبارک باد دینا، اس کی اصل صحیح حدیثِ مبارکہ سے ثابت ہے چنانچہ:

“معراج کی رات جب نبی پاک ﷺکا گزر آسمانوں سے ہوا تو انبیاءکرام علیٰ نبیناوعليهم الصلاة والسلام نے آپ ﷺ کو معراج پر مبارک باد پیش کی۔

{کمافی کتب الاحادیث مشھور}

لہذاثابت ہوا کہ جمعہ کے دن کی مبارک باد دینا بالکل درست و جائز ہے اور اس سے روکنے والا جاھل و احمق ہے۔

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم

کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh