صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1773 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

جوا تاش کھیلنے والوں سے جرمانہ وصول کرنا اور اسے مسجد یا مدرسہ یا اس کے ٹوائلیٹ میں لگانا کیسا ہے۔

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,865

سوال (Question):

جوا تاش کھیلنے والوں سے جرمانہ وصول کرنا اور اسے مسجد یا مدرسہ یا اس کے ٹوائلیٹ میں لگانا کیسا ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

جوا تاش کھیلنے والوں سے جرمانہ وصول کرنا اور اسے مسجد یا مدرسہ یا اس کے ٹوائلیٹ میں لگانا کیسا ہے۔

مفتی محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ کیا فرماتے ہیں علماۓ دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں جوا اور تاش کھیلنے اور شادی بیاہ میں ڈھول تاشہ بجوانے پر پابندی عائد ہے اور اس کے خلاف کرنے والے پر گاؤں کے کچھ معززین نے متفقہ طور پر جرمانہ عائد کیا ہے کہ اگر کوئی جوا تاش کھیلتے ہوۓ پکڑاگیا یا شادی وغیرہ میں ڈھول تاشہ بجوایا تو اسے ایک ہزار روپیہ جرمانہ اداکرنا پڑے گا نیز پورے گاؤں کے سامنے معافی بھی مانگنی پڑے گی۔ اور یہ قانون لگے تقریباً تین سال ہوگئے اس بیچ کافی لوگوں سے جرمانہ وصول کیا گیا جو تقریباً چالیس ہزار روپیے ہوگئے ہیں۔ آیا ایسی صورت میں اب جوۓ کا وصول کیا گیا جرمانہ مدرسہ میں یا مسجد کے ٹوائلیٹ بنوانے میں استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں تو پھر اس کا استعمال کن امور میں کیا جاسکتا ہے؟ اور ڈھول تاشہ بجوانے یا جوا تاش کھیلنے پر جرمانہ اصول کرنا کیا شرعا جائزہے؟ المستفتی: محمد حذیفہ علوی سدھارتھ نگر یوپی الجواب-بعون الملک الوھاب- صورت مستفسرہ میں بطور جرمانہ مال وصول کرنا ناجائز اسے مسجد یا مدرسہ یا اس کے ٹوائلیٹ میں لگانا ناجائز ہے جنہوں نے وصول کیا ان پر لازم ہے کہ جن جن سے وصول کیا ہے انہیں واپس کریں اگر وہ نہ رہے تو ان کے ورثہ کو واپس کریں۔ کہ تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل کرنا ناجائز ہے. اعلی حضرت علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: ” تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل جائز نہیں۔ درمختار میں ہے:لاباخذ مال فی المذھب (مال لینے کا جرمانہ مذہب کی رو سے جائز نہیں ہے۔) ” اھ (فتاوی رضویہ مترجم, ج ٥, ص١١٢, کتاب الصلاۃ , مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) فتاوی فیض الرسول میں ہے: ” سزا کے طور پر جرمانہ وصول کرنا حرام و ناجائز ہے لان التعزیر بالمال منسوخ والعمل علی المنسوخ حرام۔ لہٰذا برادری والوں پر جرمانہ کی رقم واپس کرنا لازم ہے اگر نہیں واپس کریں گے تو سخت گنہگار مستحق عذاب نار ہوں گے۔” اھ (ج١, ص٦٢٠, کتاب النکاح, فصل فی المحرمات, مطبوعہ شبیر برادرز لاہور) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh