Fatwa #1229
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
جو انسان داڑھی کاٹتا ہو کیا وہ اذان پڑھ سکتا ہے ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
7,894
سوال (Question):
جو انسان داڑھی کاٹتا ہو کیا وہ اذان پڑھ سکتا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
جو انسان داڑھی کاٹتا ہو کیا وہ اذان پڑھ سکتا ہے ؟
سوال :بعد سلام عرض یہ ہے کہ جو انسان داڑھی کاٹتا ہو کیا وہ اذان پڑھ سکتا ہے ؟ سائل:- شفیق بہرائچی۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسؤلہ میں فاسق کو اذان پڑھنا درست نہیں ہے اگر پڑھے تو اس کی اذان کا اعادہ کیا جائے (یعنی دوبارہ اذان پڑھی جائیگی) مذہب حنفی میں ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے اس سے کم رکھنا ناجائز و حرام ہے. اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی ارشاد فرماتے ہیں: داڑھی حد مقرر شرع سے کم نہ کرانا واجب ۔ اور حضور سرور عالم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور انبیاء علہیم الصلوٰۃ والسلام کی سنت دائمی اور اہل اسلام کے شعائر سے ہے اور اس کا خلاف ممنوع وحرام اور کفار کا شعارہے۔ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: عشر من الفطرۃ قص الشارب واعفاء اللحیۃ ۔ یعنی دس چیزیں سنت قدیم انبیاء عظام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی ہیں ان سے مونچھیں کم کرانا اور داڑھی الحدیث،رواہ مسلم ۔ حد شرع تک چھوڑدینا(اس کو مسلم نے روایت کیا) شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ ﷲ تعالٰی شرح میں فرماتے ہیں: حلق کردن لحیہ حرام ست وروش افرنج وہنود وجوالقیان کہ ایشاں راقلندریہ نیز گویند وگزاشتن آں بقدر قبضہ واجب ست وآں کہ آنرا سنت گویند بمعنی طریقہ مسلوک دردین ست یا بجہت آنکہ ثبوت آں بہ سنت ست چنانکہ نماز عیدرا سنت گفتہ اند داڑھی منڈانا حرام ہے،یہ افرنگیوں،ہندؤوں اور جوالقیوں کا طریقہ ہے جو قلندریہ بھی کہلاتے ہیں۔اور داڑھی بمقدار ایک مٹھی چھوڑنا واجب ہے اور داڑھی کے متعلق جو کہا جاتاہے کہ یہ سنت ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ دین میں ایک جاری طریقہ ہے یا یہ وجہ ہے کہ اس کا ثبوت سنت کے ساتھ ہے جیسا کہ نماز عید کو سنت کہتے ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ ج،٢٢ ص، ٥٨٢) اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ایک مشت سے کم داڑھی کاٹنا حرام و فسق ہے اور فاسق کی اذان کا اعادہ کیا جائے گا۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں خنثی و فاسق اگرچہ عالم ہی ہو اور نشہ والے اور پاگل اور نا سمجھ بچے اور جنب کی اذان مکروہ ہے، ان سب کی اذان کا اعادہ کیا جائے۔ (درمختار) (بہار شریعت ج 1 ح 3 اذان کا بیان مسئلہ نمبر 15) لیکن اقامت کا اعادہ نہیں کیا جائے گا کہ اس میں تکرار نہیں ہے ۔ کتبــــــــہ : مفتی منظور عالم قادری صاحب زید مجدہ
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9