صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1543 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

جو شخص روزہ رکھنے کی قدرت نہ رکھتا ہو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,305

سوال (Question):

جو شخص روزہ رکھنے کی قدرت نہ رکھتا ہو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

جو شخص روزہ رکھنے کی قدرت نہ رکھتا ہو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علماۓ دین ومفتیان شرع متین مندرج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص ایسا ہے جسکی عمر اسی (٨٠) سال کی ہو اور وہ روزہ رکھنے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے۔ سائل۔۔۔۔۔ آصف رضا بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بتوفیق الملک الوھاب صورت مسئولہ میں ایسا شخص جسکی عمر اسی (٨٠) سال ہو اور وہ روزہ رکھنے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو وہ شخص شیخ فانی کے حکم میں ہے۔ “شیخ فانی” یعنی وہ بوڑھا شخص جو طویل عمر ہونے کی وجہ سے حقیقتا روزہ رکھنے سے عاجز ہو، نہ فی الحال نہ آئندہ زمانے میں نہ گرمی میں نہ سردی میں نہ لگاتار اور نہ متفرق طور پر روزہ رکھنے کی طاقت و قوت رکھتا ہو، تو وہ شیخ فانی ہے۔ اسے اس بات کی اجازت ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے اور ہر روزہ کے بدلے فدیہ ادا کرے ایک روزے کا فدیہ ایک صدقۂ فطر کی مقدار ہے، یا ہر روزے کے بدلے دونوں وقت ایک مسکین کو بھر پیٹ کھانا کھلانا۔ جیسا کہ بہار شریعت میں ہے۔ “شیخ فانی یعنی وہ بوڑھا جس کی عمر ایسی ہو گئی کہ اب روز بروز کمزور ہی ہوتا جائے گا، جب وہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو یعنی نہ اب رکھ سکتا ہے نہ آئندہ اس میں اتنی طاقت آنے کی امید ہے کہ روزہ رکھ سکے گا، اسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے اور ہر روزہ کے بدلے میں فدیہ یعنی دونوں وقت ایک مسکین کو بھر پیٹ کھانا کھلانا اس پر واجب ہے، یا ہر روزہ کے بدلے میں صدقۂ فطر کی مقدار مسکین کو دیدے۔ (بہار شریعت، جلد،١،حصہ٥،صفحہ،١۰۰٦،مسئلہ نمبر ٢١، سحری و افطاری کا بیان، مجلس المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی) اور سیدی سرکار اعلی حضرت مجدد دین وملت فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں،’’بعض جاہلوں نے یہ خیال کر لیا ہے کہ روزہ کا فدیہ ہر شخص کیلئے جائز ہے جبکہ روزے میں اسے کچھ تکلیف ہو ،ایسا ہر گز نہیں ،فدیہ صرف “شیخ فانی” کیلئے رکھا ہے جو بہ سبب پیرانہ سالی حقیقۃ روزہ کی قدرت نہ رکھتا ہو ،نہ آئندہ طاقت کی امید کہ عمرجتنی بڑھے گی ضعف بڑھے گا اس کیلئے فدیہ کا حکم ہے اور جو شخص روزہ خود رکھ سکتا ہو اور ایسا مریض نہیں جس کے مرض کو روزہ مضر ہو ،اس پر خود روزہ رکھنا فرض ہے اگرچہ تکلیف ہو ،بھوک پیاس گرمی خشکی کی تکلیف تو گویا لازم روزہ ہے اور اسی حکمت کیلئے روزہ کا حکم فرمایا گیا ہے ،اس کے ڈر سے اگر روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہو تو معاذ اللہ عز وجل روزے کا حکم ہی بیکار و معطل ہو جائے۔ ( فتاوی رضویہ قدیم ، جلد ٤، صفحہ ،٦٠٢ طابع وناشر دارالعلوم امجدیہ مکتبہ رضویہ آرام باغ روڈ کراچی ) کتبــــــــہ : منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh