صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1966 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

جِنّات کے متعلق مختصر معلومات / جنات کون ہیں ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,107

سوال (Question):

جِنّات کے متعلق مختصر معلومات / جنات کون ہیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

جِنّات کے متعلق مختصر معلومات

ابورضا محمد عمران عطاری مدنی ارشاد باری تعالیٰ ہے(وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَؕ-فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓىٕكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا()وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًا-الجِن آیت 14 تا 15) ترجمہ و تفسیر از صراط الجنان (اور یہ کہ ہم میں کچھ مسلمان ہیں اور کچھ ظالم تو جو اسلام لائے انھوں نے بھلائی سوچی، اور رہے ظالم وہ جہنم کے ایندھن ہوئے۔ (اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جِنّات نے کہا قرآن سننے کے بعد ہم مختلف ہو گئے کہ ہم میں سے کچھ جنوں نے اسلام قبول کر لیا اور کچھ نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور راہِ حق سے پھر گئے تو جنہوں نے اسلام قبول کر لیا انہوں نے تو ہدایت کا قصد کیا، ہدایت اور راہِ حق کو اپنا مقصود ٹھہرایا اور بہرحال جو کافر اور راہِ حق سے پھرنے والے ہیں وہ قیامت کے دن جہنم کے ایندھن ہوں گے اور ان کے ذریعے جہنم کو بھڑکا یا جائے گا۔ (تفسیرقرطبی،الجن،تحت الآیۃ: ۱۴-۱۵، ۱۰ / ۱۴، الجزء التاسع عشر، خازن، الجن، تحت الآیۃ: ۱۴-۱۵، ۴ / ۳۱۷، ملتقطاً) { فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًا: تو وہ جہنم کے ایندھن ہوگئے۔} اِس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ کافر جن جہنم کی آگ کے عذاب میں گرفتار کئے جائیں گے اور یاد رہے کہ جِنّات اگرچہ آگ سے پیدا کئے گئے ہیں لیکن اللّٰہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ آگ کو آگ کے ذریعے عذاب میں مبتلاء کر دے یا جِنّات کی ہَیئَت تبدیل کر کے انہیں عذاب دے لہٰذا یہاں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جب جِنّات آگ سے پیدا کئے گئے ہیں تو انہیں آگ سے عذاب کیسے ہو گا۔ (مدارک، الجن، تحت الآیۃ: ۱۵، ص۱۲۸۹، خازن، الجن، تحت الآیۃ: ۱۵، ۴ / ۳۱۷-۳۱۸، ملتقطاً) (صراط الجنات جلد10 صفحہ391) (بہار شریعت میں ہے)کہ یہ جنات آگ سے پیدا کیے گئے ہیں، اِن میں بھی بعض کو یہ طاقت دی گئی ہے کہ جو شکل چاہیں بن جائیں، اِن کی عمریں بہت طویل ہوتی ہیں، اِن کے شریروں کو شیطان کہتے ہیں، یہ سب انسان کی طرح ذی عقل اور ارواح و اجسام والے ہیں، اِن میں توالد و تناسل ہوتا ہے(یعنی: ان کے یہاں اولادپیدا ہوتی اور نسل چلتی ہے، یہ کھاتے، پیتے، جیتے، مرتے ہیں، اِن میں مسلمان بھی ہیں اور کافر بھی ہیں مگر اِن کے کفّار انسان کی بہ نسبت بہت زیادہ ہیں، اور اِن میں مسلمان نیک بھی ہیں، اور فاسق بھی، سُنّی بھی ہیں، بد مذہب بھی، اور اِن میں فاسقوں کی تعداد بہ نسبت انسان کے زائد ہے۔ ان متعلق عقیدہ یہ رکھنا چاہئے کہ اِن کے وجود کا انکار یا بدی کی قوت کا نا م جن یا شیطان رکھنا کفر ہے- (بہار شریعت حصہ1 جن کا بیان صفحہ96) (حنات جنت میں جائیں گے یا دوزخ میں؟؟ جو کافر ہونگے وہ جنت میں نہیں جائیں گے بلکہ جہنم ان کا ٹھکانا ہوگا، (لبتہ جو مومن ہونگے ان کے متعلق 4اقوال ہیں، (1)جنات جنت میں جائیں گے مگر رویت باری انہیں میسر نہ ہوگی جیسے فرشتوں کو جمہور علماء کا مسلک یہی ہے البتہ جنت میں اس کی غذا وہ نہیں ہوگی جو انسان کی ہوگی بلکہ اس کو تسبیح تقدیس الہام کیا جائے گا جس سے اس کو کھانے جیسا مزہ آئے گا، (2)وہ جنت میں نہیں جائیں گے بلکہ جنت کے فنا میں رہیں گے انسان اس کو دیکھیں گے وہ انسانوں کو نہیں دیکھ سکتے امام مالک ، امام شافعی ، امام احمد، امام ابو ہوسف رحہم اللہ تعالی کا بھی یہی مسلک ہے، (3)وہ اعراف میں رہیں گے، (4)توقف ہے، (فتاویٰ اکرمی صفحہ61) واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم ﷺ

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh