صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1755 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

جھگڑے کے دوران شوہر نے کہا اگر تونے میرا پیر نہیں توڑا تو تجھے تینوں طلاق۔ تو کیا حکم ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,851

سوال (Question):

جھگڑے کے دوران شوہر نے کہا اگر تونے میرا پیر نہیں توڑا تو تجھے تینوں طلاق۔ تو کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

جھگڑے کے دوران شوہر نے کہا اگر تونے میرا پیر نہیں توڑا تو تجھے تینوں طلاق۔ تو کیا حکم ہے؟

السلام علیکم کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں شوہر بیوی میں جھگڑا ہوا شوہر بیوی کو پیروں سے مار رہا تھا۔ بیوی نے کہا تیرا پیر توڑ دونگی۔ اس بات پر شوہر نے کہ دیا اگر تو نے میرا پیر نہیں توڑا تو تجھے تینوں طلاق۔ اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟ جواب فرمائیں. سائل: انعام پتہ ۔ جھارکھنڈ الجوابـــــــــــــــــــ صورتِ مسئولہ “یمینِ فور” کی ہے۔ لہذا اگر اس وقت بیوی نے شوہر کا پیر توڑا تو طلاق واقع نہ ہوگی اور اگر اس وقت نہ توڑا تو تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔ اور اگر بعد میں توڑا یا توڑا ہی نہیں تو بھی تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔ اس لیے کہ بیوی کو شرط کے ساتھ طلاق کی بعض صورتوں میں اگرچہ الفاظ کے اعتبار سے عام وقت کے معنی کا احتمال ہوتا ہے، لیکن موقع محل کے قرینہ سے شوہر کی مراد یہ ہوتی ہے کہ اگر یہ کام تونے اسی وقت کیا یا یہ کام اسی وقت نہ کیا تو تجھے طلاق ہے۔ درج ذیل مسائل دیکھیے: (١) شوہر نے بیوی کو جماع کے لیے کمرہ میں چلنے کے کہا اس نے انکار کیا تو شوہر نے کہا : “اگر تو میرے ساتھ کمرے میں نہ چلے تو تجھے طلاق”۔ اس صورت میں اگر اسی وقت بیوی شوہر کے بلائے گیے کمرہ میں گئی تو طلاق نہیں پڑی۔ اور اگر خواہشِ جماع ختم ہونے کے بعد گئی یا گئی ہی نہیں تو طلاق پڑگئی۔ (٢) کسی نے دوسرے کو ناشتہ کی دعوت دیتے ہوئے کہا آئیے میرے ساتھ ناشتہ کرلیجیے تو اس نے کہا “اگر میں ناشتہ کروں تو میری بیوی کو طلاق ہے”۔ اب اس صورت میں اگر اس دعوت دینے والے کے ساتھ ناشتہ کرے گا تو اس کی بیوی کو طلاق پڑجائے گی، لیکن اگر اس کے ساتھ ناشتہ نہ کیا اور اسی دن گھر جاکر ناشتہ کیا تو اس کی بیوی کو طلاق نہیں پڑے گی۔ (٣) بیوی نے شوہر سے باہر جانے کی اجازت مانگی، شوہر نے جانے سے روکا، لیکن بیوی شوہر کی مرضی کے خلاف جانے کی تیاری کرنے لگی تو شوہر نے کہا: “اگر تو گھر سے باہر نکلی تو تجھے طلاق”۔ اس صورت میں اگر اس وقت بیوی گھر سے نکلے گی تو طلاق پڑے گی اور اگر بعد میں نکلے گی تو طلاق نہیں پڑے گی۔ در مختار میں ہے: “(وَشُرِطَ لِلْحِنْثِ فِي) قَوْلِهِ (إنْ خَرَجْت مَثَلًا) فَأَنْتِ طَالِقٌ أَوْ إنْ ضَرَبْت عَبْدَك فَعَبْدِي حُرٌّ (لِمُرِيدِ الْخُرُوجِ) وَالضَّرْبِ (فِعْلُهُ فَوْرًا) لِأَنَّ قَصْدَهُ الْمَنْعُ عَنْ ذَلِكَ الْفِعْلِ عُرْفًا وَمَدَارُ الْأَيْمَانِ عَلَيْهِ، وَهَذِهِ تُسَمَّى يَمِينَ الْفَوْرِ تَفَرَّدَ أَبُو حَنِيفَةَ – رَحِمَهُ اللَّهُ – بِإِظْهَارِهَا وَلَمْ يُخَالِفْهُ أَحَدٌ. (وَ) كَذَا (فِي)حَلِفِهِ (إنْ تَغَدَّيْت) فَكَذَا (بَعْدَ قَوْلِ الطَّالِبِ) تَعَالَ (تَغَدَّ مَعِي) شُرِطَ لِلْحِنْثِ (تَغَدِّيهِ مَعَهُ) ذَلِكَ الطَّعَامَ الْمَدْعُوَّ إلَيْهِ (وَإِنْ ضَمَّ) إلَى إنْ تَغَدَّيْت (الْيَوْمَ أَوْ مَعَك)فَعَبْدِي حُرٌّ (حَنِثَ بِمُطْلَقِ التَّغَدِّي) لِزِيَادَتِهِ عَلَى الْجَوَابِ فَجُعِلَ مُبْتَدِئًا وَفِي طَلَاقِ الْأَشْبَاهِ إنْ لِلتَّرَاخِي إلَّا بِقَرِينَةِ الْفَوْرِ وَمِنْهُ طَلَبَ جِمَاعَهَا فَأَبَتْ فَقَالَ: إنْ لَمْ تَدْخُلِي مَعِي الْبَيْتَ فَدَخَلَتْ بَعْدَ سُكُونِ شَهْوَتِهِ حَنِثَ۔” (در مختار ، کتاب الایمان) حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “اگر کسی خاص وجہ سے یا کسی بات کے جواب میں قسم کھائی جس سے اوس کا م کا فوراً کرنا یا نہ کرنا سمجھا جاتا ہے اس کو یمینِ فور کہتے ہیں ۔ ایسی قسم میں اگر فوراً وہ بات ہوگئی تو قسم ٹوٹ گئی۔ اور اگر کچھ دیر کے بعد ہو تو اس کا کچھ اثر نہیں، مثلاً: عورت گھر سے باہر جانے کا تہیہ کررہی ہے، اس نے کہا اگر تو گھر سے باہر نکلی تو تجھے طلاق ہے، اس وقت عورت ٹھہرگئی پھر دوسرے وقت گئی تو طلاق نہیں ہوئی۔ یا ایک شخص کسی کو مارنا چاہتا تھا، اس نےکہا اگر تونے اسے مارا تو میری عورت کوطلاق ہے ۔ اس وقت اس نے نہیں مارا تو طلاق نہیں ہوئی اگرچہ کسی اور وقت میں مارے۔ یا کسی نے اس کو ناشتہ کے لیے کہا کہ میرے ساتھ ناشتہ کرلو، اس نے کہا خدا کی قسم ناشتہ نہیں کروں گا اور اس کے ساتھ ناشتہ نہ کیا توقسم نہیں ٹوٹی ، اگرچہ گھر جاکر اسی روز ناشتہ کیا ہو۔” (بہار شریعت ح٩ ص٣٠٢ ، ٣٠٣) ھذا ما ظھر لی واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢/شوال المکرم ١۴۴٣ھ// ۴/مئی ٢٠٢٢ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh