صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #251 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

جھینگا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ از مفتی محمد نظام الدین قادری جامعہ علیمیہ جمدا شاہی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,652

سوال (Question):

جھینگا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ از مفتی محمد نظام الدین قادری جامعہ علیمیہ جمدا شاہی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

جھینگا کھانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:

جھینگا کھانا جائز ہے یانہیں؟ اس بارے میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے، بعض فقہاء اس کو مچھلی مان کر جائز قرار دیتے ہیں۔ اور بعض فقہاء اس کو مچھلی نہیں مانتے، اور چوں کہ مچھلی کے علاوہ پانی کے جانور حرام ہیں، اس وجہ سے وہ جھینگا کو حرام کہتے ہیں۔اس لیے احتیاط یہ ہے کہ اس کے کھانے سے بچا جائے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “جھینگےمیں اختلاف ہے کہ وہ مچھلی ہے یانہیں۔ اگر مچھلی ہے حلال، ورنہ حرام۔ لہذا اس سے بچنے میں احتیاط ہے” (فتاوی رضویہ ج٩) اور تحریر فرماتے ہیں: ” تحقیق مقام یہ ہے کہ ہمارے مذہب میں مچھلی کے سوا تمام دریائی جانور مطلق حرام ہیں، تو جن کے خیال میں جھینگا مچھلی کی قسم سے نہیں، ان کے نزدیک حرام ہواہی چاہئے، مگر فقیر نے کتبِ لغت وکتبِ طب و کتبِ علم حیوان میں بالاتفاق اسی کی تصریح دیکھی کہ وہ مچھلی ہے۔”(فتاوی رضویہ ج٨ ص٣٧٦) اور پھر گیارہ کتبِ لغات وطب وعلم الحیوان (قاموس، صحاح، تاج العروس، صراح، منتہی الارب، مخزن، تحفہ، تذکرہ داود انطاکی، حیاة الحیوان الکبری، جامع ابن بیطار، انوار الاسرار) کی عبارتوں سے جھینگا کے لیے مچھلی بولا جانا ثابت کرنے کے بعد تحریر فرمایا: “تو اس تقدیر پر حسب اطلاقِ متون، وتصریحِ معراج الدرایہ مطلقاً حلال ہونا چاہئے ،کہ متون میں جمیع انواعِ سمک حلال ہونے کی تصریح ہے” (فتاوی رضویہ ج ٨ص٣٧٧)

محمد نظام الدین قادری۔

خادم درس وافتاء: دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh