صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1509 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

جہاں نام لوں خدا کا وہیں ناؤ ڈگمگائے” کاپڑھناکیسا؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,588

سوال (Question):

جہاں نام لوں خدا کا وہیں ناؤ ڈگمگائے" کاپڑھناکیسا؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مصرع: جہاں نام لوں خدا کا وہیں ناؤ ڈگمگائے” کاپڑھناکیسا؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان اسلام اس شعر کے بارے میں کہ “یہ کرم ہے ناخدا کا یا فریب موج دریا_جہاں نام لوں خدا کا وہیں ناؤ ڈگمگائے، اس شعر کی تشریح فرمائیں کیا یہ شعر درست ہے. المستفتی: شمشیر احمد مقام ھتھیوا نوتنواں مہراجگنج یوپی۔ بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب صورت مستفسرہ میں شعر کا معنی یہ ہے کہ” یہ کشتی چلانے والے کا کام ہے یا دریا کے موج وتلاطم کا فریب ودھوکہ ہے کہ جہاں خدا کا نام لیتا ہوں وہیں کشتی ڈگمگاتی ہے” اور یہ شعر شرعا درست نہیں ہے کہ اس میں ﷲ تعالیٰ کے صفاتی نام “الوکیل” بمعنی”کارساز” کے منافی اعتقاد ظاہر کیا گیا ہے اور یہ حرام ہے . ہاں اگر تاویل واستبعاد سے کام لیا جائے تو شعر کا درست معنی بھی نکل سکتا ہے پھر بھی اس طرح کے شعر سے احتراز چاہیے. ھذا ماظھر لی والعلم عند الحق. کتبہ:محمد ارشد حسین الفیضی | ٢١رجب المرجب ١٤٤٣ھ

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh