صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1460 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

حائضہ تلاوت قرآن پاک سن سکتی ہے ؟ | آیت سجدہ سنے توسجدہ واجب نہ ہوگا ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,970

سوال (Question):

حائضہ تلاوت قرآن پاک سن سکتی ہے ؟ | آیت سجدہ سنے توسجدہ واجب نہ ہوگا ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

حائضہ تلاوت قرآن پاک سن سکتی ہے ؟ آیت سجدہ سنے توسجدہ واجب نہ ہوگا ؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ حیض (Menses) کی حالت میں عورت قرآن شریف کی تلاوت سُن سکتی ہے یا نہیں نیز اگر اس نے آیتِ سجدہ سُنا تو اس پر سجدہ تلاوت لازم ہو گی یا نہیں؟ المستفتیہ کنیز عائشہ احمد آباد گجرات۔ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ حائضہ قرآن مجید کی تلاوت سن سکتی ہے، ممانعت صرف قرآن مجید پڑھنے یا اس کو بِلاحائل چھونے کی ہے سُننے کی کہیں ممانعت نہیں ۔ بلکہ فقہاء کرام نے قرآن پاک کی ان آیتوں کو جن میں ذکرو دعا و ثناء کی نیت ممکن ہے بے نیت تلاوت خاص ان نیتوں سے پڑھنا جائز فرمایا ۔ بحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:”ھذا کلہ اذا قرأ علی قصد انہ قران اما اذا قراہ علی قصد الثناء اوافتتاح امر لایمنع فی اصح الرویات وفی التسمیۃ اتفاق انہ لایمنع اذا کان علی قصد الثناء او افتتاح امرکذا فی الخلاصۃ ۔ وفی العیون لابی اللیث ولو انہ قراء الفاتحۃ علی سبیل الدعاء اوشیئا من الآیات التی فیہا معنی الدعاء ولم یرد بہ القراء ۃ فلا باس بہ “اھ ۔ ( جلد:١ صفحہ: ١٩٩ کتاب الطہارۃ باب الحیض ) حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں:” قرآن عظیم کی وہ آیات جو ذکر وثنا ومناجات ودعا ہوں اگرچہ پوری آیت ہوں جیسے آیۃ الکرسی متعدد آیات کاملہ جیسے سورہ حشر شریف کی اخیر تین آیتیں ھو اللہ الذی لاالہ الا ھو عالم الغیب والشھادۃ سے آخر سورۃ تک ،بلکہ پوری سورت جیسے الحمد شریف بہ نیت ذکر ودعا بے نیت تلاوت پڑھنا جنب وحائض ونفسا سب کو جائز ہے” اھ ( فتاوی رضویہ مترجم جلد: ١ حصہ دوم ص: ١٠٧٩) حائضہ عورت آیتِ سجدہ سُنے تو اس پر سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوگا وجہ یہ کہ آیتِ سجدہ پڑھنے یا سُننے والے پر سجدہ اُس وقت واجب ہوتا ہے جبکہ وہ فرضیت نماز کا اہل ہو اور حائضہ عورت فرضیت نماز کی اہل نہیں یعنی اُس پر نہ ان ایام میں نماز فرض نہ ہی بعد میں قضاء لازم ۔ فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے: “التالي بآية السجدة يلزمه السجدة بتلاوته اذاكان اهلا لوجوب الصلاة وإن كان منهيا عن القراة كالجنب وَکُلُّ مَنْ لَّا یَجِبُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ لَا قَضَاؤُھَا کَالْحَائِضِ وَالنُّفَسَاءِوَالْکَافِرِوَالصَّبِیِّ وَالْمَجْنُوْنِ فَلَاسُجُوْدَ عَلَیْھِمْ وَکَذَالِکَ الْحُکْمُ فِیْ حَقِّ السَّامِعِ،مَنْ کَانَ أَھْلًا لِّوُجُوْبِ الصَّلَاۃِ عَلَیْہِ یَلْزَمُہُ السَّجْدَۃُ بِالسِّمَاعِ وَمَنْ لَّا یَکُوْنُ أَھْلًا لَّا یَلْزَمُہٗ ” اھ(ج١ ص٤٨٩ کتاب الصلاۃ) یعنی سجدہ تلاوت کے پڑھنے والے پر سجدہ اس وقت لازم ہوتا ہے جبکہ وجوب صلاۃ کا اہل ہو اور جس شخص پرنہ نماز فرض ہو نہ اس کی قضاء فرض ہواس پر سجدۂ تلاوت بھی واجب نہیں جیسے حیض ونفاس والی عورت، کافر، نابالغ بچہ،پاگل۔اوریہی حکم سننے والے کے حق میں ہےکہ جو وجوبِ نماز کااہل ہوگااُس پرآیتِ سجدہ سُننے سے سجدۂ تلاوت واجب ہوگااورجواس کااہل نہیں اُس پرآیتِ سجدہ سننے سے سجدۂ تلاوت بھی واجب نہیں ہوگی۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh