صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1844 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

حاجت اصلیہ سے کیا مراد ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,837

سوال (Question):

حاجت اصلیہ سے کیا مراد ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

حاجت اصلیہ سے کیا مراد ہے ؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ حضرت حاجت اصلیہ سے کیا مراد ہے آسان لفظوں میں وضاحت فرمادیں بڑی مہربانی ہوگی فقط والسلام سائل: نور محمد قادری خادم الطلبہ دارالعلوم غوثیہ قطبیہ سیون بازید پور ضلع ایودھیا فیض اباد یوپی۔ بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب زندگی بسر کرنے میں آدمی کوجس چیزکی ضرورت ہو وہ حاجت اصلیہ ہے مثلا رہنے کامکان، خانہ داری کے سامان پہننے کے کپڑے کھانے پینے کی چیزیں سفر کرنے کے لئے سواری خدمت کے لیے لونڈی غلام، آلات حرب، پیشہ وروں کے اوزار، اہل علم کے لیے حاجت کی کتابیں وغیرہ۔ صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: “حاجت اصلیہ یعنی جس کی طرف زندگی بسر کرنے میں آدمی کو ضرورت ہے اس میں زکاۃ واجب نہیں، جیسے رہنے کا مکان، جاڑے گرمیوں میں پہننے کے کپڑے، خانہ داری کے سامان، سواری کے جانور، خدمت کے لیے لونڈی غلام، آلات حرب، پیشہ وروں کے اوزار، اہل علم کے لیے حاجت کی کتابیں ، کھانے کے لیے غلہ۔ ” اھ (بہار شریعت حصہ ٥، ج١ ، ص٨٨٠، زکوٰۃ کا بیان ، مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh