صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1284 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

حالت نفاس میں عورت کنویں میں گر کر مر گئی تو کتنا پانی نکالا جائے گا؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,042

سوال (Question):

حالت نفاس میں عورت کنویں میں گر کر مر گئی تو کتنا پانی نکالا جائے گا؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

حالت نفاس میں عورت کنویں میں گر کر مر گئی تو کتنا پانی نکالا جائے گا؟

سوال : ایک عورت حالت نفاس میں کنویں میں گر کر مر گئی مرنے کے بعد نکال دی گئی ایسی صورت میں کنویں کا پانی کس مقدار میں نکالا جائے جس سے کنواں پاک ہوجائے اور کنویں کا پانی بوجہ سوتا یکدم نکالنا دشوار ہے تو کس طریقے سے نکالا جائے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں کل پانی نکالا جائے ۔ اور اس قسم کے کنویں کے پانی نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس پانی کی گہرائی کسی لکڑی یا رسی سے صحیح طور پر ناپ لی جائے چند آدمی بہت پھرتی سے سو ڈول نکالیں پھر پانی ناپیں جتنا کم ہو اسی حساب سے پانی نکالے کنواں پاک ہوجائے گا آئے گا. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی بدر الدین احمد قادری

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh