صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1373 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

حاملہ عورت سے ہمبستری کرنا کیسا ہے ؟ از مفتی صدام حسین فیضی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,483

سوال (Question):

حاملہ عورت سے ہمبستری کرنا کیسا ہے ؟ از مفتی صدام حسین فیضی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

حاملہ عورت سے ہمبستری کرنا کیسا ہے ؟

حضرت ایک سوال ہے کہ حاملہ عورت سے ہمبستری کرنا کیسا ہے؟ المستفتی محمد افروز اشرفی میرانی یوپی انڈیا۔ الجوابــــ بعون الملک الوھاب- صورت مستفسرہ میں شرعا وضع حمل تک ہمبستری کرنا جائز ہے ۔ ہاں حمل یا حاملہ کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو ڈاکٹر منع کرے تو بچنا چاہئے ۔ احسن الفتاوی المعروف بہ فتاوی خلیلیہ میں ہے :” دوران حمل وضع حمل تک مباشرت شرعاً جائز ہے لیکن اگر ڈاکٹرز منع کردیں یا تکلیف کا خطرہ ہو تو پرہیز کرنا چاہئے۔ (جلد١ صفحہ٥٦٤ كتاب النكاح والطلاق باب المحارم) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh