Fatwa #1539
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
حج کے لئے جمع روپیوں پر زکوۃ ہے یا نہیں؟ | مسائل ورلڈ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
13,828
سوال (Question):
حج کے لئے جمع روپیوں پر زکوۃ ہے یا نہیں؟ | مسائل ورلڈ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حج کے لئے جمع روپیوں پر زکوۃ ہے یا نہیں؟ اگر یقین سے نہ معلوم ہو کہ کتنے سال مالک نصاب رہا تو اس کی زکوۃ کیسے نکالے؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں میرے بھائی پندرہ سولہ سالوں سے بمبئی کمانے کے لئے جاتے ہیں ایک ڈیڑھ سال بمبئی رہتے ہیں اور سال چھ مہینہ گھر پر گزارتے ہیں. اولا بھاڑے پر دھندا کرتے تھے پھر اپنی کمائی سے خود ہی اپنا دھندا خرید لیا اور پھر اس کے بعد اپنی کمائی سے گھر بنوایا اور ضرورت کی چیزیں خریدیں اپنی شادی میں لگایا اور پھر بہن کی شادی کی اور اس سال والدین کو حج کے لیے بھیج رہے ہیں. اس دوران کبھی ان کے پاس لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپے اکٹھے ہوگئے اور کبھی کچھ نہ بچا اور کبھی ان روپے پر سال ڈیڑھ سال گزر گیا اور کبھی جلد خرچ ہوگئے. لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ جو روپے حج کے لیے ابھی جمع ہیں ان کی زکوۃ نکالی جائے یا اتنے سالوں میں جو کمایا ان سب کی اور اگر ان سب سالوں کی ادا کی جائے تو کس طرح ادا کی جائے؟ کوئی آسان طریقہ تجویز فرما دیں عین نوازش ہوگی اس لیے کہ اب یہ معلوم کرنا بہت مشکل ہو گیا کہ کب کب نصاب کا مالک ہوا اور کب کب نصاب پر سال گزرا. بینوا و توجروا الجوابـــــــــــــــــــــــ حج کے لئے جو روپے جمع ہیں ان پر اگر حولان الحول ہوچکا ہے تو ان روپے پر زکوۃ واجب ہے ساتھ ہی گزشتہ ان تمام سالوں کے روپیوں پر بھی واجب ہے جن سالوں میں وہ مالک نصاب رہا لیکن جب تحقیقی طور پر یہ معلوم نہیں کہ کتنے سال وہ مالک نصاب رہا اور کتنے سال مالک نصاب نہیں رہا تو اب اس کی ادائیگی کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ایک بڑی سے بڑی رقم جس پر ظن غالب ہو جائے کہ اب اس سے زیادہ رقم زکوۃ کی نہیں نکلے گی فرض کرکے ادا کردے امید ہے کہ اللہ تبارک و تعالی شرف قبولیت عطا فرمائے. فتاویٰ رضویہ میں ہے ” مدت دراز گزرنے کے باعث اگر زکوۃ کا تحقیقی حساب نہ معلوم ہو سکے تو عاقبت پاک کرنے کے لیے بڑی سے بڑی رقم جہاں تک خیال میں آ سکے فرض کر لے کہ زیادہ ہو جائے گا تو ضائع نہ جائے گا بلکہ تیرے رب مہربان کے پاس تیری بڑی حاجت کے وقت کے لئے جمع رہے گا. (صفحہ 439 جلد 4) واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد سفیر الحق رضوی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9