Fatwa #1682
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
حرام مال سے خریدی گئی زمین جائیداد کا حکم
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
10,894
سوال (Question):
حرام مال سے خریدی گئی زمین جائیداد کا حکم
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حرام مال سے خریدی گئی زمین جائیداد کا حکم
اسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ۔ حضور ایک سوال آپکی بارگاہ میں عرض ہے کہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلے میں کہ زید پہلے سودی کاروبار کیا کرتا تھا اور ناجائز طریقے سے مال جمع کرکے اس نے کچھ زمین اور گھر خریدے ھیں اب اس نے سچے دل سے رب العزت کی بارگاہ میں توبہ کی ھے اب اس گھر اور زمین کا کیا کیا جائے؟ برائے کرم جواب عنایت فرمائیں جواب کا منتظر فقیر محمد عرفان برکاتی سنی جامع مسجد. ممداپور نیرل ممبئی۔ الجواب جس جس مسلمان سے جتنا سود لیا ہے اگر معلوم ہے تو اس کو واپس کرے، وہ زندہ نہ ہوں تو ان کے وارثین کو دے۔ اور اگر یہ سب معلوم نہ ہوسکے تو بلا نیتِ ثواب فقراء پر خیرات کردے۔ لیکن سود وغیرہ حرام روپیہ سے جو زمین یا گھر خریدا اس سے نفع اٹھانا حرام نہیں ہے، کیوں کہ یہاں عام خریداریاں ایسی ہوتی ہیں جن میں حرام مال کی نحوست اور خباثت خریدی گئی چیزوں تک منتقل نہیں ہوتی۔یعنی: ایسا نہیں ہوتا کہ پہلے روپیہ دے دیا جاتا ہو یا روپیہ کی طرف اشارہ کرکے اس خاص روپیہ سے خریداری کی جاتی ہو، بلکہ مطلق روپیوں کے بدلے خریداری ہوتی ہے اس لیے عقد و نقد اس زرِ خبیث پر جمع نہیں ہوتے۔ ہاں! اگر مثلاً خاص سود کے روپیہ کی طرف اشارہ کرکے زمین یا مکان خریدا ہو اور پھر وہی سود کا روپیہ قیمت میں ادا بھی کیا ہو تو اس صورت میں ضرور اس حرام روپیہ کی خباثت خریدی ہوئی چیز تک پہونچے گی اور اس زمین یا مکان سے نفع اٹھانا جائز نہ ہوگا۔لیکن اگر بغیر سود کا روپیہ دکھائے مطلق روپیوں کے بدلے خریداری کی ہو۔یا سود کے روپیے دکھا کر خریدا مگر دام کی ادائیگی دوسرے روپیوں سے کی تو اس صورت میں امام کرخی رحمہ اللہ تعالی کے قول مفتی بہ کے مطابق اس زمین یا مکان سے فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “سودخوار پر شرعاً فرض ہے کہ جتنا سُود جس جس سے لیا ہے اسے واپس دے، وہ نہ رہا ہو اس کے وارثوں کو دے، وہ بھی نہ رہے ہوں یا پتہ مالک اور اس کے ورثہ کا نہ چلے تو فرض ہے کہ اتنا مال تصدّق کردے۔ اور تصدّق میں فقیر کو مالک کردینا درکار ہے کما نص علیہ فی الخانیۃ وغیرھا عامۃ الاسفار” (فتاوی رضویہ جدید ج ٢٣ص۵٣٩) نیز زر حرام سے خریدی گئی چیز کا حکم بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: “جبکہ وہ دکانیں بعینہا رنڈی کو اجرت زنا یا غنا میں نہ ملی تھیں، بلکہ اس نے خرید کیں، اگرچہ خریداری اسی زرِ خبیث سے ہو، تو از آنجا کہ عامہ عقود رائجہ میں یہ قاعدہ نہیں کہ روپیہ دکھا کر کہا جاتا ہو اس روپے کے عوض بیع کرے یا خریدے، بلکہ مطلق بیع ہوتی ہے تو عقد ونقد زرِ حرام پر جمع نہیں ہوتے اور مذہب کرخی مفتی بہ پر ایسی حالت میں اس شے مشتری میں خباثت بھی نہیں آتی، تو وہ دکانیں خود اس کے لئے اس صورت میں حرام نہ ہوں گی۔” (فتاوی رضویہ ج ٦ص ۴١۵) ایک دوسرے مقام پر تحریر فرماتے ہیں: “ہاں جو جائداد زانیہ نے خریدی ہو اور اس کے شراء میں عقد و نقد دونوں زرِ حرام پر جمع نہ ہوئے ہوں، مثلاً روپیہ پیشگی دے کر کہا کہ اس روپے کے عوض جائداد دے دے، بائع نے اس کے عوض بیع کردی یہ تو حرام پر عقد ہوا، اور وہی روپیہ زرِ ثمن میں دیا گیا یہ حرام کا نقد ہوا دونوں جمع ہوگئے اس صورت میں بھی وہ جائداد ان کی ملک نہ ہوگی۔ ہاں اگر زرحرام پر عقد ونقد دونوں جمع نہ ہوئے ہوں مثلاً جائداد خریدی اس وقت ثمن کی تعین خاص مال حرام سے نہ تھی نہ وہ دکھایا گیا نہ پیشگی دیا گیا مطلق روپے کے بدلے خریدی تو یہ جائداد اس خریدنے والے کی ملک صحیح وحلال ہوجائے گی اب زرثمن اس حرام مال سے ادا کیا گیا تو یہ گناہ ہو ااور بائع کو اس کا لینا حرام تھا مگر جائداد اس کی ملک میں آگئی۔” (فتاوی رضویہ ج٦ص٣٣۴) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ۔ ٢۵/شعبان المعظم ١۴۴٣ھ//٢٩/مارچ ٢٠٢٢ء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9