صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1436 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

حضور علیہ السلام کی ازواج مطہرات سے متعلق عصمت کا عقیدہ رکھنا کیسا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,320

سوال (Question):

حضور علیہ السلام کی ازواج مطہرات سے متعلق عصمت کا عقیدہ رکھنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

حضور علیہ السلام کی ازواج مطہرات سے متعلق عصمت کا عقیدہ رکھنا کیسا ہے؟

سوال:- حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے متعلق عصمت کا عقیدہ رکھنا کیسا ہے؟ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب: عصمت کا معنی ہے اللہ تعالی کا کسی کو گناہوں سے محفوظ رکھنا،انبیائے کرام وملائکہ عظام کے متعلق چونکہ اللہ رب العزت کا وعدہ ہے کہ انہیں گناہوں سے محفوظ رکھے گا جس کے سبب ان سے گناہوں کا صدور شرعا محال ہے اس معنی کر انبیائے کرام وملائکہ عظام کے سوا کوئی معصوم نہیں-حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اس معنی کر معصوم ہیں کہ اللہ رب العزت ازواج مطہرات،صحابہ کرام واولیائے عظام کو بھی گناہوں سے محفوظ رکھتا ہے مگر ان سے گناہوں کا صدور شرعا محال نہیں . المعجم الوسیط میں ہے “عصم الله فلانا من الشر او الخطاء عصمة:حفظه ووقاه ومنعه،ويقال:عصم الشيئ:منعه”(ص۶۲۸) اور المعتقد المنتقد میں ہے “فمنه العصمة:وهى من خصائص النبوة على مذهب اهل الحق”(ص۱۱۰) اور النبراس میں ہے “والملائكة عباد الله تعالى العالمون بامره يريد انهم معصومون وقد اختلف فى عصمتهم فالمختار انهم معصومون عن كل معصية”. (ص۲۸۷) اور فتاوی رضویہ شریف میں ہے “اور عصمت نوع بشر میں خاصئہ حضرات انبیا علیہم الصلاة والثنا ہے ان کے غیر سے اگر چہ کیسا ہی عظیم الدرجات ہو،وقوع گناہ ممکن ومتصور”(فتاوی رضویہ مترجم ج۳۰ ص۲۷۶) اور رسالہ قشیریہ میں ہے : “اگر کوئی یہ سوال کرے کہ ولی معصوم ہے یا نہیں-تو اس کا جواب یہ ہے کہ ولی انبیا کی طرح لازمی طور پر معصوم نہیں-ہاں یوں ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی ولیوں کو گناہوں سے محفوظ رکھے-یہاں تک کہ ان سے کوئی کمزوری یا غلطی سرزد ہوجائے تو اس پر ڈٹے نہ رہیں-اس طرح ان کو محفوظ کہنے میں کوئی حرج نہیں”(رسالہ قشیریہ مترجم ص۶۴۵) واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ السلامی بدار العلوم العلیمیہ الجواب صحيح : محمد اختر حسین قادری خادم افتاودرس دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh