صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1162 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

حضور ﷺ نے گیارہ شادیاں کیوں کی جب کی مرد کو بیک وقت چار کی اجازت ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 8,937

سوال (Question):

حضور ﷺ نے گیارہ شادیاں کیوں کی جب کی مرد کو بیک وقت چار کی اجازت ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

حضور ﷺ نے گیارہ شادیاں کیوں کی جب کی مرد کو بیک وقت چار کی اجازت ہے ؟

سوال: اسلام میں مردوں کو بیک وقت چار عورتوں سے شادی کرنے کی اجازت ہے جبکہ بانٸ اسلام مصطفیٰ جان رحمت ﷺ نے گیارہ عورتوں سے شادی کی، ایسا کیوں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــ بلاشبہ شریعت مطہرہ میں مردوں کو بیک وقت چار عورتوں سے شادی کی اجازت ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: فَانۡکِحُوۡا مَا طَابَ لَکُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ﴿النساء۔۳﴾ تو نکاح کرو جو عورتیں تمہیں اچھی لگیں دو دو اور تین تین اور چار چار۔ لیکن اس بات کی تاکید بھی کی گٸ کہ اگر ایک سے زاٸد بیویوں کے ساتھ انصاف نہ کرسکو تو صرف ایک ہی عورت سے شادی کرو۔ چنانچہ قرآن کریم میں ہے :فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تَعۡدِلُوۡا فَوَاحِدَۃً(ایضاً) پھر اگر یہ خوف ہو کہ تم دو بیبیوں کے درمیان انصاف نہ کرسکو گے تو ایک ہی سے شادی کرو۔ حاصل کلام یہ ہوا کہ ایک مرد کے لیے عدل و انصاف کے ساتھ اسلام میں چار عورتوں سے بیک وقت شادی کرنے کی اجازت ہے ۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو بطور حکمت و مصلحت اس حکم سے مستثنیٰ اور الگ رکھا مگر چند غلیظ فکر لوگوں نے اسے حضور اقدس ﷺ کی خواہشات نفسانی کی وجہ قرار دیا ہے۔ افسوس ہے ان گندی فکر اور کچے خیالات کے لوگوں پر۔ ان خبیث فکر کے لوگوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ اگر حضور ﷺ نفسانی خواہشات کے خوگر ہوتے تو ٢٥/سال کی نوجوانی میں اپنے سے پندرہ سالہ بڑی اور وہ بھی بیوہ خاتون جو کٸ بچوں کی ماں بھی تھی ان سے ہرگز نکاح نہ کرتے اور اگر بفرض محال جبراً نکاح ہو بھی گیا تھا تو ازدواجی زندگی کو خوشگوار ماحول میں تعمیر نہ فرماتے۔ اگر حضور اقدس ﷺ نفسانی خواہشات کے خوگر ہوتے معاذ اللہ رب العلمین تو حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے وصال کے بعد آپ کے پاس طاقت و قوت سب کچھ تھی آپ کسی بھی خوبصورت اور کنواری خاتون سے نکاح فرما سکتے تھے مگر آپ ﷺ نے حضرت عاٸشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے علاوہ کسی بھی کنواری خاتون سے نکاح نہ فرمایا بلکہ ہمیشہ بیواٶں کو سہارا اور عزت سے نوازا ۔اور آپ نے کنواری خاتون حضرت عاٸشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بھی نکاح اس وقت فرمایا جب اماں عاٸشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر شریف محض چھ سال تھی اور اس کم سنی میں نفسانی خواہشات کا تصور ہی ممکن نہیں۔ مذکورہ عبارتوں کی روشنی میں یہ بات سورج سے بھی زیادہ روشن ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے نفسانی خواہشات کی وجہ سے ١١ شادیاں نہیں فرماٸی تھی بلکہ اس میں حکمت اور مصلحت کچھ اور ہی تقاضہ کر رہی تھی اور وہ یہ ہے کہ اس زمانے میں اسلامی کرنوں سے زمین عرب کو روشن کرنے کے لیے تعلقات کی وسعت اور مختلف خاندانوں اور بااثر قباٸل کا تعاون ایک بنیادی ضرورت تھی اسی لیے حضور اقدسﷺ نے خاندان قریش کے اونچے گھرانوں کی چھ عورتوں سے نکاح فرمایا اور پھر عرب کے مختلف قباٸل کی چار عورتوں سے آپﷺ نے نکاح فرمایا اور عرب کے علاوہ خاندان بنی اسراٸیل کی ایک شریف النسب شہزادی سے آپﷺ نے نکاح فرمایا تاکہ اہل عرب کا خصوصی تعاون آپ کے ساتھ ہو اور پورا خطہ عرب اسلام کی خوشبو سے معطر ہو جائے ۔ آپ ﷺ کے متعدد شادیوں کی ایک ظاہری حکمت یہ بھی تھی کہ آپﷺ کے پیش نظر قرآن و حدیث کی تعلیمات کو خواتین اسلام کے درمیان پہونچانا تھاجس کا واحد ذریعہ امہات المومنین کی پاکیزہ ذات تھی۔نبی کریمﷺ کی ذاتی زندگی اور گھریلو احوال کے معمولات امہات المومنین بالخصوص امی عاٸشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھن کے ذریعہ ہی امت کے سامنے پیش کی گٸ یہی وجہ ہے کہ علامہ اعظمی رحمة اللہ علیہ اپنی کتاب سیرت مصطفیٰ میں تحریر فرماتے ہیں: ”فقہ و حدیث کے علوم میں ازواج مطہرات کے اندر ان (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) کا درجہ بہت ہی بلند ہے۔ دو ہزار دو سو دس حدیثیں انہوں نے حضورﷺ سے روایت کی ہیں۔ان کی روایت کی ہوٸی حدیثوں میں سے ایک سو چوہتر حدیثیں ایسی ہیں جو بخاری و مسلم دونوں کتابوں میں ہیں۔اور چوّن حدیثیں ایسی ہیں جو صرف بخاری شریف میں ہیں اور اڑسٹھ حدیثیں وہ ہیں جن کو صرف امام مسلم نے اپنی کتاب صحیح مسلم میں تحریر کیا ہے۔ان کے علاوہ باقی حدیثیں احادیث کی دوسری کتابوں میں مذکور ہیں“۔ (سیرت مصطفیٰ ص٤٩٠) ان کے علاوہ مزید حکمتوں کو ذکر کیا جاسکتا ہے مگر بغرض اختصار اسی پر اکتفا کیا جارہا ہے۔ کتبــــــــہ : مفتی محمد محفوظ عالم رضوی 

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh