Fatwa #2661
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
خطبہ کی اذان کا جواب دینا کیسا ہے ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
7,086
سوال (Question):
خطبہ کی اذان کا جواب دینا کیسا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
خطبہ کی اذان کا جواب دینا کیسا ہے ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ خیریت سے ہیں حضرت ؟ حضرت ایک مسٔلہ یہ ہے کہ جمعہ کے دن جو خطبہ کے وقت اذان ہوتی ہے تو اسکا جواب دینا چاہئے؟ کچھ لوگوں کو دیکھتا ہوں دیتے ہیں اور کچھ لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ نہیں دیتے صحیح کیا مسٔلہ ہے کرم فرمایئے ۔۔۔الجواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ، الحمدللہ دیکھیں! جب امام صاحب (خطیب) خطبہ کے لئے منبر پر آجائیں تو نہ نماز پڑھنی چاہئے اور نہ گفتگو کرنی چاہئے۔اگر کوئی شخص تلاوت قرآن ‘ ذکر وغیرہ میں مصروف ہو تو اس کو موقوف کردے اور نماز ادا کررہا ہو تو جلد مکمل کرلے اور امام صاحب (خطیب)کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوکر بغور خطبہ سنے ۔ سنن ابن ماجہ شریف میں حدیث پاک ہے ۔ عن عدي بن ثابت عن أبيه قال :كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا قام على المنبر استقبله أصحابه بوجوههم۔ ترجمہ : حضرت عدی بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں : حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر قیام فرماتے تو آپ کے صحابہ اپنا رخ آپ کی جانب کرلیتے ۔﴿ سنن ابن ماجہ شریف، كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء في استقبال الإمام وهو يخطب، ص ٧٩﴾ بدائع ج ١ص ٥٩٥میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے ۔ اذا خرج الامام فلاصلوٰۃ ولا کلام ۔ یعنی جب امام (خطبہ کے لئے منبر کی طرف ) نکلے تو نہ نماز ہے اور نہ گفتگو ۔ اس لئے سامعین کو چاہئے کہ جمعہ کے دن خطبہ سے پہلے جب امام صاحب منبر پر ہوتے ہیں تو اس وقت جو اذان دی جائے تو اس کا جواب نہ دیں۔ درمختار ج ١ص ٦٠٩میں ہے ۔ واجابۃ الاذان حینئذ مکروھۃ ۔درمختار ج١میں ہے ۔ لاحائضاو نفساء و سامع خطبۃ ۔ اور ردالمحتار کے اس صفحہ پر ہے : (قولہ و سامع خطبۃ ) ای خطبۃ کانت ۔ بدائع ج ١ص ٥٩٢میں ہے :یکرہ الکلام حالۃ الخطبۃ وکذا قراْۃ القرآن وکذا الصلوۃ ۔ البتہ خطیب صاحب اذان ثانی کا جواب دے سکتے ہیں جیسا کہ بخاری شریف ج ١ص ١٢٥میں حدیث پاک ہے : عَنْ أَبِى أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِى سُفْيَانَ ، وَهُوَ جَالِسٌ عَلَى الْمِنْبَرِ ، أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ . قَالَ مُعَاوِيَةُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ . قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ . فَقَالَ مُعَاوِيَةُ وَأَنَا . فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ . فَقَالَ مُعَاوِيَةُ وَأَنَا . فَلَمَّا أَنْ قَضَى التَّأْذِينَ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ – صلى الله عليه وسلم – عَلَى هَذَا الْمَجْلِسِ حِينَ أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ يَقُولُ مَا سَمِعْتُمْ مِنِّى مِنْ مَقَالَتِى . ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے سنا جبکہ وہ منبر پر بیٹھے ہوئے تھے ‘ موذن نے اذان کہی اور اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَر کہا تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَر کہا ۔ پھر اس نے أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّه کہا تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا :میں بھی (گواہی دیتا ہوں ) ۔اس نے کہا: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّه حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی (گواہی دیتا ہوں ) تو جب اذان ہوچکی تو فرمایا ۔اے لوگو ! جب موذن اذان کہا اس وقت میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مقام پر اسی طرح فرماتے سنا جو تم نے مجھ سے سنا ۔ ﴿ بخاری شریف ج 1،کتاب الجمعة ، باب يُؤَذِّنُ الإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ .ص ١٢٥ ﴾ واللہ اعلم بالصواب ۔۔ از محمد مکی القادری عفی عنہ استاذ و مفتی الحنفیہ الاسلامیہ عربی گلرس اکیڈمی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9