صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2800 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

خلافت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ر وشنی میں۔

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,116

سوال (Question):

خلافت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ر وشنی میں۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

Khilafat e Sayydna Siddiqe Akbar Radillahu Anhu

خلافت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ر وشنی میں۔ سالار صحابہ وہ پہلا خلیفہ سرکار کا پیارا صدیق ہمارا ۔ آقاۓ دوجہاں مالک انس و جاں نبی رحمت شفیع امت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے وصال مبارکہ کے بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ جانشین کون بنے گا حدیث کی مشہور کتاب بیہقی میں حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ خلافت کے معاملے کو حل کرنے کے لۓ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مکان پر جمع ہوئے۔ حضرت ابوبکر صدیق حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہما کے علاوہ بہت سے صحابہ موجود تھے سب سے پہلے ایک انصاری صحابی کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں سے خطاب کیا کہ مہاجرین آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص کو کہیں کا حاکم مقرر فرماتے تھے تو انصار میں سے بھی ایک شخص کو اس کے ساتھ کر دیا کرتے تھے۔ لہذا اسی طرح ہم چاہتے ہیں کہ خلافت کے معاملے میں بھی ایک شخص مہاجرین میں سے ہو اور ایک انصاری میں ہو ایک دوسرے انصاری صحابی کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی اسی قسم کی تقریر کی ان حضرات کے بعد حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ آپ لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین میں سے تھے لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ اور جانشین بھی مہاجرین ہی میں سے ہوگا اور جس طرح ہم لوگ پہلے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے کے معاون اور مددگار رہے اب اسی طرح خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مددگار رہیں گے یہ فرمانے کے بعد حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا ہاتھ پکڑا اور کہا آپ ہمارے حاکم و خلیفہ ہیں اور پھر حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ سے بیعت کی۔ اس کے بعد حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی نے بیعت کی اور تمام انصار اور مہاجرین نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے بیعت کی ہے۔ اس کے بعد مسجد نبوی شریف میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ منبر پر رونق افروز ہوئے اور مجمع پر ایک نگاہ ڈالی تو حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ موجود نہیں تھے فرمایا ان کو بلایا جائے۔ جب حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ آگئے ۔تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی نے فرمایا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی کے بیٹے ہیں اور ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص صحابی ہیں مجھے امید ہے کہ آپ مسلمانوں میں اختلاف نہیں پیدا ہونے دیں گے یہ سن کر حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا اے خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ فکر نہ کریں یہ کہنے کے بعد کھڑے ہوئے اور آپنے نے بھی بیعت کرلی ۔پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی نے مجمع کو دیکھا تو اس میں داماد پیغمبر فاتح خیبر حضرت علی شیر خدا رضی اللہ تعالی عنہ بھی موجود نہیں تھےفرمایا ان کو بلایا جائے جب حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ تشریف لائے تو آپ نے فرمایا اے علی رضی اللہ تعالی عنہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں اور داماد ہیں مجھے امید ہے کہ آپ اسلام کو کمزور ہونے سے بچانے میں میری مدد کریں گے حضرت علی شیر خدا رضی اللہ تعالی نے کہا اے خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کچھ بھی فکر نہ کریں یہ کہے کر اٹھے اور بیعت کر لی ۔ حضرت علی شیر خدا رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا .قَدَّ مَكَ رَسُولُ اللّٰهِ صلَّى اللّٰهُ تَعاَلٰى عَلَيهِ وَسَلَّم فَمَنِ الَّذِي يُؤخّرُكَ . یعنی حضرت علی شیر خدا رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو آگے بڑھا دیا تو پھر کون آپ کو پیچھے کر سکتاہے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا مقصد تھا کہ جب رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو نماز کا امام بنا دیا تو اب ہمارے خلیفہ اول بھی حضرت ابوبکر صدیق ہیں اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کو خود حضرت حضرت علی رضی اللہ تعالی نے تسلیم کیا اور آپ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھوں پر بیعت بھی کی پھر اگر کوئی رافضی شیعہ یہ کہے کہ پہلے خلیفہ حضرت علی ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی نے خلافت کو غصب کیا ہے حضرت ابو بکر خلیفہ بلا فصل ہیں تو گویا کہ رافضی شیعہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کو انکار نہ کیا بلکہ اس نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے اس قول کا انکار کیا جو حضرت علی رضی اللہ تعالی نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں فرمایا اور اس بات کا انکار کیا کہ جس کو حضرت علی رضی اللہ تعالی نے تسلیم کیا ہے ۔۔ اگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے معاذ اللہ خلافت کو غصب کیا ہوتا تو حضرت علی کیسے یہ نا انصافی ہوتے ہوۓ برداشت کرتے جن کو شیر خدا کہا جاتا ہے وہ اپنا ہی حق حاصل نہ کر پاۓ معاذ اللہ ۔یہ ان رافضی اور شیعوں کا خود حضرت علی رضی اللہ عنہ پر بہت بڑا بہتان لگانا ہوا ۔ جب کہ حضرت علی شیر خدا نے خود اعلان فرمادیا تھا اگر کوٸی مجھے شیخین ۔یعنی ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالی عنہما پر فضیلت دے تو میں اسے اسی کوڑے لگاٶں گا پھر بھی اگر کوٸی نعرہ لگاۓ دما دم مست قلندر علی کا پہلا نمبر تو یہ حضرت علی کو خوش کرنا نہیں ہوا بلکہ ناراض کرنا ہوا اس لۓ کے حضرت علی کا نعرہ تھا دمادم مست قلندر ابو بکر کا پہلا نمبر عمر کا دوسرا نمبر عثمان کا تیسرا نمبرخود حضرت علی کا چوتھا نمبر۔ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ سے روایت کہ آقاۓکریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک عورت کسی کام کے لۓ حاضر ہوٸی ،سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا پھر کسی وقت آنا اس عورت نے عرض کیا اگر میں آٶں اور آپ کو نہ پاٶں یعنی آپ وصال فرماجاٸیں تو پھر میں کیا کروں ۔پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے خاتون ۔اگر تو مجھے نہ پاۓ تو ابو بکر کے پاس چلی جانا ۔۔ (بخاری شریف ،جلد١ ،مسلم شریف جلد ٢) یعنی اللہ تعالی کے خلیفہ میرے آقا ومولی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی میں واضح اشارہ ہے کہ میرے بعد ابو بکر صدیق خلیفہ ہونگے ۔ حضرت امام شافعی رحمة اللہ علیہ فرماتے ۔ یہ حدیث دلیل ہے ہمارے حضور سراپا نور ، مصطفی کریم صلی اللہ علیہ کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ کے خلیفہ اول برحق ہونے پر۔۔۔ (الاستعاب ، جلد ٢ ص ٢٤٩) (ماخوذ از انوارالبیان)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh