صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1965 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

خواتین کا زیر ناف بال استرے وغیرہ سے صاف کرنا

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,001

سوال (Question):

خواتین کا زیر ناف بال استرے وغیرہ سے صاف کرنا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

خواتین کا زیر ناف بال استرے وغیرہ سے صاف کرنا

ابورضا محمد عمران عطاری مدنی (سیدی اعلیٰ حضرت سے سوال ہوا، کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرد اگر اپنے زیر ناف کے بال مقراض سے تراشے یا عورت استرہ لے تو جائز ہے یانہیں؟ (امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس سوال کے جواب میں تحریر فر ماتے ہیں، (کہ حلق و قصر و نتف و تنور یعنی مونڈنا، کترنا، اکھیڑنا اور نورہ لگانا سب صورتیں جائز ہیں، کہ مقصود اس موضع جگہ) کا پاک کرنا ہے اور وہ سب طریقوں میں حاصل ہے: (فتاویٰ رضویہ جلد22 صفحہ600 رضا فاؤنڈیشن لاہور) مرد و عورت دونوں کے لئے بغلوں کے بالوں کو اکھاڑنا سنت ہے اور مونڈنا یا پاؤڈر یا ہیئر ریمؤر کریم وغیرہ سے بھی دور کرنا جائز ہے، مرد کو ناف کے نیچے کے بالوں کو استرے یا ریزر وغیرہ سے صاف کرنے چاہیے، چونے ،پاؤڈر اور ہیئر ریمؤر کریم وغیرہ سے بھی دور کرنا جائز ہے، جبکہ عورت کے لئے ان بالوں کو اکھاڑنا سنت ہے,اور چونے ،پاؤڈر اور ہیئر ریمؤر کریم وغیرہ سے بھی دور کرنا جائز ہے- نوٹ: مطالعہ فرما کرشیئر ضرور کریں.. اللہ تعالٰی عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh