Fatwa #1256
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
داڑھی رکھنے کی منت مانناکیسا ؟ از مفتی صدام حسین فیضی
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
11,021
سوال (Question):
داڑھی رکھنے کی منت مانناکیسا ؟ از مفتی صدام حسین فیضی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
داڑھی رکھنے کی منت مانناکیسا ؟
السلام علیکم مفتی صاحب قبلہ امید ہے مزاج عالی بخیر ہونگے ؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان و شرع متین مسئلۂ ذیل میں کہ زید نے منت مانی کہ میرا فلاں کام ہو جائےگا تو میں داڑھی رکھوں گا ۔ تو کیا زید کا یہ منت ماننا درست ہے؟ اور اگر وہ درست سمجھ کر مان ہی لیا تو اب شرعا اس پر کیا حکم ہے؟ المستفتی : شہاب الدین مہاراشٹر وعلیکم السلام و رحمۃاللہ تعالیٰ وبرکاتہ الحمدللہ علی کل حال۔ الجواب بعون الملک الوھاب ہر مسلمان پر ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے اس سے کم کرانا یا چھلانا حرام ہے ۔ لہذا زید پر لازم ہے کہ داڑھی چھلا یاکٹا کر جو گناہ کئے ہیں ان سے صدق دل سے توبہ کرے اور بمطابق حد شرع ایک مشت داڑھی رکھ لے تاکہ اللہ جل جلالہ اور اس کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی ناراضگی سے بچے کہ ان کی رضا میں ہی دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ سرکار اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں:” داڑھی حد مقرر شرع (یک مشت) سے کم نہ کرانا واجب ۔ اور حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام کی سنت دائمی اور اہل اسلام کے شعائر سے ہے ۔ اور اس کے خلاف ممنوع و حرام اور کفار کا شعار ہے” ۔ اھ ( فتاوی رضویہ مترجم ج٢٢ص٥٧١ کتاب الحظر والاباحۃ ) علامہ حصکفی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: ” یحرم علی الرجل قطع لحیته ” اھ ( در مختار مع ردالمحتار ج٩ص٥٨٣ کتاب الحظر والاباحۃ، باب الاستبراء وغیرہ، دارالکتب العلمیۃ) یعنی مرد کو اپنی داڑھی منڈانا حرام ہے حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں: ” داڑھی بڑھانا سنن انبیاء سابقین سے ہے منڈانا یا ایک مشت سے کم کرنا حرام ہے ” اھ (بہار شریعت ح١٦ج٣ص٥٨٥ مکتبۃ المدینۃ) ہاں صورت مستفسرہ میں زید کا داڑھی رکھنے کی منت ماننا شرعاً صحیح نہیں کہ یہ ایسی عبادت کی منت ہے جو اس پرپہلے سے واجب ہے اور منت صحیح ہونےکی شرطوں میں سے یہ ہے کہ ایسی عبادت کی منت نہ مانے جو اس پر پہلے سے واجب ہے۔ فتاوي ھندیہ میں ہے :” الاصل ان النذر لایصح الا بشروط ۔ ان لا یکون واجبا فی الحال و فی ثانی الحال فلم یصح بصلاۃ الظھر وغيرها من المفروضات “ اھ ملخصا (ج١ص٢٠٨، کتاب الصوم، باب السادس فی النذر) بہار شریعت میں ہے:” شرعی منت جس کے ماننے سے شرعا اس کا پورا کرنا واجب ہوتا ہے ۔ اس کے لیے مطلقا چند شرطیں ہیں.(٣)اس چیز کی منت نہ ہو جو شرع نے خو د اس پر واجب کی ہو، خواہ فی الحال یا آئندہ مثلا آج کی ظہر یا کسی فرض نماز کی منت صحیح نہیں کہ یہ چیزیں تو خود ہی واجب ہیں” اھ ملخصا (حصہ٥ منت کے روزے کا بیان ، ج١ ص١٠١٥) والله تعالی اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9